Do Haath Novel By Kashaf Alvi Complete – ZNZ

✨ دو ہاتھ کشف علوی ✨
دو ہاتھ کشف علوی سمیہ نے بیاہ کرآتے ہی کئی نئی چیزوں کا سامنا کیا جس کی وجہ سے شروعات میں تو اسے کافی مشکلات پیش آئیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ عادی ہوتی گئی۔ اس کی ساس کو اپنی جوانی میں شاید اپنی ساس سے دو دو ہاتھ کرنے کا موقع نہیں ملا ہوگا یا کم از کم سمیہ کا یہی قیاس تھا کیونکہ شادی کے اگلے دن سے ہی انہوں نے دو ہاتھ کا جو پہاڑہ شروع کیا، اس کو سمجھتے سمجھتے سمیہ کے دماغ کی چولیں ہی ہل گئی تھیں۔ شادی کے اگلے دن جب وہ کمرے سے نکلی تو ساس کو ماسی کو سخت سست سناتے پایا۔ “دو ہاتھ لگاؤں گی تو عقل ٹھکانے آئے گی۔صحیح سے صفائی کر۔ دلہن نئی نئی آئی ہے کیا سوچے گی؟” ماسی منہ بسورے چپ چاپ سن رہی تھی۔ اس کی ساس کے سامنے دم مارنے کی ہمت نہیں تھی کسی میں۔ تب ہی ان کی نظر اس پر پڑی۔ “آؤ ادھر میرے پاس۔” وہ اس کی بلائیں لینے لگیں۔ وہ جھینپتے ہوئے ان کے پاس آ کھڑی ہوئی۔ پھر کچھ دیر اس سے ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد انہوں نے اپنا ایک سوٹ اس کے حوالے کیا۔ “پڑوس میں جنازہ ہے، وہاں جانا ہے۔ اس نئی ماسی پر تو بھروسہ نہیں، ذرا دو ہاتھ مار دو اس پر بیٹا ۔میں ذرا نہا لوں تب تک۔” اور پھر اسے کچھ کہنے کا موقع دیے بغیر وہ اپنے کمرے کی جانب چل دیں۔ دو ہاتھ۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آیا۔ وہ کپڑے کو الٹنے پلٹنے لگی۔ دو ہاتھ مارنے سے کپڑے کا کیا کرنا ہے ،کیا ہوگا، وہ مخمصے میں پڑ گئی۔ پھر سوچا کہ یقیناً استری کرنے کا کہہ رہی ہوں گی کیونکہ کپڑے کافی ملگجے ہو رہے تھے۔ یہی ہوگا ۔۔اس نے سوچا۔ پھر جب اس نے استری شدہ سوٹ انہیں تھمایا تو وہ مسکرا دیں۔ ” واہ! استری بھی کر دی۔ بڑی اچھی بہو ہے میری تو۔” استری ہی تو کرنی تھی اور کیا کرنا تھا۔۔۔ وہ دل ہی دل میں الجھی، مگر کہا نہیں۔ “بیٹا؟” انہوں نے کپڑے کو بغور دیکھتے ہوئے اسے مخاطب کیا۔ “یہ داغ صاف ہی نہیں ہوا۔” “کون سا داغ؟” وہ چونکی۔ “یہ دیکھو۔” انہوں نے قمیض کا دامن سامنے کیا جہاں کونے میں ایک چھوٹا سا دھبہ تھا جو بغور دیکھنے پر ہی نظر آتا تھا۔ “میں نے کہا تو تھا دو ہاتھ مار دو۔ استری تو شبو بھی کر دیتی ہے، لیکن وہ داغ دھوتے ہوئے کپڑا خراب کر دیتی اسی لیے تم سے کہا تھا۔” ان کا لہجہ بجھ گیا ۔شاید انہیں اس سے اس کم عقلی کی توقع نہیں تھی۔ “میں دھو کر لا دیتی ہوں۔” وہ شرمندگی سے گویا ہوئی۔ ”نہیں رہنے دو بیٹا، اب وقت نہیں ہے۔ میں کوئی اور استری شدہ سوٹ پہن لیتی ہوں۔” انہوں نے اس کا کندھا آہستہ سے تھپتھپایا اور اپنی الماری کی جانب بڑھ گئیں ۔ اور پھر کئی دفعہ اس سے ایسے ہی کئی کام کہے گئے جن میں دو ہاتھوں کا استعمال اشد ضروری تھا البتہ کس طرح؟۔۔۔ یہ اس کی سمجھ بوجھ پر چھوڑ دیا جاتا تھا۔ جیسے ایک دفعہ وہ کچن میں چائے بنا رہی تھی تو صحن سے آواز آئی۔ ” ذرا ہنڈیا میں دو ہاتھ چلا دو میں آکر دیکھتی ہوں تھوڑی دیر میں۔” اس نے ہنڈیا میں جھانکا تو مصالحہ بھن رہا تھا ۔اس نے جلدی جلدی ہنڈیا میں چمچہ چلایا تاکہ مصالحہ نہ لگے اور پھر ان کے نہ آنے پر باقی کا کام بھی کر دیا۔ سارے کاموں سے فارغ ہو کر جب وہ باہر نکلی تو انہیں صحن میں اطمینان سے تخت پر بیٹھے پایا۔ “چلا دیے دو ہاتھ؟” انہوں نے اسے جانچتی نظروں سے دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔ “جی۔” اس نےمختصر سا جواب دیا۔ “تو پھرجلدی سےتوے پربھی دو ہاتھ مار دو۔ میں ہاتھ دھو کر کھانے کے لیے آتی ہوں۔” اور اسے ہکا بکا چھوڑ کر واش روم کی جانب چل دیں۔ وہ تو سوچ رہی تھی کہ ساس صاحبہ بڑھاپے کی وجہ سے بھول بھال گئی ہوں گی اور جب وہ کچن میں جا کر ہنڈیا بنی دیکھیں گی تو حیران رہ جائیں گی لیکن وہ تو گویا اسی امید میں بیٹھی تھیں کہ وہ سب کام کر کے ہی نکلے گی اور اب یہ توے پر دو ہاتھ؟۔۔۔ وہ سوچ میں پڑ گئی پھر خیال آیا کہ یقینا روٹی پکانے کا کہہ رہی ہوں گی اور وہ ان سوچوں میں گھر کے کتنا قیمتی وقت ضائع کر چکی ہے تو سر پر ہاتھ مارتی جلدی سے کچن کی طرف لپکی۔ ایک دفعہ چھٹی کے دن وہ کپڑے دھونے میں مشغول تھی کہ ساس صاحبہ نےکچن سے اسے فرش پر دو ہاتھ مارنے کو کہا۔ جبکہ اس کا ارادہ تھا کہ وہ کپڑے چھت پر پھیلانے کے بعد صفائی کرے لیکن چونکہ ساس کا حکم تھا تو سب کام چھوڑ، اس نے پورے صحن میں جھاڑو لگائی اور پونچھا لگانے ہی والی تھی کہ ساس نے پھر پکارا۔ “بیٹا آئی نہیں تم کچن میں؟ میں کب سے انتظار کر رہی ہوں۔” “جی؟؟” اس کا پونچھا لگاتا ہاتھ تھم گیا۔ وہ پونچھا ہاتھ میں لئےحق دق بیٹھی رہ گئی۔ اتنی دیر میں وہ خود ہی کچن سے باہر نکل آئیں۔ “فرش پر مصالحہ گر گیا تھا۔مجھ سے تو جھکا نہیں جاتا، اسی لیے تم کو بلا رہی تھی لیکن شاید تم کسی اور کام میں مصروف تھی۔” انہوں نے اس کے ہاتھ میں موجود پونچھے کو بغور دیکھا۔ ” میں نے جیسے تیسے کر کے سمیٹ دیا ہے لیکن بیٹا پہلی آواز میں میری بات سن لیا کرو۔ اچھا نہیں لگتا میں بار بار پکاروں اور تم ان سنی کرو۔” انہوں نے دھیمی آواز میں ٹوکا اور اس پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔نہ کپڑے دھل پائے اور نہ ہی صفائی مکمل ہو پائی۔ جو کام کرنا تھا وہ سرے سے ہوا ہی نہیں اور ساس کا جو منہ بنا وہ الگ۔ اس نے اپنی عقل کو کوسا۔ کیا تھا اگر خود سے فرض کرنے کے بجائے ان سے جا کر پوچھ لیتی تو اتنی خفت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اس نے مسمم ارادہ کر لیا تھا کہ اب وہ جب تک ان سے پوچھ نہ لے تب تک کسی کام میں اپنے ‘دو ہاتھ’ نہیں ڈالے گی۔ لیکن کچھ ہی دنوں میں اسے یہ منصوبہ بھی ناکام ہوتا نظر آیا، جب نند عمرے کے بعد اپنے پورے سسرال کے ساتھ ان کے ہاں دوپہر کے کھانے پر آ رہی تھی۔ ساس صاحبہ نے رات سے ہی اسے بتا دیا تھا۔ عام طور سے تو اس کی نئی نئی شادی کی وجہ سے وہ اسے کم ہی کوئی کام کہتی تھیں لیکن بیٹی کے سسرال کا معاملہ تھا تو وہ بولائی جا رہی تھیں اور اسے بھی ہولائے دے رہی تھیں۔وہ عجیب مشکل میں پڑ گئی تھی۔ کہیں کچھ غلط نہ ہو جائے اس لیے وہ ہر چیز ان سے پوچھ پوچھ کر کر رہی تھی جس میں سر فہرست ان کی دو ہاتھ کی گردان کے مختلف مطالب تھے۔ پہلی دفعہ اسے احساس ہوا کہ ساس صاحبہ کی زندگی صرف دو ہاتھ کے گرد گھومتی ہے۔ فرج میں دو ہاتھ چلانے کا مطلب تھا کہ وہ فرج میں رکھا جانے والا سارا سامان یعنی کہ سلاد، میٹھا وغیرہ تیار کرے اور جب تک فرج میں رکھ نہ دے، چین سے نہ بیٹھے۔ برتنوں میں دو ہاتھ چلانے کا مطلب تھا کہ وہ سارے گندے برتن دھوئے، الماری سے نئے برتن نکال کر دھو کر خشک کرے اور پھر سارے دھلے برتنوں کو ان کی جگہ پر رکھے۔ یہ سارے کام وہ ان سے متواتر پوچھ اور بتا کر کر رہی تھی اس لیے وہ بھی زچ ہو گئی تھیں۔ “دو ہاتھ بھر کی جگہ تو دو۔” انہوں نے جیسے ہی اس سے کہا وہ فوراً فرج کی سائیڈ پر ہو گئی۔ وہ جب فرج سے سامان نکال کر پلٹیں تو اسے کچن میں ہی ایستادہ دے کر گہری سانس بھر کر رہ گئیں اور پھرسے دھرایا۔ “دو ہاتھ بھر کی جگہ دے دو۔” اس نے یہی نتیجہ اخذ کیا کہ اسے کچن سے ہی جانے کا کہہ رہی ہیں۔ وہ چپ چاپ جا رہی تھی کہ ان کی بڑ بڑا ہٹ اس کے کان میں پڑی۔ “ذرا جو چھری تلے دم لینے دیا ہو۔” اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ صبح سے ان کے ساتھ لگی تھی لیکن پھر بھی ان کی آواز میں شکایت ہی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ سخت رنجیدہ تھی لیکن پھر بھی کچن کے باہر ہی منڈلا رہی تھی، کون جانے کب ساس کو اس کی ضرورت محسوس ہو جائے۔ اتنے میں ساس کی آواز پھر سے ابھری۔ “میز پر دو ہاتھ مار دینا اور ڈرائنگ روم میں بھی۔” چونکہ آواز میں پچھلی تلخی کا شائبہ تک نہ تھا اس لیے وہ پھر سے پرجوش ہو گئی۔ ساس کے حکم کی بجا آوری کر کے ان کو متاثر کرنے کا موقع وہ کیسے جانے دیتی۔ “جی دیکھتی ہوں۔” اور جھٹ پٹ ڈسٹر لے کر ڈرائنگ روم کی طرف لپکی۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی اس نے صفائی کی تھی لیکن پھر بھی۔۔۔ اس نے نادیدہ گرد جھاڑی اور پھر ایک طائرانہ نظر پورے کمرے پر ڈال کر وہ ڈائننگ میز کی جانب متوجہ ہوئی۔ میز کا شیشہ شفاف تھا پھر بھی اس نے مزید گھس ڈالا۔ کچن میں آ کر ساس کو اپنی عمدہ کارکردگی کی رپورٹ دی۔ اس دفعہ اس نے ان سے ان کے ‘دو ہاتھ’ کا مطلب بھی نہیں پوچھا تھا اور خود ہی ان کے مطابق کام کیا تھا۔ خوشی سے اس کا چہرہ تمتما رہا تھا۔ وہ شاباشی کی توقع کر رہی تھی۔ “وہ لوگ آدھے گھنٹے تک پہنچنے والے ہوں گے۔ کھانا تیار ہے، جب میں کہوں تو لگا دینا۔ اور اب جلدی سے جا کر تیار ہو جاؤ، میں بھی جا رہی ہوں۔” وہ کچن سے باہر نکل گئیں۔ وہ بھی مسکراتی ہوئی اپنے کمرے کی جانب جا رہی تھی کہ اچانک ان کے پکارنے پر اسے مڑنا پڑا۔ “بہو یہ کیا کیا ہے سب؟” وہ ڈرائنگ روم سے نکل کر اس کی طرف ہی آ رہی تھیں، چہرے پر غصہ تھا۔ “میں نے کہا تھا ڈرائنگ روم میں پردے بدل دو، نئے کشن کور چڑھا دو اور گلدان رکھ دو۔ کیوں نہیں رکھا؟ اور میز پر میز پوش بچھانے کا کہا تھا کہ نہیں؟” وہ اس پر برسے جا رہی تھیں۔ “کب؟” بڑی دقت سے اس کے منہ سے یہی نکلا۔ “لو اور سنو۔” ان کے طیش کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ “جب کچن میں تھی تو کہا نہیں تھا کیا تم سے؟ تم اب بس جا کر خاموشی سے تیار ہو جاؤ۔” انہوں نے ‘خاموشی’ پر زور دیا۔ “میں سب کچھ خود ہی دیکھ لوں گی اور کھانا بھی خود ہی لگا لوں گی۔” وہ اپنی صفائی میں کہنے کے لیے الفاظ ہی ڈھونڈتی رہ گئی اور وہ پلٹ گئیں۔ اس پر جھنجھلا ہٹ آمیز بے بسی طاری ہو گئی۔ کوئی بھی انسان ایسی باتیں سمجھنے سے قاصر تھا جنہیں اس کی ساس عام فہم سمجھتی تھیں اور پھر اس پر چڑھائی کر دیتی تھیں۔ پوچھ کر بھی سنو، نہ پوچھو تو بھی سنو۔ وہ سخت کبیدہ خاطر ہو رہی تھی مگر برداشت کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں تھا، اسی لیے چہرے سے ذرا بھی ظاہر نہیں ہونے دیا۔ دعوت خیر سے گزر گئی اور پلک جھپکتے میں کئی سال بھی۔ ان گزرے سالوں میں ایسے ہی بہتیرا مواقع آئے۔ کئی ڈانٹیں بھی کھائیں، لیکن اب یہ عالم تھا کہ اسے ساس کے ہر دو ہاتھ کا مطلب بخوبی پتہ تھا یہاں تک کہ اب تو میاں بھی سوچ میں پڑنے کے بجائے سیدھا اسی سے پوچھا کرتا تھے۔ “یار وہ اماں کہہ رہی تھیں کہ آفس سے واپسی پر سپر مارکیٹ میں دو ہاتھ مارتا ہوا آؤں۔” شوہر نے رات سوتے ہوئے اسے مخاطب کیا۔ اس کی طرف سے فوری جواب موصول ہوا۔ “اماں کی بلڈ پریشر کی دوائی ختم ہو گئی ہے، ان کا دلیہ لانا ہے، پالک لانی ہے اور ہاں اسٹور کے باہر موجود ٹھیلوں سے ان کے لیے فروٹس بھی لانے ہیں۔” شوہر نے ممنون نظروں سے اسے دیکھا (کیونکہ اپنی بات نہ سمجھنے پر ساس صاحبہ کسی کو نہیں چھوڑتی تھیں) اور طمانیت سے آنکھیں موند لیں۔ ختم شدہ

Leave a Reply