Tumhein Jo Main Ne Dekha By Nimra Sial – ZNZ

✨ Saray E Mohabbat By FJ ✨
مکمل ناول تمہیں جو میں نے دیکھا نمرہ سیال “آپ کے زبردستی بلانے پر میں کچھ دن کے لیے آیا ہوں، اب اسمارہ کو طلاق دے کر ہی واپس جاؤں گا۔” اسامہ کے اس جملے نے جیسے کمرے کی فضا کو منجمد کر دیا تھا۔ ماں جان چند لمحوں تک اس کا چہرہ دیکھتی رہیں جیسے یقین نہ آ رہا ہو کہ ان کے بیٹے نے ابھی کیا کہا ہے۔ “اسامہ۔۔۔تمہیں اندازہ ہے تم کیا کہہ رہے ہو؟” انہوں نے دھیرے سے پوچھا۔ اسامہ نے کندھے اچکائے تھے۔ “جی بالکل۔ میں صرف سچ کہہ رہا ہوں۔ میں اس رشتے کو نہیں مانتا۔ بچپن میں ہوا نکاح کوئی نکاح نہیں ہوتا۔” ماں جان کے چہرے پر تکلیف ابھر آئی تھی۔ یہ نکاح ان کے سسر یعنی اسامہ کے دادا جان کی آخری خواہش تھا۔ اس وقت اسامہ صرف بارہ سال کا تھا اور اسمارہ دس سال کی۔ اسامہ کو تو شاید یاد بھی نہ ہو، مگر اسمارہ نے اس دن کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت بنا لیا تھا۔ “تم سات سال بعد واپس آئے ہو۔۔۔اور آتے ہی یہ اعلان؟” “میں سچ چھپا نہیں سکتا ماں۔ میری زندگی انگلینڈ میں ہے۔ وہاں میری اپنی دنیا ہے۔ میں یہاں صرف آپ کے اصرار پر آیا ہوں۔” کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ اسی لمحے باتھ روم کا دروازہ کھلا۔ اور ایک لڑکی باہر نکلی۔ اس کے گیلے بال کمر تک بکھرے ہوئے تھے۔ چہرہ معصوم اور گڑیا جیسا تھا۔ سفید لباس میں وہ واقعی کسی خواب جیسی لگ رہی تھی۔ اسامہ کی نظریں چند لمحوں کے لیے اس پر ٹھہر گئیں۔ “ماں جان! یہ کون ہے؟” ماں جان نے اس کی نظریں محسوس کر لی تھی۔ تتبھی نہوں نے جان بوجھ کر سنجیدہ لہجے میں کہا۔ “اگر پسند ہے تو اسمارہ کو طلاق دے کر اسی سے شادی کروا دیتی ہوں۔” اسامہ کا منہ حیرت سے کھل گیا۔ “کیا؟!” وہ لڑکی بھی چونک کر ماں جان کو دیکھنے لگی۔ پھر وہ آہستہ سے بولی۔ “ماں جان! یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ؟” اسامہ نے اس لڑکی کو غور سے دیکھا تھا۔ پھر الجھن سے بولا۔ “لیکن، اسمارہ کہاں ہے؟” ماں جان نے گہری سانس لی۔ اور خاموشی سے کہا۔ “یہی اسمارہ ہے۔” اسامہ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ “یہ۔۔۔اسمارہ؟” اس کے ذہن میں اسمارہ کی جو تصویر تھی وہ ایک دبلی سی، شرمیلی بچی کی تھی جو ہر وقت اس کے پیچھے پیچھے گھومتی رہتی تھی۔ مگر سامنے کھڑی لڑکی۔۔۔ وہ تو کسی کہانی کی شہزادی لگ رہی تھی۔ اسامہ نے نظریں ہٹا لیں۔ “بہت فرق پڑ گیا ہے۔” اسمارہ نے اس کی بات سن لی تھی۔ وہ خاموشی سے مسکرائی۔ “وقت سب کو بدل دیتا ہے۔” اس کی آواز نرم تھی مگر لہجے میں عجیب سی سنجیدگی تھی۔ ماں جان نے ماحول بدلنے کی کوشش کی۔ “چلو کھانا لگ گیا ہے۔ سب ڈائننگ ٹیبل پر آ جاؤ۔” مگر اسامہ کے ذہن میں ایک ہی بات گھوم رہی تھی۔ طلاق۔ کھانے کے دوران اسمارہ بہت کم بولی تھی۔ وہ صرف سب کو سرو کرتی رہی۔ اسامہ نے محسوس کیا کہ وہ پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔ وہ خاموش تھی۔۔۔مگر کمزور نہیں۔ کھانے کے بعد اسامہ اپنے کمرے میں چلا گیا۔ چند منٹ بعد ہی دروازے پر دستک ہوئی۔ اسامہ نے دروازہ کھولا۔ سامنے اسمارہ کھڑی تھی۔ اس کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا۔ “آپ کی چائے۔” اسامہ نے کپ لے لیا۔ پھر سیدھا بولا۔ “مجھے تم سے بات کرنی ہے۔” “مجھے اندازہ ہے کس بارے میں۔” وہ پرسکون تھی۔ اسامہ نے سیدھا سیدھا کہا۔ “میں طلاق چاہتا ہوں۔” چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔ پھر اسمارہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ “ٹھیک ہے۔” اسامہ چونک گیا۔ “تمہیں کوئی اعتراض نہیں؟” “کیوں ہونا چاہیے؟” وہ آہستہ سے بولی۔ “رشتہ زبردستی نہیں چلتا۔” اسامہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہاں کوئی آنسو نہیں تھے۔ کوئی شکوہ نہیں۔ بس ایک عجیب سی خاموشی تھی۔ “تو تم مان جاؤ گی؟” “اگر یہی آپ چاہتے ہیں۔” وہ مڑنے لگی۔ مگر پھر رک گئی۔ “ویسے ایک بات پوچھوں؟” اسامہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔ “کیا؟” اسمارہ نے سیدھے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ “اگر آپ مجھے کبھی جانتے ہی نہیں تھے۔۔۔تو نفرت کس بات کی ہے؟” اسامہ کے پاس جواب نہیں تھا۔ اسمارہ خاموشی سے وہاں سے چلی گئی۔ رات بھر اسامہ کو نیند نہیں آئی۔ اسے بار بار اسمارہ کی آنکھیں یاد آ رہی تھیں۔ وہ آنکھیں جو نہ روئیں۔ نہ شکوہ کیا۔ اگلے دن گھر میں رشتہ دار آ گئے۔ سب شادی کی باتیں کر رہے تھے۔ جب ماں جان نے اچانک اعلان کیا۔ “شادی کی تاریخ ایک ہفتے بعد کی رکھ رہے ہیں۔” اسامہ فوراً سے بول پڑا۔ “یہ شادی نہیں ہوگی۔” سب حیران رہ گئے۔ “کیوں؟” اسامہ نے سخت لہجے میں کہا۔ “کیونکہ میں اسمارہ کو طلاق دینے والا ہوں۔” کمرے میں جیسے بم پھٹ گیا۔ تبھی ماں جان نے غصے سے کہا تھا۔ “یہ گھر کی عزت کا سوال ہے اسامہ۔” اسامہ نے سرد لہجے میں انہیں جواب دیا۔ “میری زندگی بھی کوئی چیز ہے۔” اسی لمحے اسمارہ کمرے میں داخل ہوئی۔ سب کی نظریں اس پر جم گئیں۔ وہ چند لمحے خاموش رہی۔ پھر آہستہ سے بولی۔ “ماں جان۔۔۔انہیں مجبور مت کریں۔” سب حیران رہ گئے تھے۔ “اگر یہ طلاق چاہتے ہیں۔۔۔تو دے دیں۔” اسامہ نے پہلی بار اس کے چہرے کو غور سے دیکھا تھا۔ وہ واقعی پرسکون تھی۔ کوئی ڈرامہ نہیں۔ کوئی آنسو نہیں۔ پھر اسمارہ نے وہ جملہ کہا جس نے اسامہ کو اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔ “کیونکہ محبت مانگ کر نہیں لی جاتی۔” اور وہ وہاں سے چلی گئی۔ اس رات بھی اسامہ بہت دیر تک جاگتا رہا۔ پہلی بار اس کے دل میں عجیب سی خلش پیدا ہوئی تھی۔ وہ سوچنے لگا۔ اگر اسمارہ واقعی اسے روکنا چاہتی۔۔۔ تو شاید وہ رک جاتا۔ مگر اس نے تو اسے آزاد کر دیا تھا۔ اور یہی آزادی اسامہ کو بے چین کر رہی تھی۔ اس رات اسامہ کو نیند ہی نہیں آئی۔ کمرے کی لائٹ بند تھیں مگر اس کے ذہن میں اسمارہ کا چہرہ بار بار ابھر رہا تھا۔ وہی خاموش آنکھیں۔ وہی پرسکون لہجہ۔ “اگر یہی آپ چاہتے ہیں۔۔۔تو دے دیں طلاق۔” اسامہ کروٹ بدل کر چھت کو دیکھنے لگا۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اسمارہ اتنی آسانی سے مان جائے گی۔ وہ تو سمجھ رہا تھا کہ وہ روئے گی۔۔۔ضد کرے گی۔۔۔ماں جان کو درمیان میں لائے گی۔ مگر اس نے تو جیسے اسے آزاد کر دیا تھا۔ اور عجیب بات یہ تھی کہ یہ آزادی اسامہ کو بے چین کر رہی تھی۔ اگلی صبح ناشتے کی میز پر عجیب سی خاموشی تھی۔ ماں جان کا چہرہ سخت تھا۔ اسامہ اخبار دیکھنے کا ڈرامہ کر رہا تھا۔ اسمارہ خاموشی سے سب کو ناشتہ سرو کر رہی تھی۔ اسامہ نے پہلی بار اسے غور سے دیکھا۔ اس کے چہرے پر عجیب سی سنجیدگی تھی۔ نہ غصہ۔ نہ ناراضگی۔ بس جیسے وہ اس سب سے اوپر اٹھ چکی ہو۔ اسی لمحے ماں جان بول پڑیں۔ “طلاق کا فیصلہ تم نے کر لیا ہے نا؟” اسامہ نے نظریں اٹھائیں۔ “جی۔” ماں جان نے ٹھنڈی سانس لی۔ “ٹھیک ہے۔” اسامہ حیران رہ گیا۔ “ آپ اتنی آسانی سے مان گئیں؟” ماں جان نے تلخی سے کہا۔ “جب بیٹا اپنی ماں کی عزت کا خیال نہ کرے تو ماں بھی ضد چھوڑ دیتی ہے۔” اسمارہ نے فوراً بات کا رخ بدل دیا۔ “ماں جان، آپ کی چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے۔” اسامہ نے پہلی بار محسوس کیا کہ اسمارہ گھر کے ماحول کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی۔ چند دن بعد۔۔۔ طلاق کے کاغذات تیار ہو گئے تھے۔ گھر میں عجیب سی سنجیدہ فضا تھی۔ اسامہ صوفے پر بیٹھا تھا۔ اسمارہ سامنے کرسی پر۔ وکیل صاحب نے کاغذات میز پر رکھ دیے۔ “صرف دستخط کرنے ہیں۔” اسامہ نے قلم اٹھایا۔ اسی لمحے اس کی نظر اسمارہ پر پڑی۔ وہ خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ نہ آنسو۔ نہ شکوہ۔ بس ایک ہلکی سی مسکراہٹ۔ اسامہ کے ہاتھ رک گئے۔ “تم واقعی ٹھیک ہو؟” اسمارہ نے پرسکون لہجے میں کہا۔ “جی۔” “تمہیں کوئی افسوس نہیں؟” وہ چند لمحے خاموش رہی۔ پھر آہستہ سے بولی۔ “افسوس تو اس بات کا ہے کہ آپ نے مجھے کبھی جاننے کی کوشش ہی نہیں کی۔” اسامہ کے دل میں عجیب سی چبھن ہوئی۔ اور وہ ٹھہر گيا۔ اسی رات اسامہ باغ میں ٹہل رہا تھا۔ وہ بے چین تھا۔ پتہ نہیں کیوں۔ اسی وقت اس نے دیکھا کہ اسمارہ درخت کے نیچے بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھ میں کتاب تھی۔ اسامہ اس کے قریب آ گیا۔ “تم یہاں کیا کر رہی ہو؟” “پڑھ رہی ہوں۔” “تمہیں نیند نہیں آتی؟” اسمارہ ہلکا سا مسکرائی۔ “کبھی کبھی سوچنے کے لیے رات اچھی ہوتی ہے۔” اسامہ اس کے پاس بیٹھ گیا۔ “کس بارے میں سوچتی ہو؟” وہ آسمان کی طرف دیکھنے لگی۔ “زندگی کے بارے میں۔” “اور میرے بارے میں؟” اسمارہ نے اس کی طرف دیکھا۔ “آپ کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیا ہے۔” یہ جملہ سیدھا اسامہ کے دل پر لگا تھا۔ وہ خاموش ہو گيا آگے کچھ بولنے کو بچا ہی نہیں تھا ۔ اگلے دن اسامہ شہر گیا ہوا تھا۔ جب واپس آیا تو گھر میں ہلچل تھی۔ ماں جان کافی پریشان دیکھائی دے رہی تھیں۔ “کیا ہوا؟” اس نے پوچھا تو انہوں نے کہا۔ “اسمارہ چلی گئی۔” اسامہ چونک گیا۔ “کہاں؟” “اپنی خالہ کے گھر۔” “کیوں؟” ماں جان نے تلخی سے کہا۔ “کیونکہ تم اسے طلاق دینے والے ہو۔ وہ تمہارے گھر میں کیوں رہے؟” اسامہ کے دل میں عجیب سا خالی پن پیدا ہوا تھا۔ گھر اچانک بہت خاموش لگنے لگا۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ اسمارہ کی موجودگی کتنی محسوس ہوتی تھی۔ دو ہفتے بعد۔۔۔ آج طلاق کے کاغذات پر دستخط ہونے والے تھے۔ اسامہ وکیل کے دفتر میں بیٹھا تھا۔ دروازہ کھلا۔ اسمارہ چلتی ہوئی اندر آئی تھی۔ آج وہ پہلے سے زیادہ پراعتماد لگ رہی تھی۔ اسامہ نے اپنے دل کی دھڑکن تیز ہوتی محسوس کیں۔ وکیل صاحب نے کاغذات سامنے رکھ دیے۔ “دستخط کر دیں۔” اسامہ نے قلم اٹھایا۔ مگر اس کا ہاتھ رک گیا۔ اس نے اسمارہ کو دیکھا۔ وہ خاموشی سے کھڑکی کے باہر دیکھ رہی تھی۔ اسی لمحے اسامہ کے دل میں ایک عجیب سا خوف پیدا ہوا۔ اگر یہ رشتہ ختم ہو گیا تو؟ کیا وہ واقعی اسمارہ کو کھو دینا چاہتا تھا؟ پہلی بار اسے احساس ہوا۔ شاید وہ اسمارہ کو سمجھ ہی نہیں پایا تھا۔ شاید وہ اسے کھونے والا تھا۔ اور شاید۔۔۔ وہ اسے کھونا نہیں چاہتا تھا۔ اسامہ نے اچانک قلم میز پر رکھ دیا۔ وکیل صاحب حیران رہ گئے۔ “کیا ہوا؟” اسامہ نے آہستہ سے کہا۔ “مجھے سوچنے کے لیے کچھ وقت چاہیے۔” اسمارہ نے پہلی بار حیرت سے اس کی طرف دیکھا تھا۔ اور اسامہ نے وہ جملہ کہا جو اس کے دل میں اچانک پیدا ہوا تھا۔ “شاید میں نے جلدی میں فیصلہ کر لیا تھا۔” کمرے میں یکدم سے خاموشی چھا گئی۔ اسمارہ کی آنکھوں میں پہلی بار ہلکی سی نمی چمکی تھی۔ مگر اس نے کچھ نہیں کہا۔ کیونکہ اب فیصلہ اسامہ کو کرنا تھا۔ وکیل صاحب کے دفتر میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ اسامہ کے الفاظ ابھی تک فضا میں معلق تھے۔ “مجھے سوچنے کے لیے کچھ وقت چاہیے۔” وکیل نے حیرت سے اسامہ کو دیکھا۔ “مگر آپ تو طلاق کا فیصلہ کر چکے تھے نا۔” اسامہ نے نظریں جھکا لیں۔ “شاید میں نے جلدی میں فیصلہ کر لیا تھا۔” سامنے بیٹھی اسمارہ کے چہرے پر حیرت کی جھلک تھی۔ وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی۔ پھر آہستہ سے بولی۔ “اب کیا بدل گیا ہے؟” اسامہ کے پاس فوراً کوئی جواب نہیں بنا تھا۔ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ اس کے دل میں یہ بے چینی کیوں پیدا ہو گئی ہے۔ بس اتنا جانتا تھا کہ اسمارہ کو کھونے کا خیال اسے اندر سے ہلا رہا تھا۔ چند دن بعد۔۔۔ اسامہ ماں جان کے پاس بیٹھا تھا۔ وہ کافی دیر سے خاموش تھا۔ بالآخر ماں جان بول پڑیں۔ “کیا سوچ رہے ہو؟” اسامہ نے گہری سانس لی۔ “ماں! کیا اسمارہ واقعی مجھ سے محبت کرتی تھی؟” ماں جان نے حیرت سے اسے دیکھا۔ “تھی؟” پھر وہ ہلکا سا مسکرائیں۔ “بیٹا۔۔۔محبت تو اب بھی کرتی ہے۔” اسامہ سن کر چونک گیا۔ “لیکن وہ تو طلاق کے لیے تیار ہو گئی تھی۔” ماں جان نے آہستہ سے کہا۔ “کیونکہ وہ خوددار ہے۔” پھر انہوں نے وہ بات بتائی جس نے اسامہ کو خاموش کر دیا تھا۔ “تمہارے جانے کے بعد سات سال تک اس نے تمہارا انتظار کیا ہے۔” اسامہ کے دل میں عجیب سی چبھن ہوئی۔ “انتظار؟” “ہاں۔ ہر عید پر تمہارے لیے کپڑے رکھتی تھی۔۔۔ہر دعا میں تمہارا نام لیتی تھی۔۔۔اور جب لوگ رشتے لے کر آتے تھے تو ایک ہی جواب دیتی تھی۔۔۔” ماں جان رک گئیں۔ “کیا؟” اسامہ متجسس ہوا تھا۔ “میرا شوہر زندہ ہے۔” اسامہ کے دل میں جیسے کچھ ٹوٹا تھا۔ اسی شام اسامہ نے اسمارہ کو کال کی۔ “کیا ہم مل سکتے ہیں؟” چند لمحے خاموشی رہی۔ پھر اسمارہ نے کہا۔ “ٹھیک ہے۔” شام کا وقت تھا۔اسمارہ بینچ پر بیٹھی تھی۔ اسامہ آ کر اس کے سامنے کھڑا ہوا تھا۔ کچھ لمحے دونوں خاموش رہے۔ پھر اسمارہ بولی۔ “کیا بات کرنی تھی؟” اسامہ بیٹھ گیا۔ “میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔” “پوچھیں۔” “تم نے سات سال انتظار کیوں کیا؟” اسمارہ چند لمحے خاموش رہی۔ پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔ “کیونکہ میں بچپن سے آپ کو اپنا شوہر مانتی تھی۔” اسامہ کے پاس جواب نہیں تھا۔ “اور اب؟” اسمارہ نے اس کی طرف دیکھا۔ “اب میں خود کو سمجھا رہی ہوں کہ محبت کافی نہیں ہوتی۔” یہ جملہ اسامہ کے دل میں اتر گیا۔ اسی لمحے ایک گاڑی آ کر رکی۔ اس سے ایک نوجوان باہر نکلا۔ وہ سیدھا چلتا ہوا اسمارہ کے پاس آیا۔ “اسمارہ، دیر ہو رہی ہے۔” اسامہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔ “یہ کون ہے؟” اسمارہ نے سکون سے بتایا۔ “یہ زید ہیں۔” زید کو دیکھ کر اسامہ کے دل میں عجیب سا احساس پیدا ہوا تھا۔ “اور؟” “ان کے گھر والے میرا رشتہ لے کر آئے ہیں۔” اسامہ کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ “تم۔۔۔مان گئی؟” اسمارہ نے سیدھا جواب دیا۔ “زندگی رکتی نہیں اسامہ۔” اسامہ کو پہلی بار حسد محسوس ہوا تھا۔ اس رات اسامہ ڈھنگ سے سو نہیں سکا۔ اس کے ذہن میں صرف ایک ہی منظر تھا۔ اسمارہ۔۔۔کسی اور کی بیوی۔ اس خیال نے اس کا سینہ بھاری کر دیا تھا۔ پہلی بار اسے احساس ہوا۔ وہ اسمارہ کو کھونا نہیں چاہتا۔ اگلے دن اسامہ سیدھا اسمارہ کے گھر پہنچ گیا۔ اسمارہ اسے دیکھ حیران رہ گئی۔ “آپ یہاں؟” اسامہ نے سیدھا کہا۔ “مجھے تم سے بات کرنی ہے۔” “کہیں۔” اسامہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ “میں طلاق نہیں دینا چاہتا۔” اسمارہ خاموش ہو گئی۔ چند لمحوں بعد اس نے آہستہ سے پوچھا۔ “کیوں؟” اسامہ کے پاس پہلی بار صاف جواب تھا۔ “کیونکہ میں نے تمہیں کھونے کا سوچا اور مجھے لگا میں سب کچھ کھو دوں گا۔” اسمارہ کی آنکھوں میں نمی آئی تھی۔ “یہ محبت ہے یا صرف عادت؟” اسامہ چند لمحے خاموش رہا۔ پھر آہستہ سے بولا۔ “مجھے نہیں معلوم۔۔۔مگر میں یہ جانتا ہوں کہ میں تمہیں کسی اور کا نہیں ہونے دے سکتا۔” اسمارہ کی سانسیں رک گئیں۔ اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی۔ زید چلتا ہوا اندر آیا۔ لیکن ان دونوں کو دیکھ کر اپنی جگہ رک گیا۔ “شاید میں غلط وقت پر آ گیا ہوں۔” اسامہ نے پہلی بار مضبوط لہجے میں کہا۔ “جی ہاں۔” پھر اس نے اسمارہ کی طرف دیکھا۔ “کیونکہ یہ میری بیوی ہے۔” کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ اسمارہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے۔ مگر وہ نم آنکھوں سنگ مسکرا رہی تھی۔کیونکہ سات سال بعد۔۔۔اسامہ نے پہلی بار اسے اپنا مانا تھا۔ کمرے میں گہری خاموشی چھا گئی تھی۔ اسامہ کے الفاظ ابھی تک فضا میں گونج رہے تھے۔ “کیونکہ یہ میری بیوی ہے۔” زید چند لمحے ان دونوں کو دیکھتا رہا۔ پھر اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔ “واقعی؟” اس کے لہجے میں طنز نہیں تھا، بس ایک عجیب سا سکون تھا۔ اسامہ نے مضبوطی سے کہا۔ “جی۔ اور میں اسے طلاق نہیں دوں گا۔” اسمارہ کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔وہ سات سال تک یہی جملہ سننے کا انتظار کرتی رہی تھی۔مگر جب وہ جملہ آخرکار سنا۔۔۔تو اس کے دل میں عجیب سا درد بھی اٹھا تھا۔کیونکہ یہ محبت بہت دیر سے آئی تھی۔ اسمارہ نے آہستہ سے کہا۔ “آپ کو اب یہ یاد آیا ہے کہ میں آپ کی بیوی ہوں؟” اسامہ خاموش ہو گیا۔اس کے پاس اس سوال کا کوئی آسان جواب نہیں تھا۔ “جب آپ مجھے طلاق دینے آئے تھے تب میں بھی یہی تھی۔” اسمارہ کی آواز میں ہلکی سی کپکپاہٹ تھی۔ “تب آپ کو یہ رشتہ بوجھ لگ رہا تھا۔” اسامہ نے نظریں جھکا لیں۔ “اور اب۔۔۔جب میں نے آگے بڑھنے کا سوچا ہے۔۔۔تو آپ کو محبت یاد آ گئی۔” کمرے میں پھر خاموشی چھا گئی۔ اسی لمحے زید ہلکا سا ہنسا۔ “مجھے لگتا ہے مجھے ایک بات واضح کر دینی چاہیے۔” اسامہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔ “کیا مطلب؟” زید نے سکون سے کہا۔ “میرا اور اسمارہ کا رشتہ صرف ایک تجویز تھا۔” اسامہ نے بھنویں سکیڑیں۔ “اور؟” زید نے ہلکے انداز میں کہا۔ “اور اسمارہ نے اسے قبول ہی نہیں کیا۔” اسامہ چونک گیا۔ “کیوں؟” زید نے اسمارہ کی طرف دیکھا۔ “یہ سوال آپ کو ان سے پوچھنا چاہیے۔” اسامہ نے اسمارہ کی طرف دیکھا۔ “تم نے رشتہ کیوں ٹھکرا دیا؟” اسمارہ کی آنکھوں میں نمی تھی۔ “کیونکہ میں جھوٹی زندگی نہیں جی سکتی۔” “کیا مطلب؟” اسمارہ آہستہ سے بولی۔ “میں کسی اور سے شادی کر کے بھی دل سے آپ کی بیوی ہی رہتی۔” اسامہ کا دل جیسے رک گیا۔ “اور میں ایسا ظلم کسی کے ساتھ نہیں کرنا چاہتی تھی۔” زید مسکرا دیا۔ “اسی لیے میں نے خود ہی انکار کر دیا۔” پھر وہ دروازے کی طرف بڑھا۔ “ میرے خیال میں آپ دونوں کو بات کرنی چاہیے۔” اور وہ چلا گیا۔ اب کمرے میں صرف اسامہ اور اسمارہ رہ گئے تھے۔ چند لمحے دونوں خاموش رہے۔ پھر اسامہ نے آہستہ سے کہا۔ “مجھے معاف کر دو۔” اسمارہ نے نظریں اٹھائیں۔ “اتنا آسان نہیں ہے۔” اسامہ نے سر ہلا دیا۔ “مجھے معلوم ہے۔” پھر وہ پہلی بار پوری سچائی سے بولا۔ “میں نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ تم میری زندگی میں اتنی اہم ہو۔” وہ چند قدم اس کے قریب آیا۔ “جب تم جانے لگی۔۔۔تب مجھے احساس ہوا کہ میں تمہیں کھو رہا ہوں۔” اسمارہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ “محبت احساس ہونے کے بعد نہیں۔۔۔پہلے ہونی چاہیے۔” اسامہ خاموش ہو گیا۔ پھر اس نے آہستہ سے کہا۔ “تو مجھے ایک موقع دو۔۔۔کہ میں تمہیں سچی محبت دے سکوں۔” کافی دیر خاموشی رہی۔پھر اسمارہ نے آہستہ سے پوچھا۔ “اگر میں انکار کر دوں تو؟” اسامہ نے گہری سانس لی۔ “تو میں تمہیں مجبور نہیں کروں گا۔” وہ مسکرایا۔ “کیونکہ محبت زبردستی نہیں ہوتی۔” یہ وہی جملہ تھا جو اسمارہ نے اسے پہلے کہا تھا۔ اسمارہ کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔ چند ہفتے بعد۔۔۔ گھر میں روشنیوں کی بہار تھی۔مہمانوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ماں جان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ نکاح کا وقت ہوا تو قاضی صاحب نے سوال کیا۔ “اسامہ بن خالد۔۔۔کیا آپ کو اسمارہ بنت یوسف سے نکاح قبول ہے؟” اسامہ نے مسکرا کر کہا۔ “قبول ہے۔” “قبول ہے۔” “قبول ہے۔” پھر قاضی صاحب نے اسمارہ سے پوچھا۔وہ چند لمحے خاموش رہی۔ اسامہ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ پھر اسمارہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ “قبول ہے۔” “قبول ہے۔” “قبول ہے۔” اس لمحے اسامہ نے محسوس کیا۔۔۔کہ اس نے صرف ایک رشتہ نہیں بچایا تھا۔بلکہ اپنی زندگی کی سب سے قیمتی محبت کو پا لیا تھا۔ اور اسمارہ نے بھی محسوس کیا۔۔۔کہ کبھی کبھی محبت کو منزل تک پہنچنے میں وقت لگتا ہے۔مگر اگر محبت سچی ہو تو وہ واپس آ ہی جاتی ہے۔ ختم شد!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *