Novel Junoon Tere Ishq Ka By Noor Asif Part One Complete PDF – ZNZ

Novel Junoon Tere Ishq Ka By Noor Asif Part One Complete PDF – ZNZ

جنوں تیرے عشق کا از نور آصف

Download free web-based Urdu books, free internet perusing, Junoon Tere Ishq Ka By Noor Asif Complete – Online Free Download in PDF, Novel Free Download, Online Read Junoon Tere Ishq Ka By Noor Asif Complete – Online Free Download in PDF, And All Free internet based Urdu books, books in Urdu, heartfelt Urdu books, You Can Download it on your Portable, PC and Android Cell Phone. In which you can without much of a stretch Read this Book. Junoon Tere Ishq Ka By Noor Asif Complete , We are Giving the PDF document on the grounds that the vast majority of the clients like to peruse the books in PDF, We make an honest effort to make countless Urdu Society, Our site distributes Urdu books of numerous Urdu journalists.

جازم سیڑھیوں سے اترتا ہیزل کو دیکھ کر ٹھہرا تھا۔۔
بلکہ کچھ پلوں کے لیے مبہوت ہوا تھا۔۔سینے میں دھڑکتا دل کچھ پلون کے لیے جامد و ساکت ہوا تھا۔
وہ بلیک ڈریس میں ملبوس تھی۔۔دوپٹہ ایک سائیڈ پر ڈال کھا تھا۔تازہ تازہ شاور لیا ہوا تھا۔۔کھلے بالوں سے پانی ٹپکتا اس کے بدن کو بھگو رہا تھا۔آدھے بال کمر پر پڑے تھے۔آدھے بال ایک سائیڈ پہ ڈال رکھے تھے ۔۔بلیک ڈریس میں اس کا رنگ کندن کی طرح دھمک رہا تھا۔۔نظریں اس کے خوبصورت چہرے سے ہوتیں بے اختیار دلکش نشیب و فراز پر جا ٹھہریں تھیں۔اتنے عرصے بعد پورے استحقاق سے ہیزل کو گہری نظروں سے دیکھا تو بہت سے جذبات انگڑائی لے کر بیدار ہوے۔بہت مشکل سے اپنے جذباتوں پر بندھ باندھتے اس کے خوبصورت سراپے سے اپنی نظریں چراتے ہوے سڑھیاں اترتے اس کے مقابل آیا۔۔ہیزل نے جازم کو دیکھ کر گھبراتے ہوے دو قدم پیچھے لیے تھے۔۔سوپ کے باؤل پر ہیزل کے ہاتھوں کی گرفت مضبوط ہوئی۔
کچھ پل جازم کو دیکھنے کے نفرت سے اپنی نگاہیں پھیریں۔
جازم اس کی آنکھوں میں نفرت کو بغور دیکھتا اپنا نچلا لب دانتوں تلے بے دردی سے پیوست کر گیا۔۔دل میں شدید درد اٹھا تھا۔
کچھ بھی کہا نہ جاۓ درد سہا نہ جاۓ
ہو کہ جدا جان ادا اب تو رہا نہ جاۓ
مانے نہ دل دیوانہ جلتا رہے پروانہ
تم نے تو کی مجھ سے وفا میں نے نہیں پہچانا
جازم نے کرب سے آنکھیں میچیں۔۔ہیزل کی نیلی آنکھوں میں ٹھہری نفرت برداشت نہیں ہوئی تھی۔
ہیزل نے رخ پلٹتے ہوے اپنے قدم باہر کی جانب بڑھاۓ۔۔
کہاں جا رہی ہو ہیزل؟؟ جازم کے نرم لہجے پر ہیزل نے حیرانگی سے مڑتے ہوے جازم کو دیکھا۔۔
جازم کی لو دیتی نظروں کو ہیزل نے تمسخراتی نظروں سے دیکھا تھا۔ دوسرے پل وہ اس کی نرم گرم جذبے لٹاتی نگاہوں کو دیکھتے استھزائیہ مسکرائی۔انھیں آنکھوں سے تو وہ ہمیشہ دھوکا کھاتی آئی تھی۔انھیں آنکھوں نے دل تک رسائی کرتے اس کا سب کچھ لوٹ لیا تھا۔۔اب تو کچھ بھی نہ بچا تھا اس کے پاس۔۔اب کیا لوٹنے کا آرادہ رکھتا تھا وہ؟؟؟ہیزل نے زخمی مسکراتے ہوے سوچا۔۔مقابل اب اس کے نزدیک ایک شطرنج بچھانے والا کھلاڑی تھا جو دوسروں کا سب کچھ لوٹ کر شرمندہ بھی نہ ہوتا تھا۔
میں یہ سوپ دادی جان کے لیے لائی تھی۔۔انھیں دینے جا رہی تھی۔۔اگر مجھے پتہ ہوتا آپ بھی یہیں پر ہیں۔۔میں یہاں پر کبھی قدم نہ رکھتی۔۔ہیزل نے جازم کو دیکھتے ہوے سپاٹ لہجے میں کہا۔
یہ نفرت کا اظہار کر رہی ہو۔۔یا پھر مجھ سے ڈرتی ہو۔۔جازم نے ہیزل کے قریب آتے ہوے اس کی نیلی گہری آنکھوں کو بغور دیکھتے ہوے پوچھا۔دل نے شدت سے تمنا کی تھی۔اس کی نیلی آنکھوں میں اس کے لیے نفرت کے سوا ہر جذبہ ہو۔مگر اب کہاں ممکن تھا؟؟۔نفرت کے اس کھیل میں جیت نفرت کی ہی ہونی تھی۔مگر اب مقابل کو نفرت نام سے بھی نفرت ہو چلی تھی۔
نفرت کا اظہار کر رہی ہوں۔۔ڈرتی بھی ہوں۔۔بہت ڈرتی ہوں آپ کے لبوں سے نکلے ہوے لفظوں سے ہیزل بہت ڈرتی ہے۔۔کیا پتہ کب آپ کے سفاک لفظ ہیزل کو پستی میں گرادے۔۔اس لیے ہیزل آج بھی آپ کو دیکھ کر ڈر جاتی ہے۔۔آپ کے لفظ سن کر خود کو سمیٹنا بہت مشکل ہوتا ہے۔۔ٹوٹ کر جڑنا بہت مشکل ہوتا ہے۔۔دو سالوں میں ہیزل جڑ چکی تھی۔۔مگر آپ کے واپس آنے سے پھر سے ٹوٹ گئی ہے۔۔ابھی پتہ نہیں اور کتنا مجھے ٹوٹنا ہے۔۔ہیزل نے جازم کی آنکھوں میں دیکھتے ہوے نفرت سے ایک ایک لفظ چبایا تھا۔۔
ہیزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمھارا نام ہیزل تو نہیں ہے۔۔جازم اس کی پنکھڑیوں سے نکلے لفظ ہیزل کو ہی سن رہا تھا۔۔
آج اس کے منہ سے صرف ہیزل کہنا اچھا نہیں لگا تھا۔۔
ہیزل نے استھزائیہ مسکراتے ہوے اپنے بالوں کو ایک ہاتھ سے جکڑتے ہوے جازم کو نم آنکھوں سے دیکھا۔۔ہیزل کے چہرے پر کئی تاریک ساۓ لہراۓ۔۔اسے اب سمجھ آئی تھی اس کے نرم رویے کی وجہ، ،وہ اسے اس کی پہچان بتا کر پھر سے اپنی آنا کو تسکین پہنچا رہا تھا۔
ہیزل کے بدن پر لرزہ طاری ہوا تھا۔ دوسرے ہاتھ میں موجود باؤل ہیزل کے ہاتھ کی کپکپاہٹ سے لرزنے لگا تھا۔۔
جسے دیکھتے جازم نے اس کے ہاتھ سے وہ باؤل لے کر پاس پڑی ٹیبل پر رکھ دیا۔۔
میرا راستہ روک کر مجھے میری پہچان بتا رہے ہیں آپ۔۔۔نہیں ہے پہچان میرے پاس،،،نہیں ہے میرے پاس کوئی نام۔۔مسٹر جازم شاہ۔۔۔۔۔ہیزل جازم کی طرف بڑھتے پوری قوت سے حلق کے بل چیخی۔۔
ہے تمھارے پاس نام۔۔ہے تمھارے پاس تمھاری پہچان۔۔۔۔تم ہیزل جازم شاہ ہو۔۔تم مسسز جازم شاہ ہو۔۔۔جازم شاہ کی ہیزل ہو تم۔۔صرف جازم کی ہیزل۔۔۔۔
جازم ہیزل کو کندھوں سے تھامے خود کے قریب کر گیا۔۔لب بے اختیار ہوتے اس کی نیلی آنکھوں کی بھیگی پلکوں کو عقیدت سے چوم گئے تھے۔
ہیزل کی آنکھیں اس کی نرم پرتپش لمس پر تحیر ذدہ ہوتے پھیلیں ۔ہیزل نے ناسمجھی سے جازم کو دیکھا جو نظروں میں پر حدت تپش لیے بنا پلکیں جھپکاۓ دیوانہ وار اسے دیکھ رہا تھا۔۔
ہیزل نے ایک نظر اس کی آنکھوں سے پھوٹتے گہرے جذبوں کو نفرت امیز نگاہوں سے دیکھا۔دوسرے ہی پل اس نے پوری قوت سے خود کو جازم کے حصار سے چھڑوایا۔۔۔
اس پہچان سے مجھے نفرت ہے۔۔نفرت ہے مجھے اس پہچان سے۔۔۔۔۔جس نے مجھ سے میری ذات کا غرور چھین لیا۔۔۔ مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا۔۔نفرت ہے مجھے اس پہچان سے۔
ہیزل جازم سے دور ہوتے چیخی ۔
ہیزل میری بات سنو۔۔جازم اس کی طرف بڑھا۔۔جو نم آنکھوں کے ساتھ بری طرح چیختے اپنے حواس میں نہیں لگ رہی تھی۔دو سال سے وہ اذیت میں تھی۔جازم کے لفظوں کی پھانس اسے آج بھی محسوس ہوتی تھی۔۔آج وہ دل کی تمام اذیت لفظوں کی صورت زبان پر تھی
رک جائیں وہیں پر جازم عباس شاہ، ،،، یقینًا آج پھر آپ کو مجھ سے میرا جسم چاہیے ہو گا۔۔اپنا حق جتا کر اپنی وحشت کو اپنے جنون کا نام دے کر آپ میرے بدن کو نوچنا گھسوٹنا چاہتے ہوں گے۔تبھی آج ان آنکھوں میں پھر سے وہی جذبے دکھائی دے رہے ہیں۔جن جذبوں سے میں نے کبھی دھوکا کھایا تھا۔رات کے اندھیرے میں اپنا حق جتا کر آپ تو پھر سے کہہ دیں گے۔۔۔آپ کو میرے وجود سے گھن آتی ہے۔آپ مجھ سے اپنی نسل کی بقاء نہیں چاہتے۔۔
اگر اب کی دفعہ میرے وجود میں آپ کی نشانی رہ گئی تو۔۔۔کس کس کو یقین دلاؤں گی کہ اس کی پہچان آپ کی ذات سے جڑی ہے۔۔آپ کا کیا بھروسہ آپ اپنے ہی بچے کو نا جائز کہہ دیں۔
ہیزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔جازم کی دھاڑ اور اس کا ہاتھ ہوا میں معلق دیکھ کر وہ سہم کر خاموش ہوتی پیچھے ہوئی ۔جازم نے ہاتھ ہیزل کو مارنے کے لیے اٹھایا تھا۔مگر خود پر ظبط کرتے اس نے مٹھی بنا کر اپنے پہلو میں گرا دیا۔۔لفظ ”نا جائز“ ہیزل کے منہ سے سوئی کی طرح چبھا تھا۔یہ لفظ تو ناسور بن گیا تھا اس کے لیے۔۔
ہیزل کچھ لمحے نم آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی پھر بھاگتی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔۔

junoon tere ishq ka novel by noor asif pdf download , Junoon tere ishq ka , novel by noor asif read online , noor asif novels list , tere ishq mein novel by noor asif pdf download , Junoon tere ishq ka novel by noor asif free , junoon , tere ishq ka novel by noor asif , junoon tere ishq ka novel by zainab rajpoot , junoon tere ishq ka novel by noor asif , romantic novels in urdu pdf , best romantic novels in urdu, new bold romantic novels in urdu , short romantic novels in urdu pdf , new romantic novels in urdu , short romantic novels in urdu ,best romantic novels in urdu pdf , urdu novels , best urdu novels , urdu novels pdf download , romantic urdu novels ,rude hero based urdu novels , latest complete urdu novels , new bold romantic novels in urdu , romantic novels in urdu , novels in urdu.

Junoon Tere Ishq Ka By Noor Asif Complete is accessible Free of charge In PDF Organization And Allowed To Download And Peruse On the web. Noor Asif is an Extremely Intriguing Story And All Urdu Books assortments Accessible For You.

Junoon Tere Ishq Ka By Noor Asif Complete is One Of The Most outstanding Urdu Novel Composed By Noor Asif is accessible Free of charge In PDF Organization And This Writer Is Extremely Well known For His Best Urdu Books And He Composing Best Urdu Books Like Social, Heartfelt, Activity, and Wrongdoing, Noor Asif is accessible Free of charge In PDF Organization And Has the Most ideal Urdu novel assortments That anyone could hope to find Bunny For nothing In PDF Configuration.

Junoon Tere Ishq Ka By Noor Asif Part 1
Junoon Tere Ishq Ka By Noor Asif Part 2
Junoon Tere Ishq Ka By Noor Asif Part 3

Zubinovelszone.com is the Unparalleled Has All Urdu novel assortments Accessible For nothing And Everybody Read And Download All Urdu Books. Pakistan All Urdu Books Writers assortments Accessible Bunny Simple To Download Simple To Peruse On the web. This Site is For All to appreciate And is Not difficult To Utilize Like Relatives.

      426+ Pages · 2024 · 23.02 MB · Urdu

Junoon Tere Ishq Ka By Noor Asif Part 1
Junoon Tere Ishq Ka By Noor Asif Part 2
Junoon Tere Ishq Ka By Noor Asif Part 3

25 thoughts on “Novel Junoon Tere Ishq Ka By Noor Asif Part One Complete PDF – ZNZ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *