Dharknein Be Qarar Novel Free PDF – ZNZ

Dharknein Be Qarar Novel Free PDF – ZNZ

Pakistan’s most dependable source for romantic urdu stories pdf and free urdu novels is Zubi Novels Zone (ZNZ). Discover new urdu novels 2025, forced marriage urdu novels, rude hero based love stories, and age difference romantic novels. Every novel is easy to download and read online in high-quality PDF. Perfect for Urdu literature lovers who enjoy emotional, family-based, and romantic tales.

Dharknein Be Qarar Novel Free PDF – ZNZ

آفندی ہاؤس کا ہر گوشہ اس وقت رنگ برنگی لائٹس سے سجا ہوا تھا۔ ڈیک پر شادی بیاہ کے خوب صورت گانے بجائے جا رہے تھے۔ یہاں ہر کوئی اس شادی کو لے کر خوش تھا۔۔۔ سوائے اس ایک کے جس کی شادی ہو رہی تھی۔ وہ اس وقت اپنے کمرے کے واش بیسن کے سامنے سر جھکائے کھڑا تھا، چہرے سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ وہ جتنا اپنے دل کو راضی کرنے کی کوشش کرتا، اتنی شدت سے بے بسی کا احساس ہوتا جو اب غصے میں بدل رہا تھا۔ اس نے ایک جھٹکے سے سر اٹھا کر آئینے میں خود کو دیکھا۔ شرٹ اتار کر وہ جانے کہاں پھینک چکا تھا، اس کے کسرتی جسم پر پرانے زخموں کے کچھ نشان اب بھی نمایاں تھے۔ سیاہ آنکھیں ضبط سے سرخ ہو رہی تھیں، بال بکھرے ہوئے تھے اور چہرے سے غصہ، بے بسی اور نفرت ظاہر ہو رہی تھی۔
اسے دیکھ کر یقین نہیں آتا تھا کہ آج اس کی شادی ہونے والی ہے۔ وہ تو کوئی ایسا قیدی لگ رہا تھا جسے عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہو۔ “ٹھیک ہے دادا جان، اگر یہ آپ کی ضد ہے تو یوں ہی سہی۔ میں بھی آپ ہی کا پوتا ہوں۔ آپ کو آپ ہی کے سکوں میں جواب نہ دیا تو میرا نام بھی شہریار آفندی نہیں”۔ وہ غراتے ہوئے اپنے عکس کو گھورتے ہوئے خود کلامی کرنے لگا۔ اس ان چاہی شادی کا نتیجہ آفندی ہاؤس کو بھگتنا ہی تھا، شہریار آفندی سفاک مسکراہٹ کے ساتھ اپنے نئے پلان کے متعلق سوچنے لگا۔

دلہن بنی ہانیہ کے خیال میں اس سے زیادہ خوش قسمت شاید اس دنیا میں کوئی نہیں تھا۔ اسی لیے فرشتے کے بار بار شہریار کا نام لے لے کر چھیڑنے پر وہ شرم سے لال ہو جاتی۔ عرصہ ہوا کہ شہریار کے نام پر دل کی دھڑکنیں بد حواس ہو کر وہ اودھم مچاتیں کہ وہ چونک کر آس پاس دیکھنے لگتی کہ کہیں کوئی اس کے دلِ بے قرار کی حالت جان تو نہیں گیا؟ اور آج وہی من کا مالک شہریار اس کے تن کا رکھوالا بھی بننے والا تھا۔ اس کی خوشی کی تو کوئی حد ہی نہیں تھی، یقین ہی نہیں ہوتا تھا کہ اس کا محبوب ہمیشہ کے لیے اس کا ہونے والا ہے۔ رخصتی ایک حویلی سے ہوئی تھی اور اب وہ دلہن بن کر بھی ایک حویلی میں ہی آئی تھی۔ زاریہ آفندی بھی اس کے ساتھ ہی آئی تھیں اور اسے شہریار کے کمرے میں پہنچ کر کچھ دیر اس کے پاس بیٹھے رہنے کے بعد وہ اپنے مخصوص کمرے میں چلی گئیں۔ اس کے گرد رشتے دار خواتین کا جمگھٹا لگا تھا، ہلکے پھلکے مذاق، ذو معنی جملے، شریر چھیڑ خانیاں کرتے کرتے وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا، رات گیارہ بجے سفینہ بیگم نے اس کے کمرے میں جھانک کر سب کو ڈانٹ پلائی تب جا کر وہ سب کمرے سے نکلیں اور اس نے بھی کچھ سکون کا سانس لیا۔ اسے بے قراری سے اس لمحے کا انتظار تھا جب وہ اس کے روبرو ہو گی۔ حسین سپنوں میں کھوئے کھوئے اس نے ایک اچٹتی سی نظر وال کلاک پر ڈالی تو اندازہ ہوا کہ رات کا ایک بج رہا ہے۔ اسے کچھ بے چینی سی ہوئی، “کہاں رہ گئے ہیں وہ؟”۔ اس نے پریشانی سے انگلیاں مروڑیں۔ کتنی دیر سے ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے بیٹھے وہ تھک گئی تھی اس لیے ذرا کمر سیدھی کرنے کا سوچتے ہوئے بیڈ کی بیک سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔ ابھی اسے یوں بیٹھے ہوئے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ ایک جھٹکے سے دروازہ کھلا۔ وہ ہڑبڑا کر سیدھی ہوئی۔ دروازے میں شہریار آفندی کھڑا سپاٹ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کی نگاہوں سے کچھ شرمندہ سی ہو کر وہ سیدھی ہو بیٹھی۔ شہریار نے کچھ کہے بنا دروازہ بند کیا اور اپنی کام دار شیروانی اتار کر صوفے پر پھینکتے ہوئے خود بھی وہیں بیٹھ کر جوتے اتارنے لگا۔ اتنی دیر سے خود پر ضبط کیے وہ بڑی مشکل سے سب کا سامنا کر رہا تھا، اب مزید اس خول میں رہنا اس کی برداشت سے باہر تھا۔ کچھ دیر تک صوفے کی بیک سے سر ٹکا کر بیٹھے رہنے کے بعد وہ اٹھا اور سائیڈ ٹیبل پر موجود گلاس اٹھا کر جگ سے پانی انڈیل کر پینے لگا۔ ہانیہ کن انکھیوں سے اس کی ساری حرکتوں کو دیکھ رہی تھی، پانی پینے کے بعد شہریار نے اس کی طرف دیکھا تو گڑبڑا کر اس نے نگاہ چرا لی۔ شہریار نے گلاس واپس ٹیبل پر رکھا پھر اس کے سامنے سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا ہو کر غور سے اسے دیکھنے لگا۔ میرون لہنگے میں سوبر سا میک اپ کہے، نازک سی جیولری پہنے وہ بہت خوب صورت دکھائی دے رہی تھی۔ اس کے سیاہ گھنے بال سائیڈ سے نکل کر ایک طرف سے کندھے پر گر رہے تھے۔ دوپٹے کو پن اپ کر کے پیچھے کر دیا گیا تھا۔ عروسی کمرے کے اس پر فسوں سناٹے میں اس کے بلاخیز حسن کو دیکھ کر تو کسی کا دل بھی بے ایمان ہو سکتا تھا۔ وہ تو پھر اس کا شوہر تھا۔ شہریار آفندی یک ٹک اسے دیکھے گیا۔ اندر کا غم و غصہ دھیرے دھیرے جھاگ بن کر بیٹھنے لگا۔ وہ اسے گہری نظروں سے دیکھتا ہوا اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ اس کے یوں دیکھنے پر وہ بری طرح نروس ہو گئی۔ شہریار نے اس کے دودھیا ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ “بہت خوش ہو تم؟”۔ اس کی گمبھیر آواز پر اس نے سیاہ پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا اور دوبارہ نگاہیں جھکا لیں۔ اس کی شرم و حیا اسے اس سوال کا جواب دینے سے روکنے لگی، ویسے بھی اس کے اندر اعتماد تھا ہی کہاں؟ اور پھر شہریار آفندی کے سامنے تو اس کی زبان کھلتی ہی نہ تھی۔ “جج۔۔۔۔ جی! “۔ وہ یک لفظی جواب دیتے ہوئے بھی ہکلائی تو شہریار جو اس امید پر یہ سوال کر بیٹھا تھا کہ شاید جواب میں کسی قدر گرم جوشی دیکھنے کو ملے گی، جھنجھلا کر رہ گیا۔ اسے جین آسٹن یاد آئی، اگر اس کی جگہ وہ ہوتی تو؟ وہ کچھ دیر کو جین کی یادوں میں کھویا جو اسے لبھانے، منانے اور رجھانے کے سارے ہنر جانتی تھی۔ ”اس کا اور اس جاہل سی لڑکی کا بھلا کیا مقابلہ؟“۔ اس نے سوچا۔ ہانیہ کے ہاتھوں میں ہونے والی ہلکی ہلکی لرزش اسے واپس حال میں لے آئی۔ دل پھر سے بوجھل ہونے لگا۔ اس کے سامنے بیٹھی لڑکی اس کی من چاہی نہیں تھی۔ دماغ میں انگارے سے دہکے، اپنا غم و غصہ کم کرنے کا اسے ایک ہی طریقہ سمجھ میں آیا۔ وہ بہت جارحانہ انداز میں اس کی طرف پیش قدمی کرنے لگا۔ اور وہ جو اس سے محبت اور چاہت کی امیدیں باندھے ڈھیروں خواب سجائے بیٹھی تھی، اس کی وحشت کے طوفان میں کسی بے بس تنکے کی طرح بہنے لگی۔

ہانیہ کروٹ کے بل لیٹی گم صُم سی سامنے دیوار کو دیکھ رہی تھی۔ آنسو چپکے چپکے اس کے رخساروں کو چومتے ہوئے گرتے اور تکیے میں گم ہو رہے تھے۔ پتا نہیں وہ کب سے رو رہی تھی۔ اس کے انگ انگ سے درد کی تیز لہریں اٹھ رہی تھیں مگر وہ بے آواز رو رہی تھی۔ جس زندگی کے خواب دیکھتے اس نے آنکھوں میں راتیں کاٹ کر گزاریں یہ ویسی تو نہیں تھی۔ وہ محبت اور ضرورت کا فرق جانتی تھی، اور رات شہریار نے اپنے رویے سے ثابت کر دیا تھا کہ وہ اس کی محبت نہیں، صرف ضرورت تھی۔۔۔ یا شاید مجبوری۔ شہریار کے ہاتھوں پہنچنے والی اذیت بے پناہ تھی۔ اپنی یہ حیثیت اسے رلانے لگی۔ ” کیا ہوا اگر وہ مجھ سے پیار نہیں کرتے؟ میں تو کرتی ہوں ناں؟ کیا یہ کافی نہیں ہے کہ وہ میرے بن چکے ہیں؟ ہمیشہ میرے ساتھ رہیں گے؟“۔
اس نے اپنے دل کو سمجھاتے آنسو پونچھے۔ اسی وقت دور کہیں اذانوں کی آواز گونجی تو وہ اٹھ بیٹھی۔ شاور لے کر چینج کیا، پھر دوپٹہ اوڑھے ڈریسنگ روم سے باہر آئی تو شہریار کو جاگتے دیکھ کر ذرا ٹھٹھکی۔ وہ سپاٹ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ ہانیہ نے نگاہ جھکا کر صوفے پر بیٹھنا ہی مناسب سمجھا۔ وہ اٹھ کر شاور لینے چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ باہر آیا تو اسے بڑے سے چادر نما دوپٹے میں لپٹا دیکھ کر چہرے پر ناگواری لے آیا۔ بے پروائی سے اس نے بالوں کو رگڑتے ہوئے تولیہ اس کے برابر پھینکا، جوتے پہنے اور پھر جھک کر بیڈ کے نیچے سے اپنا اٹیچی کھینچ کر نکالتے ہوئے گھڑی پر نگاہ ڈالی۔ اس کی فلائٹ کی روانگی میں محض ایک گھنٹہ تھا اور اسے ابھی ایئرپورٹ بھی پہنچنا تھا۔ اب تک چپ چاپ بیٹھی ہانیہ کچھ بے چین سی ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ کچھ غلط ہونے جا رہا تھا۔ “آ۔۔۔ آپ کہاں جا رہے ہیں؟”۔ ہمت کر کے سوال پوچھ ہی لیا۔ شہریار نے اسے ایک نظر دیکھا پھر دراز سے اپنا پاسپورٹ نکال کر جیب میں ٹھونسا۔
“لنڈن”۔ ہانیہ نے حیرانی سے دہرایا۔ ،”لنڈن؟ لیکن کیوں؟”۔ “میں تمہیں جواب دہ نہیں ہوں”۔ کڑوے لہجے میں کہتے ہوئے اس نے والٹ اٹھایا۔ ہانیہ پریشانی سے آگے آئی۔ “لیکن آپ اچانک کیوں جا رہے ہیں؟ کل ہی تو ہماری شادی ہوئی ہے، ابھی تو گھر میں مہمان بھی موجود ہیں۔ پلیز ابھی مت جائیں۔ آپ تو پڑھائی بھی مکمل کر چکے ہیں نا اپنی؟ پھر کیوں جا رہے ہیں؟”۔ بھیگتی آواز میں وہ اسے منت کرنے لگی۔ شہریار نے ایک سرد نگاہ اس پر ڈالی، پھر اٹیچی کو چھوڑ کر دو قدم آگے بڑھ کر اس کے چہرے کو اپنی ہتھیلی میں دبوچا۔ ” ہانیہ آفندی، ایک بات اچھے سے سمجھ لو۔ یہ رِشتہ زبردستی کا ہے ورنہ میں تم جیسی ان پڑھ لڑکی کو دیکھتا بھی نہیں، دادا جان کے فورس کرنے پر مجبور ہو کر میں نے تم سے شادی کی۔ بہت کہا میں نے ان سے کہ میں تم سے شادی ہی نہیں کرنا چاہتا لیکن وہ نہ مانے۔ خیر، اب وہ جان ہی جائیں گے کہ شہریار آفندی کو کسی چیز کے لیے زبردستی مجبور کرنے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ بہرحال، میں کسی اور کو پسند کرتا ہوں اور مجھے تم سے کوئی دل چسپی نہیں اس لیے مجھ سے کوئی امید مت رکھنا۔” وہ اس کے سر پر گویا آسمان گراتا کہہ گیا اور ہانیہ پتھر کی مورت بنی بنا پلکیں جھپکائے اسے دیکھے گئی، ایک لمحے کو شہریار آفندی کے دل میں ندامت کا احساس جاگا، لیکن پھر جین کی حسین صورت نے چادر میں لپٹی ہانیہ کا چہرہ دھندلا دیا۔ وہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہٹا اور اپنا بیگ کھینچتا باہر نکل گیا۔


آج اس کی پہلی کلاس تھی۔ وہ اپنی دھڑکن کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے پرفیسر شہریار کی آمد کا انتظار کرنے لگی۔ شہریار لنڈن میں ہی تھا لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ اس طرح اچانک ہی ان کا آمنا سامنا ہو جائے گا۔ شہریار نے اندر آ کر ایک نظر ہال میں بیٹھے اسٹوڈنٹس ہر دوڑائی اور فورا ہی اس کی نگاہوں نے ہانیہ کو ڈھونڈ لیا۔ آج بھی وہ لمبی جیکٹ پہنے، گلے میں اسٹالر لگائے اس کے سامنے بیٹھی تھی۔ اس کا لباس جدید ضرور تھا مگر اس میں بھی اس نے اپنے وقار کا خیال رکھا تھا۔ یہ اس کا وہ روپ تھا جو پاکستان میں رہتے اس نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس نے لیکچر شروع کر دیا۔ اس دوران وہ گاہے بگاہے اس پر بھی نظر ڈال دیتا۔ لیکچر کے دوران ہی شہریار نے ایک بار پھر پلٹ کر اسے دیکھا اور اس کا سارا خون سمٹ کر چہرے پر جمع ہو گیا۔ ہانیہ برابر میں بیٹھے ایلکس کی کسی بات پر ہنس رہی تھی۔ شہریار کا دل چاہا وہ ان دونوں کو گولی مار دے۔ “اسٹینڈ اپ مس ہانیہ” وہ زور سے دھاڑا ” آئندہ آپ مجھے اس کلاس میں نظر نہ آئیں”۔ ہانیہ چونک کر کھڑی ہو گئی۔ پل بھر کو اس کے اندر پرانی ہانیہ کا خوف جاگا تو اس کی آنکھوں میں نمی اتری۔ ان جھلملاتے آنسوؤں کو دیکھتے ہوئے شہریار کا دل پہلی بار بے چین ہوا۔ پہلی بار تھا ایسا کہ اس کے دل نے ہانیہ کی کسی تکلیف پر دھڑکن مس کی۔ ہانیہ نے خود کو سنبھال کر اس کی آنکھوں میں دیکھا، پھر اپنا بیگ اٹھایا، کتابیں سنبھالیں اور قدم قدم چلتی اس کے سامنے ائی۔ “کیوں سر؟ کیا تکلیف ہوئی ہے آپ کو مجھ سے؟ سینڈرا اور لوئس بھی تو ہنس رہے تھے، علی، رائمہ اور ستیش بھی ہنس رہے تھے پھر مجھ پر ہی کیوں نظرِ کرم ہوئی آپ کی؟”۔ چبھتے ہوئے لہجے میں وہ بولی تو شہریار لاجواب رہ گیا۔ یہ وہ ہانیہ نہیں تھی جسے وہ پاکستان میں چھوڑ آیا تھا۔ جو اس کے سامنے بات کرتے ہکلا جاتی تھی۔ یہ تو ایک پر اعتماد اور نڈر لڑکی تھی جو اس کی آنکھوں میں دیکھتے اس سے حساب مانگ رہی تھی۔ وہ ایک دم سے مڑا اور۔۔۔۔

NOVELS INFORMATION ARE THE GIVEN BELOW
00+ Pages · 2026 · 00MB · Urdu

📚 New Novel

Coming Soon

New Romantic Novel Coming Soon • Stay Tuned • Update Very Soon
⬇ Download Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *