✨ عشق صرف تم سے ✨
عشق صرف تم سے
SHIFA RAHEEL
اسلام علیکم کیا حال ہے امی؟ ناشتہ تیار ہے بس جلدی سے دے دیں، بھوک بھی لگی ہوئی ہے اور دیر بھی ہو رہی ہے۔
پرِی شے ایسلام آباد کے ایک شہر راج شاہی میں ایک بہت پیاری فیملی زیرِ رہائش تھی۔ یہ ایک نارمل فیملی تھی، اس گھر میں ٹوٹل تین افراد رہتے تھے — ارسلان صاحب، سمِینا بیگم اور ان کی پیاری سی چنچل بیٹی پرِی شے۔ پرِی شے صرف نام کی ہی نہیں، پری تھی ہی اتنی خوبصورت کہ جو بھی دیکھتا دیکھتا رہ جاتا۔
پرِی شے جب پیدا ہوئی تھی تو اس کی نانی نے اسے دیکھ کر نام رکھا تھا پرِی شے۔ کالے گھنے بال، گوری رنگت، بڑی بڑی کالی آنکھیں، گالوں میں پڑتا ڈمپل — وہ بلکل ایک پری ہی لگتی تھی۔ پرِی شے بچپن سے ہی نازک اور حساس دل کی مالک تھی۔ کسی کو بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی اور اسی عادت کی وجہ سے کبھی کبھی وہ بہت مشکل میں پڑ جاتی تھی۔
پرِی شے ابھی سکندر یوم کالج میں تھی اور اس کے پیپر چل رہے تھے۔ آج آخری پیپر تھا اور اسے آج بہت دیر ہو گئی تھی۔ رات بھر پڑھنے کی وجہ سے وہ صحیح سے سو نہیں پائی تھی، اس لیے اس کی آنکھیں صبح دیر سے کھلیں۔
پرِی شے کو اتنی جلدی دیکھ کر ارسلان صاحب نے مسکرا کر کہا، “میرا بچہ، میں کہاں لیرے میں چھوڑوں گا کالج؟ آپ آرام سے ناشتہ کریں”۔
پرِی شے مسکرا کر بولی، “نہیں ابو جان، میں چلی جاؤں گی۔ آپ کو دیر ہو جائے گی تو مسئلہ ہو گا نا آپ کو”۔
سمِینا بیگم اس سب میں بولیں، “اچھی بات ہے، اب آپ باپ بیٹی جلدی جلدی ناشتہ کرو ورنہ دونوں لیت ہو جاؤ گے”۔
اتنے میں پرِی شے اٹھی اور بولی، “اوکے، میرا فِنِش ہو گیا اب میں جا رہی ہوں”۔
امی ابو آپ لوگ دعا کرنا آج کے پیپر میں میرا بہت اچھا ہو، کیونکہ آج میتھمیٹکس ہے نا۔
پرِی شے اِس طرح بولتی ہے کہ ارسلان صاحب اور سمِینا بیگم چاہ کر بھی ہنس دیتے ہیں۔ پرِی شے ان کو ہستا دیکھ ناراض ہو کر بولتی ہے، “آپ لوگ مجھ سے پیار نہیں کرتے، تبھی ہنس رہے ہیں”۔
ارسلان صاحب بولے، “ارے نہیں بیٹا، ہم تو دعا کر رہے ہیں کہ ہماری بیٹی کا پیپر بہت اچھا ہو اور ہر سال کی طرح اس بار بھی ہمارا نام روشن کرے”۔
پرِی شے اپنے ابو کی محبت دیکھ کر مسکرا دیتی ہے اور گلے لگ کر کہتی ہے، “تھینک یو ابو”۔
بلاج اپنے کمرے میں بیڈ پر نیم دراز لیٹا وہ پَل یاد کر رہا تھا جب پرِی شے اس پر گِری تھی اور گِر کر اس کو ایک ٹک دیکھ رہی تھی۔ اتنے میں کمرے کا دروازہ نوک ہوتا ہے۔ بلاج کی امی کمرے میں داخل ہوتی ہیں اور مسکرا کر کہتی ہیں، “کافی ٹائم، بلاج”۔
بلاج اپنی ماں کو دیکھتا ہے اور کہتا ہے، “موم، آپ کو کیا ضرورت تھی، میں خود آ جاتا نا نیچے”۔
بلاج کی امی بہت سنجیدگی سے کہتی ہیں، “بیٹا بلاج، شادی کیوں نہیں کر رہے ہو؟ آخر ایسی کیا بات ہے جو تم ہم سب سے چھپا رہے ہو؟ کوئی بات ہوئی ہے تو تم ہم سے شیئر کر سکتے ہو بیٹا”۔
بلاج اپنی ماں کے گود میں سر رکھ کر آنکھیں مود لیتا ہے اور کہتا ہے، “کچھ نہیں موم، بس تھک گیا ہوں زندگی کے سفر میں لَیڑتے لَیڑتے۔ اب سکون چاہیے اور آپ چاہتی ہیں میں اپنی زندگی اور بے سکون کر دوں شادی کے چکر میں پڑ کر”۔
بلاج شادی کے نام لیتے ہوئے اس کی آنکھوں کے سامنے پرِی شے کا معصوم موہ لِیہراتا ہے۔
بلاج کی امی فریڈا بیگم بولتی ہیں، “بس ٹھیک ہے، سمجھ گیا مجھے۔ میں دادی بنے بَیغیر اس دنیا سے چلی جاؤں گی”۔ وہ ناراض ہو کر بولتی ہیں اور روم سے نکل جاتی ہیں۔ بلاج اپنی ماں کو آواز دیتا رہ جاتا ہے پر وہ آںسُنا کر کے چلی جاتی ہیں۔
ایمان اور پرِی شے جب پیپر دے کر نکلتی ہیں تو ایمان بولتی ہے، “شکَر ہے یار، پیپر ختم ہو گیا۔ اب سکون سے سَو گی۔ بہت سر کھپا لیا میں نے اس پیپر کے چکر میں۔ چَل یار پری، کینٹین چلتے ہیں اور جا کر کچھ کھاتے ہیں، بہت بھوک لگی ہے”۔
پرِی شے ہَس کر کہتی ہے، “بھوک لگتی ہے تمہیں کَیبھی؟ بتا زرا”۔
ایمان بولتی ہے، “یار، پہلے چَل کر کچھ کھا لِیں، پھر کرتے ہیں بات”۔
پرِی شے کہتی ہے، “چلو چلتے ہیں”۔
پرِی شے پیچھے پیچھے چل رہی ہوتی ہے اور ایمان آگے۔ اچانک ایمان کا ٹَکَر زور دار اس کے سر ہاشِم سے ہو جاتی ہے اور دَھڑام سے نیچے گِر جاتی ہے۔
سر ہاشِم بڑی دل چَسپی سے اس نازُک ہَسنِیا کو دیکھتے ہیں اور ایک ایبرو اٹھا کر کہتے ہیں، “کیا آپ کے پاس آنکھیں نہیں ہیں؟ اتنی جلدی میں کہاں جا رہی ہیں؟ کینٹین کا کھانا ختم تو نہیں ہو جائے گا، تو تھورا آرام آرام سے جاؤ”۔
پرِی شے پاس آ کر کہتی ہے، “سوری سر، اب نہیں ہو گا ایسے”۔
اور ایمان کو اٹھا کر آگے چل دیتے ہیں۔ جب یہ لوگ چئیر پر بیٹھی بیریانی کھا رہی ہوتی ہیں تب ایمان بولتی ہے، “یار، وہ سر کِیتنے ہینڈسم تھے نا؟ مجھے تو بہت اچھے لگے ان کی آنکھیں”۔
پرِی شے دیکھ کر کہتی ہے، “دِکھا تھا تم نے ان کا ایبرو اٹھانے کا سٹائل، اوففف، میں تو فِیدا ہو گئی”۔
پری بولتی ہے، “بڑی عجیب ہو یار، قسم سے، انٹی سے بات کرنی پڑے گی کہ آپ کی بیٹی شادی کے قابل ہو گئی ہے، اس کی شادی کر وا دے”۔
ایمان بولتی ہے، “سچ میں یار، کروں گی، مجھے تو بہت شوک ہے شادی کرنے کا، قسم سے، بڑا مزہ آئے گا”۔
پرِی شے افسوس سے کہتی ہے، “بہت بے شرم ہو تم ایمان”۔
ایمان ہَس کر بولتی ہے، “کوئی شک؟”
دونوں ہنسنے لگتی ہیں۔ دور سے سر ہاشِم ایمان کو ہستا دیکھ مسکراتے ہیں۔
پرِی شے اور ایمان جب کھا کر فارِغ ہو کر باہر آتی ہیں اور ایمان کہتی ہے، “ارے لگتا ہے بھائی آئے ہیں لِینے”۔
پرِی شے چِیخ کر بولتی ہے، “کیا وہ خروس آئے ہیں لِینے؟”
ایمان ہنسنے لگتی ہے اور بولتی ہے، “جییی پری بچیاری، اپنا اتنا سا موہ لے کر بولتی ہے کہ یار”۔
ایمان بولتی ہے، “تم جاؤ، میں کسی اور ٹرانسپورٹ میں چلی جاؤں گی”۔
پرِی شے کہتی ہے، “نہیں یار، چلو”۔
ایمان بولتی ہے، “یار، سُونو، اتنا ڈراما نا کرو، چُپ سے چلو”۔ یہ بول کر دونوں آگے بڑھنے لگتی ہیں۔
ارسلان صاحب نے مسکرا کر پرِی شے کے ماتھے پر پیار کیا اور کہا، “چلو بیٹا، پرِی شے گ ابو بول کر ساتھ چلنے لگی۔”
باہر نکلنے پر پرِی شے کے ابو اپنی بائیک پر اپنے آفس چلے گئے اور پرِی شے اپنی ایک لٹی دوست ایمان کے گھر چلی گئی، کیونکہ اب اس مدام کو بھی لینا تھا۔ جب تک پرِی شے ایمان کو لینے نہیں آتی تھی، تب تک وہ مدام گھر سے ہی نہیں نکلتی تھی۔
پرِی شے کے گھر کے دو گھر بعد ہی ایمان کا گھر تھا۔ پرِی شے ایمان کے گھر کے پاس جا کر بیل بجاتے ہے — ایک بار، دو بار، تین بار۔ جب تیسرے بیل پر بھی دروازہ نہیں کھلتا تو پرِی شے سوچتی ہے کہ اب تک سوری ہے یہ اور آج آخری پیپر ہے۔ اوپر سے اتنا لیٹ ہو گیا۔
پرِی شے اپنا دماغ چلاتی ہے کہ دیوار سے کود کر اندر چلی جاؤ۔ ہاؤن، یہ ٹھیک رہے گا۔ پہلے بھی تو ایسے ہوا ہے اور میں نے ایسے کیا ہے۔ بس پرِی شے پہلے اپنا بیگ پھینکتی ہے اور خود دیوار پر چڑھنے لگتی ہے۔
دیوار پر چڑھ کر وہ جیسے ہی نیچے چھلانگ لگاتی ہے، کسی بھاری چیز کے اوپر گِرتی ہے اور وہ وجود زمین میں لٹا ہوتا ہے اور اس کے اوپر پرِی شے۔
پرِی شے کو لگتا ہے وہ کسی بھاری چیز پر بیٹھی ہے۔ پرِی شے اپنی نظر نیچے کر کے دیکھتی ہے تو اس کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، کیونکہ وہ وجود کوئی اور نہیں، ایمان کے بڑے بھائی جو “خروس” کے نام سے مشہور تھے، اس کا نام تو تھا بلاج سکندر لیکن بکوول پرِی شے کے وہ خروس ہے — پتھر دل انسان۔ جب دیکھو غصہ ناک میں رہتا۔
پرِی شے بچپن سے ہی اس سے بہت ڈرتی ہوئی آئی ہے۔ وہ 7 سال سے اومان میں اپنے بیزنِس کے حوالے سے وہیں رہ رہا تھا۔ جب بلاج سکندر کا بیزنِس وہاں جام گیا تو اس نے پاکستان آ کر اپنا بیزنِس بڑھانے کا سوچا اور اسی سلسلے میں وہ رات میں ہی پاکستان آیا تھا۔ ابھی وہ گارڈن میں ہی ورزش کر رہا تھا جب بیل کی آواز آتی ہے۔
بلاج سکندر کی عادت تھی جب وہ ورزش کر رہا ہوتا، تب وہ کہیں بھی نہیں ہلتا۔ اس نے اپنے پُش آپس کمپلیٹ کر کے اٹھا اور آ کر دروازہ کھولنے ہی لگا تھا کہ جب اس کے اوپر کوئی بھاری چیز گِرتی ہے اور وہ اپنا بلانس برقرار نہیں رکھ پاتا اور دونوں ساتھ نیچے گِر جاتے ہیں۔
پرِی شے کو خود کو ایک ٹک دیکھتے پا کر بلاج غصے سے بولتا ہے، “کون ہو تم؟ اٹھنے کا ارادہ ہے کہ نہیں یا زندگی بھر یہیں بیٹھنا کا ارادہ کر لیا ہے؟”
پرِی شے اپنے سکتے سے باہر آتی ہے اور جلدی جلدی اٹھنے کے چکر میں خود دوبارہ اس کے اوپر گِر جاتی ہے۔ بلاج غصے سے بولتا ہے، “خالنا آتا ہے تمہیں یا یہ چاہ رہی ہو کہ خود اٹھاؤ؟”
پرِی شے بولتی ہے، “سوری، میرا پاؤں شاید موچ آ گیا”۔
بلاج خود کھڑا ہوتا ہے اور اس کو کھڑے ہونے میں مدد دیتا ہے۔ وہ کھڑی ہو کر اندر بھاگنے لگتی ہے۔ بلاج اس کا ہاتھ پکڑ کر بولتا ہے، “کون ہو تم اور یہاں اس طرح کود کر کیوں آئی؟ چور ہو؟”
پرِی شے تِلملا کر بولتی ہے، “بات سنے، بلاج بھائی! میں پرِی شے ہوں، ارسلان خان کی بیٹی اور ایمان کی دوست۔ میں کافی دیر سے بیل بجا رہی تھی، کوئی کھول نہیں رہا تھا۔ پہلے بھی ایسے ہوا تو میں نے ایسے کیا، آج اگر غلطی ہو گئی تو اپنے چور بنا دیا۔”
پرِی شے یہ سب نظر جھکا کر بولتی ہے۔ بولنے کے بعد جب نظر اٹھا کر دیکھتی ہے تو بلاج غصے سے اس کو گھور رہا ہوتا ہے اور بولتا ہے، “بہت زبانی چلتی ہے اپنی زبان کم چلاؤ ورنہ کاٹ دوں گا”۔
بلاج اور کچھ بھی بول رہا ہوتا ہے جب ایمان کی آواز آتی ہے، “ارے پرِی شے، سوری یار! رات بھائی آئے تھے تو لیٹ ہو گیا سونے میں، اس لیے جلدی آنکھ نہیں کھلی”۔
ایمان اپنی رَوانی میں بولتی آتی ہے جب پرِی شے کو دیکھتی ہے کہ اس کی آنکھیں لال ہو رہی ہیں، کسی بھی پل اب وہ رو دے گی۔ تو ایمان پوچھتی ہے، “کیا ہوا؟”
پرِی شے بھائی اپنے پھر سے کچھ بولا، ایسے۔۔۔ یہ ایک تو پہلے سے ہی ڈرتی ہے۔
بلاج یہ سن کر بولتا ہے، “کیا؟ ایک سیکنڈ تم نے کہا کہ یہ مجھ سے ڈرتی ہے؟ او مائی گڈ، سیریئسلی کیوں؟ میں کوئی جِن ہوں؟”
پرِی شے کے اس وقت دل کر رہا تھا کہ ایمان کو جان سے مار دے اور ساتھ اس آدمی کو بھی جو اس کا مذاق بنا رہا تھا۔
ایمان بولتی ہے، “بھائی نا کرو نا ایسے، میری دوست بہت معصوم ہے”۔ یہ بول کر ایمان پرِی شے کے گال میں کس کر دیتی ہے۔ پرِی شے شرما کر اس کو تھاپڑ مارتی ہے اور بولتی ہے، “چلو، دیر ہو رہی ہے”۔
وہ ایمان کا ہاتھ پکڑ کر باہر جانے لگتی ہے اور بلاج پرِی شے کو جاتا ہوا دیکھتا ہے۔ پتہ نہیں کیوں یہ لڑکی اس کو اپنے دل میں اترتے محسوس ہوئی تھی۔
پریشے اور ایمان گاری میں آ کر بیٹھتی ہیں تو بلاج ایک eyebrow اٹھا کر پریشے کو دیکھتا ہے اور ایمان سے کہتا ہے ایمان کیا میں بہت بُرا لگ رہا ہوں جو لوگ مجھے دیکھ بھی نہیں رہے
ایمان اپنے بھائی کو بولتی ہے کہ آری نہیں بھائی آپ تو بڑے ہینڈسم لگ رہے ہیں
تو بلاج بولتے ہیں سچ میں تو پھر مس پریشے آخر ایسی کیا وجہ ہے جو آپ مجھ سے اتنا ڈرتی ہیں
پریشے بلاج کی بات کو اِگنور کر کے ایمان سے کہتی ہیں ایمان کوئی اور ٹرانسپورٹ کر لےتی آپ دونوں آرام سے گھر جاؤ میری وجہ سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں
تو ایمان پریشے کا ہاتھ پکڑ کر کہتی ہے کیا ہو گیا ہے یار بھائی مزاق کر رہے ہیں کیوں سیریئس ہو رہی ہو
پریشے بولتی ہے کہ میرا آپک بھائی سے ایسا کوئی رِشتہ نہیں جس کے بنا پر مِ آپک بھائی مجھ سے مزاق کرے
بلاج اِس کی بات سُن کر غُصے سے پریشے کو دیکھتا ہے اور کہتا ہے اُترو گاری سے جب کہ کوئی تو میری گاری میں کیوں بیٹھی ہو ایک منٹ میں اُتار جاؤ ورنہ میں خود اُتاروں گا
ایمان بولتی ہے آری بھائی پریشے اکیلی کیسے جائے گی آپ غُصہ نہیں کریں میں اِسے سمجھا لوں گی
پریشے کہتی ہے کیا سمجھاؤ گی تم مجھے تمھے اپنے بھائی کی حرکات نظر نہیں آ رہی ہیں بہتر ہو گا اپنے بھائی کو سمجھاؤ مجھے نہیں ٹھیک ہے نا اور مِ بلاج مجھے کوئی شوق ہے آپک اِس کھٹارا میں بیٹھنے کا اور آپسے میرا رِشتہ بھی کوئی نہیں ہے جس کی بنا پر آپ مجھ سے مزاق کریں آئندہ کے لیے خیال رکھئے گا
یہ بول کر پریشے کھڑکی کی طرف مُوج کر لیتی ہے اور بلاج غُصے سے دیکھ کر دل میں کہتا ہے اِسکا بدلہ تو میں اب ہر حال میں لُوں گا مس پریشے تو تیار ہو جاؤ پریشے ارسلان خان سے پریشے بلاج سکندر بننے کے لیے
یہ سوچ کر بلاج مُسکرا دیتا ہے اور اُسکی مُسکراہٹ پریشے کو اِندر تک آگ لگا دیتی ہے
ایمان بھی خاموش ہو جاتی ہے اور بلاج خاموشی سے گاری ڈرائیو کر رہا ہوتا
بلاج اپنی گاری پریشے کے گھر کے آگے روکتا ہے
پریشے جلدی سے گاری سے اُتر کر دھڑام سے دروازہ بند کرتی ہے اور اِندر تقریباً بھاگتے ہوئے گھر کے اِندر جاتی ہے
ایمان افسوس سے سر ہلاتی ہے وہ جانتی تھی کہ بلاج کو اپنی گاری سے کتنی مُحبت ہے اور بلاج کو دیکھتی ہے جس کے چہرے میں غُصہ دور دور تک نہیں تھا صرف اور صرف ایک گہری مُسکراہٹ تھی
ایمان کو حیرت ہوتی ہے اپنے بھائی کی وہ خیر بول کر اِگنور کر دیتی ہے…….
پریشے اپنے روم میں آتی ہے اور دروازہ بند کر کے وہیں بیٹھ جاتی ہے اور سوچتی ہے یا اللہ میں نے ایسا کیوں کہا اب وہ مجھے چھوڑے گا نہیں خُوارس کہاں کا کیا ضرورت تھی مجھے کچھ بولنے کی میں اِگنور بھی تو کر سکتی تھی نا اب میں کیا کروں
اِتنے میں پریشے کی امی آواز دیتی ہیں پری بیٹا آ جاؤ کھانا تیار ہے
پری اپنے امی کی آواز سُن کر کہتی ہے بس امی آئی فریش ہو کر
وہ پھر اپنے آنسو صاف کرتی ہے اور اُٹھ کر واشروم میں نہانے چلی جاتی ہے
نہا کر باہر نکلتی ہے اپنے بال کھلے چھوڑ کر وہ نیچے آتی ہے اور پری اپنی ماں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے لگتی ہے
کہ تبھی سمیرا بیگم بولتی ہیں بیٹا ایمان کی امی آئی تھیں آج کل اُن کے گھر پارٹی ہے اُن کا بڑا بیٹا اومان سے واپس آ گیا ہے اِس خوشی میں تو بہت اِصراح کر کے بُلوایا ہے تو بیٹا کل کالج سے جلدی آنا ہم سب جائیں گے
پری کے دل کیا کہ وہ منع کر دے لیکن کس بنا پر منع کرتی
کیونکہ ایمان کے گھر وہ واحد گھر تھا جہاں پری لڑ کر بھی جاتی تھی
اب اچانک سے منع کر دینا اِس لیے وہ کچھ نہیں بولتی بس جی امی بول کر اُٹھ جاتی ہے
پری شام میں اپنے لاون میں بیٹھے آج صبح کے منظر یاد کر رہی تھی اور رِہ رِہ کر اُسکو بلاج پر غُصہ بھی آ رہا تھا اور ڈر بھی لگ رہا تھا کہ اب بلاج کیا کرے گا
یہی سوچ سوچ کر وہ چئیر پر بیٹھے بیٹھے ہی سو گئی
اچانک بیل کی آواز سے اُسکی آنکھ کھُولی اور اُسنے جاکر گیٹ کھولا تو سامنے ایمان اور بلاج کھڑا تھا….
بلاج اور ایمان سامنے کھڑے تھے
ایمان مُسکرا کر گلے لگتے ہوئے پری کے اور بولتی ہے کیسی ہو یار
بھائی کو اُنکل سے کام تھا اِس لیے بھائی اُنکل سے ملنے آ رہے تھے تو میں نے بھی موقع کا فائدا اُٹھا لیا میں تم سے ملنے آ گئی
پری مُسکرا کر دونوں کو اِندر آنے دیتی ہے اور دل ہی دل میں دعا کر رہی ہوتی ہے کہ کہیں بلاج ابو کو آج میری بے تُکی باتوں کے بارے نہ بتائے
ایمان کیا بول رہی ہوتی ہے پری کو کچھ سمجھ نہیں آتا وہ بس بلاج کو تکتی رہتی ہے اور آنکھوں ہی آنکھوں سے اِلتجا کر رہی ہوتی ہے ابو کو کچھ نہیں بتائے گا ورنہ ابو میری کلاس لَلینگے بلاج اُسکی حرکت اچھے سے نوٹ کر رہا ہوتا ہے اچانک پری کو لگتا ہے کوئی چیز اُسے چُبھی ہو تو وہ چوک کر دیکھتی ہے تو ایمان اپنی ناخن سے اُسکو نوچ رہی ہوتی ہے اور پری بولتی ہے کیا ہوا ہے نوچ کیوں رہی جانگلی تو ایمان آنکھے پھاڑ کر کہتی ہے کہ م نوچ رہی ہوں تم کب سے پری پری کر رہی ہو غلطی کر دی میں نے مجھے آنا ہی نہیں چاہئیے کس کے لِئے م آئی ہوں جس کو میری فکر ہی نہیں ہے جو مجھے سُن ہی نہیں رہا ایمان بچوں کی طرح پری سے شکایت کر رہی ہوتی ہے ک تبھی پری ایمان کو گِلے لگا کر اُسکے گال میں دو تین کس کر دیتی ہے اور بولتی ہے سوری نا چاندا م کچھ اور سوچ رہی تھی ایسے بِکل نہیں ہے آچھا چلو یہ بتاؤ کیا کھاؤ گی ایمان پری کی ساری بات کو اِگنور کرکے کھانے کی بات سُن کر جوش سے کہتی ہے کہ وائٹ پاستا پلز پری تمہارے ہاتھ کا تو پری کہتی ہے ق نہیں یارا ابھی ہم اپنی جان کو اپنے ہاتھ سے بنا کر کھلائیں گے ایمان خوشی سے گِلے لگ کر بولتی ہے آو پری کِتنی آچھھی ہو تم تو پری بولتی ہے آچھا بیٹا اب م آچھھی ہو گئی کچھ دیر پہلے تو آپ میری شان میں قصیدے پڑھ رہی تھی نا اور یہ بول کر دونوں ہس دیتے ہیں بلاج کافی دیر سے یہ منظر غور سے دیکھ رہا ہوتا ہے اور تھورا سخت انداز میں بولتا ہے ایمان م یہاں کسی کام سے آیا ہوں کیا بہتر نہیں ہو گا مجھے ارسلان انکل کے پاس لے جاؤ اِگر م خود گیا تو یہاں پ لوگ مجھے ہی رشتے بتانے لِگینگے پری یہ بات سُن کر شرمندگی سے سر جھکا لیتی اور کہتی کچھ نہیں ہے ایمان کہتی ہے آری بھائی جان چلیئے مِلُوا دیتی ہوں کیا یاد کریں گے کِتنی سخی بہن سے پالا پڑا ہے ایمان ایک ادا سے کہتی ہے کہ پری اور بلاج دونوں ہسدیتے ہیں…. ایمان اور بلاج اندر آجاتے پری اِنکو ڈرائنگ روم میں بٹھا کر ارسلان صاحب کو بولانے چلی جاتی ہے کچھ ہی دیر میں ارسلان صاحب اور پری باہر آتے ہیں اور پری کِچن کی طرف چلی جاتی ہے تو ایمان کہتی ہے بھائی آپ انکل سے بات کرے م پری کے پاس جا رہی ہوں بلاج بولتا ہے ٹھک ہے چھوٹی جاؤ بیٹا ایمان پری کے پِچھے آتی ہے اور آکر سلِپ سے ٹیک لگا لیتی ہے اور پری کو کام کرتا دیکھ کر کہتی ہے پری ایک بات بولوں…. پری مُسکرا کر بولتی ہے ہاں ق نہیں بولوں اور تم ہی کب سے مجھ سے اِجازت لِنے کی نوبت آئی…. ایمان کہتی ہے کہ نہیں یار بس ویسے ہی تمہے بھائی سے ق ڈر لگتا ہے میرے بھائی ایسے نہیں ہے جِیسے تم سمجھتی ہو اُن کو پری کے کام کرتا ہاتھ رُک جاتا ہے اور ایمان کی طرف مُور کر کہتی ہے ایمان بچپن میں یاد ہے نا کیا ہوا تھا میری ڈرنے کی وجہ ایمان کہتی ہے اوہ پری کیا ہو گیا ہے وہ بچپن کی بات تھی اب تو ایسے کچھ نہیں ہے پری کہتی ہے ایمان تمہے میری نیچر کے اچھے سے پتا ہے وہ مجھے ڈراتے تھے یاد ہے نا کِسے اُنہوں نے مجھے کامری میں بند کر دِیا تھا صرف اِس لِئے کہ مجھ سے اُنکی کاپی کا ایک پِیج پھٹ گیا تھا سوچو وہ اِنسان بچپن میں کِتنا ظالم تھا اب اور کِتنا ہو گا ایمان کچھ نہیں کہتی لِکِین ایمان کے دِل گواہی دے رہے تھے کہ بلاج کو پری سے مُحبت ہو گئی ہے قک ایمان نے اپنے بھائی کی آنکھوں میں پری کے لِئے مُحبت دیکھی تھی لِکِین وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتی تھی پری کے دِل سے بلاج کے ڈر ختم نہیں کر رہی تھی ایمان یہ سب سوچ رہی ہوتی ہے کہ اِتنے میں پری کہتی ہے لو گ بن گیا آپ کا وائٹ ساس پاستا ایمان کو وائٹ ساس پاستا نہیں پسند تھا بِلِکے بلاج کی من پسندِیدہ ڈِش م تھی یہ ایمان نے جان بُوجھ کر پری کو کہا تھا یہ بنانے ایمان کو پری نِکال کر دیتی ہے اور بلاج کے لِئے بھی نِکال کر آچھے سے ڈیکوریٹ کرکے ٹرے میں پاستا چائے بِسکِٹ سجا کر پری ایمان کو کہتی ہے کہ تم یہ ہی رُکو م آتی ہوں یہ بلاج بھائی کو دےکر ایمان پری کے مُوہ سے بھائی سُن کر ہس دیتی ہے تو پری حیرت سے ایمان کو دیکھتی ہے تو ایمان سر نا میں ہِلا دیتی ہے کچھ نہیں تم جاؤ پری باہر آتی ہے تو بلاج کی نظریں جِیسے پری پ ہی اَٹک جاتی ہیں ریڈ کالر کے سُیٹ ہلکا سا کاجل پِنک گِلاس گوری رنگت جو کام کر نے کے سبب وہ گُلابی ہو رہی تھی اور ماتھے میں آیا نانہا نانہا پسِینہ بلاج تو اپنی نظریں چاہ کر بھی نہیں ہِٹا سک رہا تھا پری پاس آکر کہتی ہے کہ یہ لے بھائی تو بلاج کے اچانک ساس رُکنے لِگتے ہیں بھائی لفظ سُن کر وہ سر کو ہلکا سا جُمبِش دے کر پھر ارسلان صاحب سے مُخاطِب ہو جاتا ہے اور پری وہاں سے چلی جاتی ہے پری اور ایمان پری کے روم میں بٹھے بات کر رہے ہوتے ہیں تبھی ایمان کے فون رِنگ ہوتا ہے تو بلاج کالِنگ لِکھا آ رہا ہوتا ہے ایمان اُٹھاتی ہے تو بلاج بولتا ہے گُرِیا م جا رہا ہوں تم چلوگی ابھی یا بعد میں آؤ گی ایمان کہتی ہے کہ رُک جائیے بھائی آتی ہو ساتھ ہی چلتے ہیں پھر ایمان پری سے مِیل کر وہ اور ایمان اور بلاج چلے جاتے ہیں اب پری کب سے پریشان ہو رہی تھی کہ نجانے بلاج نے ابو سے کیا کہا ہو گا وہ اپنے ابو سے بات کرنا چاہتی ہے لِکِین اُسکو موقع نہیں مِل رہا ہوتا ہے اِسی ہی کرتے پارٹی کے دِن آ جاتا ہے پری نا چاہ کر بھی تیار ہوتی ہے بِلَیک کالر کے فیری فراک میں غضب کی حَسِین لگ رہی تھی لائٹ کالر کے لِپِسٹِک لگا کر بالوں کو کھُلا چھوڑا تھا اور نِیچے آ رہی ہوتی ہیں ارسلان صاحب اور سمینہ بیگم اپنی بیٹی کو دیکھ کر دِل ہی دِل میں نِظر اُتارتی ہیں اور اُسکا صدقہ دیتی ہیں پری اپنے پارِنٹس کی مُحبت دیکھ کر اُنک گِلے لگ جاتی ہے ارسلان صاحب پری کے ماتھے میں پیار کرتے ہیں اور بولتے ہیں چلو گُرِیا چلتے ہیں پری گ ابو بول کر تِینوں بلاج سکندر کے گھر کی طرف چل دیتے ہیں وہ پوہنچ کر بلاج سب سے پہلے وِلکُم کرتا ہے اِتِفاق سے پری اور بلاج کے کپڑوں کا کالر سَمے ہو جاتا ہے بِلعشق صرف تم سے ❤️🤌🏻
شِفا رَحِیل ❤️🤌🏻
اِتِفاق سے پری اور بلاج کے کپڑوں کا کلر سَمے ہو جاتا ہے بِلَیک کلر کا تھری پیس سُیٹ پہنے ماتھے میں بال بِکھرا ہوا بلاج بھی قیامت دھارا تھا… پری بلاج کو سلام کر کے آگے بڑھ جاتی ہے اور ایمان سے مِیل کر اُسکے ماں باپ سے مِیل رہی ہوتی ہے اور بلاج ارسلان صاحب سے باتیں کرنے لگتا ہے… پری ایمان دونوں کھڑی ہو کر جُوس پِی رہی ہوتی ہیں اور باتیں کر رہی ہوتی ہیں کہ اِتنے میں ایک ویٹر لڑکھرا کر پری کے اُوپر جُوس گِرا دیتا ہے… اوہووو ایمان کہتی ہے دیکھ کر کھا دھیان ہے تمہارا ویٹر کہتا ہے سوری میم سوری غلطی ہو گئی پری کو یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے ہمدردی جَگ جاتی ہے اُس کی اور وہ کہتی ہے کوئی بات نہیں بھائی آپ جائیے میں صاف کر دُنگی… ایمان پری کو کہتی ہے کہ پری میرے واشروم چلی جاؤ وہاں جاکر صاف کر لینا پری اوک کہتی ہے اور آگے چل دیتی ہے…..
ایمان کہتی ہے کہ پری یاد رکھنا میرے روم کا دروازہ تھورا جام ہو گیا ہے تو اُسکو صحیح سے کھُلنا اگر تیز بند کرے گی تو بہت مُشکل سے کھُلے گا یہ کل ہی سے ایسے ہو رہا ہے پہلے ہوتا تو میں پہلے ٹھک کر وادِتی پری ہمم بول کر ایمان کے روم میں آکر آچھے سے روم کا دروازہ کھُلتی ہے اور واشروم چلی جاتی ہے بلاج اِن سب سے بِلکُل لا علم تھا کہ اچانک بلاج کا موبائیل رِنگ ہونے لگتا ہے وہ کال اُٹھاتا ہے پر لاؤڈ مُوزِک کی وجہ سے آواز صحیح نہیں آ رہی ہوتی ہے بلاج جَلدی اُوپر آتا ہے اپنے روم میں جانے کے بجائے ایمان کے روم میں چلے جاتا ہے قک وہ پہلے ہی پاتا تھا آخری میں بلاج کا روم تھا بلاج کو بِلکُل خبر نہیں تھی کہ پری اِس روم میں ہے اور روم کا دروازہ خراب ہے وہ روم میں آکر روم تیزی سے بند کرتا ہے اور کال میں بات کرنے لگتا ہے پری اِتنے ہی دیر میں اپنے اُوپر گِرا جُوس صاف کرکے نِکلتی ہے اور سامنے بلاج کو دیکھ کر اُسکا اُوپر کا ساس اُوپر اور نِیچے کا ساس نِیچے رہ جاتا ہے… بلاج کو محسوس ہوتا ہے کہ کوئی اِسے دیکھ رہا ہے وہ پِیچھے مُور کر دیکھتا ہے اور حیرانی سے پری کو دیکھتا ہے دونوں ہی ایک دوسرے کو حیرانی اور پریشانی سے دیکھ رہے ہوتے ہیں….
…… ………………………………………………
بلاج کہتا ہے اٹینشن ایوری ون آئی ہوپ کہ آپ لوگ یہاں انجوائے کر رہے ہو اور مجھے یقین ہے کہ یہاں جو بھی آیا ہے بہت خلوص سے آیا ہوگا اور آج میں آپ لوگوں کے سامنے اپنی زندگی کا بڑا فیصلہ کرنے جا رہا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ صاف دل سے مجھے دعا دیں گے… خیر میری والدہ محترمہ کو مجھ سے شکایت تھی کہ میں شادی نہیں کر رہا اور وہ دادی کبھی نہیں بن پائیں گی سو موم میں آپ کی خواہش پوری کرنا چاہتا ہوں تو بس آپ لوگوں کے پیش نظر ہے میری بیوٹیفل لوولی فیاںسے پریشے ارسلان خان…
سب کی نظر خود بخود پریشے کی طرف گھومتی ہے کچھ لوگ بہت رشک سے دیکھ رہے ہوتے ہیں اور کچھ لوگ بہت جلن حسد سے پریشے کو دیکھ رہے ہوتے ہیں… پریشے کو یقین نہیں آ رہا ہوتا ہے کہ یہاں کیا ہو رہا ہے وہ سننے سمجھنے کی صلاحیت جیسے کھو دیتی ہے پریشے کو سمجھ نہیں آتا وہ کیا کرے اور یہاں کیا ہو رہا ہے…
اتنے میں پریشے کے کانوں میں ارسلان صاحب کی آواز آتی ہے کہ ماشاءاللہ اور الحمدللہ آج میں بہت خوش ہوں کیونکہ میری بیٹی ایسے گھر میں جا رہی ہے جہاں پیار محبت خلوص ہے اور سب سے بڑی بات وہ میری آنکھوں کے سامنے ہوگی اس لیے میں نے آج کے دن کو چنا آج میں آفیشلی اپنی بیٹی کا ہاتھ بلاج سکندر کے ہاتھ میں دوں گا اور انگیجمنٹ کی رسم پوری کروں گا سب لوگ ارسلان صاحب کی بات سن کر تالیاں بجاتے ہیں ارسلان صاحب پری کو کہتے ہیں بیٹا آؤ پری کو نہ کچھ سنائی دیتا ہے نہ کچھ سمجھ آتا ہے کہ وہ کیا کرے یہاں کیا ہو رہا ہے پری کو نہ ہلتے دیکھ کر ایمان پری کا ہاتھ پکڑ کر اسے لے کر بلاج کے پاس کھڑا کر دیتی ہے اور سب لوگ ایک بار پھر سے تالیاں بجاتے ہیں…
بلاج اپنی پاکٹ میں سے ڈائمنڈ کی رنگ نکالتا ہے اور ارسلان صاحب پری کے سر میں ہاتھ پھیر کر کہتے ہیں بیٹا فنگر لاؤ پری اپنے ابو کو دیکھتی ہے اور آنکھوں ہی آنکھوں میں شکایت کرتی ہے ابو یہ اچھا نہیں کر رہے آپ آپ نے مجھے بنا بتائے میری زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں آپ کیا میرا حق نہیں تھا کہ آپ مجھ سے ایک بار بھی پوچھ لیتے پری یہ سب دل ہی دل میں سوچتی ہے پر باپ کی عزت کی خاطر اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیتی ہے پھر ارسلان صاحب پری کو رنگ دیتے ہیں اور کہتے ہیں بیٹا پہناو پری خاموشی سے لے کر رنگ پہنا دیتی ہے اور بہت مشکل سے اپنے آنسو کو اندر اتارتی ہے اور بلاج سے دور ہو جاتی ہے اور جا کر صوفے میں بیٹھ جاتی ہے…
ایمان آ کر کہتی ہے کیسا لگا سرپرائز پری ایمان کو حیرت سے دیکھتی ہے اور کہتی ہے مطلب ایمان نے کہا اس دن بھائی تمہارے گھر آئے تھے وہ یہی بات کرنے آئے تھے مجھے وہ خود ساتھ لے کر آئے تھے تاکہ میں تمہارے پاس رہوں اور بھائی آسانی سے بات کر سکے پری نے کہا تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں ایمان کہتی ہے پھر یہ آپ کا ایسا بھونڈا منہ کیسے دیکھنے کو ملتا اور ہنس دیتی ہے پری کی آنکھوں سے آنسو خود بخود نکل جاتے ہیں اور پری کہتی ہے سب نے تو غلط کیا ہی کیا ایمان لیکن تم تم تو میری دوست تھی نا تم نے بھی مجھے دھوکہ دیا اتنا بڑا دھوکہ تم نے مجھے دیا نہ میرے ماں باپ نے مجھ سے پوچھنے کی توفیق کی اور نہ میری وہ دوست نے جس پر میں سب سے زیادہ بھروسہ کرتی تھی ایمان تم نے میرا بھروسہ نہیں توڑا ہماری دوستی بھی توڑ دی…
ایمان یہ سب کے لیے تیار بالکل نہیں تھی اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی پری ایسے بیہیو کیوں کر رہی ہے کیا پری کو کچھ یاد نہیں یا وہ بھول گئی ہے ایمان بہت مشکل سے ہمت جمع کر کے کہتی ہے پری تمہیں کچھ یاد نہیں پری کہتی ہے کیا اب بھی کچھ یاد رہنے کو باقی تھا اب کیا دھوکہ دے رہی ہو ایمان آنسو بھری آنکھوں سے دیکھتی ہے اور کہتی ہے پری مجھے لگا تھا تمہیں سب یاد ہے بس تم بھائی سے ڈرتی ہو اس لیے کچھ نہیں بولتی میں نے اس لیے ان لوگوں کا ساتھ دیا کیونکہ مجھے لگا تھا تمہیں یاد ہے اور منگنی ہو جانے کے بعد تم خود ٹھیک ہو جاؤ گی پری کہتی ہے جو بکواس کر رہی ہو سیدھے سیدھے کرو اب میں بالکل کوئی بکواس نہیں سنوں گی تمہاری…
پری کی بات سن کر ایمان کہتی ہے پری تمہارا اور بھائی کا رشتہ سات سال سے پہلے ہوا تھا بھائی یہ کہہ کر گئے تھے تمہارے ابو سے کہ ابھی پری چھوٹی ہے اس لیے ابھی منگنی اور رشتے کی جھنجھٹ میں نہیں پھنسائیں گے انکل جب میں واپس آ جاؤں گا اور پری اتنی بڑی ہو جائے گی کہ اس کے ہوش میں رہتے ہوئے ہم یہ بات آگے بڑھائیں لیکن انکل میں جانے سے پہلے ایک وعدہ لینا چاہتا ہوں کہ جب تک میں نہ آؤں آپ پری کا ہاتھ کسی اور کے ہاتھ میں نہیں دیں گے انکل پری کو میں بچپن سے چاہتا ہوں انکل پلیز میری پری کو کسی اور کے حوالے نہیں کیجیے گا میں آؤں گا پری کو لینے ارسلان صاحب کہتے ہیں بلاج کیا تم سنجیدہ ہو تم میری پری کو خوش رکھ سکو گے بلاج کہتا ہے انکل پری میری بچپن کی محبت ہے میں پری کے علاوہ کسی اور کا سوچ بھی نہیں سکتا…
ایمان ساری بات بتا کر پری کو دیکھتی ہے جو اسے ایک ٹرانس کی کیفیت میں دیکھتی ہے اور کہتی ہے تم سب نے مل کر میرے ساتھ اچھا نہیں کیا اور یہ بول کر وہ بھاگ جاتی ہے اس کو اس طرح بھاگتے دیکھ پری کے والدین پریشان ہو کر بلاج سے رخصت لے کر اس کے پیچھے جاتے ہیں پری اپنے گھر آ کر اپنے روم میں جاتی ہے اور دروازہ بند کر کے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتی ہے اور کہتی ہے کیوں کیا ابو ایسے میرے ساتھ کیوں کیا میرے ساتھ ابو ایسے امی آپ نے بھی میرے ساتھ ایسے کیا میں کیا کروں اللہ جی میں کیا کروں یہ بول کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتی ہے…
اتنے میں پری کے دروازے پر ناک ہوتی ہے ارسلان صاحب کہتے ہیں پری بیٹا کیا ہوا ہے کیوں اس طرح آ گئی بچے ہماری بات سنو پری کی امی کہتی ہیں پری چندا کیا ہو گیا میری بچی کوئی کچھ بولا ہے کچھ تو بولو پری ان کی آواز سن کر کہتی ہے چلے جائیں آپ لوگ خدا کے لیے آپ لوگوں نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا مجھے دھوکہ دیا میں اگر بوجھ تھی تو مجھے پیدا ہوتے ہی مار دیتے لیکن میرے ساتھ ایسا تو نہیں کرتے…
ارسلان صاحب کو سمجھ میں نہیں آتا لیکن پری کی امی کہتی ہیں بات سنیں سائیں ابھی اچانک سے ہوا ہے یہ سب اس لیے ایسے ری ایکٹ کر رہی ہے کچھ دیر اکیلا چھوڑتے ہیں خود ٹھیک ہو جائے گی ارسلان صاحب ہمم بول کر ڈرائنگ روم میں آ جاتے ہیں جہاں بلاج کی پوری فیملی بیٹھی ہوتی ہے ارسلان صاحب کو آتے دیکھ بلاج کی امی پوچھتی ہیں کیا ہوا بھائی صاحب پری بیٹی کو وہ ایسے کیوں آ گئی ارسلان صاحب اپنے آپ کو نارمل دکھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ پری کے لیے ابھی یہ سب اچانک ہے باجی اس لیے وہ ایسے ری ایکٹ کر گئی لیکن بلاج جانتا تھا اس پر پہاڑ ٹوٹا ہے پھر ایمان ساری بات سامنے رکھ دیتی ہے کہ پری سے اس کی کیا بات ہوئی سب لوگ بہت پریشان ہو جاتے ہیں پری کی بات سن کر…
رات میں پری اپنے روم میں بیٹھی آج صبح ہوئی ساری حرکت کو یاد کر رہی ہوتی ہے اور رو رہی ہوتی ہے روتے روتے اس کے سر میں درد ہونے لگتا ہے اور آنکھیں بھاری ہونے لگتی ہیں پری اپنے آنسو پونچھ کر اپنا دوپٹہ بیڈ میں پھینکتی ہے اور بال کھول کر واش روم میں جاتی ہے منہ ہاتھ دھو کر باہر آتی ہے اور سامنے بیڈ پر بیٹھے بلاج کو دیکھتی ہے اور کہتی ہے یا اللہ یہ کیا ہو گیا ہے مجھے مجھے بلاج دکھ رہا ہے پھر سے اوف میرے اللہ میرے حواسوں میں خرابی آ گئی ہے یہ آدمی پری بلاج کو ایک بار پھر سے اپنا وہم سمجھ کر اگنور کر کے آگے بڑھ جاتی ہے اور شیشے کے سامنے کھڑی ہو کر خود کو دیکھتی ہے بلاج اس کی یہ سب حرکتیں دیکھ کر مسکرا دیتا ہے پری آئینے میں سے دیکھتی ہے اور کہتی ہے چلے جاؤ یار میں ایسے ہی بہت پریشان ہوں بلاج کہتا ہے کہ آ جاؤ ایک بار پھر سے ناخن چبھو کر دیکھ لو پری اچھل جاتی ہے کہ کیا سچ میں آپ یہاں ہیں اور اپنا دوپٹہ دیکھتی ہے جو بلاج کے ہاتھ میں ہوتا ہے پری کہتی ہے پلیز میرا دوپٹہ بلاج بھائی خبردار پری اب بھائی نہیں بولنا تم مجھ سے بار بار کہتی تھی نا میرا کیا رشتہ ہے تمہارے ساتھ آج پتہ چل گیا یہ بول کر بلاج پری کے پاس آتا ہے اور دوپٹہ اس کو اوڑھا دیتا ہے اور کہتا ہے فکر نہیں کرو تمہاری اجازت کے بغیر ہاتھ نہیں لگاؤں گا اور جب تک ہم پاک رشتے میں نکاح کے بندھن میں نہ بندھ جائیں…
……………………………………………………..
بلاج پری سے یہ ساری باتیں کہہ کر مڑتا ہے کہ اچانک پری کے دل میں ایک ایسی بات آتی ہے اور وہ یہ بات سوچ کر خوش ہو جاتی ہے۔ اسے لگنے لگتا ہے کہ جب بلاج سنے گا تو مجھے وہ آسانی سے چھوڑ دے گا، لیکن پری کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ جو کہنے جا رہی ہے اس سے بلاج کیا کرے گا، کیا نہیں کرے گا۔ اسے بس یہ خیال ہوتا ہے کہ میں یہ بات بول کر بلاج سے پیچھا چھڑا لوں گی…
پری ایک طنزیہ ہنسی ہنستی ہے اور کہتی ہے،
“مسٹر بلاج! آپ کی غلط فہمی ہے کہ میں آپ سے شادی کروں گی۔ اس بھول میں ہرگز نہ رہیے گا کہ میں آپ جیسے انسان سے شادی کروں گی جس کے سینے میں دل نہیں، پتھر ہو۔ میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں بلاج سکندر، اور یقین کرو میری شادی ہوگی تو صرف اور صرف اسی سے ہوگی، ورنہ میں اپنی جان لے لوں گی، لیکن کبھی بھی میں تمہاری بیوی نہیں بنوں گی۔ تمہاری لائف میں آنے سے اچھا ہے میں مر جاؤں یا میں اپنی محبت کے ساتھ بھاگ جاؤں!”
بلاج پری کی ساری باتیں خاموشی سے سنتا ہے، لیکن یہ بات سنتے ہی بلاج کی آنکھوں میں خون اتر جاتا ہے اور وہ پری کی طرف ایک جھٹکے سے مڑتا ہے اور اس کو گلے سے پکڑ کر کہتا ہے،
“خاموش لڑکی! اگر آئندہ اپنے منہ سے اس قسم کی بکواس کی تو یاد رکھنا پری، تم بلاج کا وہ روپ دیکھو گی جس سے تم ناواقف ہو!”
بلاج پری کے گلے کو اتنی زور سے پکڑتا ہے کہ پری سے سانس لینا مشکل ہو رہا ہوتا ہے۔ نہ وہ سانس لے پا رہی ہوتی ہے، نہ کچھ بول پا رہی ہوتی ہے۔ بلاج کے ہاتھوں ایک نازک پنچھی کی طرح تڑپ رہی ہوتی ہے اور آنکھوں سے لگاتار آنسو بہہ کر بلاج کے ہاتھوں میں جا رہے ہوتے ہیں، لیکن بلاج کو اس کی پرواہ نہیں ہوتی۔
بلاج کہتا ہے،
“پری! تم میری ہو۔ اس بات کو جتنی جلدی ہو سکے اپنے اس دماغ میں بٹھا لو، ورنہ اگر میں بٹھانے پر آ گیا تو تمہاری سوچ کے پر بھی نہیں رہیں گے!”
یہ کہہ کر ایک جھٹکے سے بلاج پری کے گلے کو چھوڑتا ہے اور بلاج کے چھوڑتے ہی پری زمین پر گر جاتی ہے اور زور زور سے کھانسنے لگتی ہے۔ کھانستے کھانستے پری بے ہوش ہو جاتی ہے۔
بلاج کو جب اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ وہ کہتا ہے،
“پری! آنکھیں کھولو پری… شِٹ یار!”
وہ اتنی زور سے اپنا ہاتھ پری کے ڈریسنگ ٹیبل پر مارتا ہے کہ شیشہ ٹوٹ کر بلاج کے ہاتھ میں گھس جاتا ہے، لیکن بلاج کو پرواہ نہیں ہوتی۔ اسے پرواہ تھی تو صرف زمین پر پڑے ہوئے وجود کی—پری۔
“پری یار! آنکھیں کھولو… دیکھو میں غصہ نہیں کروں گا… پری اٹھو!”
بلاج بہت مشکل سے پری کو بیڈ پر لٹا کر اس پر پانی چھڑکتا ہے۔ پری ہلکی ہلکی اپنی آنکھیں کھول کر دیکھتی ہے اور پھر بے ہوش ہو جاتی ہے۔ پری کے گلے میں بلاج کے ہاتھوں کے نشان ہوتے ہیں۔
بلاج کہتا ہے،
“پری پلیز ایک دفعہ اٹھ جاؤ یار، نہ کرو ایسے… پری، I’m really sorry… پری دیکھو بلاج سکندر کسی کے سامنے نہیں جھکا، تمہارے سامنے جھک رہا ہے… پری اٹھ جاؤ… پری میرا دل بند ہو جائے گا… پری تم میں میری سانسیں اٹکی ہیں!”
بلاج پری پر پھر سے پانی کے چھینٹے مارتا ہے، اور اس بار زیادہ مارتا ہے۔ پری اس بار اپنی آنکھیں کھول لیتی ہے اور ہلکی آواز میں کہتی ہے،
“پلیز… پانی…”
بلاج کو جیسے نئی دنیا مل جاتی ہے۔ وہ جلدی سے پری کو اٹھا کر بٹھاتا ہے اور اپنے ہاتھ سے پانی پلاتا ہے۔
پری کچھ دیر بیڈ سے ٹیک لگا کر اپنی آنکھیں بند کرتی ہے، لیکن پری کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ کس کا ہاتھ پکڑ کر سکون سے بیٹھی ہے۔ اس وقت پری بالکل مدہوشی کے عالم میں ہوتی ہے اور بلاج سے کہتی ہے،
“مجھے نہ ماریں… میں نے کچھ نہیں کیا…”
یہ بول کر زور زور سے رونے لگتی ہے۔ بلاج کا دل کرتا ہے پری کو زور سے گلے لگا لے، پر وہ کس حق سے گلے لگاتا۔ وہ بس اسے کہتا ہے،
“ششش… پری خاموش… I’m really sorry پری… مجھے ایسا کچھ نہیں کرنا چاہیے تھا، لیکن میں کیا کروں، بہت محبت کرتا ہوں تم سے۔ تم میری بچپن کی ایک غلطی کو اپنے دل سے لگا کر بیٹھی ہو۔ اس بنا پر تم مجھے پتھر دل انسان، کھڑوس، نہ جانے کیا کیا بولتی ہو۔ پری، میں ساری بات سن سکتا ہوں، تمہارا ہر الزام برداشت کر سکتا ہوں، لیکن میں کسی اور کے ساتھ تمہیں نہیں دیکھ سکتا۔ پری، تم صرف اور صرف بلاج سکندر کی ہو۔ جتنی جلدی ہو سکے اس بات کو سمجھ لو۔ میرا اور میری محبت کا امتحان نہ لو، میں مر جاؤں گا پری تمہارے بغیر۔ پری، تم بلاج سکندر کے خون میں دوڑتی ہو، میری ہر ایک سانس میں بستی ہو…”
پری بلاج کا صرف منہ دیکھ رہی ہوتی ہے۔ اسے یقین نہیں آتا بلاج کیا کہہ رہا ہے۔ کیا یہ وہی بلاج ہے جو تھوڑی دیر پہلے تھا؟ وہ جنون، وہ غصہ اچانک کہاں چلا گیا؟
بلاج اپنی محبت کا کھل کر اظہار کر کے پری کو دیکھتا ہے جو اسے ایک ٹک دیکھ رہی ہوتی ہے، اور مسکرا کر کہتا ہے،
“سو جاؤ پری، بہت رات ہو گئی ہے۔”
یہ کہہ کر بلاج جیسے آیا تھا ویسے ہی کھڑکی سے چلا جاتا ہے۔
وہ رات پری پر بہت بھاری ہوتی ہے۔ وہ جب جب آنکھیں بند کرتی ہے تب تب بلاج کا جنونی روپ اس کے سامنے آتا ہے، اس کے بعد اس کا محبت کا اظہار سامنے آتا ہے۔ پری بہت کشمکش میں پڑ جاتی ہے، اسے سمجھ نہیں آ رہا ہوتا کہ کس بلاج پر بھروسہ کرے۔
ایسے ہی لیٹے لیٹے صبح فجر کا وقت ہو جاتا ہے، اذانیں شروع ہو جاتی ہیں۔ پری اٹھتی ہے، وضو کرتی ہے، آئینے میں اپنے آپ کو دیکھتی ہے، اپنا گلا دیکھتی ہے جس میں بلاج کے ہاتھ کے نشان ہوتے ہیں۔ یہ دیکھ کر پری تکلیف سے مسکرا دیتی ہے۔
پھر وہ نماز پڑھتی ہے اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتی ہے، لیکن اسے سمجھ نہیں آتا کیا دعا کرے۔ اس کے پاس سب کچھ تو تھا، پھر وہ کس چیز کی ناشکری کرے؟
پری دل میں بولتی ہے،
“یا اللہ! میں آپ کی ہر نعمت کا شکر ادا کرتی ہوں۔ آپ نے مجھے وہ سب دیا جو میں چاہتی تھی، بغیر مانگے آپ نے ہر چیز عطا کی۔ یا اللہ! اگر بلاج میرا نصیب ہے، وہ میرے نصیب میں لکھ دیا گیا ہے، تو میرے دل میں اس کے لیے محبت پیدا کر دے۔ اللہ پاک! میں بہت پریشان ہوں، مجھے سمجھ نہیں آ رہی۔ اگر وہ انسان میرا نصیب ہے تو میرے دل میں اس کے لیے محبت جگا دے…”
یہ بول کر پری پھوٹ پھوٹ کر روتی ہے…
صبح پری اپنے کمرے سے نکلتی ہے۔ وہ اب تھوڑا تھوڑا فریش فیل کر رہی ہوتی ہے اور کالج جانے کے لیے تیار ہوتی ہے۔ نیچے آ کر سلام کر کے وہ جانے لگتی ہے تو پری کی امی کہتی ہیں،
“پری بیٹا ناشتہ کر لو۔”
پری کہتی ہے،
“نہیں امی، بھوک نہیں ہے۔ بھوک لگے گی تو کھا لوں گی۔”
ارسلان صاحب اپنی بیگم کو اشارہ کرتے ہیں کہ ابھی کچھ نہ بولو، جو پری کر رہی ہے کرنے دو۔
آج پری کے کالج کا آخری دن ہوتا ہے۔ پیپر کے بعد وہ کچھ چیزیں لینے جا رہی ہوتی ہے۔ اسے پتا ہوتا ہے کہ ایمان بھی اس کا ویٹ کر رہی ہوتی ہے، لیکن آج وہ ایمان کے گھر نہیں بلکہ ڈائریکٹ بس اسٹاپ جاتی ہے۔
بلاج پری کو دیکھ لیتا ہے کہ وہ اکیلے جا رہی ہے اور ایمان کے روم میں آتا ہے جو بالکل ریڈی ہو کر پری کا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔
بلاج کہتا ہے،
“کیا بات ہے بیٹا، تم نہیں گئی کالج؟”
ایمان کہتی ہے،
“وہ بھائی، پری نہیں آئی اب تک۔”
بلاج کہتا ہے،
“پری چلی گئی۔”
ایمان کو جھٹکا لگتا ہے اور کہتی ہے،
“کیا؟ اکیلے کیسے جا سکتی ہے بھائی؟ اسے روڈ کراس کرنا نہیں آتا، وہ اکیلے چل نہیں سکتی، اسے ڈر لگتا ہے!”
بلاج ایمان کی بات سن کر پریشان ہو جاتا ہے اور کہتا ہے،
“اتنی بےوقوف لڑکی ہے یہ… آؤ میرے ساتھ!”
بلاج ایمان کو لے کر اپنی گاڑی میں بٹھاتا ہے اور رش ڈرائیونگ کر کے بس کے آنے سے پہلے بس اسٹاپ پہنچتا ہے۔ آئینہ نیچے کر کے پری کو دیکھتا ہے جو دھوپ میں کھڑی بس کا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔
دھوپ کی وجہ سے اس کی گوری رنگت بالکل لال ہو رہی ہوتی ہے۔ بلاج پری کو دیکھتا ہے—پری آج اسے اپنے دل میں اترتی محسوس ہوتی ہے، لیکن وہ فوراً اپنے دل کو ڈانٹ کر پری کو غصے سے کہتا ہے،
“گاڑی میں بیٹھو!”
پری اس کی بات سن کر اگنور کر دیتی ہے اور آگے بڑھ جاتی ہے۔
بلاج کو پری کی یہ حرکت بہت ناگوار گزرتی ہے۔ وہ گاڑی سے اتر کر پری کے پاس آتا ہے اور ایک جھٹکے سے پری کا ہاتھ پکڑ کر گاڑی کے پاس لاتا ہے اور کہتا ہے،
“گاڑی میں خود بیٹھو گی یا بیٹھاؤں؟”
پری کو اچانک بلاج کا غصہ دیکھ کر رات والا منظر یاد آ جاتا ہے اور وہ چپ چاپ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ جاتی ہے۔ ایمان آگے والی سیٹ پر بیٹھی یہ سب بہت پریشانی سے دیکھ رہی ہوتی ہے۔
ایمان سے برداشت نہیں ہو رہا ہوتا پری کا یہ رویہ۔ وہ کہتی ہے،
“پری یار، بات سنو…”
پری اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اسے چپ رہنے کو کہتی ہے۔ ایمان کو وہ مرر نیچے کر کے باہر دیکھنے لگتی ہے۔
بلاج ایمان کو آنکھوں سے اشارہ کرتا ہے کہ چپ رہو ابھی۔ ایمان بلاج کا اشارہ سمجھ کر خاموش ہو جاتی ہے۔
اور پھر سفر بہت خاموشی سے کٹتا ہے…
……………………………………………………..
پری آئینے سے باہر دیکھ رہی ہوتی ہے اور بلاج فرنٹ مرر سے پری کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ ایمان کو سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیا کرے، وہ خود کو کباب میں ہڈی سمجھ رہی ہوتی ہے۔
ایمان آہستہ سے بلاج سے کہتی ہے:
“بھائی، ڈرائیونگ میں دھیان دیں، مجھے مرنا نہیں ہے۔ بھائی، ابھی اپنی زندگی کھل کر جینی ہے۔ اگر میں کباب میں ہڈی بن رہی ہوں تو آپ بے شک مجھے گاڑی سے اتار دیں، لیکن ایسے نہ کریں، اپنا دھیان ڈرائیونگ پر رکھیں میرے بھائی۔”
بلاج ایمان کی باتیں سن کر شرمندہ ہونے کے بجائے مسکرا دیتا ہے اور آہستہ آواز میں کہتا ہے:
“کیا کریں یار، آپ کی بھابھی جان ناراض ہو کر بیٹھی ہیں، ان کو منانا تو ہے نا۔”
ایمان کہتی ہے:
“بے شک بھائی، آپ منائیں، میں نیچے اتر جاتی ہوں، پھر جو کرنا ہے کریں، لیکن پلیز جب تک میں گاڑی میں ہوں، اپنا دھیان ڈرائیونگ پر رکھیں۔”
بلاج کہتا ہے:
“بہت زیادہ بولتی ہو، چپ ہو جاؤ یار۔”
ایمان بلال—اوہ نہیں، بلاج—کو غصے میں دیکھ کر کہتی ہے:
“ہاں اوکے ٹھیک ہے۔”
اور خود بھی باہر دیکھنے لگتی ہے۔
ان سب میں پری ایسے بیٹھی تھی جیسے وہ یہاں ہو ہی نہیں۔
بلاج کے کالج کے گیٹ کے سامنے گاڑی رکتی ہے۔ سب سے پہلے پری اترتی ہے اور اپنا سارا غصہ گاڑی میں نکال کر وہاں سے نو دو گیارہ ہو جاتی ہے، کہیں بلاج اسے پھر سے نہ پکڑ لے۔
ایمان پری کی یہ حرکت دیکھ کر اپنا سر پکڑ لیتی ہے اور کہتی ہے:
“بھائی، زندگی بھر آپ کا غصہ آپ کی بیچاری گاڑی پر اترے گا۔”
بلاج ہنس کر کہتا ہے:
“کوئی نہ، برداشت کر لیں گے، محبت کے لیے اتنا تو کر سکتے ہیں۔”
ایمان اپنے بھائی کو ہنستا دیکھ کر دل سے دعا کرتی ہے کہ پری اور بلاج کے درمیان سب ٹھیک ہو جائے۔ پھر ایمان بھی گاڑی سے اتر کر اپنے بھائی کو الوداع کہتی ہے اور کالج کے اندر آ کر پری کو ڈھونڈنے لگتی ہے کہ ایک بار پھر سر ہاشم سے زور دار ٹکر ہو جاتی ہے۔
ایمان اپنا سر پکڑ کر بیٹھ جاتی ہے اور کہتی ہے:
“ہائے اللہ! یہاں پھر سے دیوار!”
سر ہاشم پھر سے اس نازک حسینہ کو دیکھ کر اپنے دل پر قابو نہیں رکھ سکتے اور بنا پلک جھپکائے اسے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
ایمان کی آواز سے سر ہاشم ہوش میں آتے ہیں اور کہتے ہیں:
“مس، لگتا ہے آپ کو ساری دنیا چھوڑ کر ایک میں ہی ملتا ہوں نا ٹکر مارنے کے لیے؟”
ایمان سر ہاشم کی بات سن کر شرمندہ ہو کر کہتی ہے:
“ارے سر، نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔”
پتہ نہیں کیوں آج ایمان سر ہاشم کی نظروں سے گھبرا رہی ہوتی ہے، اور سر ہاشم کو آج یہ ایمان کا روپ بہت حسین لگ رہا ہوتا ہے اور وہ دعا کرتا ہے کہ کاش یہ پل یہیں رک جائے۔
ایمان کبھی بھی کسی سر سے بغیر پری کے بات نہیں کرتی تھی، آج پری کے بغیر اسے احساس ہو رہا ہوتا ہے کہ وہ پری کے بغیر کچھ نہیں۔ وہ بہت شدت سے دعا کرتی ہے کہ کہیں سے بھی پری آ جائے۔
پری لائبریری سے نکل رہی ہوتی ہے اور سامنے ایمان اور سر ہاشم کو دیکھ کر وہیں کھڑی ہو کر سارا منظر دیکھ رہی ہوتی ہے اور ایمان کی گھبراہٹ نوٹ کر رہی ہوتی ہے۔ وہ جانتی تھی کہ ایمان سر ہاشم کو پسند کرتی ہے اور اس کے سامنے گھبرا رہی ہے۔
پری جلدی سے ایمان کی طرف آتی ہے۔ ایمان پری کی آواز سن کر فوراً آنکھیں کھولتی ہے اور پری کو دیکھ کر اس کی جان میں جان آتی ہے۔
پری کہتی ہے:
“ایکسکیوز می سر، اس بےوقوف سے آج پھر سے غلطی ہو گئی۔”
سر ہاشم مسکرا کر کہتے ہیں:
“کوئی بات نہیں بیٹا، جاؤ۔”
یہ کہہ کر سر ہاشم وہاں سے چلے جاتے ہیں اور پری کینٹین کی طرف چل دیتی ہے کیونکہ اسے اب بہت زور کی بھوک لگ رہی ہوتی ہے۔
ایمان پری کے پیچھے پیچھے آتی ہے اور کہتی ہے:
“پری یار سنو نا… پری… پری… سن لو نا یار، معاف کر دو نا جانِ من میری جان پری۔”
پری کہتی ہے:
“چپ یار، فضول بکواس نہ کیا کرو، سب سن رہے ہیں۔”
ایمان کہتی ہے:
“سننے دو یار، میں کسی کی کھاتی تھوڑی ہوں جو ڈروں گی۔”
یہ کہہ کر ایمان پری کے سامنے آ جاتی ہے اور اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر پری کو گلے لگنے کا اشارہ کرتی ہے، مگر پری اسے نظرانداز کر کے آگے بڑھ جاتی ہے۔
ایمان کہتی ہے:
“پری اگر اب تم نے مجھے معاف نہیں کیا نا، میں بہت غلط کر دوں گی اپنے ساتھ!”
پری پھر بھی نہیں سنتی۔
ایمان کہتی ہے:
“پری، میں تین کاؤنٹ کروں گی اور میں یہاں سے سیدھا چھت پر جاؤں گی اور وہاں سے کود جاؤں گی!”
پری ایمان کی بات سن کر ہنس دیتی ہے اور ہنستے ہوئے پیچھے مڑتی ہے، پھر ایمان کے پاس آ کر کہتی ہے:
“پاگل ہو تم، ایک نمبر کی!”
اور یہ کہہ کر اسے گلے لگا لیتی ہے۔
ایمان پری کے گلے لگتے ہی فوراً رونے لگتی ہے اور کہتی ہے:
“پری، I’m really sorry یار، مجھے معاف کر دو، میرا غلط ارادہ نہیں تھا، پلیز!”
پری کہتی ہے:
“ششش… رونا نہیں میری جان، بس جو ہوا ہو گیا، میں بس غصہ تھی نا۔”
پری یہ کہہ کر ایمان کے گال پر کس کرتی ہے اور ایمان مسکرا دیتی ہے۔ پھر دونوں ساتھ بیٹھ کر بریانی کھاتی ہیں اور سارا کام ختم کر کے گھر کے لیے نکلتی ہیں۔
وہ دونوں گیٹ کے پاس آ کر دیکھتی ہیں کہ بلاج پہلے سے ہی انتظار کر رہا ہوتا ہے۔ بلاج کو دیکھ کر پری کا موڈ بہت زیادہ خراب ہو جاتا ہے اور وہ واپس مڑنے لگتی ہے۔
ایمان پری کا ہاتھ پکڑ کر کہتی ہے:
“پری پلیز یار، میرے لیے بیٹھ جاؤ پلیز!”
پری ایمان کی بات مان کر بلاج کی گاڑی میں آ کر بیٹھ جاتی ہے۔ بلاج کو بہت خوشگوار حیرت ہوتی ہے مگر وہ کچھ نہیں کہتا، سن گلاسز لگا کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لیتا ہے۔
سارا راستہ خاموشی سے گزرتا ہے۔ بلاج سب سے پہلے گاڑی پری کے گھر کے پاس روکتا ہے۔ اس بار پری بہت آہستہ سے گیٹ کھولتی اور بند کرتی ہے اور گھر کے اندر جانے لگتی ہے۔
ایمان کہتی ہے:
“ارے واہ بھیا، لگتا ہے مجنوں کی محبت کے اثر ہو رہے ہیں لیلیٰ میں!”
یہ سن کر ایمان ہنسنے لگتی ہے۔
ایمان کی بات سن کر بلاج بھی بھرپور قہقہہ لگاتا ہے اور کہتا ہے:
“بہت بدتمیز ہوتی جا رہی ہو تم!”
ایمان آنکھ مار کر کہتی ہے:
“تبھی تو بھائی جان!”
اور پھر سے ہنسنے لگتی ہے۔
پری گھر کے اندر داخل ہو کر ڈرائنگ روم میں آ کر بیٹھ جاتی ہے اور آنکھیں بند کر لیتی ہے۔ اس کے سر میں بہت شدید درد ہو رہا ہوتا ہے۔ وہ خود ہی اپنا سر دبانے لگتی ہے کہ تبھی ثمینہ بیگم کچن سے نکل کر پری کے پاس آتی ہیں اور اس کا سر دبانے لگتی ہیں۔
پری آنکھیں کھول کر اپنی امی کو دیکھتی ہے اور ان کے کندھے پر سر رکھ لیتی ہے۔ ثمینہ بیگم پیار سے کہتی ہیں:
“جاؤ میرا بچہ، فریش ہو جاؤ، پھر میں کھانا لگاتی ہوں۔”
پری کہتی ہے:
“جی امی۔”
اور اپنے کمرے میں جا کر کپڑے نکالتی ہے اور شاور لینے چلی جاتی ہے۔ شاور لے کر باہر آتی ہے، بال کھلے چھوڑ کر نیچے آتی ہے اور کھانے کی میز پر بیٹھ جاتی ہے جہاں ارسلان صاحب اور ثمینہ بیگم اس کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔
پری بیٹھتی ہے تو ارسلان صاحب کہتے ہیں:
“پری بیٹا، تمہاری پڑھائی ختم ہو گئی ہے۔ بلاج کا ارادہ ہے کہ وہ تمہیں ساتھ لے کر عمان جائے، اس لیے وہ جلدی شادی کا کہہ رہا ہے۔ تمہارا کیا ارادہ ہے؟”
پری کے لیے ابھی یہ رشتہ قبول کرنا مشکل ہو رہا ہوتا ہے، اور اوپر سے شادی کی بات… وہ سمجھ نہیں پاتی کیا کرے۔
پری کہتی ہے:
“جیسا آپ لوگوں کو مناسب لگے ابو۔”
اور یہ کہہ کر تھوڑا سا کھانا کھا کر اپنے کمرے میں آ کر خود کو بند کر لیتی ہے۔
پری اپنے کمرے میں آ کر لائٹ آف کر کے بیڈ پر بیٹھ جاتی ہے اور گزرے ہوئے دنوں اور آنے والے دنوں کے بارے میں سوچ رہی ہوتی ہے کہ آگے اس کے ساتھ کیا ہوگا۔ وہ بس اللہ سے ایک ہی دعا کر رہی ہوتی ہے کہ اگر بالاج اس کے نصیب میں ہے تو اللہ پاک میرے دل میں اس کی محبت جگا دے۔
پری یہ سب سوچ رہی ہوتی ہے کہ اچانک پری کے پیٹ میں شدید قسم کا درد ہوتا ہے۔ وہ اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہے اور پین کلر کھا کر سونے کی کوشش کرتی ہے۔ جلد ہی پین کلر اثر کرتا ہے، اسے تھوڑا آرام ملتا ہے اور وہ رات سے سوئی بھی نہیں ہوتی، اس وجہ سے اسے نیند آنے میں زیادہ مشکل پیش نہیں آتی۔
پری جب سو کر اٹھتی ہے تو شام کے سات بج رہے ہوتے ہیں اور مغرب کی اذانیں ہو رہی ہوتی ہیں۔ پری اٹھتی ہے، نماز پڑھ کر باہر آتی ہے۔ باہر لان میں ارسلان صاحب بیٹھے چائے پی رہے ہوتے ہیں۔ وہ بھی اپنے ابو کے پاس آ کر بیٹھ جاتی ہے۔ چہرے سے بہت تھکی تھکی، گوری رنگت پیٹ کے درد کی وجہ سے زرد ہو رہی ہوتی ہے، لیکن پری کسی کو کچھ نہیں کہتی۔
ارسلان صاحب کہتے ہیں:
“کیا ہوا بیٹا؟ تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟”
پری کہتی ہے:
“ہاں ابو، طبیعت ٹھیک ہے میری، بس ذرا سی تھکن ہو گئی ہے۔”
ارسلان صاحب کہتے ہیں:
“پری بیٹا، کیا آپ کو اس رشتے سے مسئلہ ہے؟ کوئی بات ہے جو آپ کو پریشان کر رہی ہے؟”
پری کہتی ہے:
“نہیں ابو، جیسے آپ کو ٹھیک لگے۔ میرا اچھا برا آپ مجھ سے زیادہ اچھا سمجھتے ہیں۔”
ارسلان صاحب مسکرا کر اپنی بیٹی کو گلے لگاتے ہیں اور کہتے ہیں:
“بس کچھ دنوں کی مہمان ہے ہماری گڑیا، پھر اپنے ہی گھر میری گڑیا مہمان بن کر آئے گی۔”
ارسلان صاحب کی بات سن کر پری کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں اور وہ رونے لگتی ہے۔
ارسلان صاحب کہتے ہیں:
“نہ میرا بیٹا، رونا کیسا؟ جب دل کرے آ جانا۔ بالاج بالکل ایسا نہیں ہے میرا بچہ جیسے آپ سمجھتی ہو۔”
پری چپ چاپ سنتی رہتی ہے۔
اسی طرح دن بہت تیزی سے گزرتا ہے۔ بازار کے چکر ختم نہیں ہو رہے ہوتے۔ شادی تھی تو پری کی، پر گھَن چکر ایمان اور سمینہ بیگم بنی ہوئی تھیں۔ پری نے ہاتھ کھڑے کر دیے کہ میں نہیں جاؤں گی، آپ لوگ جائیں، جو لائیں گے میں خوشی خوشی پہن لوں گی۔
ایسے کرتے کرتے ہلدی کا دن آ جاتا ہے۔ پری نے صرف پھولوں کے زیور پہنے ہوتے ہیں اور سادہ سا پیلا شلوار قمیض پہنا ہوتا ہے اور نارنجی رنگ کا دوپٹہ سر سے لے کر پورے شانوں میں پھیلا لیتی ہے۔
ہلدی کی رسم پری کے لان میں رکھی گئی تھی جہاں بہت خوبصورت جھولا تیار کیا گیا تھا جس میں دلہا دلہن کے بیٹھنے کا انتظام ہوتا ہے۔
سب سے پہلے بالاج آ کر بیٹھ جاتا ہے اور اس کے بعد پری کو لا کر بٹھایا جاتا ہے۔ پری گھونگھٹ میں ہوتی ہے۔ بالاج پری کو دیکھنے کے لیے تڑپ رہا ہوتا ہے۔ وہ سائیڈ میں ایمان سے کہتا ہے:
“پری سے ملاقات کروا دو۔”
ایمان فوراً اپنے ہاتھ کھڑے کر دیتی ہے:
“نہیں بھائی، بس ایک دن ہے، اس کے بعد پری آپ کی ہے۔ میں ایسے کچھ نہیں کروں گی۔ بڑی مشکل سے پری ٹھیک ہوئی ہے مجھ سے۔”
بالاج نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے دل پر پتھر رکھتا ہے اور اپنا دھیان پری کی طرف سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن کمبخت دل بالاج کی نہیں سن رہا ہوتا۔
اتنے میں سر ہاشم آ کر بالاج سے کہتے ہیں:
“مبارک ہو یار، آخر میرا یار دلہا بن گیا!”
بالاج سر ہاشم کو دیکھ کر خوشی سے گلے لگ جاتا ہے اور کہتا ہے:
“واہ! آخر میرے یار کو فرصت مل ہی گئی، ویسے کیسے جناب کو آج ٹائم مل گیا؟”
سر ہاشم بالاج سے بات کر رہے ہوتے ہیں کہ اتنے میں ایمان پری کے پاس آ کر بیٹھتی ہے اور پری کے کان میں کہتی ہے:
“پری… پری…”
پری بہت آہستہ سے کہتی ہے:
“ہمم، بولو…”
لیکن ایمان بہری سنتی نہیں ہے، پھر سے کہنے لگتی ہے:
“پری پریییییی!”
پری اس بار تیز سے بولتی ہے:
“کیا ہو گیا ہے؟ کان کے پردے میرے پھاڑ دو گی؟ میری ہی شادی میں سب کیا بولیں گے، بہری دلہن ہے!”
پری کو احساس نہیں ہوتا کہ وہ اتنی تیز یہ باتیں کہہ جاتی ہے کہ سامنے بالاج اور ہاشم چونک کر دونوں کی طرف دیکھتے ہیں، اور ایمان بیچاری شرمندہ ہو کر نظر جھکا کر بیٹھ جاتی ہے۔
سر ہاشم آج ایمان کا نیا روپ دیکھ کر اپنے دل پر قابو نہیں رکھ پاتے۔ گرین کلر کا پاجامہ، شارٹ کرتی، کھلے بال، پھولوں کے زیور پہنے، سیدھا ہاشم کے دل پر اتر رہی ہوتی ہے۔
اتنے میں بالاج کی آواز سے ہاشم ہوش میں آتا ہے اور دونوں ہی اپنی اپنی محبت کو دیکھنے کے لیے اندر سے تڑپ رہے ہوتے ہیں، لیکن دونوں ہی مجبور ہوتے ہیں۔
اللہ اللہ کر کے ہلدی کا فنکشن بھی ختم ہو جاتا ہے اور نکاح کا دن آ جاتا ہے۔ پری اور بالاج دونوں کی خواہش تھی کہ سادگی سے نکاح کیا جائے، تو ان کی خواہش کے مطابق پری کے ہی لان میں نکاح کی تقریب رکھی جاتی ہے۔
آج پری کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی ہوتی۔ کافی دنوں سے پیٹ کا درد تھوڑا تھوڑا کر کے تیز ہو رہا ہوتا ہے۔
نکاح کرتے وقت پری کو کپکپاہٹ طاری ہو جاتی ہے۔ بس ایک سائن، اس کے بعد پری پر صرف اور صرف بالاج کا حق ہوگا۔
سائن کرتے وقت پری بہت روتی ہے، اسے سب دلاسہ دیتے ہیں۔ ایسے کر کے رخصتی کا وقت ہو جاتا ہے۔
رخصتی کے وقت پری کھڑی ہو کر سب سے مل کر جانے لگتی ہے۔ بالاج نے اسے اپنے ہاتھ کا سہارا دیا ہوتا ہے۔ پری سب کے سامنے تماشا نہیں کرنا چاہتی اور چپ سے بالاج کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیتی ہے۔
اچانک پری کے سر میں چکر آنے لگتا ہے اور پیٹ کے درد سے اس سے چلنا بہت مشکل ہو رہا ہوتا ہے۔ اچانک لڑکھڑا کر پری بالاج کے بازوؤں میں جھول جاتی ہے۔
اچانک خوشی کا سماں دکھی میں بدل جاتا ہے۔
بالاج کو سمجھ نہیں آتا وہ کیا کرے۔ سب سے پہلے ارسلان صاحب ہوش میں آتے ہیں اور کہتے ہیں:
“بالاج بیٹا، میری بیٹی کو لے چلو، جلدی ہسپتال!”
بالاج سے چلنا مشکل ہو رہا ہوتا ہے۔ اسے کسی کی پرواہ نہیں ہوتی، وہ زمین پر بیٹھ کر پری کو ہوش میں لانے کی کوشش کرتا ہے:
“پری پلیز آنکھیں کھولو یار، نہ کرو ایسا… کیوں کر رہی ہو ایسا یار؟ پری، کیوں تم میرا بار بار امتحان لے رہی ہو؟ پری اٹھ جاؤ… ماما، ڈیڈ، پری نہیں اٹھ رہی!”
آج بالاج کوئی مضبوط مرد نہیں بلکہ ایک چھوٹا بچہ لگ رہا ہوتا ہے جو اپنی پسندیدہ چیز کو کھونے کے ڈر سے رو رہا ہوتا ہے۔
اتنے میں ارسلان صاحب ایمبولینس کو کال کر دیتے ہیں اور ایمبولینس بھی پہنچ جاتی ہے۔ بالاج ہمت کر کے پری کو اپنے بازوؤں میں اٹھاتا ہے اور ایمبولینس سے فوراً قریبی ہسپتال لے جاتے ہیں۔
پری کی حالت کو دیکھ کر ڈاکٹر فوراً حرکت میں آتے ہیں اور پری کو لے کر آئی سی یو میں چلے جاتے ہیں۔ باہر بالاج، ارسلان صاحب، سمینہ بیگم اور بالاج کے والدین، ایمان باہر انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ سب کا رو رو کر برا حال ہو رہا ہوتا ہے۔
کچھ دیر بعد ایک ڈاکٹر باہر آتا ہے اور کہتا ہے:
“پیشنٹ کے ساتھ کون ہے؟”
بالاج کہتا ہے:
“میں اس کا شوہر ہوں۔”
ڈاکٹر کہتا ہے:
“آئیں میرے ساتھ۔”
بالاج اور ارسلان صاحب دونوں ڈاکٹر کے کیبن میں جا کر بے بسی سے ڈاکٹر کو دیکھتے ہیں۔
ڈاکٹر کہتا ہے:
“دیکھیں، پیشنٹ کی حالت بہت نازک ہے۔ ہم ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔ پیشنٹ کا اپینڈکس پیٹ میں پھٹ گیا ہے اور زہر پورے جسم میں پھیل گیا ہے۔ ہمیں آپ کے دستخط چاہیے تاکہ ہم جلد از جلد آپریشن کر سکیں۔ پیشنٹ کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔”
ارسلان صاحب کی ہمت نہیں ہوتی کہ اس پر سائن کریں۔ بالاج ہمت کر کے کہتا ہے:
“میں سائن کر دیتا ہوں ڈاکٹر…”
ڈاکٹر کہتا ہے:
“آپ لوگ پریشان نہ ہوں، انشاءاللہ ہم اپنی پوری کوشش کریں گے۔”
یہ کہہ کر ڈاکٹر فوراً آپریشن تھیٹر میں چلے جاتے ہیں۔
……………………………………………………..
پری کا آپریشن شروع ہو چکا تھا ہر ایک کے دل سے یہی دعا نکل رہی تھی کہ یا اللہ پری کو صحیح سلامت ہمیں لوٹا دینا سمینہ بیگم کا رو رو کر برا حال ہو گیا تھا ایمان اور ایمان کی امی انہیں سنبھال رہی تھیں بلاج کو کسی کا بھی ہوش نہیں تھا وہ بس چپ سے چیئر پر بیٹھا اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا ارسلان صاحب اور سکندر صاحب باہر کوریڈور کے چکر لگا رہے تھے آپریشن شروع ہوئے 2 گھنٹے ہو گئے تھے لیکن اب تک ڈاکٹرز کچھ نہیں کہہ رہے تھے اچانک بلاج کسی خیال کے تحت کھڑا ہوتا ہے اور مسجد کی طرف روانہ ہو جاتا ہے ارسلان صاحب سکندر صاحب بلاج کے پیچھے جاتے ہیں بلاج کہتا ہے نہیں انکل پلیز میرے پیچھے نہیں آئیں میں مسجد جا رہا ہوں آتا ہوں تھوڑی دیر میں سکندر صاحب ارسلان صاحب کو تسلی دیتے ہیں اور انہیں لے کر اندر آ جاتے ہیں بلاج مسجد جاتا ہے وضو کرتا ہے اسے سمجھ نہیں آ رہی ہوتی وہ کیا کرے 4 رکعت نوافل پڑھ کر بلاج دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے اور بلاج کی زبان سے لفظ ادا نہیں ہو رہے تھے وہ بس ایک چھوٹے بچے کی طرح روئے جا رہا تھا اتنے میں مسجد کے امام صاحب آتے ہیں اور کہتے ہیں کیا بات ہے بیٹا کیوں اتنے پریشان ہو کیا اللہ سے ناامید ہو گئے ہو اللہ پر بھروسہ نہیں بلاج کہتا ہے نہیں امام صاحب اللہ پر مجھے پورا بھروسہ ہے بس ڈر لگ رہا ہے کہیں میں اسے کھو نہ دوں امام صاحب بہت مشکل سے اسے پایا بہت انتظار کیا ہے میں نے امام صاحب کہتے ہیں ایک طرف سے بیٹا کہہ رہے ہو اللہ پر پورا بھروسہ ہے اور ایک طرف سے کہہ رہے ہو ڈر بھی لگ رہا ہے یہ کیسا بھروسہ ہوا پھر امام صاحب بلاج کو بہت تسلی دیتے ہیں بلاج کو خاموش کرواتے ہیں پری کے لیے خصوصی دعا کرواتے ہیں
کہ اتنے میں بلاج کا فون رنگ ہوتا ہے بلاج بے چینی سے فون کو دیکھتا ہے ڈیڈ کی کال بلاج جلدی سے کال اٹھاتا ہے اور ہارٹ بیٹ تیز ہونے لگتی ہے بلاج کہتا ہے ڈیڈ آپ… اس سے آگے بلاج سے کچھ کہا نہیں جاتا سکندر صاحب کہتے ہیں مبارک ہو میرا بچہ پری کا آپریشن کامیاب ہو گیا وہ اب خطرے سے باہر ہے یہ سن کر بلاج فوراً اللہ کے آگے سجدہ ریز ہو جاتا ہے اور کتنی ہی دیر روتا ہے اللہ سے معافی مانگتا ہے امام صاحب کو گلے لگاتا ہے اور مسجد کے کام کے لیے 50 ہزار امام کے ہاتھ میں رکھتا ہے اور بھاگے بھاگے ہسپتال جاتا ہے جہاں سب کے چہروں میں خوشی دیکھ کر بلاج فوراً اپنے ڈیڈ کے گلے لگ جاتا ہے سکندر صاحب مذاق میں کہتے ہیں ہمیں نہیں معلوم تھا ہمارا بیٹا محبت کے معاملے میں کسی لڑکی سے کم نہیں بلاج ہنس دیتا ہے اور سکندر صاحب زور سے اپنے لاڈلے کو گلے لگا لیتے ہیں پھر ارسلان صاحب کے گلے لگتا ہے پھر ایک نرس آ کر کہتی ہے ہم پیشنٹ کو وارڈ میں شفٹ کر چکے ہیں آپ لوگ ایک ایک کر کے مل سکتے ہیں اور خیال رکھیے گا پیشنٹ ڈسٹرب نہ ہو پھر سب پری کو ایک ایک کر کے آ کر دیکھتے ہیں جو دوا کے زیر اثر سو رہی ہوتی ہے سب سے آخر میں بلاج آتا ہے بلاج کا دل کرتا ہے کہ زور سے اپنے بازوؤں میں پری کو لے لے اور اسے کہیں جانے نہ دے اتنے میں وارڈ بوائے آ کر کہتا ہے ملنے کا ٹائمنگ ختم ہو گئی ہے آپ لوگوں میں سے کوئی ایک ہی رک سکتا ہے بلاج سب سے کہتا ہے آپ لوگ جائیں میں رک جاتا ہوں پری کے پاس بلاج کی بات سے سب ہی اتفاق کرتے ہیں اور پری کو دیکھ کر چلے جاتے ہیں
رات کا نہ جانے کون سا پہر ہوتا جب پری کی آنکھ کھلتی ہے وہ اپنے ارد گرد کا جائزہ لیتی ہے سب یاد کرنے کی کوشش کرتی ہے تھوڑا تھوڑا کر کے اسے سب یاد آتا ہے اور آخر میں اسے یہ یاد آتا ہے کہ جب وہ بلاج کے بازوؤں میں گری تھی بلاج بلاج کا گھبرانا اس کا پری کو پکارنا پری پری اس کا کہنا آدھی بے ہوشی میں بلاج کو روتا دیکھنا پری یہ سب سوچ کر مسکرا کر اپنے پیر کے پاس دیکھتی ہے اور ڈر جاتی ہے ایک وجود اس کے پیر سے لپٹا سو رہا ہوتا ہے پری غور سے دیکھتی ہے اسے یقین نہیں ہوتا یہ بلاج ہے جو اس کے پیر پکڑ کر سو رہا جیسے کہیں بھاگ نہ جائے پری اور پری ہلکا سا اپنا پیر نکالنے کی کوشش کرتی ہے کہ بلاج چونک کر اٹھ جاتا ہے بلاج کو اٹھتے دیکھ پری فوراً سونے کا ناٹک کرتی ہے بلاج پری کو غور سے دیکھتا ہے اس کے سرہانے آ کر بیٹھ جاتا ہے اور اس کے سر میں ہلکا ہلکا ہاتھ پھیرنے لگتا ہے اس کے ماتھے پر کس کرتا ہے اور کہتا ہے اٹھ جاؤ نا یار کب تک سوتی رہو گی میری جان کتنا مزہ آ رہا ہوگا نا مجھے تکلیف دینے میں میں نے بس ایک بار غصہ کیا تم نے قسم کھا لی مجھ سے بدلہ لینے کی ہر تھوڑے دن بعد مجھ سے بدلہ لے رہی تمہیں معلوم ہے پری میں نے تمہارا کتنا انتظار کیا عمان میں گیا اسی لیے گیا تھا کہ تم سے دور رہ سکوں کیا پتہ دور رہ کر تم میرے حواسوں میں نہ چھاؤ لیکن میں غلط تھا وہاں جا کر بھی پریشے ارسلان خان میرے حواسوں میں چھائی رہی میرے خون میں دوڑتی رہی میری سانس بنتی گئی پتہ نہیں کب بلاج سکندر کو اپنی پریشے سے عشق ہو گیا پری مجھے عشق ہے تم سے صرف اور صرف تم سے بلاج سکندر کو پریشے سے عشق ہے پری
بلاج کو یہ خبر نہیں تھی کہ پری اس کی ساری بات سن رہی ہے بلاج اپنی دھن میں بولے جا رہا تھا کہ اچانک بلاج کے ہاتھوں میں گیلا گیلا لگتا ہے وہ غور سے دیکھتا ہے کہ پری رو رہی ہے پری کو بھی اندازہ نہیں ہوا کب اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے بلاج خوش ہو کر کہتا ہے پری پری اٹھو دیکھو میں ہوں بلاج پری اپنی آنکھیں کھول کر دیکھتی ہے بلاج کو جیسے مانو دنیا ہی لوٹ آتی ہے بلاج پری کو اپنے بازوؤں میں لے کر کتنی دیر اس کے ہونے کا احساس کرتا ہے اور جب پری کے منہ سے تکلیف سے ہلکی سی آواز نکلتی ہے بلاج ہوش میں آتا ہے اور اسے ٹھیک طرح سے لٹانے لگتا ہے پری کہتی ہے بیٹھنا ہے مجھے بلاج کہتا ہے اوکے رکو پھر بلاج پری کو بٹھاتا ہے پری بلاج کو دیکھ رہی ہوتی ہے بلاج پری کو نہ جانے کتنی ہی لمحے دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے بلاج کہتا ہے I’m sorry پری کہتی ہے کس لیے بلاج کہتا ہے اس دن کے لیے پری کہتی ہے کس دن کے لیے نہ جانے کیوں پری کو مزہ آ رہا ہوتا بلاج کو tease کرنے میں بلاج پری کے ہاتھ پر کس کرتا ہے اور کہتا ہے پری مجھے معاف کر دو میں نے بہت غلط کیا ہے تمہارے ساتھ لیکن یقین کرو میری جان بے انتہا محبت کی ہے میں نے تم سے تمہارے بنا بلاج ادھورا ہے پری میری زندگی تم سے ہے جب تمہیں بے ہوش دیکھا مجھے لگا کسی نے مجھ سے میری زندگی لے لی پری شاید میں تمہیں پتھر دل انسان لگتا ہوں لیکن پری کے لیے بلاج سکندر کا دل دھڑکتا ہے پری بلاج کے دل میں دھڑکتی ہے پری خاموشی سے سنتی ہے اور جب بلاج کھل کر اپنی محبت کا اظہار کر لیتا ہے پری کہتی ہے اتنی محبت نہ کریں بلاج بلاج کہتا ہے اب تو ہو گئی پری کہتی ہے بہت تڑپیں گے بلاج بلاج کہتا ہے اب بھی تڑپتا ہوں پری کہتی ہے اگر میں آپ کو خوش نہ رکھ سکی تو بلاج کہتا ہے میں رکھوں گا خوش تم کو پری کہتی ہے کبھی اگر غلطی ہوئی مجھ سے کیا مجھے اس دن کی طرح ڈرائیں گے بلاج کہتا ہے ہاں بالکل پری ناراضگی سے منہ موڑ لیتی ہے بلاج ہنس کر پری کا منہ اپنی طرف کرتا ہے اور کہتا ہے کیا تم مجھ سے ڈرتی ہو پری کہتی ہے ہاں بلکہ نہیں بلاج کہتا ہے ہاں کہ نہ پری کہتی ہے دونوں ہاہاہا بلاج ہنس کر کہتا ہے چلو ایک کام کر لیتے ہیں پری کہتی ہے کیا بلاج کہتا ہے جب جب میں غصہ کروں تم اپنا غصہ میری گاڑی میں نکال لینا پری بولتی ہے وہ تو نکلے گا بلاج کہتا ہے پھر ڈن ہو گیا پری کہتی ہے مجھ سے ایک وعدہ کریں بلاج کہتا ہے ہاں بولو پری کہتی ہے آئندہ کبھی مجھے ڈرائیں گے نہیں بلاج کہتا ہے کبھی نہیں میری جان پری اور بھی کچھ بول رہی ہوتی ہے کہ اچانک پری کی بولتی بند ہو جاتی ہے اور آنکھیں حیرت سے باہر کیونکہ بلاج اپنی محبت کی شدت پری کو دکھا رہا ہوتا ہے اس کے لبوں پر اپنے لب رکھ کر اپنے اندر سکون لیتا ہے اور پری بلاج کی شرٹ کو مضبوطی سے پکڑ لیتی ہے اور ایک ہاتھ سے بلاج کی گردن میں اپنے ناخن چبھو رہی ہوتی ہے لیکن بلاج کو کوئی فرق نہیں پڑتا جب بلاج اپنی شدت پری کو دکھا کر پیچھے ہٹ جاتا ہے پری زور زور سے سانس لیتی ہے اور ناراضگی سے بلاج کو دیکھتی ہے آپ بہت بدتمیز ہیں بلاج کہتا ہے آپ کے لیے سب ہوں میری جان جب یہ تکلیف ہو رہی تھی بتایا کیوں نہیں کیوں خود پر ظلم کیا خود کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی تکلیف دی پری شرمندگی سے سر جھکا لیتی ہے اور کہتی ہے I’m sorry بلاج مجھے آپ پر بہت غصہ تھا اسی لیے خود کے ساتھ ایسا کیا بلاج کہتا ہے نہیں یار I’m sorry میں نے بہت over react کر دیا تھا پری کہتی ہے بس بلاج پرانی باتوں کو بھول جائیں بلاج کہتا ہے کیوں نہیں میری جان یہ بول کر بلاج پری کو اپنے بازوؤں میں بھر لیتا ہے
پری کو 1 ہفتے کے بعد ہسپتال سے ڈس چارج کر دیا گیا تھا اور اس ایک ہفتے میں بلالج کافی حد تک پری کے قریب آ گیا تھا ہر وقت پری کے ساتھ رہنا اس کے کھانے پینے کی ذمہ داری اس کا ٹائم ٹو ٹائم دوا کھانا سب بلالج ہی دیکھ رہا تھا اور اب پری بھی بلالج سے کافی حد تک گھل مل گئی تھی اسے بلالج سے ڈر لگنا بھی کم ہوتا جا رہا تھا بلالج نے پری کے پیرنٹس سے بات کر کے کہا تھا انکل آنٹی ہماری رخصتی تو صحیح سے نہیں ہو پائی لیکن میں چاہتا ہوں پری کو میں اپنے گھر لے کر ہسپتال سے بالکل ایسے جیسے پری کا روپ تھا میں چاہتا ہوں پری دلہن بنے بلالج سکندر کی ہاں وقت اور حالات نے ساتھ نہیں دیا اور نہ وہ جگہ ہے میں ہسپتال میں ہی پری کو سجاؤں گا اور ہسپتال سے رخصتی لے کر جاؤں گا پری کے پیرنٹس کو بھی بلالج کی اس بات سے کوئی پرابلم نہیں تھی تو وہ لوگ آسانی سے مان جاتے اس وجہ سے آج ایک ہفتے بعد پری بالکل ویسی سجی تھی جیسے سچ میں کوئی پری ہو بلالج نے بہت احتیاط سے پری کو پکڑ رکھا تھا اور اسے گاڑی تک لا کر خود بٹھایا بلالج کے موم ڈیڈ اور ایمان یہ تینوں دوسری گاڑی میں گھر کی طرف روانہ ہو گئے تھے جب کہ بلالج خود ڈرائیو کر کے اپنی دلہن کو گھر لایا تھا بلالج گھر کے سامنے گاڑی روکتا ہے تو پری کی آنکھیں حیرت سے باہر آ جاتی ہیں آج وہ کوئی گھر نہیں ایک خوبصورت محل لگ رہا تھا اس کی سجاوٹ بتا رہی تھی کہ سجانے والے نے کتنی محبت سے سجایا ہے پری کو گلاب کے پھول بہت پسند تھے پورے گھر کو گلاب کے پھولوں سے سجایا گیا تھا یہاں تک کہ انٹرنس سے لے کر پری کے روم تک پھولوں کی چادر بچھائی گئی تھی پری اتنی خوبصورتی دیکھ کر مدہوش ہو جاتی ہے ہوش اسے تب آتی ہے جب بلالج گاڑی کا دروازہ کھول کر پری کی طرف اپنا ہاتھ بڑھا کر کہتا ہے می آئی پری مسکرا کر اپنا ہاتھ بلالج کے ہاتھ میں رکھ دیتی ہے پھر بلالج پری کو لے کر اندر آتا ہے پری اور بلالج پر پھولوں کی بارش ہوتی ہے پھر کچھ رسموں کے بعد پری کو روم میں لے جانے کی باری آتی ہے پر آپریشن کے سٹچز کی وجہ سے پری سے سیدھی چلنا مشکل ہو رہا ہوتا ہے پری بلالج کو بے بسی سے دیکھتی ہے اور ایمان کہتی ہے ارے بھائی ایک آئیڈیا دو بلالج کہتا ہے امید تو نہیں ہے لیکن پھر بھی دو ایمان کہتی ہے پر پہلے میرا نیک بلالج کہتا ہے کون سا نیک ایمان کہتی ہے بھائی بہن کا حق ہوتا ہے ورنہ میں اندر جانے نہیں دوں گی بلالج کہتا ہے پہلے آئیڈیا دو ایمان کہتی ہے میرے بھائی اپنے باڈی کس دن کے لیے بنائی ہے باقی سمجھدار کے لیے اشارہ کافی ہے ایمان یہ کہہ کر آنکھ مارتی ہے اور ہنس دیتی ہے بلالج اور پری کو بھی سمجھنے میں دیر نہیں لگتی جہاں بلالج ایمان کی بات سن کر مسکرا کر تھمز اپ کا اشارہ کرتا ہے وہیں پری گھبرا کر سر سے منع کر رہی ہوتی ہے بلالج کے موم ڈیڈ مسکرا کر اوکے کا اشارہ کر دیتے ہیں تو بیچاری پری شرم سے سر نہیں اٹھا پا رہی ہوتی بلالج پری کو لے کر پہنچتا اس سے پہلے ایمان بھاگتے ہوئے بلالج کے روم کے آگے کھڑی ہو جاتی ہے اور دونوں ہاتھ پھیلا کر کہتی ہے پہلے نیک پھر جانے دوں گی اندر بلالج کہتا ہے اوف ابھی ہٹو جانے دو میں بعد میں دیتا ہوں ایمان کہتی ہے نا نا نا میرے بھائی ایسے کیسے پہلے نیک پھر اپنا اپنا دیکھ پری تو آنکھ تک نہیں کھول رہی ہوتی جب ایمان اور بلالج ایسی ہی بحث کرنے میں لگ جاتے ہیں بلالج کو ہوش بھی نہیں رہتا اس نے پری کو اٹھایا ہوا ہے پری تنگ آ کر کہتی ہے بلالج دے دیجیے نا ایمان کو اور آنکھیں پٹپٹا کر بلالج کو دیکھتی ہے بلالج کو پری پر بہت ٹوٹ کر پیار آتا ہے پر ایمان کے سامنے وہ خود پر کنٹرول کرتا ہے اور ایمان کو کہتا ہے میری پاکٹ میں والیٹ ہے جتنا ہے سارا لے لو ایمان کہتی ہے سچ بھائی بلالج کہتا ہے ہاں ایمان جب بلالج کا والیٹ کھولتی ہے تو 5 5 ہزار کے بہت نوٹ ہوتے ہیں ایمان کہتی ہے بھائی بہت زیادہ ہے بلالج کہتا ہے سارے لے لو ایمان کہتی ہے آووو بھائی اور تھینک یو پری یار میرا تو فائدہ کر دیا اب جو کرنا ہے کرو میں چلی یہ بول کر ایمان اپنے روم میں آ جاتی ہے اب وہاں بلالج اور پری کے علاوہ کوئی نہیں ہوتا پری کا دل بہت زور سے دھڑک رہا ہوتا ہے اور نظریں نیچے ہوتی ہیں بلالج پری کو روم میں لے جا کر روم لاک کرتا ہے اور پری کے ماتھے پر کس کرتا ہے اور بیڈ پر آرام سے بٹھاتا ہے کافی دیر خاموشی رہتی ہے دونوں کے بیچ پری اپنی آنکھیں نیچے رکھتی ہے اور بلالج اپنی آنکھیں پری پر پری کہتی ہے بلالج بس کر دیجیے نا ایسے نہ دیکھیں بلالج ہنس کر کہتا ہے کیسے پری کہتی ہے ویسے بلالج کہتا ہے ویسے کیسے پری کہتی ہے دیکھئے آپ تنگ نہ کریں بلالج کہتا ہے ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں ابھی تو باقی ہے سب کرنا پری کہتی ہے نہ کریں بلالج آپ کتنے چیچھورے ہیں ہاہاہا اپنی بیوی سے پیار کرنے میں ہی میں چیچھورا ہو گیا میری جان ابھی تو تم نے میرا چیچھورا پن دیکھا ہی نہیں بلالج پری زور سے نام لیتی ہے اور کہتی ہے بہت بدتمیز ہیں آپ پری کہتی ہے مجھے چینج کرنا ہے تھک گئی ہوں بلالج کہتا ہے ایک منٹ رکو پھر سائیڈ ڈراور سے بلالج ایک باکس نکالتا ہے اس میں بہت پیارا ڈائمنڈ کا سیٹ ہوتا ہے پری کو دیتا ہے بلالج اور کہتا ہے تمہاری منہ دکھائی پری کہتی ہے پر یہ تو بہت ایکسپینسو ہے بلالج کہتا ہے پری کے لیے سب قربان پری کہتی ہے بہت خوبصورت بھی ہے بلالج کہتا ہے میری پری سے کم پری کہتی ہے تھینک یو بلالج بلالج کہتا ہے کس لیے پری کہتی ہے اتنی محبت کے لیے بلالج کہتا ہے نہیں میری جان تمہارا بہت شکریہ میری لائف میں آنے کے لیے پھر بلالج پری کو اٹھاتا ہے اس کی جیولری اتارنے میں مدد کرتا ہے پھر پری شاور لے کر پنک کلر کا سادہ سا سوٹ پہن کر نکلتی ہے بلالج کہتا ہے پری آؤ پہلے ہم شکرانہ ادا کر لیں پری کہتی ہے کیوں نہیں ضرور بلالج پھر پری بلالج کی امامت میں نماز ادا کرتی ہے اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتی ہے اور بہت روتی ہے یا اللہ آپ کا لاکھ لاکھ احسان ہے آپ نے کبھی مجھے اکیلا نہیں چھوڑا میں نے ہی آپ کی ناشکری کی میرا نصیب جب کہ آپ نے لکھا تھا میں کیسے ناشکری کر سکتی تھی پھر یا اللہ مجھے معاف کر دیجیے آپ کا لاکھ لاکھ شکر ہے بلالج جیسے ہمسفر عطا فرمایا بلالج پری کو گلے لگاتا ہے ماتھے پر کس کرتا ہے پھر بلالج اور پری دونوں بیڈ پر آتے ہیں اور رات بھر بلالج پری پر اپنی محبت نچھاور کرتا ہے اور دوسری صبح ایک نئی روشن صبح ہوتی ہے پری کی آنکھ کھلتی ہے تو وہ بلالج کے سینے پر اپنا سر رکھے ہوتی ہے رات والا منظر یاد کر کے پری شرما کر پیچھے ہٹنے لگتی ہے کہ اچانک بلالج پری کا ہاتھ پکڑ کر کہتا ہے کہاں جا رہی ہو پری کہتی ہے صبح ہو گئی ہے سب کیا کہیں گے ابھی تک سو رہے ہیں ہم بلالج پری کی ایک بات نہیں سن رہا ہوتا پری بلالج کا اشارہ سمجھ جاتی ہے اس کی آنکھوں کا مطلب سمجھ کر گھبرا کر بلالج کو اپنے ناخن چبھوتی ہے بلالج کہتا ہے ہائے ظالم پری کہتی ہے اٹھ جائیں بلالج کہتا ہے اوکے مائی لوو جیسے کہیں آپ پھر دونوں نیچے آ کر سب کو سلام کر کے ناشتہ کر رہے ہوتے ہیں کہ تب ہی بلالج کے ڈیڈ سکندر صاحب کہتے ہیں بیٹا بلالج تمہارا دوست حاشم ہے کیسا لڑکا ہے وہ ایمان کے تو کان کھڑے ہو جاتے ہیں اور پری کو کہنی مارتی ہے اور کہتی ہے پری کیا میں جو سوچ رہی وہ سچ ہے پری کہتی ہے پتہ نہیں ایمان کہتی ہے لعنت پری کہتی ہے تھینک یو پھر دونوں ہنس کر ناشتہ کرنے میں لگ جاتی ہیں جیسے وہاں ہوں ہی نہیں بلالج کہتا ہے ہاں ڈیڈ اچھا لڑکا ہے کسی بھی چیز میں نہیں نہ غلط کاموں میں نہ کچھ نشہ کرنے میں سکندر صاحب کہتے ہیں حاشم کی والدہ نے حاشم کے لیے ایمان کا ہاتھ مانگا ہے بلالج کہتا ہے بلالج اپنے ڈیڈ کی بات سمجھ جاتا ہے اور آنکھ مار کر کہتا ہے پر ڈیڈ ہم صرف ہاتھ دے کر کیا کریں گے آپ منع کر دیں کیونکہ ہم اپنی بہن کا ہاتھ نہیں کاٹ سکتے ہم اپنی چھوٹی کو اس گھر میں دیں گے جہاں ہماری بہن پوری ایمان سادہ کی بیوقوف ان لوگوں کا مذاق نہیں سمجھتی اور تڑپ کر اپنے بھائی کو دیکھتی ہے بلالج جانتا تھا حاشم اور ایمان ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں تب ہی بلالج نے ایسا مذاق کیا تھا اور ایمان یہ سمجھتی ہے کہ انکار نہ ہو جائے فوراً کہتی ہے پر ڈیڈ مجھے کوئی اعتراض نہیں بھائی اعتراض نہیں مجھے بلالج کہتا ہے مجھے ہے کیونکہ ان لوگوں نے ہاتھ مانگا ہے ایمان کہتی ہے بھائی نہیں ہاتھ صرف ایک ایکزامپل کے لیے کہا گیا تھا جاؤں گی تو میں پوری نا ایمان کی امی مسکرا کر کہتی ہیں بہت جلدی ہے جانے کی اور سب کے قہقہے ایک ساتھ بلند ہوتے ہیں اور ایمان بیچاری اپنے روم میں بھاگ جاتی ہے پھر اگلے دن بلالج اور پری کا ریسپشن ہوتا ہے اور اسی کے ساتھ ایمان اور حاشم کا نکاح دونوں ہی کپل آسمان سے اترے لگ رہے تھے دونوں کی جوڑی اپنے آپ میں قیامت لگ رہی ہوتی ہے
ختم شدہ 🥹
