Bewafa Tera Lams Novel By Khalida Khanam Complete – ZNZ
Download free web-based Urdu books, free internet perusing, complete in PDF, Bewafa Tera Lams Novel By Khalida Khanam Complete – ZNZ Online Free Download in PDF, Bewafa Tera Lams Novel By Khalida Khanam Complete – ZNZ – Online Free Download in PDF, And All Free internet based Urdu books, books in Urdu, heartfelt Urdu books, You Can Download it on your Portable, PC and Android Cell Phone. In which you can without much of a stretch Read this Book. Bewafa Tera Lams Novel By Khalida Khanam Complete – ZNZ We are Giving the PDF document on the grounds that the vast majority of the clients like to peruse the books in PDF, We make an honest effort to make countless Urdu Society, Our site distributes Urdu books of numerous Urdu journalists.
Bewafa Tera Lams Novel By Khalida Khanam Complete – ZNZ
” تمہیں پتہ ہے آج میرے باس کی شادی ہے ۔ بہت ہینڈسم ہے۔ اف تم دیکھو پاگل ہو جاؤ گی۔۔۔۔” مہرو اور آئزہ دوست تھی۔ آئزہ اپنے باس کی شادی پر انوائٹنڈ تھی۔ آئزہ مہرو کو اپنے ساتھ شہر کی سب کی سب سے بڑی شادی دکھانے لے گئی۔ ” واؤ۔ واٹ آبیوٹی فل کپل۔۔” مہرو کی ٹانگیں تب کانپی جب اس کی نظر ملک زاویار پر پڑی ۔وہ اس کا شوہر تھا جو سہاگ رات منا کر اگلے دن اسے بنا بتائے غائب ہو گیا۔۔۔۔اسے خبر دی گئی وہ اس دنیا میں نہیں رہا۔ مہر و ہوسٹل میں رہتی تھی۔ ملک زاویار نے اس سے لو میرج کی جس کا کسی کو علم نہ تھا۔۔۔ مہرو سیدھا اسٹیج پر پہنچی اور ایک زوردار تھپڑ زاویار کے منہ پر دے مارا۔ ” گھٹیا آدمی میں تو سمجھی کہ میری محبت سچی تھی۔ ملک زاویار نے اس سے غصے سے دھکا دیا۔ ” ہو آر یو؟؟۔۔۔۔”
کچھ ہی دیر کے بعد ایک عجیب سا ہنگامہ پھیلنے لگا اچانک تمام لائٹس کو بند کر دیا گیا اور ایک بڑی لائٹ داخلی دروازے کی جانب موڑی گئی کیمرہ مین بھاگتے ہوئے اپنی پوزیشن سنبھال رہے تھے۔۔۔ میوزک لاؤڈ ہوا اور گانے کے بول اس کے دل میں اترنے لگے وہ کسی اور ہی جہاں میں پہنچ چکی تھی اردگرد سے ابھرنے والی سرگوشیاں اس کے کانوں کے قریب سے تیرتے ہوئے جیسے ہوا میں تحلیل ہو گئی۔۔۔۔
” دولہا بہت ہینڈسم ہے دونوں بہت پیارے لگ رہے ہیں پیسوں والوں کے بھی اپنے چونچلے ہوتے ہیں سنا ہے دلہن کا باپ بھی ایک جانا مانا بزنس مین ہے۔۔” کافی دیر یہ ہنگامہ جاری رہا لیکن اسے اتنی توفیق نہیں ہوئی تھی کہ اپنی آنکھیں کھول کر پلٹ کر ان دونوں کو دیکھ لیتی اس کی آنکھوں کے کنارے بھیگنے لگے اور ٹوٹے ہوئے خواب روح میں پیوست ہو کر ایک عجیب سا حشر برپا کر رہے تھے۔۔۔۔
” ملک زاویار کی بیوی بن کر کوئی بھی لڑکی کتنا لکی فیل کر سکتی ہے کین یو بلیو گائز۔۔ ” نائلہ کی سرگوشی پر اس کا دل ایک لمحے کے لیے دھڑکنا بھول گیا اس نے پٹ سے اپنی آنکھوں کو کھول کر گردن پھیر کر اسے دیکھا تھا لیکن تمام لڑکیاں اسٹیج کی طرف دیکھ رہی تھیں جہاں دولہا اور دلہن نکاح کے لیے موجود تھے بس ایک نظر ان دونوں کو دیکھنے کے بعد اس نے نظریں پھیریں لیکن کچھ تھا جو اسے ساکت کر دینے کے لیے کافی تھا۔۔۔۔
اس نے دوبارہ اپنی سرخ آنکھوں سے شخص کی جانب دیکھا جو بہت فاصلے پر بیٹھا تھا لیکن پھر بھی اس کی موجودگی کو محسوس کر سکتی تھی اور پھر وہ یک ٹک دیکھتی چلی گئی دل دھڑک رہا تھا اس کے ہاتھ کانپنے لگے وہ بس انہامک سے دیکھتی رہ گئی آنکھیں نمکین پانیوں سے بھرنے لگی تھیں اور یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی بدنما خواب دیکھ رہی ہے ایک لمحے کے لیے وہ سمجھ نہیں پائی اسے زور سے ہنسنا چاہیے اسے خوشی میں پاگل ہو جہاں ہونا چاہیے یا پھر اسے آگے بڑھ کے اس شخص کے گریبان کو پکڑ کر جھنجوڑ دینا چاہیے اور پھر اس نے کچھ بھی نہیں سوچا۔۔۔۔۔
عائزہ اسے کیا کہہ رہی تھی اس نے نہیں سنا بس سٹیج پر اپنی پوری شان و شوکت سے بورجمان شخص اور پردے کی دوسری طرف بیٹھی گھونگٹ میں چھپی دلہن۔۔ ” کیا ہوا تم کہاں جا رہی ہو؟؟ ” عائزہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کے اسے بٹھانا چاہا نکاح شروع ہونے والا تھا اور ایسے میں وہ کہاں جا رہی تھی یہ سب لوگ سمجھنے سے قاصر تھے اور اس نے ہاتھ جھٹ جھٹکتے ہوئے اپنا ہاتھ چھڑوا لیا۔ آنسو جیسے پلکوں پر جم سے گئے لب لرز رہے تھے اور پھر وہ تیز قدم اٹھاتی ہوئی بغیر کچھ سوچے سمجھے سٹیج کی جانب دوڑتی چلی گئی۔۔۔
اس کی سانس پھول رہی تھی روح پھڑ پھڑا رہی تھی اور چند قدموں کے فاصلے پر کھڑے ہو کر اس نے دوبارہ اپنے سامنے بیٹھے ہوئے شخص کو دیکھا شاید عائزہ بھی اسے پکڑتے پکڑتے پیچھے آگئی لوگ حیرت سے اس کی جہانب متوجہ ہو چکے تھے اور تب ہی اس شخص نے گردن موڑ کر اسے دیکھا اس کی نظروں میں مکمل طور پر اجنبیت تھی ارد گرد بیٹھے ہوئے بڑے بڑے لوگ بڑے بڑے لوگوں کے چہروں پر پھیلی ہوئی حیرانگی تفکر، حقارت، حسد۔۔۔۔۔ وہ اسے حیران و پریشان نظروں سے دیکھ رہی تھی بھلا جو کچھ اس نے اپنے سامنے دیکھا تھا اس پر یقین کر پانا آسان تھا؟؟ ہرگز نہیں اور پھر اگلے ہی لمحے اس نے آگے بڑھتے ہوئے اپنے سامنے پوری شان و شوکت سے برجمان شخص کے منہ پر ایک زنانے دار تھپڑ دے مارا۔۔۔۔
تھپڑ کی گونج اتنی تیز تھی کہ ہر ایک کو گردن موڑ کر اس لڑکی کی جانب دیکھنا پڑا جو لوگ پہلے بھی اس کی جانب متوجہ تھے ان کے بھی رونگٹے کھڑے ہو گئے کچھ تھا جو لوگوں کو حیران کر رہا تھا اپنے منہ پر ہاتھ جما کر پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھتی ہوئی عائزہ کو سانپ سونگ گیا یقینا مہرو پاگل ہو چکی تھی۔۔۔ لیکن وہ اپنا پاگل پن یہاں دکھائے گی یہ اس نے کبھی نہیں سوچا تھا اسے بازو سے دبوچ کر وہ اپس لے جانے لگی تب تک وہ شخص حیرت سے اسے دیکھتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
” تم۔۔۔۔تم پاگل ہو چکی ہو۔۔۔؟؟؟ ” ” میرو یہ سب کچھ کیا کر رہی ہو تم۔۔۔؟؟؟ ” عائزہ کے پاس اتنی بھی فرصت نہیں تھی کہ ایک ملتجی یا معذرت خواہ نگاہ ملک سفیان یا اس کے بیٹے ملک زاویار کی اچھال لیتی ۔۔۔اسے اس وقت ان لوگوں کے چنگل سے صرف مہرو کو بچانا تھا اس لیے اس کا ہاتھ پکڑا لیکن وہ سختی سے اپنا ہاتھ جھٹکتے ہوئے ایک بار پھر ملک زاویار کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی۔۔۔۔
” گھٹیا انسان میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میرے ساتھ ایسا کھیل کھیلو گے تم؟؟ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ۔۔۔۔تم۔۔۔۔ تمہارے جیسا شخص یہ کھیل کھیلے گا۔۔۔” غم و غصے سے اس کی اپنی آواز لرز رہی تھی آنسو آنکھوں کے کنارے پر جمے ہوئے تھے یہ دھجکا اس کے لیے اتنا شدید ثابت ہوا کہ رو بھی نہیں پائی گونگھٹ پلٹتی دلہن بھی حیرت زدہ تھی آج اس محفل میں اسے عائزہ نہیں بلکہ قسمت گھسیٹ کر لے آئی تھی آج اس کی آنکھوں پر باندی ہوئی پٹی اترنے والی تھی لیکن اس بات کا اسے اندازہ نہیں تھا۔۔۔۔
زاویار نے اپنے گریبان اس کو اس کی مٹھیوں سے آزاد کرتے ہوئے اسے خود سے دو قدم دور دھکیل دیا۔۔ ” کون ہو تم۔۔۔ ” وہ چاہنے کے باوجود اتنے شدید غصے میں نہیں کہہ پایا جتنے میں اسے کہنا چاہیے تھا اور اس سے پہلے ہی ملک سفیان کے گارڈ جلدی سے اسے دبوچنے کے لیے آگے بڑھے زاویار نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا تھا اگر تمہیں اپنی جان عزیز ہے تو ابھی اور اسی وقت یہاں سے نکل جاؤ وہ وارننگ دیتی ہوئی نظروں سے اپنے سامنے کھڑی اس معصوم کسی لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
جس کے تھپڑ کی چھاپ ابھی تک زاویار کے چہرے پر جمی ہوئی تھی۔ ” یہ سب کیا ہو رہا ہے؟؟ ” ” سفیان صاحب کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ لڑکی کیا کہہ رہی ہے؟؟ ” جمشید صاحب نے آگے بڑھتے ہوئے معاملے کو خریدنا چاہا کہ بیٹی کی زندگی کا معاملہ تھا اور اتنی بڑی بات کو بھلا کس طرح ہضم کر سکتے تھے۔۔۔ ” کچھ بھی نہیں ہے آپ جانتے ہیں ان مڈل کلاس لڑکیوں کو ان پر زیادہ توجہ نہ دیں۔۔۔” ملک سفیان نے انہیں ریلیکس کرتے ہوئے معاملے کو خود سلجھانا چاہا لیکن تب تک اس کا انکشاف ہر ایک شخص کے چہرے سے گویا رنگت کو اڑا چکا تھا۔۔۔
” مت بھولیں کہ مڈل کلاس لڑکی آپ کے بیٹے کی بیوی ہے آپ کا بیٹا نکاح کر چکا ہے مجھ سے۔۔۔۔” اس بار اس کے انسو ٹوٹ کر آنکھوں سے گرتے چلے گئے عائزہ نے حیرت سے سر اٹھا کر ان دونوں کی جانب دیکھا تھا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی یہاں لگنے والا تماشہ اتنا اتنی بھیانک شکل اختیار کر لے گا۔ ملک زاویار کی نظریں اس کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں اور آنکھوں کا رنگ بدلتا جا رہا تھا اس کا چہرہ بے تحاشہ سرخ تھا۔۔۔۔
وجاہت کا شکار وہ شخص اس وقت کسی الجھن میں مبتلا تھا ” آج سے تین ماہ پہلے مجھ سے نکاح کیا اپنے نام کی ڈور مجھے تھما کر آپ نے ثابت کیا کہ ایک لڑکی کو زیر کرنا کتنا آسان ہے پھر آسانی سے مرنے کا ڈرامہ کر کے منظر سے غائب ہو گئے۔۔۔۔” وہ روتے ہوئے ایک ایک لفظ بیان کر رہی تھی اپنے سر کو تھام کر وہیں نیچے بیٹھتی چلیے گئی۔۔۔
اس نے کبھی نہیں سوچا تھا اسے اتنا بڑا دھوکہ ملے گا ملک سفیان دھارتے ہوئے اس کی جانب بڑھ رہا تھا عائزہ خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی وہ لوگوں کے لیے حقارت کا باعث تھی اس کا پورا وجود تذلیل کا نشان بن چکا تھا اور تذلیل کروانے والا شخص اس کی پشت پر کھڑا حیران اور پریشان اسے دیکھ رہا تھا جس کے لبوں پر کوئی زنگدار فقل لگا ہوا تھا اس نے پلٹ کر ملک زاویار کو دیکھنا چاہا وہ ایک آخری بار اس کے منہ کو نوچ لینا چاہتی تھی۔۔۔۔
اس کے حسین چہرے کو داغدار کرنا کر دینا چاہتی تھی لیکن بند ہوتی آنکھوں اور ٹوٹے ہوئے ہواس نے اسے اس قابل نہیں چھوڑا ملک سفیان نے اپنے بیٹے کی حمایت کرتے ہوئے گارڈز کو حکم دیا کہ اس لڑکی کو باہر پھینکوا دے اسے لگا آج کے بعد وہ کبھی بھی ملک زاویار کی شکل نہیں دیکھ پائے گی اسے معلوم ہو چکا تھا اب کھیل اختتام کو پہنچا ہے محبت کا بنایا ہوا تاج محل رضا رضا ہو کر زمین بوس ہوچکا ہے اس کے سر میں شدید درد اٹھا آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا اور اگلے ہی پل وہ خاموشی سے فرش پر ڈھیر ہوتی چلی گئی…
Bewafa Tera Lams Novel By Khalida Khanam Complete – ZNZ
urdu novel download | romantic urdu novel pdf | zubi novels zone | urdu books library | online urdu novels reading | free pdf urdu novels | pakistani romantic novels | urdu novel 2025 complete | zubinovelszone urdu romantic novels | pdf urdu love story books
Bewafa Tera Lams Novel By Khalida Khanam Complete – ZNZ
Romantic urdu novels, free urdu novels to download, zubi novels zone, zubinovelszone.com, complete urdu novel 2025, the newest romantic urdu novels, bold urdu love stories, forced marriage novels, rude hero urdu novels, age difference love stories, urdu novel pdf reading online, the best pakistani urdu novels, top urdu romantic stories, and free urdu books to download are just a few of the categories Complete.
Bewafa Tera Lams Novel By Khalida Khanam Complete – ZNZ
At Zubinovelszone.com, we regularly upload the latest complete urdu novels, famous urdu writers’ stories, and bold romantic novels. You can find all categories — love, revenge, marriage, suspense, and emotional fiction. Enjoy smooth online reading and instant free download of your favorite Urdu books. Join millions of Urdu readers who trust ZNZ – Zubi Novels Zone for their daily romantic novel updates.
