✨ سازلین ✨
سازلین
رشک حناء
یہ کیا کہا ہے چاند نے جس کو سن کے چاندنی ۔۔۔
لہ پہ جھوم کے
کیوں یہ ناچنے لگی
ہر سور ہر لہر اس کا دیوانہ کر رہی تھی اس کی اواز بس اواز نہیں ایک نشہ تھا جو ہر دفعہ سونا تھا دل اور بھی زیادہ اس کا ہو جاتا میں اسے دیکھ بھی نہیں پا رہا تھا پھر بھی چاہنے پھر بھی چاہنے لگا ہوں صرف ایک اواز پہ دل ہارنے لگا ہوں ساحر تو بس دیوانہ ہو گیا تھا اس نے دیکھا نہ تھا اسے بس اس کی گنگناتی اواز کا دیوانہ ہو گیا تھا اور ساہر ہے اسے اپنا ہی نام دے دیا تھا وہ اپنے نام سے ملا کر کیونکہ اسے اس حسین کا نام تک معلوم نہیں تھا اس لیے اس نے اپ سے اپنا ہی نام دے دیا سازلین ساہر کی سازلین
شہر سو چکا تھا گلیوں میں خاموشی پھیلی ہوئی تھی اور ٹھنڈی ہوا اہستہ اہستہ چل رہی تھی جیسے کسی راز کو اپنے اندر سمائے ہوئے ہو ساہر ازلان اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑا تھا انکھوں میں نیند نہیں تھی عجیب سی پہچانے تھے وہ خود بھی نہیں جانتا تھا وہ کس چیز کا انتظار کر رہا ہے کبھی کبھی زندگی انسان کو ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں سے وہ خود بھی نئے انجان ہو جاتا ہے وہ اج کی رات بالکل ویسے ہی تھی اس کو کوئی معاشی پریشانی نہیں تھی نہ ہی کوئی اور مسئلہ اپنے ماں باپ بہن کے ساتھ خوش تھا پر اج ساحر کو ازلان کو عجیب سی بے چینی تھی وہ زبردست اپنی بہن کے گھر رک گیا تھا کمرے سے چھت پر اگیا اور ٹھہرنے لگا چاند دے کر ادھر ادھر پھر کھڑا ہو گیا اور چاند کو دیکھنے لگا پھر اچانک سے اواز ابھری نرم سی مدھم سی ہے کہ مگر اتنی گہری کہ سیدھا دل میں اتر گئی ساحر چونک گیا پہلے تو اس کو لگا شاید یہ اس کا وہم ہے
مگر وہ اواز دوبارہ سنائی دی
اس بابا پہلے سے زیادہ واضح تھی
وہ اواز نہ بہت بلند تھی نہ ہی بہت ہی می مگر اس میں عجیب سا درد تھا۔۔۔۔۔
ایسا درجہ سننے والے کے اندر اتر جائے ساحر کی انکھیں اس چھت کی طرف اٹک گئی جہاں سے اواز ارہی تھی
اس کی سانس اہستہ ہو گئی تھی وہ بس سن رہا تھا ہر لفظ ہر سر اس کے دل پر اثر کر رہا تھا اسے لگا جیسے وقت رک گیا ہے جیسے دنیا میں کچھ بھی باقی نہیں رہا یہ یہ کیا ہے؟
اس نے اہستہ سے کہا وہ کوئی عام اواز نہیں تھی وہ کسی گانے کی مشک بھی نہیں تھی وہ کسی محفل کی پرفارمنس نہیں تھی وہ کچھ اور تھی ایسا جسے صرف محسوس کیا جا سکتا تھا ساحر نے بغیر سوچے سمجھے دروازہ کھولا اور باہر نکل ایا
ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے سے ٹکرائی مگر اسے کوئی فرق نہیں پڑا وہ بس اواز کے پاس جانا چاہ رہا تھا گلیاں سنسان تھی سٹریٹ لائٹس قیمت ہم روشنی بکھری ہوئی تھی مگر وہ اواز اب قریب لگ رہی تھی
چاہت کا ہے ہر سو اثر
پھر کیوں مجھ کو لگتا ہے ڈر
13 میرا ہے پیارا امر پھر کیوں مجھ کو لگتا ہے ڈر۔۔۔۔۔
جیسے وہ کسی انجانے کشش میں بند گیا ہو وہ اواز اس کے سامنے اس کے گھر کے سامنے والے گھر سے ا رہی تھی۔۔۔
وہ چپ ہو گئی اپ صرف ہوا چل رہی تھی اور اس کی اواز کے بعد گشت ابھی بھی اس کے اندر زندہ تھی ساحر نے انکھیں بند کر دی اس کے اس نے اب اپنے دل پر ہاتھ رکھ لیا میں تمہیں ڈھونڈ لوں گا سازلین
ہوا تیز ہو گئی جیسے اس کی بات کو اپنے ساتھ لے جا رہی ہو اور کہیں دور کھڑکی کے پیچھے کھڑی ازل نور ا کے ازل نور نے انکھیں کھول دی۔۔۔۔۔
اسے نہیں معلوم تھا کہ اس کی اواز کسی کی زندگی بن گئی ہے۔۔۔
اززززززل ل یار تم کتنا اچھا گاتی ہو ماہ زور سے اگے گلے لگ گئی دونوں ہنسنے لگی کمرے میں ان کی کی اواز انے لگی ازل کے گانے کی وجہ سے ایک اور ہوا شامل ہو گئی ازل بیٹا کیسا طریقہ ہے یہ ٹائم دیکھو دو بج رہے ہیں
ارے چاچی مما رات کو مزہ ائے گانے کا ماہین بھاگ کے ارمینہ کے پاس ائی اور پیچھے پیچھے ازل بھی اگئی اور گلے لگ گئی نہیں تو اور کیا مما ادھی رات اور چاند کی کوئی روشنی ایسے میں تو گانے کا مزہ ہے اچھا اچھا دونوں چڑیل اب سو جاؤ۔۔۔۔
ارے چاچی مما یہ کیا کہہ دیا اپ نے اچھی خاصی خوبصورت ہوں میں مجھے کیوں چڑیل بنایا مثنوی خفگی سے ماہین بولی یہ ازل ہے چڑیل دیکھیں تو بال بھی کھولتے ہوئے ہیں ارے میں کدھر چڑیل ازل ماہین کو مارنے کے لیے بیٹھتے چڑھ گئی اچھا بس اواز نہ ائے سو جاؤ دونوں سے بول کے کمرے سے نکل گئی ازل ماہین کے ساتھ اپنی ہی مستی میں گھومتی نہ جا یہ جانے بنا کہ وہ کسی کی زندگی میں ہلچل مچا گئی ہے۔۔۔۔ازل اور ماہی دونوں ہم عمر تھی ازل ماہین کے چچا کی بیٹی تھی دونوں میں بہت پیار تھا ویسے ہی ان کے ماں باپ میں بھی بہت پیار تھا ماہین کے بابا شہباز ایک سمجھدار اور پیار کرنے والے شخص جو ماہین کے ہے بادیان سے سنتے اور اس کی ماما نادیہ نرم دل اور محبت سے بھری مگر تھوڑی سی سخت
ازل کے بابا فہد سٹرانگ پرسنلٹی ازل کی ہمت اور ماما ارمینہ خوبصورت سمجھدار ازل اور ماہین پر جان چھڑکنے والی جسے دونوں بھائیوں میں پیار تھا ویسے ہی ان کی بیویوں میں بھی تھا دونوں بھائی دونوں بھائی ایک ہی گھر میں رہتے تھے دونوں کے ایک ہی ایک ایک بیٹی بیٹی تھی جو ان کی جان تھی
ازل کو گانے کا بہت شوق تھا اور اس کی اواز جادو جگانے والی تھی لیکن اوصف جاننی راتوں میں ہی گاتی تھی وہ چاند راتوں کی دیوانے تھی کھڑکی میں اتی چاند کی روشنی اس کو مجبور کر دیتی تھی گانے کے لیے جب وہ سونے کے لیے لیٹی تو سوچنے لگی کاش اج تو اس نے سنا ہو۔۔۔۔
صبح کی روشنی پھیل چکی تھی اور کھڑکی سے اندر ا رہی تھی مگر ساحر ازلان کی انکھوں میں اب بھی رات بسی ہوئی تھی وہ پوری رات نہیں سویا تھا کیسے سوتا جب ایک اواز اس کے دل میں گھر کر چکی تھی وہ بار بار انکھیں بند کرتا ہے وہی لمحہ یاد ا جاتا چاندنی چھت اور وہ اواز ساہر نے بے چینی سے سانس لیا اور اٹھ کر بستر سے بیٹھ گیا یہ سب خواب تھا یا حقیقت اس نے خود سے سوال کیا مگر ہے اگلے ہی لمحے اس نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا دھڑکن اب بھی ویسے ہی تھی تیز بے قابو جیسے اب بھی اس اواز کے پیچھے بھاگ رہی ہے ۔۔۔۔
ازلان صاحب جو اپنے شہد بنا انکھوں جن میں سورج کی روشنی پڑتی تو وہ اور سنہری لگتی تھی اور دیکھنے والے کے دل میں سیدھا اثر کرتی تھی لمبا قد چوڑا سے نہ گندم رنگت اس کی انکھوں اور بالوں کا رنگ ایک جیسا تھا ہلکی ہلکی بڑی ہوئی شیف جو ہے اس کی شخصیت کو مزید نکھارتی تھی کبھی شیو کر لیتا تو اور زیادہ بھی نظر لگتا تھا جس پر سے دل موہ لینے والا بولنے کا انداز لڑکیوں کو متاثر کرتا تھا
اپی اپی زور سے بولتا ہوا کمرے سے نکل گیا اپ بھی کیا ہو گیا ساحل خیریت طبیعت ٹھیک ہے ہاں جی بس پوچھنا تھا کیا کیا پوچھنا تھا پتلا لامین نے سوالیہ انکھوں سے پوچھا رات کو اپ نے گانے کی اواز سنی تھی؟
رات کو زور دیتے ہوئے بولی تو نہیں سنے تو نہیں کیا ہوا؟
کیا مطلب اپ نے گانا نہیں سنانا؟نہیں را مل نے جواب دیا ادھر کوئی سنگل ہے کیا اور میں نے تو سنا رات گانا اچھا سنگل تو نہیں پر وہ ہے نازل وہ کبھی کبھی غلطی ہے شروع میں تو میں بھی اس سے ڈر گئی تھی اب پر اب عادت ہو گئی ہے رامین چائے کا کپ ساحر کو پکڑاتے ہوئے بولی۔۔
اچھا اپ جانتے ہیں اس کو سارے نا ایک سپ لیتے ہوئے بولا ہاں جانتی ہوں اور اسے تو بلایا تھا تو میں زمین کدھر ہوئی ا تیاری کروا دو میری اسد نے اواز لگائی ا رہی ہوں رامین نے بول کر چلی گئی۔۔۔ مجھے کیوں بلایا تھا اپی ا کے بتاتی ہوں اپ بھی یار بتا دینا پہلے وہ اسد کی اواز پر تیزی تیزی سے نکل گئی۔۔۔۔
اسد کے والد عثمان اور فہد میں کافی دوست تھی اصل کا گھر شہر کے ایک پرسکون اور خوبصورت علاقے میں واقع تھا جہاں پر ہر چیز میں نفاست ہو سکون جھلکتا تھا باہر سے دیکھنے پر سفید اور ہلکے کریم رنگ کی دو منزلہ کوٹھی دل کو بھا جاتی سامنے سر سبز لان تھا جس میں رنگ برنگے پھولوں کے کیاریں لگی ہوئی تھی صبح کے وقت ان میں شبننگ کے قطرے ایسا چمکتے جیسے کسی نے موتھی بکھیرے ہوں بڑے سے گرد سے اندر داخل ہوتے ہیں سیدھا راستہ پوش تک جاتا تھا جہاں ایک گاڑی کھڑی ہوئی تھی گھر کے اندر قدم رکھتے ہی ایک ہلکی سی تازہ پھل اور ونیلا کی مہک ملی ہوئی ہو ڈرائنگ روم نہایت خوبصورت اور سلیقے سے سجا ہوا تھا اف وائٹ صوفے سنہری کشن کے ساتھ اور درمیان میں شیشے کی میز دیواروں پر جدید پینٹنگ اور ایک بڑی سی فیملی تصویر لگی ہوئی تھی جو گھر کی محبت کو ظاہر کرتی تھی سیڑھیاں لکڑی کی بنی تھی اور اوپر کمروں کی دنیا تھی ہر کمرہ اپنے الگ کی پہچان تھا مگر ازل کا کمرہ بالکل اس کی طرح نرم و دلکش تھا ہلکے گلابی اور سفید رنگ کا امتجاز باریک پردے جو ہوا کے ساتھ اہستہ اہستہ لہراتے۔۔۔۔
ڈریسنگ ٹیبل پر اس کے پسندیدہ پرفیومز جیلری بڑی ترتیب سے رکھی ہوئی تھی ۔بیٹھ کے پاس ایک چھوٹی سی شیلف اور کھڑکی کے قریب ایک ارام دان سا کونا جہاں اکثر اپنے خیالوں کی دنیا میں کھو جاتی تھی کھڑکی سے باہر ایک بال کے نہیں تھی اتنی کے ارام سے ٹہلا جا سکتا تھا اور ازل اسی جگہ گانا گایا کرتی تھی اور سامنے ہی رامین کا گھر تھا اور جس کمرے میں سائے تھا ادھر سے زمین کا گھر اور ازل کا کمرہ نزدیک لگتے تھے مگر بس کھڑکی کھلی نظر اتی تھی اس لیے ساہر گلی میں ایا تھا اور اواز کو قریب سے سننے اور اس وقت بھی اس کی کلی میں کھڑا تھا مگر کھڑکی بند تھی۔۔۔۔
ازل اٹھو کتنا سونا ہے ماہی ہلا ہلا کے اٹھا رہی تھی اسے سونے دو نا ماہی نیم سے بھری اواز میں بولی اور کتنا سنا ہے یار اٹھ جاؤ اب کیا ٹائم ہو گیا ہے اصل نے پوچھا 12 بج گئے ہیں ازل ایک دم سے اٹھ کے بیٹھ گئے استغفراللہ پڑھ لو ماہ 12 کے در سے بچ گئے نو بجے ہوں گے سخت للہ پڑھ لیا اب خود دیکھ لو ٹائم ازل نے ٹائم دیکھا تو واقعی 12 بجے ہوئے تھے اور اتنا لیٹ ہو گیا۔۔۔
ہاں اٹھو اب جلدی مارکیٹ بھی جانا ہے اچھا اچھا چلیں گے اٹھ کے واش روم میں چلی گئی جو کہ ابھی بھی نیند میں ہی تھی واپس ائی تو ماہی تیار ہو رہی تھی ازل بھی ائینے کے سامنے کھڑی ہو کے بال سوارنے لگی ماہین کمرہ سمیٹنے لگی ویسے حد از جل رات کو نیند ہی نہیں ائی تمہیں اور اپ دیکھو اپنے شکل ایسا لگ رہا ہے کوئی نشہ پیا ہو تم نے استغفراللہ پڑھ لو ماہی ایسا بھی نہیں ہے جی ایسا ہی ہے ماہی بولی اچھا چلو اپ جلدی تیار ہو جاؤ مارکیٹ جانا ہے ناشتہ نہ کروں اب ازل نے پوچھا نہیں ہم باہر سے کھا لیں گے کچھ اچھا اچھا ٹھیک ہے ۔۔
ازل کے گھر کے پاس ہی ساہر امین کے ساتھ گاڑی کے پاس کھڑا تھا جب اس نے دو لڑکیوں کو ایک نفیس سے کالے ابایا میں جن بے چہرے پہ ڈھکے ہوئے تھے گھر سے نکلتے ہوئے دیکھا اہا ابھی ان دونوں میں سے سالزیم کون سی ہوگی تبھی ان میں سے ایک رامین کے پاس ائی سلام کیا جو پیچھے رک گئی تھی اس کو اگے انے کا اشارہ کیا ساحر اسی کو دیکھنے لگا وہ انکھیں نیچے کیے ائی بس گردن ہلائی صاحب مسلسل اسے دیکھ رہا تھا اس جس سے ازل کی دھڑکن مزید تیز ہو گئی اچھا امین اپی ہم چلتے ہیں دیر ہو رہی ہے اپ ائیے گا ہمارے گھر جی جی ضرور امین نے جواب دیا دونوں اگے بڑھ گئے جب تک گلی مڑ نہیں گئی ساحر دیکھتا رہا۔۔۔
ساہر یہ کہ حرکت تھی بھلا کون سے اپی ایسے کون گھول کے دیکھتا ہے کسی کو وہ تو نہیں بس نارمل دیکھ رہا تھا اچھا سوال یہ انکھوں سے رامین بولی۔۔۔۔
اچھا پیچلینا ھمم چلو ۔۔
ازل ار یو اوکے اتنی ٹھنڈی کیوں ہو رہی ہو ماہر نے پریشانی سے پوچھا
میں ٹھیک ہوں ازل بولی گھر چلیں کیا ماہی ٹھنڈی اواز میں پکارا کیا ہوا ازو وہ سامنے کھڑے تھے کون نام نہیں پتہ وہی جن کو ایک سال پہلے دیکھا تھا امین اپی کے گھر میں ہی دیکھا تھا۔۔۔۔رامین کے انکھیں کھل گئی یہ تھے وہ۔۔۔۔
ھمم! وہ رکشے میں بیٹھے تھے تب یہ ساحر اور امین کی گاڑی کو گزرتے دیکھا۔۔۔۔پتہ نہیں ان دونوں میں سے سازلین کون سی ہوگی شاید پیچھے والی وہ بولی بھی نہیں وہی ہوگی اس بار زور سے بول پڑا کون زمین نے پوچھا کوئی نہیں کب جا رہے ہو پھر رب مجھے بتا دو پھر میں سامان تیار کرواتی ہوں تمہارا گھر سے نکال رہی ہیں اپیا مجھے ارے کل تو خود بول رہے تھے اج جانا ہے نہیں اب سوچ رہا ہوں اگے ہوں تو حیدر صاحب بھی مل کر ہی جاؤں ا جائے گا وہ بھی۔۔۔
ارے تو بہت ہی اچھا ہو گیا ٹھیک ہے میرے دونوں کام ایک ساتھ ہو جائیں گے کون سا کام گانا سنا دو ساہر بڑے دن ہو گئے سنا نہیں تمہارا گانا اچھا جی پہلے بتائیں شاپنگ نہیں کرنی اور کیا کرنی ہے مجھے ابھی بتا دیں ہاں بس گروسری اور کچھ ضروری چیزیں مال میں ہی چلتے ہیں پھر ساحل بولا ہاں ٹھیک ہے گانا گانا اپ نے سناؤں گا رات میں ابھی گٹا بھی نہیں ہے میرا مجھے مزہ نہیں اتا پھر ایف ایم ان کر دیتا ہوں،رامین کو جوا ب دیا ایف ایم ان کر دیا اور خود پیچھے رک جانے والی لڑکے کے بارے میں سوچنے لگا۔۔۔
اصل سارا راستہ بس گم سوم بیٹھی تھی شاپنگ خاص دھیان نہیں لیا اس نے اب گھر میں بھی چپ تھی ازل بیٹا جی بابا خیریت ہے اج اتنی خاموش جی بابا بس ایسے ہی سوچا خاموش بھی رہنا چاہیے ازل کی بات سن کر سبھی حسنے لگے کیونکہ وہ چپ نہیں رہ سکتی تھی ماہنگی شرارتوں کی وجہ سے گھر میں رونق تھی رات کا کھانا کھا کر دونوں اپنے روم میں اگئی ازو تو اج تم نے گانا گالیاں نا کیا پتہ وہ تمہاری اواز سن لے ماہی بولو نا سمجھ نہیں ا رہا کچھ اچھا تم نا گانا گاؤ کیا پتہ وہ سن لے ابھی اب ازل نے سوال انکھوں سے پوچھا اور کبھی گاو۔۔۔
کہتے ہیں خدا نے اس جہاں میں سبھی کے لیے
کسی نہ کسی کو ہے بنایا ہر کسی کے لیے
تیرا ملنا ہے اس اس رب کا اشارہ مانو مجھ کو بنایا ہے تیرے جیسے ہی کسی کے لیے
ایسے بے سرہ کھاؤ گے تو بھاگ جائے گا بے سنا ہے اور نہیں تو کیا ایسا تو کبھی نہیں گایا تم نے رامین میں شکوا کیا ۔۔۔
لو جی ابھی تو چپ بیٹھی تھی اور ابھی پھر شروع ہو گئی ارے بیگم اپ ہماری بیٹیوں کو تنگ نہ کیا کریں بس۔۔۔
ساہی کھانا کھانے نہیں لگا تھا اس کو ہلکی ہلکی اواز انے لگی اس کا کھانا کھانا مشکل ہو گیا جلدی جلدی ختم کیا اور چھت پر ا گیا چپ ہو گئی؟
ارے یار سازلین اپ جو بہت جلدی ہو جاتے ہیں میرے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب کر کے
اور کون سا گانا گاؤں اب ازل نے پوچھا۔۔
ازل گیٹ ہو جائے گا لو ا دھندرتیب دینے کی کوشش کی کوئی نہیں نہیں ہو رہی یار میں اور کوئی گانا گاتی ہوں گا لو
اس دن ساہر نے دیکھا تک نہیں تھا مجھے اسی کا کچھ لگا لیتی ہوں اس نے دل میں سوچا
کا نام لے لیا تھا کیونکہ وہ بھی ساحر کی طرح نام نہیں جانتی تھی جب نام پتہ لگا تو تبھی وہ ماہر ہی بلاتی تھی۔۔۔
دیکھ کے مجھے کیوں تم دیکھتے نہیں یار ایسی بے رخی ہاں صحیح تو نہیں۔۔
رات دن جیسے مانگ رہا تھا دعاؤں میں دیکھو غور سے کہیں میں وہی تو نہیں۔۔۔۔میں وہ رنگ ہوں جو چڑھ کے کبھی چھوٹے نا میں وہ رنگ ہوں جو چڑھ کے کبھی چھوٹے نام ان سے اس سے پہلے اپنے اگلی لائن پوری کرتی ازل ساحر نے یہ گٹار سے اگلی لائن کے سر بکھیر دیے۔۔۔۔
ازل کے دل مچا دیا ابھی باہر ا جائے گا وہ خاموش ہو گئی دوسری طرف ساحر بے چین ہو گیا اس کے چپ ہونے سے اب میں اسے کیسے اب میں اسے کیسے بلاؤں کیا کروں
ماہ بھی عدل کے ساتھ ہی ہاتھ پکڑ کے بیٹھ گئی اب دونوں چپ ہو گئی میں باہر جاؤں؟
نے پوچھا رکو میں لائٹ اف کرتی ہوں ماہی اور دونوں باہر اگئی ایسے کہ ان کے چہرے نظر نہیں ارہے تھے۔
چاند کی ہلکی روشنی سرد ہوا اور تین نفوس ایک دوسرے سے انجان ایک دوسرے کی فکر میں ہی لگے ہوئے تھے۔۔۔
کھڑکی سے نکلتے ہوئے ساحر کو دو سر نظر ائے۔۔
اف ایک تو پتہ نہیں ہے دوسری کون ہے جو ہر وقت چپ کی ہوتی ہے اپ کیسے پتہ لگے گا ساتھلین کون سی ہے ماہین اپنے پیچھے سے اتی ہے اواز پہ ظاہر نے مڑ کر دیکھا دوسری ماہ نے جو ہے وقت کیا نام لیا ابھی بھائی جان اپ نے حیدر نشرات کرتے ہوئے پوچھا کمینے انسان کب ایا جی 25 سال ہو گئے ساحر کے سوال پر حیدر نے جواب دیا ہاں مینٹک جگہ پر ابھی ایا جب اپ کسی نام نہیں لیا کیا نام تھا سازی حیدر کے سوال پر ساہی نے جواب دیا ویسے اپ کے ساتھ ظلم کا نام اس ناچیز کو معلوم ہے۔۔ویسے نام مجھے بھی معلوم ہے بس مجھے سازلین کہنا اچھا لگتا ہے۔۔۔
صاحب گرا کے دھن ترتیب دینے لگا اچھا ویسے مجھے ضرورت نہیں لیکن پھر بھی تم بتا سکتے ہو یہ دونوں کون ہیں ساہر نے کہا
اور مجھے اور جاننے کی ضرورت ہے بھی نہیں بس مجھے گانا اچھا لگ گیا تھا ویسے تمہیں کیا پتہ ماہین کون سی ہے اور ساتھ دن کون سی کیونکہ دونوں میں سے ایک گانا گاتی ہے ظاہر کے سوال پر ہے حیدر نے جواب دیا نہ بتا دوں ویسے حیدر نے پوچھا ارے مجھے کیا کرنا ہے جان کر وہ ویسے بھی پتہ ہی ہے ہاں یہ بھی ہے کیا فائدہ بتا کر دونوں میں سے ایک گاتی ہے ادھر تمہیں بھی پتہ ہے حید ر مستی سے بولا
ویسے ساہر ایک گانا ادھر سے بھی جانا چاہیے ان کو بھی پتہ لگے ہمارے لڑکا نہیں کھاتے ہیں سائڈ نے اگے منہ کر لیا دوسر ابھی بھی دکھ رہے تھے ساہر نے چاند کو دیکھا اور گٹار پہ دھن چھیڑی
گھونگھٹ میں چہرہ اپ کا کچھ اس طرح سے کھو گیا
اب گانے لگا ہلکے کی ٹار کے ساتھ
گھونگھٹ میں چہرہ اپ کا کچھ اس طرح سے کھو گیا جھگڑا ہی جیسا چاند کا بادلوں سے ہو گیا
ایسے اولڈ سونگ گاتے جو سونے بھی نہیں کسی نے حیدر نے ٹوک دیا ارے وہ خود کل اولڈ سونگ گا رہی تھی حیدر کے سوال پر ساہر بولا۔۔
ارے یار میں نے نہیں سنا ہوا یہ گانا کوئی اور گاؤ اسے اچھا تو میرے رنگ نے میرے رنگ میں رنگنے والی گادو
چلو جی میں ایک اور سونگز کی شوگین سے تنگ ہوں ادھر تو ساحر میاں بھی پتہ نہیں کون سا گانا گانے لگے ہیں ارے اچھا تھا میں نے سنا ہوا ہے اصل بولی شش۔۔مہینہ جو کروایا
صاحب دن نے پیچھے رہ جانے والے لڑکی جو نظریں نہیں اٹھا رہی تھی گھبرا رہی تھی اس کا سوچنے لگا
کیوں ہو تم شرمائی ہوئی سی لگتی ہو کچھ گھبرائی ہوئی سی
نلکا ہوا سان چل کیوں ہے یہ میرے دل میں ہلچل کیوں ہے
میرے سوالوں کا جواب دو دو نا
میرے رنگ میں رنگنے والی ہو یا ہو پریوں کی رانی یا میری پریم کہانی میرے سوالوں کا جواب دو دو نا
دونوں طرف بے نام سے الجھن اگے کیا ہے لفظ گراس بجانے لگا دونوں کی ایسی حالت کیوں ہے اخر اتنی اس بابے کی ٹاس بجائے میرے سوالوں کا جواب دو دو نا
اور اگے کے گانے کے الفاظ بے ساحر نے گٹار سے بجائے۔۔۔اس طرح گانے سے ساہر نے ساحر نے ماحول پر سحر طاری کر دیا تھا فضل کو لگا ایک ایک لفظ اس کے لیے ہے اس کا دل بولنے لگا اج یہ باہر ا جائے گا
صاحب منتظر تھا اگلے کا جواب کا مگر دوسری طرف خاموشی تھی مگر دونوں کے دل ایک میں دھڑک رہے تھےیہ محبت کی پہلے زبان تھی جو بھی الفاظ میں نہیں تھی مگر محسوس کی جا رہی تھی ساہر ابھی بھی اسی طرف دیکھ رہا تھا جواب کا منتظر تھا مگر دوسری طرف خاموشی تھی پھر ایک سایہ اگے بڑھا پھر دوسرا اور اب بس ساہر چاند اور پرسکون ٹھنڈی ہوا صاحب یار تمہارے والد بہت زبردست ہے تم پروفیشنل سنگر بن جاؤ اب تو لائف بھی لگایا جا سکتا ہے حیدر بول رہا تھا چل یار یہ روم میں چل کر باتیں کرتے ہیں شکر ہے یار تمہیں یاد تو ایا ہمیں روم میں چلے جانا چاہیے اتنی ٹھنڈ ہے حیدر راستے ہوئے بولا دونوں کمرے کی جانب بڑھے مگر ساحر کا دل تو ابھی بھی سازلین کی اواز سننا چاہ رہا تھا۔۔۔۔
ماہی اصل نگلیں لگایا ہوا تھا کیا کیا وہ میرے لیے گایا تھا اس نے کیا میرے جذبات احساس پہنچ گئے اس تک بولو نا ماہی اپنے ہاتھوں کا پیالہ بنا کر ازل کا چہرہ تھاما ماہی نے ہاں ہاں زو تمہارے لیے ہی تھا میری جان تمہاری دعا قبول ہو گئی ہے دونوں گلے لگ گئی
ازل تم نے بس یہی بتایا بتایا ہر بار تمہیں محبت ہے کسی سے بس میرے لیے دعا کرو کبھی سنایا نہیں بتایا نہیں اج بتا دو کہ کمفرٹیبل ہو تو اصل نے گیری سانس لی اس کی انکھوں میں نمی تیرنے لگی امہ کے سامنے بیٹھی تھی مگر اس کا دل جیسے ماضی میں کہیں کہ گیا تھا ماہی اس کی ہلکی سی اواز کانپی
یہاں تک ایک بار ہم سونو سونو کو لینے دامن اپی کے گھر گئے تھے وہ رام ناپے کی چھت پر چلی گئی تھی اور چھپ گئی تھی ہاں امین یاد ہے ازل کے سوال پر ماہی نے جواب دیا کمرے میں ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی اصل نظر جھکا لیا پھر سے بولنا شروع کیا وہ دن مجھے اج بھی یاد ہے ایسے یادیں جیسے کل ہی کی تو بات ہے ویسے تو عام سا دن تھا مجھے کیا پتہ تھا وہ ہی لمحہ میری زندگی بدل دے گا اس نے انکھیں بند کر لی جیسا سب کچھ دوبارہ دیکھ رہی ہو میں سیڑھیوں سے نیچے اتر رہی تھی سنو میری گود میں تھی اور نیچے لاونج میں وہ کھڑا تھا بلیک سوٹ میں اس کی اواز میں کپکپاہٹ اگئی اس کے بعد ہلکے سے ماتھے پر ا رہے تھے اور اس کی انکھیں جیسے سورج کی ساری روشنی ان میں قید کر دی ہو ماہر خاموشی سے سنتی رہی ازل کی انکھ سے ایک انکھ سود ڈھلک گیا اور اس نے بس ایک نظر مجھے دیکھا بس ایک نظر مجھے اور مجھے لگا جیسے وقت رک گیا ہو میرے سانسیں تھم گئی ہوں وہ ہلکا سا مسکرائی مگر وہ مسکراہٹ بھی اداسی ماہی نرمی سے اس کا ہاتھ تھام لیا پھر ماہی بولی ازل کی اواز بہت مردم تھی پھر کچھ نہیں وہ بس ایک لمحہ تھا مگر اسے ایک لمحے نے مجھے ہمیشہ کے لیے بدل کے رکھ دیا میں سونو کو لے کر وہاں سے واپس تو اگئی مگر اپنا دل وہیں چھوڑ ائی نہ میری اس سے کبھی بات ہوئی نہ ہی اس کے بعد کبھی دیکھا سے کہا مگر نہ جانے کیوں ہر دن رات اور میری دعاؤں میں شامل رہا میری سوچوں میں میری ہر کہانی میں اس نے اب کی بار ماہی کی طرف دیکھا انکھوں میں بے نام سادرد تھا ماہی پہلی نظر کی محبت ہو گئی تھی مجھے۔۔۔
ازل کی اواز میں ہلکے سے لرزش تھی اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے ماہی اس کے جذبات کی شدہ سمجھ رہے تھے مگر کچھ بولی نہیں میں نے کبھی نہیں سوچا تھا ایسے کوئی لمحہ میری زندگی بدل کر رکھ دے گا ازل نے انکھیں بند کی اور گہرا سانس لی کمرے میں خاموشی پھر چھا گئی کمرے میں سے دونوں کے دلوں کے دھڑکن نہ سنائی دے رہی تھی عدل کے دل میں سکون تھا کیونکہ محبت کو سمجھ گیا تھا۔۔۔۔
صبح کی روشنی نئی امید ہو نہیں رونقوں کے ساتھ پھیل چکی تھی ناشتے کے ٹیبل پر سبھی موجود ہے اچھا بابا اج چل رہے ہیں نا پھر انکل شہباز کی طرف ہاں ہاں انشاءاللہ میں نے شہباز وفات سے بات کر لی تھی اج تو بس س امید ہے انشاءاللہ سب اچھا ہی ہوگا عثمان صاحب نے جواب دیا رام میں نے خوشی سے سر ہلا دیا کیا بات کرتی تھی کیا سب سے اچھا ہوگا ہو جائے گا حیدر نے پوچھا میرا خیال ہے بتا دینا چاہیے بابا حیدر کو بھی اسد نے گفتگو میں حصہ لیا ۔۔۔فہا سے تمہارے رشتے کی بات کی تھی ہم نے اور اج اسے لے جانا ہے حیدر کھاتے کھاتے رک گیا مگر کس کے لیے ارے واہ میرا دوست بھی قربانی کے لیے تیار ہو رہا ہے ساہر نے ہنستے ہوئے بریڈ کا پیسوں میں رکھا ہاں قربانی کے لیے یہ سمجھ لو سسرال کے سامنے ہوگا بیوی کا جب دل ہوا ناراض ہو کے مائکے چلی جائے گی اور اپنے گھر سے اپنے بابا ماما کو لے ائے گی اور ڈانٹ پڑوائے گی یا سدنا ساہر کی بات کا جواب دیا ایسے ہی چلی جائے گی میں باندھ کے بٹھا دوں گا اس کو حیدر بولا بائ سامنے کدھر سسرال ساحرنجوس کا گھونٹ لیا یہی سامنے والا ہمارے گھر سے نکلتے ہی جو گھر ہے ساہر کو زور سے کھانسی لگ گئی ارام سے میری جان ارام سے حیدر صاحب کی کمر تھپڑ کر بول رہا تھا کیا کر رہے ہو ساہر ارام سے کھاؤ کتنی بار بولا ہے تو میں اسے کھاتے ہو اور نہیں بولا کرو بیچ میں کھاتے ہوئے زامین قریب ا کر کھڑے ہو گئی ایکسکیوز میں ساحر اور کا کمرے میں چلا گیا پیچھے پیچھے حیدر بھی ا گیا
اج تو مطلب خوب ساجد حج کے جانا پڑے گا رشتے کے لیے جا رہے ہیں ہم اور یار میری شادی میں گانا ضرور گانا تم گاؤ گے نا حیدر جان بوجھ کر تنگ کر رہا تھا۔۔۔
ساحر خاموش رہا اسے سمجھ نہیں ا رہا تھا وہ کیا کرے۔۔۔چاہے تم میں چلو گے ہمارے ساتھ اور امین نے کمرے میں اتے یہ بولا وہ بس کھڑا تھاماہین ازل اٹھو جلدی شاباش اج بہت کام کرنا ہے اور تمہارے بابا کے مہمان بھی انے ہیں دوپہر میں سونے دینا مما ماہی نیند نے بولی نہیں بس بہت سو گئے اٹھو اب زل اٹھو جلدی صبح اٹھ کر نماز پڑھتا ہے بندہ قران پڑھتا ہے تم دونوں سوتی رہتی ہو بس ارے ہم اٹھے دیتا ہے مما پھر سو جاتے ہیں اچھا واہ ماشاءاللہ یہ تو بہت اچھی بات ہے اٹھو فون سے پہلے دونوں پانی ڈال دوں گی ورنہ اس سے پہلے وہ واقع پانی ڈال دیتی دونوں یک دم اٹھ گئی گڈ بول کر چلی گئی کون ا رہا ہے ماہی پتہ نہیں چلو اب نیچے چلتے ہیں گھر میں سفائ ستھرائی اور کھانے بند رہے تھے ازل اور ماہن بھی کام کروا رہے تھے دونوں بھائی کام سے جلدی اگئے تھے چلو اب دونوں تیار ہو جاؤ جا کے جی دونوں کمرے میں چلی گئی
ماہین جی مما اج اچھا سا تیار ہونا ہے تمہیں دیکھنے ا رہے ہیں چہرے پر ہاتھ رکھ کر نادیہ بولی ماہی مائیں تو بس دیکھتے رہ گئی کچھ بول نہیں پائی نادیہ بھی کمرے سے باہر اگے وہ خوش بھی تھی اور اداس بھی تھی گھر کا ماحول ہلکا سا پر سکون مگر اندر بے چینی سے بھرا ہوا تھا۔۔۔
ڈرائنگ روم میں موجود ہر چہرہ اپنی سوچ میں گھومتا ہلکی پھلکی ادھر کی باتیں ہو رہی تھی
شہباز شہباز بھائی اپ کو تو پتہ ہے ہم کس سلسلے میں ائے ہیں سوال کیا ہوا ہے جواب کے منتظر ہیں عثمان صاحب نے بات کا اغاز کر دیا اپ میرے بھائیوں کی طرح ہیں اور ہمارے اچھے خاصے مناسب بھی رہے ہیں میرے لیے سے زیادہ خوشی کے بعد ہو ہی نہیں سکتی کہ میری بیٹی اپنے ہی گھر جائے گی شہباز نے عثمان کے سوال کا جواب دے دیا تھا دونوں اٹھ کے گلے میں لے میرا خیال ہے بھابی مایا ہین گو بلا لیں بھئی میں تو اج ہی تو سمندر کر کے جاؤں گا عثمان پور جوش انداز میں بولا جی ہم لاتے ہیں ابھی نادیہ اور ارمینہ اٹھ کر چلی گئی۔۔۔۔
ساحر نے نام سن کر ٹھنڈی سانس لی وہ ہاتھ ہو گیا تھا مگر کچھ سمجھ نہیں ارہا تھا اسے۔۔۔
ماہین کو بلایا گیا وہ اہستہ اہستہ چلتی ہوئی ائی نظریں جھکی ہوئی چہرے پر حیا کے رنگ اس نے ہلکے اسمان رنگا خوبصورت جوڑا پہنا ہوا تھا جس پر نازک سی بازی کڑھائی تھی دوپٹہ بڑے سلیقے سے سر پر رکھا تھا جو اس کے چہرے کی معصومیات کو اور بھی نمایا کر رہا تھا اس کے لمبے سیاہ کالے بال سٹائل بھی پیچھے بند ہو گئے تھے اور چند لیٹے چہرے کے پاس ا کر اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگا رہی تھی اس نے بہت ہلکا میک اپ کیا ہوا تھا بس گلابی لب ہلکی سی کاجل بھری انکھیں گالوں میں گزرتی لالی ہاتھوں میں سادہ سی چڑیاں جو حرکت کے ساتھ مدہم سی اواز پیدا کر رہی تھی
جب وہ کمرے میں داخل ہوئی تو ایک لمحے کے لیے سب کی نظریں اس پہ ٹھہر گئی وہ نہ زیادہ ہی بنے سمری تھی اور نہ ہی کوئی بناوٹ بس نرم باوا کار و شرمیلیوں سے لڑکی جو اپنی حیا میں سب سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی حیدر پورے وقت خاموشی سے بیٹھا تھا مگر جیسے ہی ماہین کو دیکھا ایک لمحے کے لیے وہ جیسے سب بھول گیا اور نہ باتوں کی اوازیں نہ لوگوں کے موجودگی بس سامنے کھڑے وہ لڑکی جس کے ساتھ گین نے اسے اندر تک چھولیا تھا
اس نے فورا ناظرین جھکا لی دل کی دھڑکنیں تیز ہو چکی تھی ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ ا گئی ماہی نیا کا سلام کیا امین اٹھ کر گئی اور ماہین کو اپنے ساتھ بٹھا لیا انکل اج سے یہ ہماری ہوئی عثمان صاحب اگے ایا ماہین کا سر پر ہاتھ رکھا تو بس اج سے یہ ہماری امانت۔۔۔مٹھائی کا ٹکڑا اٹھایا اور شہباز صاحب کے اگے کیا دونوں ایک دوسرے کو مٹھائی کھلائی
اب اس خوشی کے موقع پر میں بھی کچھ کہنا چاہ رہی ہوں سکتا ہے خوشی ڈبل ہو جائے امینہ انٹی میں اپنے بھائی ساہر کا رشتہ ازل کے لیے مانگتی ساہر کو تو اپ لوگ جانتے ہی ہیں کو بھی اب لوگ جانتے ہی ہیں انشاءاللہ بہت خوش رکھے گا ازل کو اور دونوں بہنیں بھی ساتھ ہی رہیں گی رامین نے رشتے کی بات یہ ایک دم ہی چھیڑ دی
ایک دم پھر سے کام خاموشی چھا گئی کمرے میں ساحر تو مانو ایسے ہو گیا جیسے کاٹو تو لہو نہیں اس کی سانسیں رکنے لگی تھی یہ کیا اب ہم پھوڑ دیا اب بھی انہیں صاحب نے دل میں سوچا اور حیدر کی طرف دیکھا دونوں بےہووں کا کی طرح ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اس کو
بھابھی مجھے تھوڑا خوش تو ہونے دیتی ہے حیدر بھی دل میں سوچ رہا تھاصبح کی نرم روشنی کمرے میں پھیل رہی تھی ماہین اٹھی تو ازل اج پہلے سے اٹھی ہوئی تھی انکھوں میں ہلکی سی دھکن دل بے چین رات بھر وہ چھت پر نہیں جا سکی تھی مگر دل تو یہی سوچتا رہا وہ انتظار کر رہا ہوگا اسے سوچ میں تھی جب ماہ نے پکارا اوئے ہوئے ہوئے اج محترمہ کون سے دنیا میں گم سم ازل چوکی پھر سنبھل کر بولی کہیں بھی نہیں او ہو جیسے مجھے پتہ نہیں سمجھ رہی ہوں سب بیٹا ما ماہی نے ہلکا سا کہکا لگایا یہی کہ کسی کا انتظار رہ گیا کل رات ازل کا دل ایک لمحے کے لیے تیزی سے دھڑکا میں اور میں کیوں کرنے لگے کسی کا انتظار باہر نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا نرمی سے کیوں کہ کبھی کبھی دل خود سے فیصلے کر لیتا ہے اور ہمیں بعد میں پتہ چلتا ہے یہ بول کر خود بھی کھو گئی ایسا لگتا ہے جیسے وہ اگر سامنے ا جائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔
اگر نہ ائے تو کچھ ادھورا رہ جائے گا ماہ گم سم سے بولی ہم اہم ازل کھنگاری ارے واہ میڈم حیدر بھائی کو دیکھ کر تو اپ بھی شاعرہ لگ رہی ہیں اللہ بولی تو دونوں ہنسنے لگی ماہن بولی ایک بال بتاؤ دونوں دونوں ہاتھ کمر کے پیچھے سیٹ کر کے ایک ٹانگ سیدھی اور ایک ٹانگ موڑ کر بیٹھ گئی بکھرے بال اندھی نیند سے بھری انکھیں اس حال میں بھی حیدر دیکھ لیتا تو اس کا حال بے حال ہو جاتا کیا بات نہ تو تم خود کمرے سے باہر گئے نہ مجھے جانے دیا ہمیں ہی جان دیا ہوتا ہم تو دیکھ رہے تھے کوئی ہمارا انتظار تو نہیں کر رہا انتظار کر رہے تھے تو کرتے رہیں ہم کیا کریں ہم نے بھی کیا ہے کتنے دن ازل نے موٹےڑا کر کے انکھیں گھما کر بولالڑکیو اٹھ جاؤ اج ماہین کی مما اٹھانے ائی تھی اٹھے ہوئے ہیں ہم تیری مما اج کیسے بس اج ہمارا دل گیا اپ کے اٹھانے سے پہلے اٹھ جائیں واہ یہ تو بہت اچھی بات ہے ابھی رامین کی گال ائی تھی اج ہم سب کو رات کے کھانے کے لیے بلایا ہے تم لوگوں نے چلنا ہے رات کے کھانے کے لیے
رات کے کھانے کے لیے ابھی سے بلا لیا واہ
ہاں اس لیے کیونکہ سو مسئلے ہوتے ہیں اچھا کیا پہلے یہ بتا دیا ورنہ میں اور تمہارے بابا تو اسلام اسلام اباد جانے کا سوچ رہے تھے کیوں کس لیے اور وہ بھی اکیلے؟نہیں نہیں سب لوگ
منگنے کی تیاری کے لیے سب نہیں جاتے ہیں نا چلتے ہیں نا مما دعوت پھر کبھی ہو جاتی بوڑھی بات بیٹا ایسے تو نہیں بولتے اب وہ تمہارا ہونے والا سسرال ہے رامین کے بات کا جواب دیا چلو دونوں ناشتے کے لیے اجاؤ میں تو نہیں جاؤں گی دعوت پہ مما ازل بولی اچھا ٹھیک ہے نہ جانا میں بھی یہی چاہ رہی ہوں کہ تم نہ جاؤ دونوں اچھا ٹھیک ہے دونوں ا جاؤ دوبارہ اواز نہ دینی پڑے مجھے اوکے مما تم کیوں نہیں جاؤ گی بس میرا دل نہیں تم نے جانا ہے تو چلی جانا تمہارے بغیر میں کیا کروں گی ہم دونوں میں مل کر گانا گائیں گے ہاں ٹھیک ہے دونوں باتیں کرتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔
دن تو سارا گہما گہمی میں گزر گیا رامین نے حیدر اور ساحر کو سارا دن مصروف کیے رکھا کاموں میں زیادہ تر کام گھر سے باہر کے ہی تھے ان کی اچھی خاصی پریڑ ہو رہی تھی کیا یار اپی ہمارے لیے ہی دعوت ہے اور ہم ہی سارے کام کرنے پڑ رہے ہیں۔۔دس از ناٹ ڈن یار ساحر نے احتجاج کیا ۔۔۔
ارے ارے ابھی سے شادی اسانی سے ہوتی ہے کیا ؟ رامن نے اس سے چھیڑا ساہی ٹھنڈی بھر کر رہ گیا۔۔اچھا اب تو ہو گئے سارے کام اب تم جا کر ارام کر سکتے ہو اچھا ویسے بھابھی ماہین بھی ائے گی حیدر جو پہلے سے ہی سلاد کے لیے کھیرے کاٹ رہا تھا اب بولا مم پتہ نہیں کیا پتہ ا جائیں میں نے بول تو دیا تھا ان کو بھی لانے کا۔۔۔اچھا لڑکیوں اچھے سے دروازہ بند کر لو کھولنا نہیں جب تک ہم نہ ا جائیں۔۔۔ارے نانی مما اپ فکر ہی نہ کریں ہم اپ کے لیے بھی کھولتےجائیں نانی مما نے ازل کو بھنویں اٹھا کر دیکھا۔۔ارے ارے بھئی دو قدم پر ہی ہے گھر چلو چلتے ہیں جلدی بس سب چلے گئے اور ازل ماہین رہ گئے ۔۔سب کے جانے کے بعد ماہین اور ازل سوفے پر کچھ دے چپ چاپ بیٹھ گئیں ۔۔۔ماہی نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ازل کو دیکھا لگتا ہے پورا گھر صرف ہمارے لیے رہ گیا ہے ازل نے گہری سانس لی تھوڑا سا کھویا ہوا سا ہاں سکون بھی ہے۔۔اور پتہ نہیں کیوں تھوڑی سی بے چینی بھی ماہین اس کے قریب ا کر بیٹھی بے چینی یا ازل نے فورا ناظرین جھکا لیں ہلکا سا شرمندہ سا ماہ تم بھی نہ ماہی زور سے ہنسنے لگی ۔۔۔
اپ اپ کیا دونوں ایک دوسرے سے پوچھنے لگے ممم اؤ کچھ مووی دیکھتے ہیں۔۔ارے تم تم گانا گاؤ کیا پتہ ساہر ا جائے نوے اب کوئی گانا گانا نہیں ماہی کی بات پر ازل نے جواب دیا اؤ بس مووی دیکھیں اچھا ادھر ہی گالوں نہ اتنے دن ہو گئے گانہ نہیں سنا۔۔۔اچھا اچھا سناتی ہوں پھر مووی اوکے ڈن۔۔
سارے جو اتنے لوگوں کے ہوتے ہوئے بھی اداس ہو گیا تھا کیونکہ وہ ایک انسان جس کو دیکھتا تھا وہ یہاں موجود نہیں یہی حال حیدر کا بھی تھا اچانک ساہر اٹھ کر جا تا ہے اور نظر بچا کر گھر سے نکل جاتا ہے۔۔۔دھیمی دھیمی سے ہنسی شاید وہ سن لے کبھی پھل یہ ملے نہ ملے اج رے اج ابھی وہ جان کے انجان ہو رکھ لے انکھوں کی لاجوں رکھ لے کچھ تو بھرم دل کا یہ بن جا رہا پن دل ۔۔
دل ہے کہیں اور کہیں دھڑکن۔میرا نہیں بنتا تو نہ بن اپنا تو بن تو ذرا۔۔۔۔
جس وقت مستی کرتے ہوئے یہ گانا میں مصروف تھی اس وقت ساحل رضوان چوروں کی طرح اس کے گھر میں داخل ہو کر ایک کھڑکی سے ازل کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
اف یہ ظالم مزے کر رہی ہے اور ہم ان کے لیے اداس ہو رہے ہیں صحیح ہے جی صحیح ہے اب ہم بھی لیں گے بدلے۔۔۔۔
دعوت میں رامین نے اچھے خاصے انتظام کیے ہوئے تھے کھانے کے بعد سب بیٹھ گئے لاونچ میں اور اور اگے کالا ہے عمل کے بارے میں سوچنے لگے اور اگلے ہی مہینہ شادی کی تاریخ پکی کر دی گئی۔۔۔
رامین اور ازل تو یہ سننے کے بعد سکتے میں اگئی شادی کرنی تھی پر اتنی جلدی مگر دوسری طرف لڑکے خوش تھے شادی کی ساری تیاریاں ہونے تک ساہر اپنے گھر اسلام اباد چلا گیا اور جتنی بھی بال ساہر کی عمر گھر ائی شاپنگ دکھانے کروانے ساحر نہیں ایا ۔۔۔
جب کہ حیدر تو ادھر ہی پایا جاتا تھا اس لیے ازل تھوڑی پریشان تھی پتہ نہیں وہ خوش بھی ہے یا نہیں؟
اخر کا شادی کا دن ا ہی گیا ساہر ازلان اپنے بارات لے کر اسلام اباد سے مرے کی طرف چل دیا جہاں سجی سامری اس کی روزانہ اس کا انتظار کر رہی تھی دونوں گھروں کی مرضی سے یہ فیصلہ ہوا تھا ازل اور ماہین کا گھر ایک ہی ہوگا جدھر وہ سسرال میں ہونا والے رسومات کے بعد شفٹ ہو جائیں گی۔۔۔۔
نکاح کے جواب و قبول کے مراحل پورے ہوئے ایک دعا پوری ہوئی ایک محبت مکمل ہوئی۔۔۔
ماہن اور ازل دونوں دھلنے بنی اپنے خوابوں کی تعبیر کے مسائل میں داخل ہوئے زندگی کی نئی شروعات کا اغاز ہو چکا تھا۔۔ساہر کوازل کے پاس لایا گیا ازل جو صرف اس کی بن گئی تھی اج سے وہ حق سے اسے دیکھے گا اپنی سازلین کو نظر نہیں چرانی پڑیں گی۔۔۔۔
ازلل عروسی لہنگے میں للکش لگ رہی تھی اس کا لہنگہ گہرا کھیلتے گلاب جیسا لال تھا ۔سنہری کڑھائی اور موتیوں سے بھرا ہوا جو جو ہر حرکت کے ساتھ روشنی میں جمع کر رہا تھا دوپٹہ ہلکا شفاف سنہرے کناروں کے ساتھ اس کے کندھوں پر یوں پڑا تھا جیسے کسی خواب کی چادر بال نرم میں لہروں میں سورے ہوئے تھے جن پر چھوٹے چھوٹے سفید پھول اور سنہری بال جامی ہوئی تھی اس کی انکھیں نرم اور چمکدار ہلکی شیڈنگ اور لمبی پلکیں ہر دیکھنے والے کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی ہاتھوں اور بازوں پر نفیس مہندی کا ڈیزائن چوڑیوں کے کھانا کس کو کسی افراد سے کم نہیں دکھا رہی تھی۔۔۔
ساحر ازلان خود بھی الگ ہی وقار و دلکش سے سب کو اپنی طرف متوجہ کر رہا تھا اس نے گہرے اف وائٹ رنگ کی شیر لانی پہنی ہوئی تھی جس تو باریک سنہری کڑھائی نہایت سلیقے سے کی گئی تھی شیروانی کے بٹن اور کالر کی ڈیزائننگ اس کے سٹائل کو اور بھی شایانہ شان بنا رہی تھی اس کے ساتھ اس نے ہلکے سنہرے رنگ کا دوپٹہ کندھے پر ڈالا ہوا تھا سر پر روایتی سیفہ (پگڑی) جس میں خوبصورت سا اپروچ لگا ہوا تھا اس کی شخصیت میں روب اور شام پیدا کر رہا تھا
جب اس نے ازل کو دیکھا مانو ساکت ہو گیا اور ہر ماحول اور لوگوں سے بے خبر اس کی نظر سے ازل پر ہی تھی اور وہ بے اختیار گنگنا اٹھا۔۔۔
اب نہیں ہو رہا دل میں قابو صنم۔
اپ کی چاہتوں میں ہے جادو صنم۔
اب ہوش نہ کچھ بھی رہا خوابوں میں کھو گئے۔
پل کون تلے ہم چین سے باہوں میں سو گئے۔۔۔۔
حیدر نے ہلکی سی کہنی ماری اب وہ تھوڑا سا شرمندہ ہوا اور سب ہنسنے لگ گئے دونوں کو قریب لا کر بٹھایا گیا بچی ہوئی رسموں کے بعد رخصتی کی تیاری کی گئی اور وہ دونوں اپنے اپنے گھر چلی گئی
کمرہ پورا پھولوں سے مہنگا ہوا تھا اور نہایت ہی خوبصورت انداز سے سجایا گیا تھا۔۔
ماہین اس کمرے میں کسی ملکہ کی طرح بیٹھی تھی اور اس کی خوبصورتی دیکھ کر ہر کوئی حیدر پر رشک کر رہا تھا اس نے گہرے مرون رنگ کا لہنگا پہنا ہوا تھا جس پر سنیری اور ہلکے سب دھاگوں کی نفیس کڑھائی تھی اس کا دوپٹہ سپن نہایت خوبصورتی سے ٹکا ہوا تھا جس کے کناروں پر باریک کام اور چھوٹے چھوٹے موتی جگمگا رہے تھے ہاتھوں پر گہری مہندی کے خوبصورت ڈیزائن کلائیوں میں چوڑیاں اس کی ہر حرکت پر بجتے ہوئے اس کے حسن کو اور بھی بڑھا رہے تھے۔۔۔۔
دروازہ اہستہ اہستہ کھلا اور حیدر اندر داخل ہوا کہ قدم نرم اور اہستہ سے ہر قدم نئی زندگی کی طرف بڑھ رہا تھا حیدر نے گہرے بلیک رنگ کی شہروانی پہنی تھی جس پر سہرے کڑھائی تھی کندھے پر ہلکا سنہری دوپٹہ اور سب نفیس سی پگڑی جس میں ایک خوبصورت بلوچ لگا ہوا تھا اس کے چہرے پر ہلکے سے سنجیدگی مگر انکھوں میں ایک چمک تھی ہلکی سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر ائی جب اس کی نظر میں ماہین پر پڑی اور نظریں ہٹ نہیں رہی تھی۔۔۔
اندر اہستہ اہستہ چلتا ہوا ماہین کے قریب ا کر رک گیا چند لمحے بس وہ دیکھتا رہا جیسے الفاظ ساتھ چھوڑ گئے ہوں ماہ میں ہلکا سا سر جھکایا دل کی دھڑکن تیز ہو گئی کمرے میں خاموشی اور بھی گہری ہو گئی۔۔۔
حیدر نے نر مواز نے کہا تو بہت خوبصورت لگ رہی ہو ا ہلکا سا مسکرایا اور بیٹھ گیا ہاتھ پکڑ کر نرمی سے بولا اج میں مکمل ہو گیا ماہی تم نے مجھے مکمل کر دیا نرمی سے اس کے ہاتھ کو چوما۔۔
ماہین اور شرما گئی کچھ بولو گی نہیں دیکھ بھی نہیں رہی اچھا نہیں لگ رہا؟
نہیں! نہیں؟ ماہین کے جواب پر حیدر بولا!!!
ہاں مطلب اچھا لگ رہا ہے اپ بھی۔۔ٹھنڈے سانس بھر کر رہ گیا شکریہ جان محترم اپ نے کچھ الفاظ ہمارے نظر بھی کیے۔۔۔
اب تو نہیں ڈرو تھوڑا سا اگے ہوا ماہین کا چہرہ اوپر کیا ہے دنا اہستہ سے کہا اج سے تم صرف میری نہیں میری ذمہ داری بھی ہو ماہین نے ہلکی سی مسکراہٹ سا جواب دیا اور اپ میری دنیا۔۔۔
اور پھر وہ لمحہ جو لفظوں سے زیادہ محسوس کرنے والا تھا خاموشی میں ہی مکمل ہو گیا۔۔۔۔۔۔دوسری طرف ازل نور بھی کمرے میں انتظار کر رہی تھی کمرے کو سجاوٹ مگر ہلکی سی نرم خوشبو روشنیاں سنہایت نفیس طریقے سے سجایا گیا تھا اس کمرے میں باہر کی دنیا جیسا کہیں دور رہ گئی تھی اس لمحے سے ظاہر اور ازل تھے۔۔
ساحل نے اہستہ سے اپنا ہاتھ بڑھایا اور ازل کے ہاتھ پر رکھ دیا ازل کا دل زور سے لڑکا ازل تمہیں ایک بات بتاؤں؟
مگر اس کے لیے تمہیں مجھے دیکھنا ہوگا۔۔۔۔
میں میں سازلین سے محبت کرتا ہوں ازل۔۔۔
ازل نے حیرت سے انکھیں پھاڑ کر دیکھا بس سوال ھی سوال۔۔۔۔
ایک رات میں چھت پر ٹہل رہا تھا ادھر مجھے ایک لڑکی کے گانے کی اواز ائی بس میں تو دل ہار گیا اس پہ ازل کی انکھوں میں انسو تیرنے لگے تھے ساحل کا دل ہوا اس کو گلے لگا لے مگر اس کو بدلہ لینا تھا اور تھوڑا تڑپانا بھی تھا مجھے اس کا نام نہیں پتہ تھا اس لیے میں نے اس کو خود سے ہی نام دے دیا پتہ ہے کیا نام دیا تھا؟
وہ کونے کے بل بیڈ پر لیٹ گیا پوچھو پوچھو کون سا نام دیا تھا؟؟
سازلین سازلین نام دیا تھا جب بدل نے نہیں پوچھا تو اس نے خود ہی بتا دیا اور ازل کے انسو اب گالوں پر گر چکے تھے جو کہ اب ساہر کے دل پر گر رہے تھے
میں نے اس کی اواز بھی ریکارڈ کی ہوئی ہے تم سنو نا!!!
کیا پتا تم اس کو سن لو اور پہچان لو اور مجھے اس سے ملوا دو جیب سے موبائل نکالا اور اواز سنائی ازل بیچاری اتنی اداس اور دل جوڑ چکی تھی وہ اپنے ہی اواز نہ پہچان پائی ۔جانتے ہو اس کو؟ہلا دیا اور ازل کس معصومیار کے حسین نکل گئے وہ قریب ہوا اور گلے سے لگا لیا۔پاگل لڑکی یہ تمہاری ہی اواز ہے اصل میں خود کو دور کرنے کی کوشش کی تو ظاہر نے اور مضبوطی سے گلے لگا لیا میں تو اپنی ازل سے ہی محبت کرتا ہوں اس دن سے جس دن پہلی بار اسے چاند کے سامنے گاتے سنا تھا،میں نے تمہیں اسی دن سے چاہا ہے میری جان تو تو وہ سازلین ارے تمہارا نام ہے میں نے تمہیں ہی نام دیا تھا ۔ ازل کو تھوڑا سا چھوڑا۔اور اس کے انسو صاف کی اور باری باری دونوں انکھوں کو ہونٹوں سے چھوا اب ایسے رونا بند کرو میں نہیں بس بدلہ لیا تھوڑا سا مگر وہ ابھی بھی سواری انکھوں سے دیکھ رہی تھی جیسے ساحل کو لگا وہ بہت بڑی غلطی کر چکا ہے شاید۔۔۔
تو میں اپنے سارے پر یقین نہیں؟
اللہ تمہیں ایک خوبصورت خواب ہو میرا جو پورا ہو گیا ہے تم بتاؤ کیا کبھی میرے کسی عمل سے لگا مجھے تم سے کبھی محبت نہیں تھیلا دیا ساہر نے پھر سے گلے لگا لیا اور بولا میں نے بس اواز سنی تھی نہ چہرہ دیکھا تھا نہ نام تھا مساواز دل میں اتر گئی تھی اس لیے تو سادلین کا نام دیا تھا۔۔۔۔
وہ دھیرے سے بولی تو اپ مجھے پہلے سجاتے ہیں ساحل نرمی سے جواب دیا شاید قسمت نے تمہیں مجھ تک لانے سے پہلے میرے دل میں بسا دیا تھا اور موبائل میں ازل کی اواز میں ہی گایا ہوا گانا چلا دیا۔
میرے ساتھ شام میں بیتا کر تو دیکھو۔۔۔
جسے وہ اس دن ریکارڈ کر چکا تھا۔
اب تو ہم دن رات اپ کے پاس اپ کے ساتھ کروائیں ہمیں ذرا پیار سے پیار ازل اس بات پر ہلکا سا مسکرا سارا اٹھا کر دیکھنے لگی۔
سائرن اہستہ سے اس کا دوپٹہ سنبھالا اور کہا اج سے تمہارے ہر خوشی ہر تمنا میری ہے ازل کے ہونٹوں پر مسکرا ہٹا گئی اور دیگر سے بولی اور اپ میری سب سے خوبصورت دعا۔۔۔
پھر سارے نے ہلکے سے اس کا ہاتھ تھام کر کہا یہ صرف اج کی رات نہیں ہے ہماری پوری کہانی کے شروعات ہے ازل پھر سے ساہر کے گلے لگ گئی۔۔۔۔
صبح کے وقت ازل کی انکھ کھلی تو ساحر اس کو دیکھ رہا تھا ازل کو اٹھتا دیکھ کر ساری ادھر سے بولا یہ بھی ٹھیک ہے ہماری نیندیں اڑا کر خدا ارام سے سوئے اپ جان حضور سچ کہتے ہیں بھئی محبوب ظالم ہوتا ہے استغفر اللہ پڑھ لیں اپ میں نے کیا ظلم کر دیا ہے اپ پر مصنوعی غصہ دکھا کر بولی۔
استغفر اللہ پڑھ لیا ماشاءاللہ ماشاءاللہ میری جان محترم تو دیندار بھی ہیں جس پر ظلم ہر قسم مسکرا کر بولی جی الحمدللہ۔۔
ظاہر قریب انے لگا تو ایسا لوٹ کر واش روم چلی گئی پھر لوگ بولتے ہیں ظلم بھی نہیں کرتے۔۔۔
اس دن سے ان کی زندگی میں لمحہ محبت خوشی اور یادگار رہا ہر نظر ہر لمحہ لفظ سب کچھ ایک حسین کہانی کا حصہ بن گیا۔۔۔۔۔۔
یہ محبت کی کہانی چھوٹی چھوٹی باتوں خاموش لمس اور دل کی سنجیدگی سے بھری ہوئی ہمیشہ کے لیے دلوں میں محفوظ ہو گئی۔۔۔۔
ناشتے سے فارغ ہو کر عزم الماری میں کپڑے رکھنے کا سوچا اور کپڑے رکھتے ہوئے ایک ڈائری دیکھی اور اس پر وہ لمحہ لکھا تھا جب وہ ساحر نے اس کے لیے محسوس کیا تھا اور اس کے لکھے ہوئے الفاظ تھے اس کے اوپر موٹے سے سازلین لکھا ہوا تھ۔۔۔۔
سازلین
نہ کوئی ساس تھا نہ کوئی سامع۔۔
بس وہ گنگنا رہی تھی۔
ایک سوٹ جیسے ہوا میں تیار تھی خوشبو۔۔۔
ایک اواز جیسا کہ وقت تھم جائے۔۔۔
میں رک گیا سانس لینا بھول گیا۔۔۔
دیوار کے پار کون تھی یہ میں نہیں جانتا تھا لیکن اس لمحے مجھے اس کا چہرہ نہیں چاہیے تھا اس کا نام بھی نہیں۔۔۔
صرف ایک چیز جانتا تھا وہ اواز میرے اندر کچھ جگہ گئی
اگلے دن پھر وہیں گیا وہ گاتی رہی میں سنتا رہا۔۔۔
پھر میں نے دیوار پر دل کی ہر دھڑکنوں پر دھڑکنوں کی دھڑک پر ہر چلتی سانس پر لکھ دیا سازلین
وہ جو دل ہر سر ہر دھڑک کے مالک ہے صرف میری سازلین وہ صرف میری ہے میں تمہیں ڈھونڈ لوں گا۔۔۔۔
اور نیچے شادی کی ڈیٹ دیکھی تھی جس پر اس نے لکھا ہوا تھا اب سے اس کا ہر سر ہر خوشبو صرف میری ہوئی سازلین اج سے میری ہوئی۔۔۔۔
اصل میں یہ اتنے خوبصورت الفاظ پڑھ کر ڈائری کو اپنے سینوں سے لگا لیا اور اس کو واپس ویسے ہی رکھ دیا۔
اور اپنی محبت کو اتنے خوبصورت طریقے سے پورا ہونے پر اللہ کا شکر ادا کیا ۔۔۔
دل کے جذبے سچے ہوں تو اکثر محبتیں ایسے بھی پوری ہو جاتی ہیں ✨✨✨
از قلم
رشک حناء۔۔۔
