Ajnabi Rasty Novel By Zarish Hussain Complete – ZNZ

Ajnabi Rasty Novel By Zarish Hussain Complete – ZNZ

Download free web-based Urdu books, free internet perusing, complete in PDF, Ajnabi Rasty Novel By Zarish Hussain Complete – ZNZ Online Free Download in PDF, Ajnabi Rasty Novel By Zarish Hussain Complete – ZNZ – Online Free Download in PDF, And All Free internet based Urdu books, books in Urdu, heartfelt Urdu books, You Can Download it on your Portable, PC and Android Cell Phone. In which you can without much of a stretch Read this Book. Ajnabi Rasty Novel By Zarish Hussain Complete – ZNZ We are Giving the PDF document on the grounds that the vast majority of the clients like to peruse the books in PDF, We make an honest effort to make countless Urdu Society, Our site distributes Urdu books of numerous Urdu journalists.

Ajnabi Rasty Novel By Zarish Hussain Complete – ZNZ

” چلا چلا کر کہوں گی نہیں ڈرتی میں تمہارے لالہ سے۔۔ میں شادی میں بھی جاؤں گی اور ساڑھی بھی پہنو گی۔۔۔۔۔” غصے سے کہتے اس نے اپنی کزن کو کمرے سے باہر دھکا دیا تھا پر کمرے کے دروازے پر کھڑے ارحام خانزادہ کو دیکھ رنگ سفید پڑنے لگا تھا۔ کل ہی تو وہ بزنس ڈیل کرنے پندرہ دن کے لیے امریکہ گیا تھا “ل۔۔لالہ۔۔ آپ تو امریکہ ” اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کہاں بھاگے۔۔ جبکہ ارحام نے ضبط سے مٹھی بھینچتے اپنی بہن کو کمرے سے باہر بھیجا تھا اور اندر سے دروازہ لاک کیا تھا۔
” لاسٹ بار وارن کر رہا ہوں ۔۔۔ نکاح ہو چکا ہے ہمارا اب تمہاری زبان سے لالہ نہ سنوں۔۔ اور ساڑھی پہن کر جانا ہے نہ تمہیں شادی پر۔۔؟؟؟۔۔۔ میں بیٹھا ہوں پہلے مجھے پہن کے دکھاؤ ” بیڈ پر پڑی اس کی سلیولیس ساڑھی کو دیکھتے وہ دانت پیستے بولا لیکن۔۔۔
بھاری بھر کم دروازے کے پیچھے سے آنے والی آواز میں خانزادہ حویلی کی خاموش راہداریوں میں گونج رہی تھیں۔ عنایہ کا چہرہ غصے سے تمتما رہا تھا اور اس کی آنکھوں میں بغاوت کی چمک تھی۔ ” چلا چلا کر کہوں گی، نہیں ڈرتی میں تمہارے لالہ سے! میں شادی میں بھی جاؤں گی اور ساڑھی بھی پہنوں گی۔ کسی میں ہمت ہے تو روک کر دکھائے! ” اس نے زور سے اپنی کزن زویا کو
کمرے سے باہر دھکا دیا، لیکن جیسے ہی وہ دروازہ بند کرنے کے لیے مڑی، اس کے سامنے کھڑے وجود کو دیکھ کر اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ سامنے ارحام خانزادہ کھڑا تھا۔ سیاہ تھری پیس سوٹ میں ملبوس، آنکھوں میں سرد مہری اور چہرے پر وہ مخصوص سختی جسے دیکھ کر اچھے اچھوں کے پسینے چھوٹ جاتے۔۔۔
” ل۔۔ لالہ ؟ آپ۔۔۔ آپ تو کل امریکہ چلے گئے تھے؟” عنایہ کی آواز جسے حلق میں پھنس کر رہ گئی۔ اس کا رنگ لمحوں میں سفید ہوگیا تھا۔ ارحام نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے اپنی مٹھیاں بھینچی، جیسے خود پر قابو پا رہا ہو۔ اس کی نظریں عنایہ کے چہرے سے ہوتی ہوئی بیڈ پر پڑی اس شوخ سرخ رنگ کی سلیو لیس ساڑھی پر گئیں جو عنایہ نے آج کی تقریب کے لیے نکالی تھی۔
ارحام نے ایک گہرا سانس لیا اور بغیر نظریں ہٹائے سرد لہجے میں زویا کومخاطب کیا۔ ” زویا، باہر جاؤ۔ ” زویا نے ایک خوفزدہ نظر عنایہ پر ڈالی اور تیزی سے وہاں سے نکل گئی۔ ارحام نے قدم اندر رکھا اور پیچھے مڑ کر دروازے کو لاک کر دیا۔ کلاک کی وہ آواز عنایہ کے دل پر ہتھوڑے کی طرح لگی۔ وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا عنایہ کے قریب آیا۔
اس کے وجود سے اٹھنے والی مہنگی پر فیوم کی خوشبو اب عنایہ کو ہراساں کر رہی تھی۔ ارحام عنایہ کے بالکل مقابل آکر رکا، اتنا قریب کہ وہ اس کی گرم سانسیں اپنے ماتھے پر محسوس کر سکتی تھی۔ ” آخری بار وارن کر رہا ہوں عنایہ۔۔۔” ارحام کی آواز دھیمی مگر حد درجہ خطرناک تھی۔ ” نکاح ہو چکا ہے ہمارا، اس لیے اب تمہاری زبان سے یہ ‘لالہ’ کا لفظ دوبارہ نہ سنوں۔ میں تمہارا بھائی نہیں ہوں، شوہر ہوں تمہارا۔” عنایہ نے کچھ کہنا چاہا، مگر لفظ جیسے کہیں کھو گئے تھے۔
ارحام نے بیڈ پر پڑی ساڑھی کواٹھایا اور اسے حقارت سے دیکھا۔ ” اور ساڑھی پہن کر جانا ہے نہ تمہیں شادی پر؟ گڈ۔۔۔” اس نے ساڑھی عنایہ کی طرف اچھالی۔ ” میں یہیں بیٹھا ہوں۔ پہلے مجھے پہن کر دکھاؤ یہ ساڑھی۔ دیکھوں تو صحیح، میرے منع کرنے کے باوجود تمہاری ہمت کیسے ہوئی اسے ہاتھ لگانے کی؟” عنایہ کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ ” ار حام۔۔۔ میں۔۔۔” اس نے کچھ کہنا چاہا لیکن ارحام کی آواز نے اس کی آواز دبادی تھی۔۔” پہنو اسے!” وہ دھاڑا، اور عنایہ لرز کر رہ گئی۔۔۔
وہ خوفزدہ نظروں سے اس ساڑھی کو دیکھتی ساڑھی لے کر واشروم میں بند ہوئی تھی اور وہ آرام سے صوفے پر ڈھے گیا۔۔ ساڑھی پہننے کے بعد اس نے ایک دفعہ آئینے میں اپنا معائنہ کیا تو اس کا چہرہ پل بھر میں سرخ ہو گیا۔ وہ ایسی ساڑھی پہن کر کمرے سے باہر نکلنے کا ارادہ رکھتی تھی؟ اس نے اپنی ہی سوچ پر لعنت بھیجی۔اب اس کا روم روم کانپ رہا تھا اور وہ واش روم سے باہر نکلنے سے بھی ڈر رہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اگر وہ باہر گئی تو یقیناً ارحام خانزادہ اسے بخشنے والا نہیں تھا۔
آخر کار ہمت مجتمع کر کے اس نے دروازہ کھولا اور واش روم سے باہر نکلی۔ سامنے ہی ارحام خانزادہ گیلری سے باہر دیکھنے میں مصروف تھا۔۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے رخ موڑ کر واش روم سے نکلتی عنایہ کو دیکھا۔ پل بھر کے لیے ارحام کی نظریں ساکت ہو گئیں۔ وہ بے خودی کے عالم میں اٹھا اور قدم بڑھاتا ہوا عنایہ کے قریب آیا۔… عنایہ اپنی سانسیں روکے اس کے اگلے قدم کا انتظار کر رہی تھی۔
اسے لگ رہا تھا کہ ارحام اسے یوں دیکھ کر دھاڑے گا یا ڈانٹے گا، لیکن یہاں تو سب اس کے وہم کے بالکل بر عکس ہو رہا تھا۔ ارحام کی نظریں ستائش سے اسے دیکھ رہی تھیں۔ عنایہ کا منہ حیرت سے کھل گیا تھا کہ آخر ارحام نے اسے کچھ کہا کیوں نہیں؟ ارحام نے عنایہ کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے مزید اپنے قریب کیا، اس کے چہرے پر آئی لٹ کو پیچھے کیا اور اس کے لبوں کی جانب جھکا۔
اس سے پہلے کہ ارحام اپنی گرفت مضبوط کرتا، عنایہ نے فوراً اسے خود سے دور دھکیلا۔ ” یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟” وہ غصے سے چیخی۔ ارحام خانزادہ کی نظروں کا رخ یکسر بدل گیا۔ جن آنکھوں میں ابھی جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا، وہیں اچانک سرد مہری۔۔۔ ارحام خانزادہ کے لہجے میں اب وہ نرمی دور دور تک نہ تھی جو چند لمحے پہلے عنایہ کو ایک خوش فہمی میں مبتلا کر گئی تھی۔
اس کی گرفت عنایہ کے نازک بازو پر اتنی سخت تھی کہ اسے اپنی ہڈیاں ٹوٹتی محسوس ہوئیں۔۔۔ ارحام نے اسے جھٹکے سے اپنی سمت کھینچا، یہاں تک کہ عنایہ کا سر اس کے مضبوط سینے سے ٹکرایا۔ اس کی آنکھوں میں غصے کی سرخ لہریں اتر آئی تھیں۔۔۔” یہ کیا کر رہی ہو تم؟” ارحام کی آواز دھیمی تھی مگر اس میں موجود غصے نے عنایہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑا دی۔ ” مجھ سے دوری اختیار کرنے کی ہمت کیسے ہوئی تمہاری؟”۔
” چھوڑیں مجھے ارحام! آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا مجھ سے اس طرح بد تمیزی کرنے کا۔ ” عنایہ نے تڑپ کر اپنا بازو چھڑوانے کی کوشش کی، مگر ارحام کی گرفت آہنی تھی۔۔۔ “حق؟ ارحام کے لبوں پر ایک زہریلی مسکراہٹ آئی۔ اس نے عنایہ کے بازو کو مزید مروڑتے ہوئے اسے دیوار سے جا لگایا۔
“حق کی بات تم نہ ہی کرو تو بہتر ہے۔ جس ساڑھی کو پہن کر تم باہر جانے کی ضد کر رہی تھی، اس کے پہننے کے بعد تم نے خود کو آئینے میں دیکھا ہے؟ تم چاہتی تھیں کہ دوسرے مرد تمہیں اس حال میں دیکھیں؟” عنایہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے ، مگر ارحام پر جیسے جنون سوار تھا۔ اس نے جھک کر اپنا چہرہ عنایہ کے کان کے قریب کیا، اس کی گرم اور تفصیل سانسیں عنایہ کو ہراساں کر رہی تھیں۔۔
” سن لو عنایہ! یہ ضد، یہ نخرے، یہ بغاوت۔۔۔ یہ سب حویلی کی دہلیز تک ٹھیک ہیں۔ اس کمرے کے اندر صرف میرا حکم چلتا ہے۔ اور اگر تم نے دوبارہ مجھ سے دور ہونے کی کوشش کی، تو میں بھول جاؤں گا کہ میں نے داجی سے وعدہ کیا تھا کہ میں تمہیں ہمیشہ۔” اس نے اپنی بات ادھوری چھوڑی دی اور عنایہ کا بازو چھوڑا تو وہ لڑ کھڑا کر بیڈ کے سہارے گر گئی۔
ارحام نے وہیں پڑے ایک بھاری شال کو اٹھایا اورپوری قوت سے عنایہ کی طرف اچھالا۔ “ڈھانپو خود کو! اور جب تک میں نہ کہوں، اس کمرے سے باہر قدم رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمہاری شادی میں جانے کی حسرت میں آج یہیں دفن کروں گا۔ ” وہ غصے سے پیر پٹختا ہوا بالکونی کی طرف نکل گیا، جبکہ عنایہ وہیں بیٹھی سسکیاں بھر رہی تھی، اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ ارحام خانزادہ سے بغاوت کی قیمت اسے بہت مہنگی پڑے گی۔۔۔۔

 

Ajnabi Rasty Novel By Zarish Hussain Complete – ZNZ

urdu novel download | romantic urdu novel pdf | zubi novels zone | urdu books library | online urdu novels reading | free pdf urdu novels | pakistani romantic novels | urdu novel 2025 complete | zubinovelszone urdu romantic novels | pdf urdu love story books

 

Ajnabi Rasty Novel By Zarish Hussain Complete – ZNZ

Romantic urdu novels, free urdu novels to download, zubi novels zone, zubinovelszone.com, complete urdu novel 2025, the newest romantic urdu novels, bold urdu love stories, forced marriage novels, rude hero urdu novels, age difference love stories, urdu novel pdf reading online, the best pakistani urdu novels, top urdu romantic stories, and free urdu books to download are just a few of the categories Complete.

 

Ajnabi Rasty Novel By Zarish Hussain Complete – ZNZ

At Zubinovelszone.com, we regularly upload the latest complete urdu novels, famous urdu writers’ stories, and bold romantic novels. You can find all categories — love, revenge, marriage, suspense, and emotional fiction. Enjoy smooth online reading and instant free download of your favorite Urdu books. Join millions of Urdu readers who trust ZNZ – Zubi Novels Zone for their daily romantic novel updates.

NOVELS INFORMATION ARE THE GIVEN BELOW
234+ Pages · 2026 · 16.52 MB · Urdu
Download Box
0%

Leave a Reply