Dar Aina Ishq Novel By Aroosh Khan Complete – ZNZ
“اگلے ہفتے رخصتی ہے پھر گھورتے رہنا۔ ابھی میری باتوں کا جواب دو۔” الحینہ نے مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے کہا تو اذعان نظریں چرا گیا۔
“نظریں وہ چراتے ہیں جن کے دل میں چور ہو۔” ایک بار پھر اسی کے الفاظ دہراتے الحینہ نے اسے لاجواب کرنا چاہا تھا مگر جواب اس کی توقع کے برعکس آیا تھا۔
“ان نظروں کو قربت کے لمحات کے لیے سنبھال کر رکھ رہا ہوں الحینہ اذعان لاشاری! پھر دیکھیں گے کہ تم کس حد تک میری قربت اور نظروں کی تاب لانے کی ہمت رکھتی ہو۔” اذعان کی بے باک بات نے الحینہ کو نگاہیں جھکانے پر مجبور کیا تھا۔ گزشتہ روز کی اذعان کی نظروں کا تاثر اس کے ذہن پر روشن ہوا تھا۔ سامنے کھڑا شخص وہ پہلے والا بے ضرر اذعان لاشاری نہیں تھا اور اس اذعان لاشاری کو زیر کر کے الحینہ کو ایک الگ ہی سکون ملتا تھا۔
“جب تک تمھارا ذہن مجھے لے کر ہر شک سے پاک نہیں ہوتا اذعان، میں تمھیں ایسی کسی جسارت کی اجازت ہی نہیں دوں گی۔ میری سیلف ریسپکٹ میرے لیے بڑی اہم ہے اذعان۔۔۔۔تم سے لاکھ محبت سہی مگر میں ایک ایسے انسان کو اپنا آپ نہیں سونپ سکتی، جو مجھے لے کر بہت سی غلط فہمیوں کا شکار ہو۔” الحینہ کی دوٹوک بات پر اذعان نے ایمپریس ہوتے ہوئے اسے دیکھا تھا۔ اسے الحینہ سے ایسی ہی امید تھی اور خود وہ بھی الحینہ کے ساتھ اس رشتے میں آگے بڑھنے سے قبل ، اپنے طور پر سب جان لینے کی ٹھان چکا تھا۔ کہیں نا کہیں یہ الحینہ کے کانفیڈینس کی جیت تھی جس نے خود ہی اذعان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا کہ کہیں تو وہ الحینہ کو لے کر کسی غلط فہمی کا شکار ہے۔ مگر دل میں پھر سے چوٹ کھا جانے کا ڈر بھی تھا۔
“تو تم مجھے روک سکتی ہو۔ میرے حق سے ؟” الحینہ کو چڑانے کی نیت سے وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھ بیٹھا۔
” ہاں بالکل ! جیسے تم مجھے، میرے سچ جان لینے کے حق سے محروم رکھے ہوئے ہو۔ مگر میرا وعدہ ہے اذعان لاشاری میں نے جتنا تڑپنا تھا تڑپ لیا۔۔۔۔ اب تمھاری باری ہے۔” الحینہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اذعان کی جانب بڑھی تھی۔
“اب میں دیکھوں گی کہ کیسے میرے ساتھ ایک ہی کمرے میں رہ کر تم خود کو مجھ سے دور رکھ پاتے ہو۔ بنا میری شرط پوری کئے ، بنا مجھے سارا سچ بتائے میں تمھیں خود تک رسائی نہیں دوں گی ۔۔۔۔ نکاح سے پہلے تم نے مجھے چیلنج کیا تھا آج میں چیلنج کرتی ہوں اذعان کہ میرے ساتھ ایک چھت کے نیچے رہ کر تم کیسے اپنے دعوؤں پر ڈٹے رہتے ہو۔ یہ دیکھنے میں بڑا مزا آنے والا ہے۔ کیونکہ میں چوبیس گھنٹے تمھارے ہواسوں پر سوار رہوں گی، تمھاری آنکھوں کے سامنے، تمھارے بہت پاس مگر تمھیں اپنا آپ نہیں سونپوں گی۔ تم کچھ بھی کر لو اب مجھے کل کی طرح کمزور نہیں کر پاؤ گے۔۔۔۔۔اور میری مرضی کے بنا تم مجھے تسخیر نہیں کر سکتے۔” الحینہ نے آبرو اچکاتے اسے چیلنج کیا تھا۔
“رئیلی ؟” استہفامیہ انداز میں کہتا وہ الحینہ کی جانب آیا تھا۔”جانتی ہو بڑا غلط چیلنج دے رہی ہو۔” دلچسپی سے اس الحینہ کو دیکھتا وہ گویا ہوا تھا ،جس کا وہ دیوانا تھا۔
“دیکھتے ہیں اذعان تمھاری ضد ٹوٹتی ہے یا میرا کانفیڈینس !” الحینہ نے بھی لگ بھگ اسی کے انداز میں جواب دیا تھا۔ جب کہ وہ دونوں اس بات سے نا واقف تھے کہ آنے والے دنوں میں دونوں میں سے ایک کی ضد تو دوسرے کا کانفیڈینس بڑی بری طرح ٹوٹنے والا تھا۔
“ابھی دیکھ لیتے ہیں۔” کہہ کر اذعان نے الحینہ کو بازو سے تھام کر ایک جھٹکے سے اپنی جانب کھینچا تو وہ اس کے سینے سے آ لگی۔ اس سے پہلے وہ سنبھل پاتی اذعان نے بہت حق سے اسے اپنے حصار میں لیا تھا۔ الحینہ کی دھڑکنیں پل میں بے ترتیب ہوئیں تھیں۔ اس کی پر تپش نگاہیں الحینہ کے چہرے کا طواف کر رہیں تھیں۔ وہ دانستہ پھر سے الحینہ کو ہرانے کا ارادہ کے کر ایک بار پھر ان ہی ہتھیاروں کا سہارا لے رہا تھا جن سے وہ الحینہ کو ذیر کر سکتا تھا۔
“تمھاری نفرت کا ناٹک تو فلاپ ہو گیا مسٹر لاشاری۔۔۔۔مجھے یقین نہیں آتا یہ تم ہو جو مجھ سے نفرت کے بہت بلند و بانگ دعوے کر چکے ہو۔” الحینہ نے اختجاج کے طور پر طنزیہ انداز میں کہا تو اسے دیکھتا وہ دلکشی سے مسکرا دیا۔
“جانتا ہوں یہاں بھی تم سے ہار گیا ہوں۔۔کیوں کہ تم سے عشق کرنا چھوڑ نہیں سکتا۔ نفرت اور محبت کا ایک انوکھا میل ہو تم الحینہ اذعان لاشاری ۔۔۔جو نہایت ہی پر کیف ہے۔” لو دیتی نظریں اور لہجہ الحینہ کے دل پر الگ ہی طرح سے اثر انداز ہوا تھا اور اذعان کی صاف گوئی الحینہ کو بے زبان کئے دے رہی تھی۔
“الحینہ تم کمزور نہیں پڑو گی۔ ناٹ دس ٹائم۔۔۔تمھیں اذعان کو ہرانا ہے۔” اس کے اندر کی کانفیڈینٹ الحینہ نے اسے جھنجوڑا تھا اسے بار بار ہار کا منہ دیکھنا کہاں پسند تھا وہ بھی تب جب کچھ دیر قبل وہ بلند و بانگ دعوے کر چکی تھی۔ وہ جو اذعان کے اعتراف ، نظروں اور پر تپش لمس سے ذیر ہونے کو تھی اپنے آپ کو سمجھاتی ، خود پر قابو پانے لگی۔ اس سے قبل کہ اذعان مذید کچھ بولتا یا کوئی پیش رفت کرتا، الحینہ کے ذہن میں ایک حیال آیا تھا جس پر عمل پیرا ہو کر وہ نا صرف گزشتہ روز کا بدلہ لے سکتی تھی بلکہ اذعان لاشاری کو چارو شانے چت بھی کر سکتی تھی۔ ہمت کرتے اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کی نیت سے الحینہ نے جلدی سے اذعان کے قریب جاتے نرمی سے اس کے دائیں گال کو چھوا تو وہ پتھر کا ہوا تھا۔ اسے الحینہ سے ایسی کسی بے باکی کی توقع ہی کہاں تھی؟ الحینہ پر اس کی گرفت پل میں ڈھیلی پڑی تھی۔ وہ آنکھیں کھولے بت بنا کچھ سمجھنے کی حالت میں بھی نہیں تھا۔ اسے واپس ہوش بھی الحینہ کی بات نے دلایا تھا۔
“باہر جانے سے قبل اپنے چہرے پر بکھرے رنگوں کو چھپا دینا۔ میں نہیں چاہتی کوئی تمھیں ان رنگوں کے ساتھ دیکھے۔” اذعان کی جانب ایک جان لیوا مسکراہٹ اچھال کر وہ تیزی سے اپنے کیبن کی جانب دوڑی تھی کیونکہ اپنی غیر ہوتی حالت وہ کسی کو دیکھانے کی روادار نا تھی۔
