Junoon-e-Ishqam Novel Complete – ZNZ

✨ جنونِ عشقم ✨
جنونِ عشقم منتہا چوہان 💗💗💗💗💗 کیا۔۔ کیا کہہ رہی ہو؟ نور؟؟ نور کی ڈیتھ؟ ایسا۔۔؟ ایسا کیسے ممکن ہے؟ زرمش کے تو دل کی دھڑکن ہی رک سی گٸ۔ وہ اس کی دوست تھی بہت قریبی دوست۔۔ جان سے بھی زیادہ پیاری۔۔ اور دو دن بعد ہی تو اس کی شادی تھی۔ اور آج اس کی ڈیتھ کی خبر۔۔؟ زرمش اپنی والدہ کے ساتھ نور کے گھر پہنچی۔ ان کے گھر میں اس وقت لوگوں کا تانتا بندھا ہوا تھا جس کو بھی خبر ملتی وہ پہنچ جاتا۔ کسی کو کچھ سمجھ نہیں ارہا تھا کہ اچانک سے نور کو کیا ہوا۔ زرمش روتے ہوئے اگے بڑھی اور اپنی دوست کی میت پر ایک نظر ڈالی۔۔ آنٹی۔۔ کیا ہوا؟ نور کو۔۔؟ وہ رو رہی تھی۔ اس کی باقی دوستیں بھی وہاں آن موجود ہوٸیں تھیں۔ سبھی بے تحاشا روۓ جا رہی تھیں۔ کوٸ کچھ نہیں بتا رہا تھا کہ ایک جیتی جاگتی لڑکی کو آخر ہوا کیا؟ زرمش وہیں ڈھے سی گٸ۔💖 بھاٸ۔۔؟؟ مجھے چاکلیٹ آٸسکریم کھانی ہے۔ تو چاکلیٹ آٸسکریم آۓ گی۔ نور کی بات پے سبھی نے شور مچایا۔ اور اپنے اپنے فلیور بتاۓ۔ سب کو سب کا فیورٹ فلیور ملے گا اور جو میری نور نے کہا ہے وہ فلیور تو سب کو ہی کھانا پڑے گا۔ آریان خان نے بہت محبت سے نور کی جانب دیکھتے ہوئے کہا ۔ وہ سب ایک ریسٹورنٹ میں ائس کریم کھانے گۓ تھے۔ ان لمحوں میں آریان جیا تھا۔ نور اپنے ماں باپ کے ساتھ اپنے بھائی کی بھی بہت لاڈلی تھی وہ جو کہتی آریان اس کے کہنے سے پہلے ہی پوری کر دیتا تھا۔ لیکن اج وہ خواہش کرنے والی اس دنیا سے چلی گئی تھی۔ آری بیٹا۔۔ جنازہ کا وقت ہو گیا ہے۔ حسن خان نے دیوار کے ساتھ ٹیک لگاۓ بیٹے کو پکارا۔ آریان خان میں اتنی ہمت ہی کہاں تھی کہ وہ اپنی بہن کے جنازے کو اگے بڑھ کر کندھا دیتا اس نے ایک انسو بھی نہیں بہایا تھا اس کی بہن تو اچھی بھلی تھی اچانک وہ منہ موڑ گئی۔ بابا۔۔؟ آریان کا لہجہ ڈگمگایا۔ تو باپ نے آریان کو لگایا۔ آریان کے سامنے ہی نور ہنستے ہوۓ لال چنریا میں اس کے سامنے آٸی۔ بھیا۔۔ کیسی لگ رہی ہوں میں؟ اس کا پیارا سا مکھڑا اس کی آنکھوں میں آنسو سمایا۔۔ اس لمحے کو یاد کرتے آری کی آنکھیں آنسو بہانے لگیں۔ آستین سے آنکھیں پونچھیں۔ جنازہ اٹھا. حسن صاحب نے اس کے کندھے پے تھپکی دی۔ چلو۔۔۔! اس وقت صرف۔۔ ایک چپ ہی رکھنا۔ جنازہ ہو جانے دو۔ باقی بعد میں دیکھتے ہیں۔ حسن خان نے ایک ایک لفظ ٹھہر ٹھہر کے ادا کیا۔ یہ راز ابھی راز ہی تھا کہ نور کی اچانک ڈیتھ کے پیچھے وجہ کیا ہے؟ خود کو سنبھالتے دونوں باپ بیٹا اگے بڑھے تو سامنے سے ہی اسے ساحل خان اتا دکھائی دیا ۔ ساحل خان وہ انسان تھا۔ جس سے دو دن بعد نور کی شادی تھی۔ نور کو سرخ لباس میں اپنی سیج پے سجا دیکھنے والا اب اسے سفید کفن میں دیکھ رہا تھا۔ ساحل وہیں لڑکھڑایا۔ اسے اپنی آنکھوں پے یقین نہیں آرہا تھا۔ کیسے وہ اسے چھوڑ کے جا سکتی تھی۔ ابھی کل اس سے بات ہوٸ تھی۔ساحل کی آنکھیں نم ہوٸیں۔ کلمہ شہادت۔۔۔! جنازہ اٹھایا جا چکا تھا۔ مت لے کے جاٶ میری بیٹی کو۔۔۔ میری بچی۔۔؟ شادی ہے اس کی ۔۔ اس کی تو رخصتی ہونی تھی۔۔ کیوں لے کے جا رہے ہو؟ مسز عابدہ حسن کی آوازوں اور دھاڑوں پے سبھی کی آنکھیں آنسوٶں سے بھر گٸیں۔💗قبر پے مٹی ڈالتے آریان کی آنکھوں سے بہتے آنسو بھی اس میں جذب ہونے لگے تھے۔ درد تکلیف کتنے پل وہ وہیں بیٹھا رہا۔ آری۔۔۔؟؟ اٹھو بیٹا۔۔ حسن خان نے اسے کندھے سے تھامے اٹھایا تھا۔ بابا۔۔ میری نور کو اندھیرے سے ڈر لگتا ہے۔۔ مجھے یہیں رہنے دیں۔۔ وہ خود پے ضبط کرتے بولا۔ حسن خان کی آنکھیں نم ہو گٸیں۔ وہ بھی اس کے ساتھ وہیں بیٹھ گۓ۔ یار۔۔ یہ دکھ اب کبھی ختم نہیں ہو گا۔۔ اب ساری زندگی اس دکھ کے ساتھ جینا ہو گا۔ بابا۔۔ اس کی عمر تھی کیا جانے کی؟ ایک بار بھی نہیں سوچا۔۔اس نے ہم کیسے جیٸیں گے اس کے بنا۔۔؟؟ آریان مسلسل قبر کو دیکھتا بولا۔ بیٹا۔۔۔ کس کس کو بتاٸیں گے کیا ہوا نور کے ساتھ؟ میری بچی کیا اتنی کمزور تھی۔ کہ خود کشی کر لے؟ لیکن کیوں۔۔؟؟ کیوں کیا اس نے کیا سب۔۔؟؟ اتنا بڑا قدم کیسے اٹھایا اس نے بابا۔۔؟ آریان کا انداز یکدم بدلا۔ وہ اپنی ٹون میں واپس پلٹا تھا۔ ظالم سفاک اور بے رحم آریان خان۔۔۔! تبھی سامنے ایک طرف بیٹھے آنسو بہاتے نظر ساحل خان پےجا ٹھہری۔ یکدم آریان ٰغصے سے اس کی جانب بڑھتے اس کا گریبان تھام گیا۔ بولو۔۔؟ بتاٶ۔۔ ایسا کیا غم تھا اسے۔۔؟ جو اس نے اتنا بڑا قدم أٹھایا۔۔۔ خود کو ہی ختم کر ڈالا۔ ساحل خان نے دانت پے دانت جماۓ آریان خان کو دیکھا۔ میری بہن کی شادی تھی۔۔ اور اس نے دو دن پہلے اپنی جان لے لی۔۔۔ تم تو جانتے ہو گے۔۔ ساحل خان۔۔؟؟ بتاٶ مجھے۔۔ کیا ہوا تھا؟ کیوں اس نے خود کو مارا۔۔؟ پلیز۔۔ بتاٶ مجھے۔ آریان سنبھالو خود کو۔۔! وہ کیا جانے ؟ وہ تو خود یہاں تمہارے سامنے ہے۔ سبھی نور کے اچانک اس دنیا سے چلے جانے کے صدمے میں ہیں۔ حسن خان نے آریان کے ہاتھ پیچھے ہٹاۓ۔ تو وہ بمشکل کنٹرول کر پایا۔ جب کہ ساحل خان بالکل ہی چپ تھا۔ جیسے اسے کسی چیز سے فرق ہی نہ پڑ رہا ہو. اس کا تو سب کچھ ہی ختم ہو گیا۔ ہر چیز سے دل اچاٹ ہو گیا۔ یہ دنیا چلتی رہے گی۔ ہر کہانی چلے گی نٸ کہانیاں بنیں گیں۔ لیکن ۔۔ نور حسن خان کی کہانی ختم ہوٸ تھی۔❤ نور۔ چلو یار دیر ہو رہی ہے۔۔ پھر کلاس شروع ہو جاۓ گی۔۔ اور پتہ ہے ناں۔۔ زرا سا لیٹ ہو گۓ۔ تو سر زوالفقار کتنا غصہ کریں گے۔۔۔! زرمش نے گم صم بیٹھی نور کو چونکایا۔ تو اس نے پلٹ کر زرمش کی جانب دیکھا اس کے چہرے پہ بہت پریشانی تھی زرمش آگے بڑھنے کی بجائے وہیں نور کے پاس بیٹھ گئی۔ کیا بات ہےنور؟ کوئی پریشانی ہے تو مجھے بتاؤ۔ زرمش نے بہت محبت سے پوچھا۔ کچھ خاص نہیں۔۔ بس۔۔ ایسے ہی دل اداس ہے۔ اس اداسی کو گولی مارو۔۔ چلو میرے ساتھ۔ زرمش نے اسے زبردستی اٹھایا۔ اوہ ہیلو۔؟ کہاں جا رہی۔۔؟؟ کرن نے انہیں جاتے دیکھا تو روکا۔ یار کلاس میں جا رہے ہیں۔۔ اور کہاں جانا۔۔۔؟ زرمش نے ماتھے پے بل ڈالے جواب دیا۔ تم نے ہر بات میں بولنا اپنا فرض سمجھا ہوا ہے۔۔؟؟ کرن نے منہ بنایا۔ ہاں۔تو۔۔؟ تمہارا نور کے ساتھ ہر وقت جونک کی طرح چپکے رہنا ضروری ہے کیا؟ زرمش نے بھی منہ بگاڑ کے کہا۔ یار تم تو ہٹو۔۔ ہر وقت منہ اٹھا کے بیچ میں آ جاتی ہو۔ کرن نے زرمش کو ایک طرف کرتے نور کا ہاتھ تھاما۔ زرمش نے اس کا ہاتھ جھٹکے سے چھڑایا کتنی بارکہا ہے نور سے دور رہا کرو۔۔ تمہیں ایک بار کی بات سمجھ نہیں آتی۔۔؟ زرمش غصہ سے بولتی ہق دق نور کو اپنے ساتھ لے گٸ۔ تمہیں تو نہیں چھوڑوں گی زرمش۔۔ ہر وقت نور کے سر پے سوار رہتی ہو۔۔ جو مرضی کر لو۔۔ تمہیں تمہارے مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دوں گی۔ کرن نے گہرا سانس بھرا۔ 💖 نور ابھی اپنی امی کے پاس سے اٹھ کے اندر آٸ تھی اس کے موباٸل پے مسلسل کال آرہی تھی۔ نمبر دیکھا تو لب بھینچے۔ دل پھر سے دھڑک اٹھا۔ کال کٹ گٸ تھی۔ نور۔۔۔؟ پلیز۔۔ میری بات سن لو۔۔ میرے لیے ساحل ہی سب کچھ ہے۔۔ تم اگر اس سے شادی کرلو گی۔۔ تو میرا کیا ہو گا؟ کیسی دوست ہو تم۔۔؟کیا اس رشتے سے انکار نہیں کر سکتی۔۔؟ اپنی دوست کی خاطر۔۔؟ سب مسیجز کو پڑھتے نور کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ کیا کروں میں اللہ۔۔؟ میرے اختیار میں کچھ نہیں۔۔ ساحل تو مجھ سے محبت کرتے ہیں ناں۔۔ اور میں بھی۔۔ پھر کیسے ان کو کسی اور کو سونپ دوں۔۔؟ نور کی آنکھیں آنسوٶں سے بھر گٸیں۔ نور۔۔؟؟ اگر تم نے میرے لیے یہ سب نہ کیاتو میں اپنی جان دے دوں گی اور میری موت کی زمہ دار تم ہو گی۔۔ ان باتوں کو نور نے اپنے دماغ پے اتنا سوار کر لیا۔ کہ اس نے سلیپنگ پلز کھا لیں۔ سلیپنگ پلز۔۔ ضرورت سے زیادہ کھانے سے اس پے ری ایکشن کر گٸیں۔ اور اس کی ڈیتھ ہو گٸ۔ آریان نے بیڈ کرواٶن سے ٹیک لگاٸ۔ آج دو دن ہو گۓ تھے۔ نور کی وفات کو وہ روزانہ اس کی قبر پے جاتا گھنٹوں وہاں بیٹھا رہتا یا زیادہ تر اس کا وقت مسجد میں گزرتا یا صدقہ خیرات میں۔ ہر وقت ہنسنے والی نور اب نہیں رہی تھی۔ مسز عابدہ کی حالت اب بہتر ہو گٸ تھی۔ ورنہ ہر دومنٹ بعد وہ نور کو یاد کرتیں بے ہوش ہو جاتیں تھیں۔ حسن خان کی دو ہی اولادیں تھیں۔ بڑا بیٹا آریان تھا۔ جو کہ ایک بہت بڑا وکیل تھا۔ اور اپنے بزنس میں وہ اپنے بابا کا لیگل ایڈواٸزر تھا۔ جب کہ نور اس سے پانچ سال چھوٹی تھی۔ اور بی ایس سی کے پیپرز دے چکی تھی۔ رزلٹ اس کا شادی کے بعد ہی آنا تھا۔ پر نہ شادی ہوٸ نہ رزلٹ آیا۔ اور موت کا فرشتہ آ گیا۔ آری بھاٸ؟؟ آری ۔ بھیا۔۔؟؟ رانیہ بھاگتے ہوۓ اندر آٸ آریان چونکا۔ اور اس کی جانب دیکھا۔ وہ۔۔ خالہ۔۔؟ آریان نے اس کی پوری بات سنے بنا ہی دروازے کی جانب قدم بڑھاۓ۔ اور سیدھا مسز عابدہ بیگم کے کمرے کی جانب بھاگا۔ وہ نور کو یاد کرتے پھر سے بے ہوش ہو گٸیں تھیں۔ آریان انہیں لیے ہاسپٹل پہنچا۔ انہیں آٸ سی یو۔ میں شفٹ کیا گیا۔۔۔ آریان دیوار کے ساتھ ٹیک لگاۓ اللہ سے دعا گو تھا۔ کیا ہوا۔۔؟؟ کیسی ہیں تمہاری مما۔۔؟ حسن صاحب نے آریان کو دیکھتے پوچھا۔ آٸ سی یو میں ہیں ڈاکٹر نے مسز عابدہ کا ٹریٹمنٹ کیا اور انہیں سٹرس لینے سے منع کیا۔ ان کا بی پی خطرناک حد تک شوٹ کر گیا تھا۔ شام تک انہیں ڈسچارج کر دیا گیا۔ آریان کافی وقت ان کے پاس بیٹھا رہا۔ وہ پھر سے رو رہی رہیں تھیں۔ بس اب آنسو بھی سوکھ گۓ تھے۔ آریان نے حسن صاحب نے انہیں بہت سمجھایا۔ لیکن وہ کسی کی سننے کو تیار ہی نہ تھیں۔ ان کا بس یہی کہنا تھا کہ ان کی بیٹی خود کشی نہیں کر سکتی ضرور کوٸ اور وجہ ہے۔ اور یہی بات آریان کو سوچنے پے مجبور کر رہی تھی اپنی شادی سے وہ بہت خوش تھی۔ کسی قسم کی اسے کوٸ پریشانی نہیں تھی۔ ساحل خان اس کی پسند تھا۔ تو وہ بھی ساحل خان کی پسند تھی۔ سب کچھ ٹھیک تھا۔۔ پھر غلط کہاں ہوا۔۔؟ آریان انہیں میڈیسن دیتا رانیہ کو ان کے پاس چھوڑتا خود نور کے کمرے کی جانب بڑھا۔ اس کا کمرہ کھولا تو ایک سناٹے نے اس کا استبقبال کیا۔ آریان کا دل چیر سا گیا۔ اس کے قدم آگے بڑھنے کو انکاری ہو گۓ۔اپنے اندر کے درد کو دباۓ وہ آگے بڑھتا اس کے بستر کو دیکھتا اس کی کتابوں کو دیکھنے لگا۔ اس کے سٹڈی ٹیبل کو دیکھتا وہ اپنے لب سختی سے بھینچ گیا۔ دراز کھولا۔ تو سامنے ہی نور کا موباٸل دکھاٸ دیا۔ اس کو دیکھاتو اس کی چارجنگ ختم تھی۔ نور کا موباٸل اپنے روم میں لاتا وہ چارجنگ پے لگا گیا۔ اور خود شاور لینے چلا گیا۔ 💔 ساحل خان۔۔! جب محبت تم سے کی ہے تو شادی بھی تم سے ہی کروں گی ناں۔۔؟ یہ تو نہیں کہ محبت تم سے کروں شادی کسی بھی راہ چلتے کر لوں؟ اپنی زبان کو لگام دو۔ تم دنیا کی آخری لڑکی بھی ہوٸ تو بھی تم سے شادی نہیں کروں گا۔ ساحل خان کے صاف جواب پے وہ پاگل ہوٸ تھی۔ اگر تم نے انکار کیا تو۔۔ میں تمہیں بھی مار ڈالوں گی۔ اور خود کو بھی۔ وہ لڑکی ہذیانی انداز میں چلاتے ساحل خان کا کالر دبوچ گٸ۔ شٹ اپ یو۔ اینڈ گیٹ لاسٹ فرام ہیٸر۔۔ ساحل خان اپنا کالر چھڑواتے پیچھے ہٹا۔ ساحل خان تم مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔ ساحل کو سیڑھیاں چڑھتے واپس اپنے روم کی جانب جاتے ہوئے دیکھ کے وہ لڑکی نیچے سے ہی چلائی ساحل خان نے اپنے لب بھینچے پلٹ کے اس کی جانب دیکھا اگر تم نہیں چاہتی کہ میں تمہارے خلاف کوٸ سخت ایکشن لوں تو فورا یہاں سے چلی جاؤ ورنہ تم جانتی نہیں ہو ایک بار اگر ساحل خان کا دماغ گھوم گیا تو تم نہیں بچو گی ساحل خان کی اس بات پر وہ لڑکی اپنے لب بھینچ گئی لیکن پھر بھی دل میں پکا تہیہ کر لیا کہ وہ باز نہیں ائے گی۔ 💗 زرمش اکیلے بیٹھے کیا کر رہی ہو ؟ چلو اؤ۔۔۔؟ میں تمہیں بلا رہی ہوں۔ سن کیوں نہیں رہی تم ؟ زرمش کی بھابھی نے اسے پکارا تو وہ یک دم چونکی جی بھابی۔۔۔ زرمش جب سے نور کی ڈیتھ ہوئی ہے تب سے تم بہت کھوئی رہنے لگی ہو۔ کیا بات ہے مجھے بتاؤ۔ اس کی بھابھی شانزے نے اس کا ہاتھ تھامے ہوئے اسے پوچھا نہیں بھابھی ایسا کچھ نہیں ۔ آپ جانتی ہیں نا نور سے میری کتنی دوستی تھی اور اچانک اس کے دنیا سے چلے جانا۔۔۔۔؟؟ ابھی تک دل یقین نہیں کر پا رہا کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں ہے۔ زرمش کی انکھیں بھیگ گٸیں۔ ہاں یہ تو ہے چھوٹی سی لڑکی اچانک اتنا بڑا قدم اٹھا لے۔ یقین نہیں اتا۔ شانزا کی بات پہ زرمش کی انکھیں آنسو بہا رہی تھیں۔ بھابی وہ مجھے بہت یاد اتی ہے اس کی چھوٹی چھوٹی باتیں اس کے ساتھ وقت گزارنا وہ ہنسی مزاق سب کچھ ختم ہو گیا۔ اس کے جانے کے بعد۔۔۔! زرمش روتے ہوئے شانزے کے گلے لگ گئی شانزا اسے تھپکی دینے لگی بس زرمش صبر رکھو۔ ہم سب سے لڑ سکتے ہیں لیکن اللہ تعالی سے نہیں۔ جس کا وعدہ جس وقت مقرر ہوا ہے اس نے اس وقت جانا ہے۔ شانزا نے اسے بہت محبت سے سمجھایا تو وہ گہرا سانس خارج کرتی ہے اثبات میں سر ہلا گئی سب دنیا والے سمجھا رہے تھے وہ خود بھی جانتی تھی لیکن اپنے دل کا کیا کرتی جو اج بھی اس بات یقین کرنے کو تیار نہیں تھا کہ نور دنیا میں نہیں رہی۔ 💗 آریان کے ہاتھ میں موبائل پکڑا ہوا تھا وہ تمام کنورسیشن تمام میسجز وہ سن چکا تھا وہ مقابل کا نمبر بھی جس نام سے سیو تھا وہ بھی دیکھ چکا تھا اس کے ہاتھ بہت بری طرح کانپ رہے تھے اسے یقین نہیں ارہا تھا کہ نور کے ساتھ اتنی بڑی بات ہو گئی اور وہ انجان تھا۔ اس کی بہن کو ذہنی ٹارچ کیا گیا ہے تاکہ وہ خود کشی کر لیتی۔ اور اس کی زمہ دار لڑکی کو وہ بالکل بھی چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ 💖 آج گھر میں دعا خیر تھی۔ نور کی ڈیتھ کو ایک ماہ ہو گیا تھا۔ مسز عابدہ نے نور کی تمام دوستوں کو بلوایا تھا جن میں زرمش بھی شامل تھی۔ کون ہے ان میں سے زرمش۔۔؟ آریان نے رانیا کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔ وہ اندر بیٹھی ہوئی ہے۔ تمام لڑکیوں میں سے کچھ کی تصویر لے کر ائی تھی اس میں تین لڑکیاں بیٹھیں قران خوانی کر رہی تھیں۔ رانیا نے ایک لڑکی کے اوپر اپنی انگلی رکھی۔ یہ سفید سکارف والی۔ رانیہ نے ڈرتے ڈرتے آریان کو بتایا آریان نے اس کے ہاتھ سے موبائل لے لیا۔ اب وہ وقت دور نہیں کہ نور کو انصاف ملے گا آریان دل ہی دل میں خود سے مخاطب ہوا۔ 💖 بھابھی اپ کیا کہہ رہی ہیں؟ ایسے اچانک کیسے وہ رشتہ لے کر ا سکتے ہیں میں تو نور کے بھائی کو جانتی بھی نہیں اور انہوں نے میرے لیے رشتہ بھیج دیا۔ ❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤ بھابھی اپ کیا کہہ رہی ہیں؟ ایسے اچانک کیسے وہ رشتہ لے کر ا سکتے ہیں میں تو نور کے بھائی کو جانتی بھی نہیں اور انہوں نے میرے لیے رشتہ بھیج دیا۔ زرمش ابھی تک حیران بیٹھی تھی جب کہ ڈرائنگ روم میں اج نور کے گھر والے آریان کے لیے نور کا رشتہ مانگنے ائے تھے۔ میرا خیال ہے تم نور کی گھر گئی تھی وہاں پہ تم انہیں پسند اگئی۔ اس لیے وہ تمہارا رشتہ لے آٸے ہیں۔ شانزے نے بہت محبت سے کہا چلو اجاؤ چاۓ تم نے ہی پیش کرنی ہے۔ شانزے کی بات پے زرمش الجھی۔ ان سب کے سامنے جاتے وہ گھبرا رہی تھی۔ نور کی والدہ عابدہ بیگم اور ان کی بہن نجمہ بیگم اور حسن صاحب تھے۔ زرمش کو پسند کرتے ہی انہوں نے اسے زرمش کے والدین کی اجازت سے اسے انگوٹھی بھی پہنا دی۔ ان کے جانے کے بعد ہی زرمش کو پتہ چلا کہ نور کی ہی یہ خواہش تھی۔ کہ زرمش اس کی بھابھی بنے اور یہی وجہ انہوں نے بتاٸی۔ کہ وہ صرف اور صرف نور کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے زرمش کو یہاں سے بیاہ کر لے کے جائیں گے۔ حال ہی میں ان کی بیٹی کی ڈیتھ ہوئی تھی اس لیے انہوں نے بہت ہی سادگی سے سب کچھ کرنے کو کہا تھا زرمش کے گھر والوں کو آریان اور اس کی فیملی بہت لگی۔ اس لیے انہوں نے آریان کی تصویر دیکھتے ہوئے ہاں کردی۔ اتنی اچھی فیملی کو وہ انکار نہیں کر سکے اور ان کے کہنے کے مطابق کہ یہ نور کی خواہش ہے۔ زرمش کے گھر والوں نے حامی بھر لی۔ زرمش کے ابو ابرار صاحب ایک سرکاری سکول میں ملازمت کرتے تھے ان کے تین بیٹیاں تھیں جن میں سے زرمش کا نمبر دوسرا تھا پہلی بیٹی کی منگنی ہوئی تھی جبکہ تیسری بیٹی نے ابھی کالج میں داخلہ لیا تھا۔ ایک بیٹا تھا ولید وہ ملک سے باہر ہوتا تھا۔ شانزے اس کی ہی بیوی تھی۔ اپنے ہاتھ میں پہنی انگوٹھی کو دیکھتی ہوئی زرمش بہت زیادہ حیران تھی بیٹا یہ نور کی خواہش تھی کہ تم اس کی بھابی بنو۔ عابدہ بیگم کے الفاظ یاد کرتی زرمش نے بے اختیار اپنا سر ہتھیلیوں پہ گرایا ایسا کیسے ممکن ہے اگر نور کا ارادہ ہوتا تو وہ یقینا مجھ سے ضرور اظہار کرتی اس نے کبھی زندگی میں مجھ سے ایسی کوئی بات نہیں تھی کہ وہ مجھے اپنی بھابی بنانا چاہتی ہے۔۔ پھر کیوں؟؟ سوچ سوچ کر زرمش کا دماغ سن پڑ گیا۔ ابھی نور کو اس دنیا سے گئے ہوئے ایک ماہ ہی تو گزرا تھا اور وہ اپنے بیٹے کی شادی کر رہے تھے۔ بھلے سادگی سے کر رہے تھے لیکن۔۔۔ ارادہ تو باندھ لیا تھا۔ زرمش اپنے والدین کی خوشی دیکھ چپ ہو کے رہ گٸ۔ انہوں نے تین تین بیٹیاں بیانی تھی بڑی بیٹی اصفہ کی شادی کے ابھی دور دور تک کوئی امکان نہیں تھے کیونکہ عشرت پھپھو چاہتی تھیں کہ اصفہ اچھا خاصا جہیز لے کر ائے اور جب تک وہ ان کے جہیز کی ڈیمانڈ پوری نہیں کر پاتے اصفہ کو وہ رخصت کر کے نہیں لے کے جانا چاہتی تھیں۔ آصفہ سے تین سال چھوٹی زرمش تھی۔ ابرار صاحب نے اس رشتے کو دل و جان سے قبول کیا اور شادی کی تیاریاں شروع ہو گٸیں۔ ❤ آریان خان اپنے افس میں بیٹھا ایک فائل دیکھ رہا تھا کہ پیون نے اسے ساحل خان کے انے کی اطلاع دی۔ ساحل خان کے انے کا سن کر آریان خان کے ماتھے پہ بل پڑے۔ لیکن آریان خان نے اسے اندر انے کی اجازت دےدی۔ آریان خان مبارک ہو۔ ابھی بہن کو اس دنیا سے گئے ایک ماہ نہیں ہوا اور تم شادی رچانے جا رہے ہو۔ ساحل خان نے اندر اتے ہی آریان سے طنز کیا۔ تم کون ہوتے ہو میری لائف کے بارے میں اتنا ڈیپلی سوچنے والے؟ میں کیا کر رہا ہوں کیا نہیں کر رہا۔۔ تمہیں اس سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے۔ آریان نے غصے سے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے کہا۔ مجھے مطلب نہیں ہونا چاہیے۔۔؟ بھول گئے اپنی بہن کی قبر کے پاس کھڑے ہو کر تم نے میرا گریبان تھاما تھا۔ مجھ پہ الزام لگایا تھا ۔ کیا اج میں تم پہ الزام لگا دوں؟ ساحل خان اس سے پہلے کہ میرا دماغ گھومے۔ یہاں سے چلے جاٶ۔۔۔ آریان خان کسی کو بھی اپنے کسی بھی عمل کا جواب دہ نہیں۔ چلا جاؤں گا بلکہ میں یہ ملک ہی چھوڑ کر جا رہا ہوں خوش رہو۔ ایڈوانس شادی مبارک۔۔ ساحل خان دکھی دل سے کہتا انہی قدموں پہ باہر نکل گیا جب کہ آریان خان نے ٹیبل پہ پڑا پیپر ویٹ اٹھا کے زور سے دروازے پہ مارا اس وقت کوئی اگر اسے غصے میں دیکھ لیتا تو اسے دہشت کھا جاتا اس کے اندر کون سا راز تھا۔ اسے وہی جانتا تھا۔💖 نہ مہندی ہوئی نہ مائیوں بٹھایا گیا ڈائریکٹ نکاح کی سنت ادا کی گئی کسی بھی قسم کا کوئی شور شرابہ نہیں ہوا انہوں نے واقعی بہت سادگی کے ساتھ سب کچھ کیا۔ زرمش ابرار بنت محمد ابرار اپ کا نکاح آریان خان ولد حسن خان کے ساتھ ایک لاکھ سکہ راٸج الوقت پایا ہے کیا اپ کو یہ نکاح قبول ہے؟ مولوی صاحب کے الفاظ پہ زرمش نے دھڑکتے دل کے ساتھ قبول ہے کہا۔ زرمش ابرار بنت محمد ابرار اپ کا نکاح آریان خان ولد محمد حسن خان کے ساتھ ایک لاکھ روپے سکہ راٸج الوقت طے پایا کہ اپ کو نہیں نکاح قبول ہے۔ مولوی صاحب نے دوبارہ سے اپنے الفاظ دہرائے اور زرمش نے پھر قبول ہے کہا تیسری بار بھی قبول ہے کہتے ہوئے زرمش نے ان نکاح نامے کے پیپرز پر سائن کیا تو اس کی انکھوں سے بے اختیار انسو بہہ نکلے اج احساس ہو رہا تھا کہ دنیا تو صرف امیروں کی ہے مڈل کلاس لوگ تو صرف ان کے اشاروں پہ ناچتے ہیں اس کے ماں باپ نے بھی ان کی دولت دیکھی اور اسے آریان کے لیے راضی کر لیا۔ مبارکباد کا شور اٹھا تو سبھی نے زرمش کو گلے سے لگا کر مبارکباد دی۔ ارے اتنے امیر لوگ ہیں اور لڑکی کو سوٹ کون سا پہنایا ہے کیا کوئی مہنگا سوٹ نہیں لا سکتے تھے اصفہ کی ساس عشرت پھپھو نے زرمش کے لباس کو دیکھتے ہوئے ٹونٹ کیا۔ کیسی باتیں کر رہی ہیں اپا ان کی جوان جہاں بیٹی فوت ہوئی ہے اب وہ اتنے دھوم دھام سے تو کرنے سے رہے۔ زرمش کی والدہ اسما نے دھیرے سے جواب دیا۔ ارے اگر اتنا ہی دکھ تھا تو شادی کی اتنی جلدی کیوں مچائی؟ تھوڑا انتظار کر لیتے کچھ ارمان بھی ہوتے ہیں لڑکی والوں کے بھی ہائے ہائے۔۔۔ شادی روز روز تھوڑی نہ ہوتی ہے حق مہر بھی صرف ایک لاکھ روپیہ اتنے امیر تھے کم سے کم 10 لاکھ تو لکھوا لیتی تم۔؟ عشرت پھپھو کافی اونچی اواز میں اپنی رائے کا اظہار کر رہی تھیں۔ جبکہ پاس بیٹھی زرمش کے سسرال والے بھی ان کی باتیں سن رہے تھے لیکن بالکل خاموش تھے۔ اچھا اپ پلیز ان باتوں کو رہنے دیں کھانا کھاتے ہیں اسمہ بیگم انہیں وہاں سے ہٹاتے ہوئے باہر لے گٸیں۔ جب کہ ان کی باتوں نے زرمش یہ دل میں گرہ سی ڈال دی جو بھی تھا وہ صحیح کہہ رہی تھی بہت عام اور سادہ سا سوٹ تھا جو اس نے اپنے نکاح پہ پہنا تھا اور اب اسی میں اس کی رخصتی ہو رہی تھی ایسا لگ رہا تھا جیسے شادی نہیں اس کا جنازہ لے کے جا رہے ہیں۔ زرمش اپنے ماں باپ کے گلے لگی تو ان سے ملتے خود بخود آنسو بہنے لگے۔ اسمہ بیگم کی انکھیں بھی انسو سے بھر گئیں۔ جہیز میں بیٹی کو انہوں نے صرف نقد رقم ہی دی تھی۔ جہیز لینے سے انہوں نے بالکل انکار کر دیا تھا کیونکہ ان کے گھر ہر چیز موجود تھی اس وجہ سے وہ صرف زرمش کو لے کر جا رہے تھے اور وہ زرمش کو کیوں لے کر جا رہے تھے یہ راز ابھی کھلنا باقی تھا۔ 💖 زرمش کو خان حویلی رخصت کر کے لایا گیا۔ تو کسی قسم کی کوٸ رسم ادا نہ کی گٸ۔ بہت ہی خاموشی کے ساتھ رانیہ کے ساتھ زرمش کو آریان کے کمرے میں بھیج دیا گیا۔ زرمش کو سب کچھ بہت عجیب سا ہی لگ رہا تھا۔ ایک دھڑکا سا لگ گیا تھا جیسے یہ خاموشی طوفان سے پہلے کی تھی۔ اس بڑے سے سٹاٸلش کمرے میں اس راٶنڈ بیڈ پے وہ دلہن بنی براجمان تھی۔ جب کہ دل کی دھڑکنوں کا شور کانوں میں بجتا سناٸ دے رہا تھا کافی رات ہو گٸ تھی۔ لیکن آریان کے آنے کے کوٸ آثار ہی نہ دکھاٸ دے رہے تھے۔ رات کا ایک بج رہا تھا۔ زرمش بالآخر تھک کے خود ہی اٹھ گٸ۔ اور ڈرسینگ کے سامنے جاکھڑی ہوٸ۔ ڈرسینگ پے جوود ہر چیز امپورٹڈ تھی۔ زرمش نے کسی چیز کو بھی ہاتھ نہ لگایا۔ بلکہ اپنا براۓ نام زیور اتار کے ایک طرف رکھ دیا۔ ابھی وہ دوپٹہ اتار کے ہاتھوں میں تھامے اپنے سراپے کو آٸینے میں دیکھ رہی تھی۔ اس سادہ سے دلہن کے سوٹ میں بھی اس پے بے انتہا روپ آیا تھا۔ وہ تھی بھی بہت خوبصورت۔ کشف۔۔؟ اللہ نے تو تمہیں بہت فرصت سے بنایا ہے۔ میں تو تمہیں جی بھر کے دیکھتی بھی نہیں۔ کہ کہیں میری دوست کو میری ہی نظر نہ لگ جاۓ۔ نور کی باتیں یاد کرتے وہ سر جھکاۓ زخمی ہنسی ہنس دی۔ کشف! جس دن تم دلہن بنو گی۔ تمہارا دلہا تو تمہارے اوپر فلیٹ ہو جاۓ گا۔ تم سادگی میں اتنا غضب ڈھاتی ہو۔ دلہن بن کے کیا ہی لگو گی۔۔۔؟ زرمش نے گہرا سانس بھرا۔ آنکھوں سے اب باقاعدہ آنسو بہنے لگے۔ سفید نازک سے ہاتھ جن پے مہندی لگنی تھی۔ بالکل خالی تھی۔ کلاٸیاں سونی تھیں۔ کچھ بھی تو ایسا نہ تھا جو دلہن جیسا ہو۔ ابھی وہ انہی سوچوں میں غلطاں تھی کہ دروازہ کھولتے آریان اندر داخل ہوا۔ یکبارگی زرمش نے پلٹ کے اس کی جانب دیکھا۔ جب کہ ہاتھ میں تھاما دوپٹہ ہاتھ میں ہی رہ گیا۔ اس کا دلکش سراپا فٹنگ والے ڈریس میں قیامت برپا کیے ہوۓ تھے۔ لیکن سامنے آریان خان تھا۔ جس کے خود کے اندر ایک قیامت برپا تھی۔ اس قیامت سے لڑتے لڑتے وہ جوالہ مکھی بنا اس وقت کمرے میں داخل ہوا۔ بہت افسوس ہو رہا ہے ناں خود پے؟ وہ ملک چھوڑ کے چل گیا۔ جس کی دلہن بننے کے خواب تم نے دیکھے؟ آریان کی بات پے زرمش کے ماتھے پے بل پڑے۔ ایسے اتنا حیران ہو کے نہیں دیکھو۔۔ ورنہ جو سزا دینے والا ہوں۔ اس میں مزید سختی آجاۓ گی۔ آریان کے نفرت و حقارت بھرے لہجے پے ناچاہتے ہوۓ بھی زرمش کی آنکھیں آنسوٶں سے بھرنے لگیں۔ نہ نہ۔۔ اپنی ان خوبصورت آنکھوں کو آنسوٶں میں مت بھگونا۔ کیونکہ آریان خان۔۔ کسی بھی زرمش نامی لڑکی پے رحم نہیں کر سکتا۔ اور تم پے تو بالکل نہیں کرے گا۔ سختی سے اس کا گال دبوچے اس کے آنسو پونچھنے لگا۔ کیا کر رہے ہیں؟ چھوڑیں مجھے۔ وہ بمشکل اپنا جبڑا چھڑاتی پیچھے ہٹی تھی۔ تمہیں کیا لگا۔۔۔ نور راستے سے ہٹ گٸ ہے تو اب تم ساحل خان کو پا لو گی۔ ایییککک منٹ۔! ساحل خان کہاں سے آگیا بیچ میں؟ زرمش نے حیرانی سے پوچھا۔ وہ نہیں ۔۔ تم آٸ۔۔ آریان دھاڑا تھا۔ تم آٸ بیچ میں۔ ساحل اور نور کے بیچ میں۔۔ آریان خان کی بات پے زرمش تو اپنی جگہ پے بالکل ساکت ہی ہو گٸ۔ یہ۔۔ یہ کیا بکواس کر رہے ہیں؟ میرے ساتھ بات کرتے اپنی زبان کو لگام دینا۔۔ ورنہ تمہاری یہ زبان سلامت نہیں رہنے والی۔ جارحانہ انداز میں اس کی جانب بڑھا کہ وہ دیوار سے جا لگی۔ آپ کیوں مجھے ڈرا رہے ہیں۔۔؟ ایسی باتیں کیوں کر رہے ہیں؟ میں نے کیا کیا ہے؟ اب کی بار لہجے میں بے بسی تھی۔ کیا کیا ہے؟ اتنی تم انجان۔۔! میری بن کو رستے سے ہٹا کر اسکی جگہ لینی چاہی۔۔ اتنی تمہیں ساحل خان سے جنونی محبت تھی کہ یہ سوچ تک نہ آٸ کہ نور کو بلیک میل کر کے تم نے اس کی زندگی ہی لے لی۔ مار ڈالا میری بہن کو اب تم تڑپو گی۔اور تمہیں میں تل تل تڑپا کے ماروں گا۔ اس کا دوپٹہ اس کے ہاتھ سے کھنچا تو زرمش کی چینخ نکل گٸ۔ زرمش نے بے بسی اور کرب سے اسے دیکھا۔ چھوڑیں مجھے۔۔ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔۔ مجھ پے الزام ہے یہ۔۔! زرمش نے اپنا دوپٹہ آریان کے ہاتھوں سے کھینچنا چاہا۔ جسے آریان نے اپنی طرف زور سے کھینچا وہ سیدھا اس کے سینے سے جا لگی۔ میری بہن کی ڈیتھ ہوٸ ہے۔ صرف تمہاری وجہ سے۔۔ تم نے مجبور کیا اسے خود کشی کرنے پے۔۔ بہت شوق ہے ناں۔۔ تمہیں دوسروں کے منگیتر سے عشق لڑانے کا۔۔ اب اپنے زبردستی کے شوہر کے ساتھ اپنے اندر کی آگ کو ٹھنڈا کرو۔۔ بتاٶ۔۔ کہاں سے شروع کروں؟ آریان کی بات پے زرمش کا روم روم کانپ اٹھا۔ آپ کو اللہ کا واسطہ ہے پلیز۔۔ ایسا کچھ مت کہیں۔۔ کہ میں خود سے بھی نظریں نہ ملا پاٶں۔۔ وہ روتے بلکتےاپنے دوپٹے کو کھنچتے منتیں کر رہی تھی۔ تم ابھی آریان خان کو جانتی نہیں۔۔۔! اسلیے اپنا جرم قبول نہیں کر رہی۔ جب تمہیں جیتے جی موت کے حوالے کروں گا۔ تب خود بتاٶ گی کہ کیوں کیا تم نے ایسا۔ وہ اسے بستر پے زور سے پٹخ گیاآپ چاہیں مجھے جان سے مار ڈالیں۔ لیکن میں یہی کہوں گی۔۔ یہ سب جھوٹ ہے۔ الزام ہے۔ وہ ہذیانی انداز میں چلاٸ۔ اک منٹ تم ایسے تو نہیں مانو گی۔۔۔ آریان نے آگے بڑھ کر دراز میں سے نور کا موباٸل نکالا۔ اس میں تمام چیٹ کھول کے زرمش کے آگے پھینکی۔ اب بول دو۔۔ یہ نمبر تمہارا نہیں ہے۔۔ یہ سب تم نے نہیں لکھا؟ اسکی بات سنتے زرمش نے موباٸل اٹھا کے دیکھا جیسے جیسے وہ مسج پڑھتی جا رہی تھی۔ اس کے رونگٹے کھڑے ہو گۓ۔ اگر تم ہمارے بیچ میں سے نہ ہٹی۔ تو میں مر جاٶں گی۔ زرمش کے نام سے تھے سب میسجز۔۔۔! زرمش نے حیرانی اور بے یقینی سے آریان کو دیکھا۔ اب بھی نہیں مانو گی۔۔؟؟ تم قاتل ہو۔۔۔ میری بہن کو تمہاری ان باتوں نے مار ڈالا زرمش ابرار۔۔ اس کی دھاڑ پے زرمش سہم کے پیچھے ہٹی۔ یہ۔۔ میرا نمبر نہیں ہے۔ وہ ڈرتے ڈرتے بولی۔ اچھا۔۔ میسج کے اینڈ ہے جو نام لکھا ہے وہ بھی خود لکھا گیا؟ آریان نے اس کا دوپٹہ ہاتھوں مں لپیٹتے دانت کچکچاتے پوۓ بولا۔ نہیں۔۔ مجھے نہیں پتہ۔۔ یہ سب کیسے۔۔؟؟ پلیز آری ار۔۔۔۔ مجھے مت ڈراٸیں۔ میں سچ میں کہہ رہی ہوں۔ مجھے نہیں پتہ۔ کچھ بھی۔ وہ دیوار میں سماتی شدت سے رو دی۔ وہ اس کے دنوں اطراف ہاتھ رکھتے زرمش کو محصور کر گیا۔ زرمش نے ڈر کے مارے سانس ہی روک لی۔ کیوں کیا تم نے ایسا۔۔۔؟ دوست تھی ناں وہ تمہاری۔۔؟ پھر کیوں؟ تکلیف پہنچاٸ؟ بولو۔۔؟ جواب دو۔۔؟؟ وہ پھنکارا تھا۔ اگر ایسا۔۔ہوتا تو آپ سے شادی کیوں کرتی میں؟ زرمش ہچکیوں سے رو رہی تھی۔ اگر ایسا ہوتا تو میرے لیے سب راستے صاف تھے ناں۔ میں پھر اسی شخص سے شادی کرتی ناں۔۔۔ آپ سے نکاح کیوں کیا میں نے؟ آپ کو کیوں میرے والدین نے چن لیا؟ زرمش کی بات سنتے ایک پل کو آریان چپ سا ہو گیا۔ وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھی۔ اگر اسے ساحل سے محبت ہوتی۔۔۔ تو وہ پھر اتنے شارٹ نوٹس پے اس سے کیوں شادی کرتی۔۔؟؟ انکار کر دیتی۔۔ مجھے گمراہ مت کرو۔۔۔ تمہارا بس چلتاتو تم ساحل خان سے ہی شادی کرتی۔ لیکن نور کے جانے کے بعد ساحل خان نے تمہیں اور تمہاری محبت کو دھتکار دیا اینڈ۔۔ یو ہیو نو آپشن۔۔۔ سو۔۔ یو ڈیساٸیڈ۔۔ کہ چلو یار۔ وہ نہ سہی۔ یہی سہی۔۔ تم جیسے مڈل کلاس لوگوں کو محبت سے کیا لینا دینا۔۔ تمہیں تو بس۔۔ پیسہ چاہیے۔۔ جس نے پیسہ پھینکا۔ اسی کو پلیٹ میں سجا کے خود کو پیش کر دیا۔ دور ہٹیں مجھ سے۔۔۔ اچانک سے زرمش نے اسے پیچھے کی جانب پش کیا۔ کہ وہ زرا سا لڑکھڑاہا۔ یو آر سِک۔۔۔ زرمش کو اس کی باتوں سے سخت تکلیف پہنچی تھی۔ ایم سک۔۔؟ یو آر بلڈی۔۔۔ وہ اسے لیے بستر پے پٹخ گیا۔ اپنی قمیض کو غصہ سے چاک کرتے وہ اس پے سایہ فگن ہوا۔ اس پل آریان کا دماغ بری طرح گھوما تھا۔ چھوڑیں مجھے۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔ وہ تڑپ کے پیچھے ہٹی۔ لیکن آریان کی سخت گرفت سے خود کو چھڑا نہیں پاٸ۔ اس کی دونوں کلاٸیوں کو بستر کے اطراف میں پن کرتے وہ اس پے شدت سے حاوی ہوا تھا۔ کہ زرمش سسک کے رہ گٸ۔ وہ جتنی مزاحمت کرتی آریان کی شدتوں میں اتنا ہی اضافہ ہو جاتا۔ کمرے میں سسکیوں کی گونج پے زرمش کا رونا بھی شامل تھا۔ لیکن آریان کے عمل میں صرف نفرت اور غصہ تھا۔ اتنے دنوں سے اپنے اندر پل رہے غبار کو اس نے اس معصوم لڑکی پے اپنی وحشت کی صورت اتار دی۔ وہ ہچکیاں بھرتی رہ گٸ۔ 💖 ساحل خان اٸیرپورٹ پے موجود تھا۔ ابھی اناٶنسمنٹ نہیں ہوٸ تھی۔ ہ ایک چٸیر پے بیٹھا گہری سوچ میں ڈوبا ہا تھا وہ جانتا تھا۔ کہ وہ یہاں سے ہمیشہ کے لیے جا رہا ہے۔ یہ ملک چھوڑ کے۔۔۔ یہاں رہتا تو نور کی یادوں سے چھٹکارا نہیں پا سکتا تھا۔ گہرا سانس بھرتا وہ چٸیر کے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھا کہ اسی پل اسے اپنا نام سناٸ دیا۔ پلٹ کے دیکھا تو وہ لڑکی آنکھوں میں آنسو لیے اس کے پاس کھڑی تھی۔ ساخل خان کو حیرانی ہوٸ اتنی رات گۓ وہ یہاں اکیلی اٸیرپورٹ پے کیا کر رہی تھی۔ اس کے گھر والوں نے اسے اس وقت نکلنے کیسے دیا۔ ساحل خان کی آنکھوں میں لکھے سوال کو پڑھتی وہ اسکے پاس ہی ایک چٸیر پے ٹک گٸ ایسے مت دیکھںیں ساحل۔۔۔ محبت پے کسی کا زور نہیں۔۔ مجھے آپ سے ملنا تھا تھا سو میں آگٸ۔ یقیناً چھپ کے آٸ ہو گی۔۔؟؟ گھر والوں کو دھوکہ دے کر۔۔۔ ساخل خان کے لہجے کا طنز وہ لڑکی بخونی سمجھ گٸ تھی۔ پلیز۔۔ مت جاٸیں۔۔ میں نہیں رہ سکتی آپ کے بنا۔۔؟؟ وہ رو رہی تھی۔ وہ انا پرست لڑکی رو رہی تھی۔ اپنی محٕبت کی بھیک مانگ رہی تھی۔ ساحل استھزاٸیہ ہنسی ہنسا۔ تم چاہے مر کے بھی زندہ ہو جاٶ۔۔ تب بھی ساحل خان کی محبت کو نہیں پا سکو گی۔ اس لیے بہتر ہو گا۔ یہاں سے چلی جاٶ۔۔ ساحل خان کے پاس تمہیں دینے کو کچھ بھی نہیں۔۔ ساحل خان نے لب بھینچے کہا۔ جس لڑکی کے لیے آپ جیتے تھے اب وہ اس دنیا میں نہیں رہی پھر کیوں مجھے ٹھکرا رہے ہیں؟ مان جاٸیں ناں ساحل۔۔خان۔؟ میں آپ کو ہمیشہ خوش رکھوں گی۔ ایک بار مجھ پے بھروسہ تو کر کے دیکھیں۔ میں۔۔ آپ کو نور کو بھلا۔۔؟؟ یہی تو میں نہیں چاہتا۔۔ اس نے سختی سے بات کاٹی۔ نور میرے دل سے میری روح تک میں سرایت کر چکی ہے۔ بھلے اس کا وجود اس دنیا سے ختم ہو گیا۔ اور میرا ایمان ہے جو اس دنیا میں آیا وہ چلا بھی جاۓ گا۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے ہر ایک نے پورا کرنا ہے۔ لیکن۔۔۔ محبت ہمیشہ رہتی ہے۔۔ میں بے وفا تو نہیں۔۔ کہ نور کے جانے کے بعد کس کو بھی اپنا لوں۔۔۔؟ ااس کیات پے وہ لڑکی تڑپی۔ اس نے بے وفاٸ نہیں کی۔۔؟؟ تمہیں چھوڑ کے موت کو گلے لگا لیا؟ اپنے آپ کو مار ڈالا۔ اس کی بات ہے ساحل خان نے برجستہ اسے دیکھا۔ تمہیں کیسے پتہ اس نے خودکشی کی ہے؟ ساحل کی بات پے وہ لڑکی پتھراٸ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔ سب یہی کہہ رہے ہیں۔۔ کہ اس نے سلیپنگ پلز لیں تھیں۔۔ وہ لڑکی سر جھکاۓ بولی۔ اور وہ ایسا کیوں کرے گی۔۔ پھر تو تم وہ وجہ بھی جانتی ہو گی۔۔۔ آخر دوست تھی اس کی۔۔؟؟ ساحل خان نے سپاٹ انداز میں پوچھا تو اس لڑکی کا دل زوروں سے دھڑکا۔ میں کیا جانوں۔۔؟ مجھ سے زیادہ گہری دوستی تو اس کی زرمش کے ساتھ تھی۔ جسے نور کا بھاٸ بیاہ کے اپنے گھر لے گیا۔ اس کے نام کی اناوٸنسمنٹ ہو رہی تھی۔ وہ لڑکی تڑپ کے اسے دیکھے گٸ۔ پلیز ساحل خان مت جاٶ۔۔ میری محبت کو ٹھکرا کے۔۔! وہ اس کے آگے ہاتھ جوڑ گٸ۔ لیکن ساخل لب بھینچے اٹھا اور وہاں سے اپنی منزل کی جانب بڑھ گیا۔ آپ غلط کر رہے ہیں ساحل خان۔۔ آپ بہت پچھتاٸیں گے۔۔ وہ لڑکی چلاٸ تھی۔ ساحل کے قدم رکے تھے۔ ساحل۔۔! ایک بات کہوں آپ سے؟ مانیں گے؟ تم ہزار باتیں کہو۔۔ تمہاری ہر بات مانوں گا۔ ساحل۔۔۔ کل کو اگر مجھے کچھ ہوا۔۔۔ تو آپ میری دوست سے شادی کر لینا۔۔۔ اچھا۔۔۔؟ کونسی دوست سے۔۔؟ ساحل نے اس کی بات کو مذاق میں لیا تھا۔ جو آپ سے اظہار محبت کرے گی۔ اسے اپنا لینا۔۔۔ تم پاگل تو نہیں ہوٸ کیا بولے جا رہی ہو؟ محبت کوٸ کھیل تماشا ہے کیا؟ کبھی ایک سے کبھی دوسرے سے؟ فضول کی سوچیں تمہارے دماغ میں آتی کہاں سے ہیں؟ ساحل نے اسے فون پے ڈانٹا۔ اس میں فضول کیا ہے؟ ساحل۔۔ موت تو برحق ہے۔۔ کیا پتہ۔۔ کتنی زندگی ہے ہماری۔۔؟؟ کیا میرے جانے کے بعد ساری زندگی اکیلے جیو گے؟ ہاں۔ جی لوں گا۔۔ اب خبردار کوٸ بھی غلط بات کی۔۔ بہت دل دکھا چکی ہو عشا۔۔ اب کوٸ غلط بات نہ نکالنا منہ سے۔ پلیز۔۔ ساحل۔۔ نہ جاٸیں۔۔ میری محبت کی خاطر مجھے اپنا لیں۔۔۔ نور کی خاطر مجھے اپنا لیں پلیز۔۔ ساحل۔۔۔؟ وہ رو رہی تھی۔ اٸرپورٹ پے اس وقت بہت کم لوگ موجود تھے۔ ایسے میں ان ہے دھیان بھی کسی خاص کا نہ گیا۔ ساحل خان نے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچے اس ضدی لڑکی کو دیکھا۔ غصہ سے اسے بازو سے تھامے وہ اٸیر پورٹ سے باہر نکلا۔ اسے لیے سیدھا اپنی گاڑی کی جانب بڑھا۔ وہ لڑکی پل میں گھبراٸ۔ ساحل۔۔؟ کہاں لے کے جا رہے ہیں مجھے؟ اس کی گھٹی گھٹی آواز سناٸ دی۔ جب کہ ساحل خان نے گاڑی کا رخ خان منشن کی جانب موڑ دیا تھا۔ صبح کے چار بج رہیے تھے جب وہ خان منشن کے اندر داخل ہوا۔ اس پل۔۔ خان منشن میں مکمل سناٹا تھا۔ اس لڑکی کے چہرے پے ہواٸیاں اڑیں۔ 💝💝💝💝💝💝💝💝 اپنے اندر کی بھڑکتی آگ کو ٹھنڈا کرتے آریان گہری نیند میں تھا۔ جیسے بہن کی موت کا بدلہ لے لیا ہو۔ پہلو میں لیٹی لڑکی سسک رہی تھی ۔ کتنی بے دردی سے اس شخص نے اسے جھنجھوڑا تھا۔ کہ اس کی روح تک زخمی ہو گٸ تھی۔ کرب سے آنکھیں میچ کے کھولیں۔ تو ساتھ سوۓ آریان پے نظر جا ٹھہری جو اس کی جانب اوندھے منہ کروٹ لیے گہری نیند میں تھا۔ زرمش اسے دیکھتی نفرت سے رخ پھیر گٸ۔ اس کی شرٹ کو اپنےجسم پے دیکھ کے اس کے اندر چنگاریاں سی بھر گٸیں۔ دھیرے سے بستر سے اٹھتے اس نے پلٹ کے ایک نظر اس انسان کے روپ میں چھپے شیطان کو دیکھا۔ آریان خان۔۔ محبت کا تو پتہ نہیں۔۔ لیکن زرمش ابرار کو آپ سے شدید نفرت ہو گٸ ہے۔۔ آپ نے جو میرے ساتھ کیا۔۔ اس کے بعد میں آپ کو بھی معاف نہیں کروں گی۔ وہ سسکتے ہوۓ ایک ایک قدم بہت آرام سے اٹھاتے باتھ روم کا رخ کر گٸ۔ اسی پل آریان خان کی آنکھ کھلی۔ اس نے کروٹ بدلی۔ اس کا دل یکدم بے چین ہوا۔ اس نے رات اپنی وحشت اس نازک لڑکی کے جسم پے اتاری تھی۔ غصہ اس قدر شدید تھا کہ وہ سب بھول گیا۔ یاد تھی تو بس ایک بات۔۔ اس لڑکی کی وجہ سے نور نے خود کشی کی۔ اس کو ساحل خان چاہیے تھا۔۔ اس بات نے آریان کے اندر شعلے سے بھڑکا دٸیے۔ اور ان شعلوں میں اس نے اس معصوم کی نسوانیت کو رول دیا۔ آریان نے اپنے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ اور اپنی جگہ سے اٹھتا ڈریسنگ روم میں بند ہوا۔ جب باہر واپس آیا تو تب بھی زرمش باتھ روم سے نہیں نکلی تھی۔ زرمش۔۔؟؟ زرمش۔؟ کم آٶٹ۔۔؟ وہ اسے پکار رہا تھا۔ لیکن آواز ندارد۔۔ دروازے پے زرا سا پش کیا تو وہ کھلتا چلا گیا۔ آریان فوراً اندر داخل ہوا۔ شاور آن تھا۔ جب کہ وہ نیچے گری ہوٸ تھی۔ آریان نے آگے بڑھ کے فوراً اسے اٹھایا۔ زرمش۔؟ أاوپن یور آٸیز۔۔ وہ خود بھی پوری طرح بھیگ گیا۔ زرمش بے ہوش تھی۔ اس کے جسم پے آریان کی سفید ٹی شرٹ تھی۔ وہ کانپ رہی تھی۔ آریان نے ٹھنڈے پانی کا شاور بند کرتے گرم پانی کا شاور آن کیا۔ پاگل لڑکی۔ اسے اپنے سینے سے لگاۓ وہ کھڑا ہوا۔ اب وہ دونوں ہی نیم گرم پانی میں بھیگتے جا رہے تھے۔ اس کو اپنے ساتھ مکمل طور پے لگاۓ وہ آنکھیں میچے کھڑا تھا۔ اگر ایسا۔۔ہوتا تو آپ سے شادی کیوں کرتی میں؟ زرمش ہچکیوں سے رو رہی تھی۔ آریان کے دل کو جیسے کسی نے ہنٹر سے مارا تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو میرے لیے سب راستے صاف تھے ناں۔ میں پھر اسی شخص سے شادی کرتی ناں۔۔۔ آپ سے نکاح کیوں کیا میں نے؟ آپ کو کیوں میرے والدین نے چن لیا۔ اس کی باتوں کو یاد کرتا وہ بری طرح گہرے سانس بھرے لگا تھا۔ اگر یہ لڑکی سچی ہوٸ تو؟ اس بات نے آریان کو بری طرح بے چین کر دیا۔نہیں۔۔ یہ جھوٹی ہے۔۔ اس کے میسجز پڑھے ہیں میں نے نور کے موباٸل میں۔۔ اس نے خود اظہارِ محبت کیا ہے۔ اور اسی دوستی کی لاج رکھتے نور نے خود کو مار ڈالا۔ میں اس لڑکی کو معاف نہیں کر سکتا۔۔ جی تو چاہتا ہے تمہیں جان سے مار ڈالوں۔ لیکن۔۔ نہیں۔۔ تمہیں ہر رات سسک سسک کے ماروں گا۔ بہت متلاشی تھی ناں تم ساحل خان کی قربت کی۔۔؟اب تمہیں اپنی قربت میں اتنا تڑپاٶں گا۔ اتنا رلاٶں گا۔ کہ پناہ مانگو گی تم۔۔! شاور کا ٹیپ بند کرتا وہ اسے بانہوں میں بھرے اس کی شرٹ کو بھی اس کے تن سے جدا کر گیا۔ اس کے بے ہوش وجود کو دیکھتے بھی آریان کو اس پے ترس نہیں غصہ آ رہا تھا۔ جتنا آریان کو غصہ تھا۔ ابھی اتنی شدت سے اس پے چھایا تھا۔ اس کے لبوں ہے شدت سے جھکتا وہ اس کی سانسوں کو چرا گیا۔ بے ہوشی میں سانسوں پے دباٶ پڑتا محسوس ہوا تو وہ تڑپ کے رہ گٸ۔ بے اختیار ہوش میں آتے ہی آریان کو خود سے پرے جھٹکنا چاہا۔ لیکن آریان نے اس کے دونوں ہاتھ دیوار کے ساتھ پن کرتے اس کی سانسوں پے مکمل قابض ہو گیا۔ اور اس پل وہ بہت شدت سے اس کی سانسوں کو چراتے روف شاور آن کر گیا۔ زرمش نے پینک ہوتے اسے اپنے جسم سے اسے پرے جھٹکنا چاہا۔ کہ اگلے ہی پل وہ اسے اپنے قابو کر گیا۔ 💖 کیا تماشا ہے یہ صبح صبح۔۔؟ ساحل خان کا شور سنتے مسٹر حسن خان باہر نکلے تھے۔ ساحل خان نے اس لڑکی کو زور سے ان کی جانب دھکا دیا کہ وہ لڑکھڑا کے حسن خان کے قدموں میں جا گری۔ اگر اپنے خاندان کی لڑکی کو قابو نہیں کر سکتے تو راہ چلتے کسی کتے کے آگے ڈال دیں۔ یا پٹہ ڈال کے گھر میں بٹھاٸیں۔۔ ساحل خان۔۔؟؟ حسن خان غصہ سے للکارے۔ نہیں حسن خان۔۔ آج نہیں۔۔ آج بس۔۔ ہو گٸ ہے۔۔ نور نے خود کو مار ڈالا۔۔ اس لڑکی کی وجہ سے۔۔! ساحل خان نے تڑپ کے اس کی جانب اشارہ کیا۔ جو بے یقین نظروں سے ساحل کو ہی دیکھ رہی تھی۔ اور آپ نے۔۔۔؟؟ آپ نے اس کو پناہ دی ہوٸ ہے؟ آپ نے آستین میں ناگن پال رکھی ہے۔ ابھی بھی وقت ہے سنبھل جاٸیں۔ اور سنبھال لیں اپنے گھر کو۔۔ ورنہ یہ ناگن۔۔ کہاں کہاں سے ڈسے گی۔ آپ کو بھی نہیں پتہ لگے گا۔ کیا بکواس کر رہے ہو؟ بکواس میں نہیں کر رہا۔ پوچھیں اس سے۔ آدھی رات کو میرے پیچھے اٸیر پورٹ پے یہ کیا کرنے آٸ تھی؟ ❤ آریان کی شدتوں سے نڈھال ہوتی زرمش نے اپنا سر آریان کے سینے پے ٹکا دیا۔ وہ رک رک کے سانس بھرتی آریان کو ہوش کی دنیا میں واپس لے آٸ۔ میں بے قصور ہو آری ار۔۔ مجھ پے اتنا ظلم مت کریں۔۔ وہ بلک بلک کے رو دی۔ آریان نے اسے بالوں سے پکڑے گردن پیچھے کی طرف جھٹکی۔ اس کی آنکھیں بند تھیں۔ مجھے تم پے یقین نہیں۔۔ وہ اس کی گردن ہے جھکا اس پے اپنی دہشت کے نشان چھوڑ رہا تھا۔ آپ کو۔۔ جب۔۔حقیقت کا پتہ چلے گا۔۔ آپ۔۔ مجھ سے معافی مانگیں گے آری ایان۔ لیکن۔۔ میں۔۔ آپ کو معاف نہیں کروں گی۔۔ وہ سسکتے ہوۓ آریان کو باور کروا رہی تھی۔ لیکن آریان کان سیے اس کی بات کا جواب دٸیے بنا اسے اپنی شدتوں سے ہلکان کر گیا۔ نجانے اتنا غصہ کہاں سے بھر آیا کہ آج وہ اس نازک وجود کی دھجیاں اڑا گیا۔ آنے والے وقت سے بے خبر۔۔ جب کہ وہ آنے والے وقت میں خود کو اس عمل کے لیے کبھی معاف نہیں کرنے والا تھا۔ 💖 حسن خان نےپلٹ کے اس گری ہوٸ لڑکی کو دیکھا۔ جو اپنا آپ سنبھالتی اٹھ کھڑی ہوٸ تھی۔ ساحل خان جو کہہ رہا ہے کیا وہ سچ ہے؟ حسن خان کی غصیلی آواز پے اس لڑکی کے رونگٹے کھڑے ہوگۓ مسز عابدہ بھی باہر نکل آٸیں۔ دوسری طرف سے رانیہ بھی شور سنتی باہر آٸ تھی۔ آپی۔۔؟؟ رانیہ کی پکار ہے وہ پلٹی۔ لب بھینچے اسے دیکھا۔ انکل۔۔۔۔ یہ۔۔ جھوٹ بول رہے ہیں۔ مجھے نہیں پتہ۔۔ یہ۔۔ کیا بات کر رہے ہیں۔۔ وہ سرے سے ہی مکر گٸ۔ ساحل خان نے زخمی مسکان سے حسن خان کو دیکھا ۔ دیکھ لیا؟ سنا آپ نے۔۔؟ جو لڑکی اٸیر پورٹ پے سب لوگوں کے سامنے آ کے اپنی محبت کا اظہار کرے۔۔ اور پھر گھر والوں کے سامنے آتے ہی مکر جاۓ اسے آپ کیا کہیں گے؟ ساحل خان کی بات پے حسن خان کے اندر جیسے شرارے سے بھڑکے تھے۔ وہ پلٹے اور ان کا ہاتھ اٹھا تھا۔ کرن نے گال پے ہاتھ رکھے انہیں حیرت سے دیکھا۔ صبح کی روشنی دھیرے دھیرے خان منشن میں پھیلتی جا رہی تھی۔ تاریک رات کا سایہ ہٹ رہا تھا۔ ہاں۔۔ ہاں میں ساحل خان سے پیار کرتی ہوں۔ بے انتہا پیار کرتی ہوں۔ کہ اس کی خاطر جان دے بھی سکتی ہوں۔ اور جان لے بھی سکتی ہوں۔ وہ غصہ سے سب کے سامنے اپنی محبت کا آج برملا اظہار کر گٸ۔ سیڑھیوں کے پاس کھڑے آریان پے تو جیسے پورے مشن کی چھت آن گری تھی۔ وہ ابھی ابھی باہر آتا کرن کے آخری الفاظ سن چکا تھا۔ اور وہیں سیڑھیوں پے ہی جم گیا۔ آپ کو۔۔ جب۔۔حقیقت کا پتہ چلے گا۔۔ آپ۔۔ مجھ سے معافی مانگیں گے آری یان۔ لیکن۔۔ میں۔۔ آپ کو معاف نہیں کروں گی۔۔ زرمش کے سسکتے ہوۓ الفاظ یاد کرتے آریان کی آنکھوں میں مرچیں سی بھر گٸیں۔ میری محبت کسی کو دکھاٸ نہ دی۔ سب کو نور اور ساحل کا رشتہ جوڑنا تھا۔ مجھے ساحل چاہیے تھا۔ میں نے۔۔ میں نے نور کو سمجھایا۔۔ اسے ساحل کے خلاف کیا پر وہ نہ مانی۔۔ ہاں وہ مان جاتی آجاتی میری باتوں میں۔ لیکن اس زرمش نے۔۔ اس کو مجھ سے دور رکھا۔۔ وہ بیچ میں آ کے سارا کچھ خراب کر گٸ۔ تب۔۔ میں نے پلان بی کا سوچا۔ ایک ہی تیر سے دو شکار کھیلے۔ ایک ان ناٶن نمبر سے نور کو زرمش بن کے مسیجز کیے۔ نور زرمش سے بے انتہا محبت کرتی تھی۔ اور مجھے پکا یقین تھا زرمش کی خاطر ہی سہی وہ پیچھے ہٹ جاۓ گی۔ اور اگر۔۔ اس نے کل کو راز کھولا تو زرمش پے بات آۓ گی۔ پر۔۔ وہ بزدل اپنی جان لے لے گی۔ یہ نہیں تھا پتہ۔۔۔ کرن کی باتیں آریان کے دل کے پار ہو رہی تھیں۔ اسے خود سے شدید نفرت ہو رہی تھی۔ رات گزرے تمام لمحات جس میں وہ لڑکی سسک سک کے اپنے بے گناہ ہونے کی صفاٸیاں دے رہی تھی۔ ان لمحوں کو وہ سوچتا مر رہا تھا۔ اب نور چلی گٸ ہے تو اس میں میرا کیا قصور۔۔؟؟ ختم کرے ناں اس ٹاپک کو۔۔۔ اور آگے بڑھیں سب۔۔ اس نے خود کو خود ختم کیا۔کسی نے اسے مجبور نہیں کیا۔ وہ۔۔؟ ابھی کرن کے الفاظ منہ میں تھے۔ کہ آریان غصہ سے آگے بڑھتے اسے گردن سے جکڑ گیا۔ اس کی آواز حلق میں ہی دم توڑنے لگی۔ وہاں موجود سبھی گھر والوں نے اسے گھبرا کے دیکھا۔ آری ۔۔؟ آری ۔۔ چھوڑو اسے۔۔ حسن صاحب نے اسے پیچے ہٹانا چاہا۔ لیکن آریان کی گرفت سخت سے سخت تر ہوتی جا رہی تھی۔ اس کی نازک گردن ہے مسلسل دباٶ بڑھانے پے کرن کی آنکھیں ابل کے باہر آ رہی تھیں۔ ساحل خان نے سر نفی میں ہلاتے آریان کو بمشکل پیچھے ہٹایا۔ وہ اپنا گلا پکڑے کھانستی چلی گٸ۔ رانیہ نے آگے بڑھ کے بہن کو تھمنا چاہا۔ لیکن نور کی ڈیتھ نے اسکے قدم جکڑ یے۔ دل نے کہا یہ اس قابل نہیں کہ اس سے ہمدردی کی جاۓ۔ آنکھوں میں آنسو لیے رانیہ رخ پھیر گٸ۔ آریان نے پاس پڑی کانچ کی ٹیبل پے اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں بناتے زور سے مارا۔ کہ وہ چھناکے سے ٹوٹ گیا۔ آری ۔۔۔؟؟ عابدہ بیگم کی چینخ بلند ہوٸ۔ انہوں نے دہلتے دل سے بیٹے کے اس عمل کو دیکھا۔ جس کے دونوں ہاتھ لہو لہان ہو چکے تھے۔ اور دل۔۔ دل تو شاید مردہ ہو رہا تھا۔ عابدہ بیگم لڑکھڑاٸیں۔ تو رانیہ نے فوراً انہیں سنبھالا۔ آری بھیا۔۔؟؟ وہ چلاٸ۔ آریان سمیت سب کی نگاہ عابدہ بیگم پے جا ٹھہریں۔ مما۔۔؟؟ وہ ان کی طرف لپکا۔ جو ہوش و حواس کھوتیں نیچے گر رہی تھیں۔ رانیہ انہیں سنبھال نہیں پا رہی تھی۔ ساحل نے آگے بڑھ کے انہیں تھاما۔ وہ ان کے پاس ہی کھڑا تھا۔ آریان کے ہاتھوں میں کانچ چبھا ہوا تاھا وہ ماں کو بے بسی سے دیکھتا رہ گیا۔ ساحل خان ایک منٹ کی دیر کیے بنا انہیں ہاسپٹل کے لیے لے کے نکلا۔ آریان اور حسن خان بھی ساتھ تھے۔ آج وقت نے ثابت کیا تھا خان منشن کے درویوار اتنے مضبوط نہ تھے کہ جتنا حسن خان سوچ کے بیٹھے تھے۔ بہت افسوس ہے آپ پے آپ۔۔ آپ نے ایک انتہاٸ گھٹیا حرکت کی ہے۔ جس کی کوٸ معافی نہیں۔۔ آپ جیسی دوست اللہ کسی دشمن کو بھی نہ دے۔۔ کاش۔۔۔ آپ۔۔ میری بہن نہ ہوتیں۔۔ جس تھالی میں کھایا اسی میں چھید کر دیا۔۔ رانیہ نے لب بھینچے اسے کہا۔ کرن کی آنکھیں آنسوٶں سے بھری ہوٸ تھیں۔ افسوس۔۔ صد افسوس۔۔ آپ کی وجہ سے نور اس دنیا سے چلی گٸ۔۔ کشف۔۔ بدلے کی بھینٹ چڑھ گٸ۔ رانیہ کی بات پے کرن کا سر جھک گیا۔ سبھی جانتے تھے آریان نے یہ شادی کسی خاص وجہ سے کی ہے۔ بہن کی وفات کو ایک ماہ ہوا تھا سب نے روکا۔ کتنا منع کیا لیکن وہ باز نہ آیا۔ گھر والوں کی مرضی کے بنا زرمش کو رخصت کر کے خان منشن لے آیا۔ آپ کی سزا موت سے بھی بدتر ہونی چاہیے۔ رانی۔۔؟؟ کرن نے تڑپ کے اسے پکارا۔ مت نام۔لیں میرا۔۔ نفرت ہو رہی ہے مجھے آپ سے۔۔ ! چلی جاٸیں یہاں سے۔۔ اپنی شکل لے کے دفعان ہو جاٸیں یہاں سے۔۔ رانیہ نے غصہ سے چلاتے ہوۓ کہا اور واپس سیڑھیوں کی جانب بڑھی۔ جہاں زرمش آنکھوں میں آنسو لیے کھڑی تھی۔ ایک پل کو رانیہ کا دل دہل گیا۔ کتنا کرب تھا اس کی آنکھوں میں۔۔ ایک ہی رات میں اس کے چہرے پے زردیاں گھلی ہوٸ تھیں۔ اس کے گالوں پے اور گردن پے آریان کی شدتوں کے نشان چینخ چینخ کے کہہ رہے تھے۔ کہ اپنے ناکردہ گناہ کی سزا وہ بھی بھگت چکی ہے۔ ایک دوست نے دو دوستوں کو برباد کر دیا تھا۔ زرمش۔۔ بھابھی۔۔؟؟ رانیہ اس کی آنکھوں میں کرب دیکھتی اس کے پاس آٸ۔ جب کہ زرمش کی نظریں کرن پے تھیں۔ اور کرن بھی یک ٹک اسے ہی دیکھے جا رہی تھی۔ 💖 آپ سے پہلے بھی کہا تھا۔ ان کا خیال رکھیں۔ کسی بھی قسم کے سٹریس سے دور رکھیں۔ بار بار بی پی شوٹ کر جانا۔۔ سخت خطرے کا باعث ہے۔ پر آپ نے کسی بات کو سیریس نہیں لیا۔ ڈاکٹر ناراض سی لگیں۔ حسن صاحب زبردستی آریان کے ہاتھوں پے بینڈیج کروا رہے تھے۔ جب کہ ساحل ڈاکٹر کی بات سنتا لب بھینچ گیا۔ ان کی صحت کا خیال رکھیں۔۔ اور جتنا ہو سکتا ہے انہیں خوش رکھنے کی کوشش کریں۔ ورنہ۔۔؟؟ ڈاکٹر انہیں کہتی چلی گٸ۔ ساخل نے دیوار کے ساتھ ٹیک لگاتے اپنی آنکھیں موند لیں۔ نور۔؟؟ کیوں چلی گٸ تم۔۔؟ ایک بار بھی میرے بارے میں نہیں سوچا۔۔؟ زرا خیال نہیں کیا میری محبت کا۔۔؟ دو آنسو ٹوٹ کے گالوں پے بہے۔ اپنی محبت کو یاد کرتا وہ مضبوط اعصاب کا مالک شخص رو رہا تھا۔ 💔 دو ماہ بعد۔ دھیرے دھیرے سب معمول پے آگیا۔ کرن نے خود کو قانون کے حوالے کر دیا۔ زرمش نے اس دن اسے وہ آٸینہ دکھایا جس میں وہ اپنی شکل دیکھ کے بری طرح ڈر گٸ تھی۔ تم نے اپنی دنیا اور آخرت دونوں برباد کیے ہیں۔ کرن۔ تم اللہ سے معافی مانگو گی۔۔ تمہیں معافی کیسے ملے گی۔۔؟؟ جب تک نور تمہیں معاف نہیں کرے گی۔ اور اس سے معافی تمہیں اس دنیا میں تو کبھی نہیں ملے گی۔ اپنی سزا خود منتخب کرو۔ کرن۔۔ ورنہ دنیا کے ساتھ آخرت بھی کھو دو گی۔ زرمش کی باتوں سے اس کے دل پے ہنٹر پڑا تھا۔ کہ وہ اپنے اللہ سے ڈر گٸ۔ وہ لمحے یاد کیے جب وہ زرمش بن کے نور کو مسیجز کیا کرتی تھی۔ اپنے سینے کو جھنجھوڑے وہ سسکتے ہوۓ زرمش کو دیکھے جا رہی تھی۔ جس کی آنکھوں میں اسے اپنے لیےصرف دکھ اور حقارت نظر آٸ مجھے معاف کر دو زرمش۔۔۔؟ میں دنیاوی محبتوں میں بہک گٸ تھی۔ خدا کا واسطہ یے۔۔ تم معاف کردو۔۔؟ اس نے زرمش کے سامنے ہاتھ جوڑے۔ پر اب زرمش کو اس کی معافی نہیں چاہیے تھی۔ زرمش نے رخ پھیر لیا۔ اس کی بہنوں جیسی دوست۔۔ اس دنیا سے چلی گٸ کرن نے اس کا نام لے کے نور کو بلیک میل کیا۔ کاش نور۔۔ تم ایک بار مجھ سے ڈاٸریکٹ بات کر لیتی۔۔ مجھ سے پوچھ لیتی۔ وہ سیڑھیاں چڑھتی سپاٹ انداز میں اوپر جا رہی تھی۔ تم مجھے عجیب نظروں سے دیکھنے لگی تھی۔ لیکن۔۔ مجھ سے کچھ بھی نہ کہا۔ کاش میں ہی سمجھ جاتی۔۔؟ تمہارے اندرونی خلفشار کو۔۔ تمہاری تکلیف کو۔۔ وہ بستر پے ایک طرف ڈھے سی گٸ۔ کیسی دوست ہوں میں۔۔؟ تم سے دوستی کا دعوی کرتی رہی۔۔ اور یہ بھی نہ جان سکی۔ کہ تم کس قدر اضطراب کا شکار ہو۔ نظریں بھٹک کے بستر پے جاٹھہریں۔ تو آنسو رخساروں پے بندھ توڑے پھر سے بہتے چلے گۓ۔ آریان نے جس قدر اس کے جسم کو اس کی روح کو روندھا تھا۔ وہ اندر تک مر گٸ تھی۔ نور تو اس دنیا سے جانے کےبعد سب کے لیے مر گٸ تھی۔ وہ جیتے جی مر گٸ تھی۔ آریان اس کا سامنا نہیں کر سکا تھا اس لیے بنا اس سے بات کیے اس سے معافی مانگے وہ دبٸ چلا گیا۔ آج اسے گۓ تقریباً دو ماہ ہونے والے تھے۔ عابدہ بیگم سے وہ روزانہ بات کرتا۔ جس میں وہ اسے واپس بلاتیں۔ زرمش کا حوالہ دیتیں۔ اس کا نام سن کے آریان کی دھڑکنیں معمول سے ہٹ جاتیں۔ وہ اس رات کو یاد کرتا۔ جس میں اس نے اپنے اندر کی درندگی اس معصوم اور بےگناہ پے اتاری تھی۔ وہ خود کو خود معاف نہیں کر پا رہا تھا۔ تو زرمش سے کیا معافی مانگتا؟ وقت بہت بڑا مرہم ہے۔۔ شاید۔؟ ایسا سنا تھا۔ آریان نے۔۔ لیکن آج اسے محسوس ہو رہا تھا۔ جب زخم ناسور بن جاۓ تو پھر وقت بھی اسے نہیں بھر پاتا۔ آج عابدہ بیگم کا فون آیا تو انہوں نے جو بتایا اس کے بعد آریان ایک پل کو بھی دبٸ نہ رک سکا۔ اور پہلی فلاٸیٹ سے پاکستان پہنچا۔ 💖 اب کیسی ہیں آپ؟ بھابھی کتنی دفعہ کہا ہے آپ سے۔۔؟ کہ کہیں بھی جانا ہو تو۔۔ مجھے بلایا کریں۔ اب میں یہیں آپ کے پاس رہوں گی۔ آپ کو اکیلا نہیں چھوڑوں گی۔ رانیہ نے زرمش کی بیک کے پیچھے تکیہ رکھتے ہوۓ محبت سے کہا۔ کل۔وہ گر گٸ تھی۔ لیکن بچت ہو گٸ تھی۔ میں ٹھیک ہو رانی۔۔! جس کو میرے پاس ہونا چاہیے۔ وہ تو ہیں نہیں۔۔ تم پے کیا بوجھ بنوں؟ زرمش کا لہجہ روندھ گیا۔ آپ آری بھاٸ کو فون کر کے بلا لیں ناں۔۔؟ کیا پتہ وہ انتظار میں ہوں۔۔؟ نہیں رانی۔۔ انہیں جانا چاہیے تھا کیا؟ انہیں اگر اپنی غلطی کا احساس ہوتا تو وہ کبھی نہ جاتے۔۔ شاید وہ شرمندہ ہوں۔۔؟ رانی کی بات پے زرمش نے دکھی انداز میں اسے دیکھا۔ شرمندگی ہوتی تو کبھی نہ جاتے۔۔ معافی مانگتے۔۔۔ زرمش نے روندھے لہجے میں کہتے سر جھٹکا۔ اسی پل دروازہ کھولتے آریان اندر داخل ہوا رانیہ اور زرمش نے ایک ساتھ گردن موڑ کے آنے والے کو دیکھا۔ رانیہ کے چہرے کو مسکان نے چھوا تو زرمش نے اپنا رخ موڑ لیا۔ رانیہ خاموشی سے سلام کرتی باہر نکل گٸ۔ آریان نے دھیرے دھیرے قدم اس کی جانب بڑھاۓ جو اپنا رخ دوسری جانب موڑے بیٹھی تھی۔ زرمش۔۔۔؟ اس کا نام۔پکارنے ہے ہی زرمش کی آنکھوں سے آنسو بھل بھل گرنے لگے۔ تو چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپاۓ پھوٹ پھوٹ کے رو دی۔ آریان نے بنا کچھ کہے اس کے پاس بیٹھتے اسے اپنے سینے سے لگایا۔ زرمش نے خود کو چھڑنا چاہا۔ لیکن آریان کی سخت گرفت سے خود کو چھڑا نہ پاٸ۔ کچھ پل گزرے۔ کہ زرمش کے آنسو خود بخود ہی رک گٸ لیکن اس کا جسم اب بھی کانپ رہا تھا۔ معاف کر دوگی؟ اپنے ظالم شوہر کو؟ آریان کے لہجے پے زرمش نے بنا اسے دیکھے اس کے گلے کے گرد بانہیں حماٸل کیں۔ ایک سکون سا اس کے پورے رگ و پے میں اترا۔ اس سکون کے لیے وہ پچھلے دو ماہ سے ترس رہی تھی۔ آنکھیں موندے اس نے آریان کی آغوش میں گہرا سانس بھرا۔ مجھے پتہ ہوتا میری چھوٹی سی جان مجھے اتنا مس کر رہی ہے۔ تو میں ایک لمحے کی دیری کیے بنا اپنی جان کے پاس پہچ جاتا۔ آریان نے اس کی ناک کی ٹپ پے اپنے لب رکھتے مسکرا کے کہا۔ آپ بہت برے ہیں۔۔ آپ نے مجھے ہرٹ کیا پھر مجھے چھوڑ کے چلے گٸے۔۔۔؟ زرمش کا لہجہ پھر روندھ گیا۔ جانتا ہوں۔ اور یہ بھی جانتا ہوں۔ تم تو شاید مجھے معاف کر دیتی لیکن میں خود کو کیسے معاف کرتا؟ آریان نے اداسی سے کہا۔ پھر اب کیوں آۓ۔۔؟ وہی دلربا انداز۔۔ کہ آج آریان اس کے انداز ہے دل و جان سے قربان ہو رہا تھا۔ تم اپنا خیال کیوں نہیں رکھ رہی تھی؟ جانتی بھی ہو۔۔ کس حال میں ہو؟ پھر بھی؟ اس کے پیٹ پے دھیرے سے ہاتھ پھیرتے وہ گھبیر لہجے میں بولا۔ اچھا۔۔ تو آپ کو اولاد کی کشش کھینچ لاٸ۔۔؟ اور مجھے لگا۔۔ آپ؟ زرمش کا لہجہ پھر سے روندھ گیا۔ ایسا مت سوچنا زرمش۔ ایسا ہوتا تو پندرہ دن پہلے تمہارے پاس ہوتا۔۔۔ جب مجھے مما نے بتایا۔۔ آریان کی بات پے زرمش نے حیرت سے اسے دیکھا تو۔۔ اب کیوں آٸے۔۔؟ جاٸیں واپس۔۔ وہاں دبٸ میں۔۔ وہیں رہیں۔۔ نہ آپ کو میری پرواہ یے نہ بچے کی۔۔۔! وہ نروٹھے انداز میں بولی۔ مجھے اپنی زرمش کی بھی پرواہ ہے اور اپنی نور کی بھی۔ آریان نے اس کے لبوں پے ہلکا سا بوسہ دیا۔ تو وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔ ہممم۔۔ ہماری بیٹی عشا۔۔! آریان نے آنکھیں میچےکہا۔ تو زرمش بھی نم آنکھوں سے مسراتے ہوۓ اثبات میں سر ہلاتے اس کے سینے سے لگی۔ نور کسے بھولی تھی۔۔؟ کسی کو بھی تو نہیں۔۔ آج بھی سب اسے یاد کرتے تھے۔۔ اور شاید۔۔ یہ کمی اب ایک ننھی پری نور ہی دور کر سکتی تھی۔ کرن کو سزا ہوگٸ تھی۔ جب کہ ساحل ملک چھوڑ کے چلا گیا۔ کچھ محبتیں ادھوری ہی رہ جاتی ہیں کیونکہ دل میں جب کسی ایک کی جگہ بن جاۓ پھر اس میں کوٸ اور داخل نہیں ہو سکتا۔ محبت کے بعد محبت ممکن ہے وقت گزاری کے لیے۔۔۔ کسی کو ٹوٹ کے چاہنا زندگی میں ایک بار ہوتا ہے ختم شد

Leave a Reply