Aye Ajnabi Novel By Faryal Khan – ZNZ
Download free web-based Urdu books, free internet perusing, complete in PDF, Aye Ajnabi Novel By Faryal Khan – ZNZ Online Free Download in Aye Ajnabi Novel By Faryal Khan – ZNZ – Online Free Download in PDF, And All Free internet based Urdu books, books in Urdu, heartfelt Urdu books, You Can Download it on your Portable, PC and Android Cell Phone. In which you can without much of a stretch Read this Book. Aye Ajnabi Novel By Faryal Khan – ZNZ We are Giving the PDF document on the grounds that the vast majority of the clients like to peruse the books in PDF, We make an honest effort to make countless Urdu Society, Our site distributes Urdu books of numerous Urdu journalists.
Aye Ajnabi Novel By Faryal Khan – ZNZ
تیمور آہستہ آہستہ بیڈ کی دوسری جانب گیا جہاں آفرین کا چہرہ تھا۔ نہ جانے کیوں وہ اس کا چہرہ دیکھنے سے ڈر رہا تھا۔ اور پھر وہ ہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ ہر قسم کا زخم چہرے پر نقش تھا۔ ہونٹ، ناک اور ماتھے سے رستہ خون اب بھی گیلا تھا۔ چہرے پر جگہ جگہ نیل پڑے تھے۔ سپاٹ کھلی آنکھ میں بھی خون جم گیا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا اس کی روح پرواز کر گئی ہے جسم بے جان پڑا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے وہ زندہ تھی۔
موجودگی محسوس ہونے پر اس کی آنکھوں نے حرکت میں آ کر زاویہ بدلا۔ دونوں کی نگاہیں ملیں۔ آفرین کے سپاٹ چہرے پر درد کی دراڑیں پڑنا شروع ہوئیں۔ آنکھ سے آنسو پھسلے اور وہ بے آواز رو پڑی۔ جیسے دیارِ غیر میں کوئی بھٹکا ہوا کسی اپنے کو دیکھ رو پڑتا ہے۔ تیمور کو بے بس تاسف نے گھیر لیا۔ سمجھ میں نہیں آیا کیا کہے؟ کیا کرے؟
”جلدی مرہم لگائیں ناں ڈاکٹر بابو…“ مینو کی متفکر آواز اسے ہوش میں لائی۔
”کیا….کیا ہوا ہے انھیں؟“ اس نے فوری خود کو سنبھالتے ہوئے مینو کی جانب دیکھا۔
”وہ ہی……جو…..ہمیشہ ہوندا….“ وہ نظریں چراتے ہوئے دھیرے سے بولی۔ جیسے کوئی راز بتایا ہو۔ اس کا چہرہ بھی بہت رنجیدہ لگ رہا تھا۔
ساری باتیں پرے کرتا وہ اسے طبی امداد دینے قریب بیٹھا۔ وہ ہچکیاں روکنے کی کوشش میں سسکیاں بھر رہی تھی۔ تیمور آہستہ آہستہ زخم صاف کر کے دوا لگانے لگا۔ ذہن میں بے تحاشا سوالات کی آندھی چل رہی تھی لیکن ابھی کچھ بھی زبان پر نہیں لا سکتا تھا۔
”پاؤں پر بھی جی….“ مینو نے آفرین کے پاؤں کی جانب توجہ دلائی جن پر کمبل تھا۔
”کہاں؟“ تیمور نے گردن موڑ کر تعاقب میں دیکھا۔
وہ آگے آئی۔ کمبل ہٹایا تو تیمور کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں۔ آفرین کے دائیں پاؤں میں زنجیر تھی جس کا دوسرا سرا زمین پر ابھی تازہ گڑھے کھونٹے سے بندھا تھا۔ مینو نے اس کی دائیں ٹانگ کا شلوار کا پائنچہ اوپر چڑھایا جو جلنے سے پھٹ گیا تھا۔ وہ اوپر ہوتے ہی ٹخنے پر جلنے کا زخم نظر آیا۔ شاید کوئی جلتی ہوئی چیز داغی گئی تھی۔ تیمور کے چہرے پر بیک وقت حیرانی، بے بسی و برہمی کے رنگ گڈمڈ ہو رہے تھے۔
”مرہم پٹی ہو گئی ڈاکٹر؟“ اسی پل ثاقب چوہان وہاں آیا۔ اسے دیکھتے ہی تیمور کے ضبط کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔
”یہ تم لوگوں نے کیا حشر کر رکھا ہے بیچاری کا؟“ وہ کھڑا ہوتا پھٹ پڑا۔ ثاقب اس غیر متوقع رد عمل پر دنگ رہ گیا۔ مینو بھی حیران تھی۔ آفرین نے کوئی رد عمل نہیں دیا۔
”ہم نے کچھ نہیں کیا….یہ کچن میں کام کرتی خود…..“
”بس کرو….“ تیمور نے یہ گھسا پٹا جواب بیچ میں ہی روک دیا۔
”پاگل سمجھا ہے مجھے؟ یہ چوٹیں خود سے نہیں آتیں، صاف پتا چل رہا بری طرح مارا پیٹا گیا ہے اسے، اور اب جانوروں کی طرح زنجیر سے بندھا ہوا ہے، یہ ڈومیسک ابیوز کہلاتا ہے اور یہ جرم ہے، باز آجاؤ تم لوگ ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔“ تیمور آپے سے باہر ہو چکا تھا۔ اسے آفرین پر ترس سے زیادہ ان لوگوں پر غصہ آرہا تھا۔ وہ انجام سوچے بنا بول پڑا تھا۔
ثاقب پہلے تو چند لمحے حیرت زدہ رہا پھر حیرانی کی جگہ مطمئن تجسس نے لے لی۔
”ورنہ کیا کرے گا تو؟“ ثاقب نے بنا اثر لیے جاننا چاہا۔
یہ اطمینان بھرا سوال اچانک اس پر گھڑوں پانی ڈال گیا۔ ابلتا ہوا غصہ ٹھنڈا پڑتے ہی حقیقت یاد آئی۔ وہ کیا کر سکتا تھا؟ لیکن اس نے ہار نہ مانتے ہوئے خود کو مضبوط رکھا۔
”میں پولیس کو بتا دوں گا۔“ اس دھمکی کے کھوکھلے پن سے وہ خود بھی واقف تھا۔
”جا بتا دے…..“ کھلی چھوٹ دے دی گئی۔
”لیکن مرہم پٹی کر کے جائیو….“ ساتھ تاكید بھی تھی۔ اسے کوئی فرق نہ پڑا۔ پہاڑ کو پتھر سے بھلا کہاں فرق پڑتا ہے؟
”ساتھ پولیس کو یہ بھی بتائیو تو شہر چھوڑ کر کیوں بھاگا تھا؟“ ثاقب نے ایک ہاتھ سے اس کا جبڑا دبوچتے ہوئے در حقیقت اس کی دکھتی رگ پکڑ لی تھی۔ تیمور ششدر رہ گیا۔ تو مطلب حویلی والے اس کا یہ راز جانتے تھے؟
یہ وار اتنا کاری تھا کہ مزید کچھ کہنے کی اب نہ ضرورت تھی نہ گنجائش۔۔۔۔
قیامت آ کر گزر چکی تھی۔ اب کچھ باقی نہیں تھا۔ امید بھی نہیں!
آج دو روز بعد تیمور کو آفرین کی مرہم پٹی تبدیل کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ آنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ لیکن اس بار نہ اس کے پاس کوئی خفیہ تجویز تھی نہ آفرین کی طرف سے کوئی پوشیدہ گزارش! وہ عالیشان چھت کی چھاؤں میں پڑی بس ایک زندہ لاش تھی جسے اپنوں نے مارا تھا۔
تاسف سے اس کی مرہم پٹی کرنے کے بعد تیمور الجھا ہوا ذہن اور بھاری دل لیے واپس جا رہا تھا کہ ایک نئی اطلاع ملی۔ اسے چھوٹے چوہان نے بلایا تھا۔ نواز اسے ثاقب کے کمرے میں چھوڑ گیا۔ ثاقب دونوں ہاتھ پشت پر باندھے کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔
”بولو….“ تیمور نے اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ وہ پلٹا۔
”آؤ…..بیٹھو….“ تیمور آگے آیا لیکن بیٹھا نہیں۔
”تم نے پولیس کو بتایا نہیں؟ میں انتظار کر رہا تھا۔“ وہ طنزیہ گویا ہوا۔ تیمور چہرے پر ناگواری لیے چپ رہا۔
”انتظار کر رہا تھا کب پولیس آئے اور میں ان کو تمہارے بارے میں بتاؤں۔“ اس نے جملہ جاری کرتے ہوئے مکمل کیا۔ وہ بخوبی یہ مبہم دھمکی سمجھا۔
”لیکن تم سمجھدار نکلے ڈاکٹر….“
”شہر کے اتنے ڈاکٹر لوگ کو چھوڑ کر صرف تمہارے کو ہی اس گاؤں کے لیے ہم نے اسی لیے چنا کیوں کہ ہم تمہارے بارے میں سب جانتے تھے، ہم نے پھر بھی کسی کو کچھ نہیں بتایا اور آگے بھی نہیں بتائیں گے، لیکن ایک شرط پہ…..“ وہ ہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ اب اس کی کمزوری کا فائدہ اٹھایا جانے والا تھا۔
”کیسی شرط؟“ بادل نخواستہ پوچھنا پڑا۔
”تمھیں ایک رات کے لیے میری بیوی سے نکاح کرنا ہوگا۔“ اس نے جتنے اطمینان سے کہا تھا وہ اتنا ہی حیران تھا۔
”میں نے اس کو غصے میں طلاق دے دی تھی، اب ہمارے کو حلالہ کرنا ہے۔“ اس کی حیرت بھانپتے ہوئے خود ہی مزید بتایا لیکن حیرانی کم ہونے کے بجائے بڑھ گئی۔
”صرف ایک رات کی بات ہے، صبح طلاق دے دینا، پھر چاہو تو تم یہاں سے جا سکتے ہو، ہم تمہارا ٹرانسفر کہیں اور کرا دیں گے اور بدلے میں رقم چاہیے……“
”کیسا بے غیرت آدمی ہے تو…“ ثاقب کی پیشکش مکمل ہونے سے قبل وہ پھٹ پڑا۔
”تجھے شرم غیرت نہیں آئی اپنی بیوی کے بارے میں یہ کہتے ہوئے؟ رحم تو تیرے میں نہیں تھا آج پتا چلا غیرت بھی نہیں ہے۔“
تیمور زہر خندہ لہجے میں کہتا گیا۔ ثاقب نے یکدم گریبان پکڑ لیا۔
”پہلی پیشکش کے بعد تجھے آخری دفعہ بخش رہا ہوں سوچ لے۔“ اس کی آواز درمیانی تھی لیکن لہجہ سخت!
”اگر میری بات مانتا ہے تو ابھی جیسی زندگی گزار رہا ہے پھر اس سے بھی اچھی گزرے گی….نہیں مانے گا تو اپنی بدتر زندگی کا ذمہ دار تو خود ہوگا۔“ اس نے دو راستے دکھاتے ہوئے جھٹکے سے چھوڑ دیا۔
لیکن در حقیقت ثاقب نے اس پھڑپھڑاتے ہوئے پرندے کی گردن دبوچ لی تھی۔ اب دو ہی ممکنہ صورت حال تھیں……اسی شکنجے میں عمر بھر کی قید…..آزادی کی کوشش میں موت!
وہ اپنوں کی ستائی آفرین کی مدد کرنے آیا تھا لیکن اب خود بری طرح پھنس چکا تھا۔۔۔۔
۔
Aye Ajnabi Novel By Faryal Khan – ZNZ
urdu novel download | romantic urdu novel pdf | zubi novels zone | urdu books library | online urdu novels reading | free pdf urdu novels | pakistani romantic novels | urdu novel 2025 complete | zubinovelszone urdu romantic novels | pdf urdu love story books
Aye Ajnabi Novel By Faryal Khan – ZNZ
Romantic urdu novels, free urdu novels to download, zubi novels zone, zubinovelszone.com, complete urdu novel 2025, the newest romantic urdu novels, bold urdu love stories, forced marriage novels, rude hero urdu novels, age difference love stories, urdu novel pdf reading online, the best pakistani urdu novels, top urdu romantic stories, and free urdu books to download are just a few of the categories Complete.
Aye Ajnabi Novel By Faryal Khan – ZNZ
At Zubinovelszone.com, we regularly upload the latest complete urdu novels, famous urdu writers’ stories, and bold romantic novels. You can find all categories — love, revenge, marriage, suspense, and emotional fiction. Enjoy smooth online reading and instant free download of your favorite Urdu books. Join millions of Urdu readers who trust ZNZ – Zubi Novels Zone for their daily romantic novel updates.
