Ishq Motabar Thehra By Nimra Sial – ZNZ

✨ Saray E Mohabbat By FJ ✨
مکمل ناول عشق معتبر ٹھہرا نمرہ سیال “آپ کی۔۔۔مم، مورے کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں نے بھاگنے کی کوشش نہیں کی۔” ایمل کی آواز کانپ رہی تھی۔ لفظ اس کے لبوں سے نکلتے ہی جیسے زمین پر گر گئے ہوں۔ کمرے میں صرف اس کے دل کی بے ترتیب دھڑکن سنائی دے رہی تھی جو لکڑی کی دیواروں سے ٹکرا کر اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے سائیڈ ٹیبل پر رکھا ہوا لیمپ اٹھایا۔ پیلا سا شیشہ، جس کے اندر جلتا بلب اس کے خوف کی طرح تپ رہا تھا۔ آنکھوں میں آنسو، چہرے پر وحشت، اور سانس جیسے کسی نے مٹھی میں قید کر لی ہو۔ “میرے قریب مت آئیے۔” اس نے پورا زور لگا کر لیمپ اچھالنا چاہا۔ مگر اگلے ہی لمحے ایک مضبوط ہاتھ اس کی کلائی میں پیوست ہو چکا تھا۔ “آہ…!” درد سے اس کے منہ سے چیخ نکلی مگر وہ آواز زیادہ دیر آزاد نہ رہ سکی۔ زیاد خانزادہ۔ حویلی کا وہ مرد جس کا نام ہی کافی تھا کسی بھی عورت کی ہمت توڑنے کے لیے۔ “تمہاری جرات کو ماننا پڑے گا۔” اس کی آواز میں زہر گھلا ہوا تھا، ہونٹوں پر ٹیڑھی سی مسکراہٹ۔ اس نے ایک جھٹکے سے ایمل کا ہاتھ مروڑا اور اسے دیوار سے جا لگایا۔ لیمپ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گرا اور ٹوٹنے کی آواز نے رات کی خاموشی چیر دی۔ “ونی میں آئی ہو۔۔۔اور وار کرنے کی کوشش؟” اس نے گردن جھکا کر ایمل کے چہرے کے قریب ہوتے ہوئے کہا۔ “اگر تم ونی میں نہ آئی ہوتیں۔۔۔تو تمہاری اس بہادری سے مجھے عشق ہو جاتا۔” لفظ عشق اس کے منہ سے زہر بن کر نکلے۔ ایمل کی سانس اکھڑ گئی۔ آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے سامنے وہ دن آ کھڑا ہوا تھا جس دن اس کی زندگی اس حویلی کی دہلیز پر دفن ہو گئی تھی۔ ایک ہفتہ پہلے۔۔۔ امریکہ کی آزاد فضا، یونیورسٹی کا کھلا لان، دوستوں کی قہقہے بھری آوازیں۔ ایمل وہاں خود کو زندہ محسوس کرتی تھی۔ مگر صرف ایک فون کال نے سب کچھ بدل دیا تھا۔ “بیٹا، واپس آ جاؤ۔ تمہارے چچا کی طبیعت ٹھیک نہیں۔” اور وہ، جو خاندان کو اب بھی اپنا سمجھتی تھی، بغیر سوال کیے واپس آ گئی۔ ایک ہفتہ۔صرف ایک ہفتے میں اس کے ہاتھوں پر مہندی لگ چکی تھی، ماتھے پر سُرخی کا ٹیکا، اور زبان پر ایسے نکاح کے الفاظ جو اس کی مرضی کے بغیر اس کی قسمت پر مہر لگا گئے تھے۔ ونی۔ وہ لفظ جسے وہ کتابوں میں پڑھتی آئی تھی، جسے وہ ایک ظالمانہ رسم سمجھتی تھی، آج اس کی شناخت بن چکا تھا۔ “یہ صرف رسم ہے، ایمل۔”چچا نے نظریں چرا کر کہا تھا۔ “خاندان کی عزت کے لیے۔” اور خاندان کی عزت کے لیے ایک لڑکی کو زندہ دفن کر دینا شاید بہت معمولی بات تھی۔ حال۔۔۔ “تم جانتی ہو۔۔۔”زیاد کی گرفت مزید سخت ہو گئی۔ “حویلی کے مرد بہت ظالم ہوتے ہیں۔” ایمل کی کمر دیوار سے لگ چکی تھی، سانس سینے میں قید، آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ “اور تمہیں آج اندازہ ہو جانا چاہیے۔” اس نے جھک کر اس کے کان کے قریب کہا، “کہ میرے نکاح میں ہوتے ہوئے تمھیں بھاگنے کی کوشش کیوں نہیں کرنی چاہیے تھی۔” “میں نے نہیں کی!” ایمل کی آواز ٹوٹ گئی۔ “میں قسم کھاتی ہوں۔۔۔میں بس۔۔۔” “خاموش!” ایک لفظ۔ مگر ایسا لگا جیسے پورا کمرہ لرز اٹھا ہو۔ زیاد نے ایک لمحے کے لیے اس کا چہرہ غور سے دیکھا۔ آنسوؤں میں بھیگی آنکھیں، خوف سے پیلا پڑتا چہرہ، اور وہ غرور جو ابھی مکمل طور پر ٹوٹا نہیں تھا۔ “تمہیں معلوم ہے ایمل!” اس نے اچانک گرفت ڈھیلی کی۔ “مجھے تمہاری یہ ضد پسند ہے۔” ایمل دیوار سے پھسل کر زمین پر بیٹھ گئی ۔ سانس بحال ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔ “ورنہ یہاں کی عورتیں تو چیخنا بھی بھول چکی ہیں۔” اس کے الفاظ کسی کوڑے کی طرح اس کے وجود پر برسے۔ “لیکن یاد رکھنا۔۔۔” وہ پلٹا، دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے بولا، “یہ حویلی ہے۔ یہاں یا تو عورت جھک جاتی ہے یا پھر ٹوٹ جاتی ہے۔” دروازہ بند ہوا۔ اور ایمل پہلی بار پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ کھڑکی سے چاندنی اندر آ رہی تھی۔ وہی چاند جو کبھی امریکہ کی راتوں میں اسے آزادی کا احساس دلاتا تھا، آج اسے قید کی یاد دلا رہا تھا۔ “میں نہیں جھکوں گی۔”اس نے آنسو پونچھتے ہوئے خود سے کہا۔ “چاہے مجھے ٹوٹنا ہی کیوں نہ پڑے۔” اسے نہیں معلوم تھا کہ یہی ضد۔۔۔یہی حوصلہ۔۔۔ایک دن اسی زیاد خانزادہ کے دل کی بنیادیں ہلا دے گا۔ اور یہی ونی ایک دن عشق بن کر اس کے سامنے کھڑی ہو جائے گی۔ رات گزر گئی تھی مگر ایمل کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ کمرے میں پھیلی خاموشی اب اسے ڈرانے لگی تھی۔ دیوار پر لٹکی گھڑی کی ٹک ٹک اس کے دل کی دھڑکن کے ساتھ مقابلہ کر رہی تھی۔ وہ بستر کے ایک کونے میں سمٹی بیٹھی تھی۔ ہاتھوں پر لگی مہندی اب اسے زہر لگ رہی تھی۔ وہ مہندی جو خوشی کی علامت سمجھی جاتی ہے، آج اس کی غلامی کا نشان بن چکی تھی۔ “میں یہاں قید نہیں رہ سکتی۔” اس نے خود سے سرگوشی کی۔ کھڑکی کے پاس جا کر اس نے آہستہ سے پردہ ہٹایا۔ حویلی کا صحن چاندنی میں نہایا ہوا تھا۔ اونچی دیواریں، لوہے کا بھاری گیٹ، اور چاروں طرف پہرے کا سا احساس۔یہ کوئی گھر نہیں تھا۔ یہ ایک قلعہ تھا۔ اور وہ ایک قیدی۔ دوسری طرف زیاد خانزادہ اپنے کمرے میں تنہا بیٹھا تھا۔ ہاتھ میں سگریٹ، آنکھوں میں عجیب سی چمک۔ ایمل کا چہرہ بار بار اس کے ذہن میں آ رہا تھا۔ وہ خوفزدہ آنکھیں۔۔۔ وہ کانپتی آواز۔۔۔ اور وہ ضد، جو ہر ونی کی لڑکی میں نہیں ہوتی۔ “پاگل ہو رہے ہو، زیاد۔” اس نے خود کو جھڑکا۔ “یہ صرف ونی ہے۔” مگر دل ماننے کو تیار نہیں تھا۔ اس نے سگریٹ راکھ دان میں مسلا اور کھڑکی سے باہر دیکھا۔ چاند آج کچھ زیادہ ہی صاف تھا، جیسے سب کچھ دیکھ رہا ہو۔ “اگر یہ لڑکی جھکی نہیں تو۔۔۔” جملہ ادھورا رہ گیا۔ شاید وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ اس کے بعد کیا ہوگا۔ اگلی صبح ایمل کی آنکھ آنسوؤں میں بھیگی کھلی۔ دروازے کے باہر برتنوں کی ہلکی ہلکی آوازیں آ رہی تھیں۔ کوئی اس کے لیے ناشتہ لے کر آیا تھا۔ “بی بی!” ایک بوڑھی عورت کی آواز آئی۔ “دروازہ کھول دیں۔” ایمل نے ہچکچاتے ہوئے دروازہ کھولا۔ سامنے ایک جھریوں بھرا چہرہ، آنکھوں میں ہمدردی اور ڈر کا عجیب امتزاج۔ “میں مائی زینب ہوں۔” وہ دھیرے سے بولیں۔ “اس حویلی میں پیدا ہوئی اور شاید یہیں مروں گی۔” ایمل نے کچھ نہیں کہا۔ بس سائیڈ ہو گئی۔ مائی زینب نے ٹرے میز پر رکھی۔ “بی بی، تھوڑا کھا لیجیے۔ یہاں بھوکا رہنا کسی کے حق میں اچھا نہیں۔” “میں یہاں کیوں ہوں؟” ایمل کی آواز مدھم تھی مگر سوال میں بغاوت تھی۔ مائی زینب نے نظریں چرا لیں۔ “بی بی! ونی کا نصیب ایسا ہی ہوتا ہے۔” “نہیں۔” ایمل نے فوراً کہا۔ “میرا نصیب ایسا نہیں ہو سکتا۔” بوڑھی عورت نے اسے غور سے دیکھا۔ پھر آہستہ سے بولی، “یہی بات تو خطرناک ہے، بی بی۔” دوپہر حویلی کے بڑے ہال میں غیر معمولی خاموشی تھی۔ ایمل کو پہلی بار نیچے بلایا گیا تھا۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ وہ سیڑھیاں اتر رہی تھی کہ سامنے سے زیاد آتا دکھائی دیا۔ سیاہ کُرتا، مضبوط جسامت، اور وہی رعب۔ ایمل کا قدم لڑکھڑایا مگر اس نے خود کو سنبھال لیا۔ زیاد رک گیا۔ ایک لمحہ۔ صرف ایک لمحہ۔ مگر اس لمحے میں بہت کچھ بدل گیا۔ “آنکھیں جھکا کر چلو۔” اس نے سرد لہجے میں کہا۔ ایمل نے سر اٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ “میں نے کوئی جرم نہیں کیا جو نظریں جھکاؤں۔” ہال میں سناٹا چھا گیا۔ مائی زینب کی سانس رک گئی۔ زیاد کی آنکھوں میں غصہ ابھرا مگر اس کے ساتھ کچھ اور بھی تھا۔ دلچسپی۔ وہ ایمل کے قریب آیا۔ “تم واقعی نہیں جانتیں کہ تم کس کے سامنے کھڑی ہو۔” “میں جانتی ہوں۔” ایمل کی آواز کانپی، مگر وہ پیچھے نہیں ہٹی۔ “آپ وہ شخص ہیں جس نے مجھے میری مرضی کے بغیر قید کیا۔” ایک لمحے کو یوں لگا جیسے زیاد کچھ کہے گا مگر پھر اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔ “یہ لڑکی۔۔۔” وہ مائی زینب سے مخاطب ہوا، “بہت جلد سیکھ جائے گی۔” “یا شاید۔۔۔” ایمل نے آہستہ کہا، “آپ سیکھیں گے کہ ہر عورت ٹوٹنے کے لیے نہیں ہوتی۔” زیاد نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ یہ پہلی بار تھا کہ کسی ونی نے اسے للکارا تھا۔ اسی لمحے زیاد نے ہاتھ آگے بڑھایا مگر ایمل پیچھے ہٹ گئی۔ “مجھے مت چھوئیے۔” وہ صاف بولی۔ ایک لمحے کو حویلی کی دیواریں بھی سانس روک کر سننے لگیں۔ زیاد نے ہاتھ روک لیا۔ “دلچسپ!” وہ دھیرے سے بولا۔ “بہت دلچسپ۔” ایمل کو نہیں معلوم تھا کہ یہی لمحہ نفرت کی بنیاد نہیں بلکہ عشق کی پہلی دراڑ بن چکا تھا۔ ایمل کو اس دن پہلی بار اندازہ ہوا کہ خاموشی بھی سزا بن سکتی ہے۔ زیاد خانزادہ نے اس کے بعد نہ اسے بلایا، نہ اس کے قریب آیا۔ کوئی چیخ، کوئی دھمکی، کوئی حکم نہیں۔ بس۔۔۔نظر انداز۔ اور یہ رویہ اس کے دل پر کسی کوڑے سے کم نہ تھا۔ تین دن بعد۔۔۔ ایمل حویلی کے پچھلے صحن میں کھڑی تھی۔ یہ واحد جگہ تھی جہاں آسمان تھوڑا سا قریب محسوس ہوتا تھا۔ سامنے نیم کا پرانا درخت تھا، جس کی شاخیں شاید اس حویلی سے بھی زیادہ پرانی تھیں۔ وہ وہیں کھڑی تھی کہ قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ دل نے فوراً خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ مگر مڑنے کی ہمت اس نے خود میں پیدا کی۔ زیاد۔وہ اکیلا تھا۔ ہاتھ میں فائل، چہرے پر وہی سرد سنجیدگی۔ “تم یہاں کیا کر رہی ہو؟” ایمل نے سیدھا جواب دیا۔ “سانس لے رہی ہوں۔” زیاد کی آنکھیں تنگ ہوئیں۔ “یہ جگہ تمہارے لیے نہیں ہے۔” “پھر میرے لیے کیا ہے؟” اس نے تلخی سے پوچھا۔ “وہ کمرہ؟ وہ دیواریں؟ وہ قید؟” زیاد چند لمحے خاموش رہا۔ پھر بولا، “تم نے خود یہ راستہ چُنا تھا۔” ایمل ہنس دی۔ مگر اس ہنسی میں خوشی نہیں تھی، صرف درد تھا۔ “میں نے امریکہ میں اپنی زندگی چُنی تھی۔” وہ اس کی طرف دیکھے بغیر بولی۔ “یہ راستہ میرے لیے چُنا گیا تھا۔” زیاد نے پہلی بار غور سے اسے دیکھا۔ وہ لڑکی جو روایتی ونیوں کی طرح جھکی ہوئی نہیں تھی، اس کے چہرے پر تکبر نہیں بلکہ خودداری تھی۔ “تمہیں معلوم ہے ونی کا مطلب کیا ہوتا ہے؟” زیاد نے سخت لہجے میں پوچھا۔ “ہاں۔” ایمل نے سر ہلایا۔ “کسی مرد کے جرم کی سزا کسی عورت کو دینا۔” یہ جملہ سیدھا اس کے سینے پر لگا۔ ایمل بستر پر لیٹی تھی مگر نیند نہیں آ رہی تھی۔ باہر کہیں دور کتے بھونک رہے تھے۔ حویلی کی دیواریں رات میں اور بھی بھاری لگتی تھیں۔دروازہ آہستہ سے کھلا۔ ایمل چونک کر بیٹھ گئی۔مائی زینب تھیں۔ “بی بی! آج زیادہ محتاط رہیے گا۔” “کیوں؟” مائی زینب نے نظریں جھکا لیں۔ “زیاد خانزادہ کا مزاج آج ٹھیک نہیں ہے۔” ایمل کا دل بیٹھ گیا۔ “اس کا مطلب؟” بوڑھی عورت نے ہلکی آواز میں کہا، “جب وہ خاموش ہو جاتا ہے نا بی بی۔۔۔تب طوفان آتا ہے۔” اسی لمحے دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا۔ زیاد اندر آیا۔ مائی زینب فوراً پیچھے ہٹ گئیں۔ اب کمرے میں صرف وہ دونوں رہ گئے۔ “دروازہ بند کرو۔” زیاد نے کہا۔ ایمل کے ہاتھ کانپ گئے، مگر اس نے حکم مانا۔ “تم نے آج مجھے سب کے سامنے ذلیل کیا۔” اس کی آواز دھیمی تھی، مگر خطرناک۔ “میں نے سچ کہا تھا۔” ایمل نے نظریں ملائیں۔ “اور سچ بولنے کی سزا؟” وہ ایک قدم آگے آیا۔ “سزا نہیں۔۔۔سبق۔” ایمل نے خود کو پیچھے نہیں ہٹنے دیا۔ “میں سبق نہیں، انصاف چاہتی ہوں۔” ایک لمحہ۔ پھر اچانک زیاد نے ہاتھ بڑھایا۔۔۔مگر اس کے بال یا بازو کی طرف نہیں۔ اس نے اس کے کانپتے ہاتھ کو تھام لیا۔ ایمل چونک گئی۔ “تم ڈر کیوں نہیں رہی؟” وہ آہستہ بولا۔ “ڈر لگتا ہے۔” ایمل کی آواز بھر آئی۔ “مگر میں جھکنا نہیں چاہتی۔” زیاد کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ یہ پہلا موقع تھا جب کسی ونی نے اسے کمزور کر دیا تھا۔ وہ ایک قدم پیچھے ہٹا۔ “جاؤ۔” صرف ایک لفظ۔ مگر اس میں قید ٹوٹنے کی ہلکی سی آواز تھی۔ ایمل کی آنکھوں میں حیرت تھی۔ “آپ؟” “جاؤ ایمل۔” اس نے نام پہلی بار لیا تھا۔ اور یہی وہ لمحہ تھا جہاں نفرت نے خاموشی سے عشق کا راستہ چھوڑ دیا۔ اس رات ایمل دیر تک جاگتی رہی۔ زیاد کے آخری لفظ “جاؤ ایمل” ابھی تک اس کے کانوں میں گونج رہے تھے۔ وہ پہلا موقع تھا جب اس حویلی کے کسی مرد نے اسے نام لے کر پکارا تھا حکم دے کر نہیں۔۔۔بلکہ رک کر۔ دوسری طرف زیاد خانزادہ نے پوری رات کروٹیں بدلتے گزار دی تھیں۔ نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ اس کے ذہن میں بار بار ایمل کا وہ چہرہ آ رہا تھا۔۔۔ ڈر میں بھی مضبوط اور کمزوری میں بھی باوقار۔ “میں نے اسے جانے کیوں دیا؟” یہ سوال اسے خود سے نفرت دلوا رہا تھا۔ وہ جانتا تھا اگر وہ چاہتا تو اس رات ایمل باقی ونیوں جیسی بن چکی ہوتی۔ مگر اس کے ہاتھ رُک گئے تھے۔ اگلی صبح حویلی میں کافی ہلچل تھی۔ مہمان آ رہے تھے۔ خاندان کے بڑے اور وہ لوگ جن کے فیصلوں نے ایمل کو یہاں تک پہنچایا تھا۔ ایمل کو کمرے میں رہنے کا حکم ملا۔ “آواز بھی باہر نہ جائے، بی بی۔” مائی زینب نے سرگوشی کی۔ “یہ لوگ رحم نہیں کرتے۔” ایمل کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی جہاں مردوں کی آوازیں طاقت اور غرور میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ “یہی لوگ ہیں۔۔۔” اس نے دل میں سوچا، “جنہوں نے میری زندگی کا فیصلہ کیا۔” “لڑکی سرکش ہے، زیاد۔” ایک سخت آواز ابھری۔ “ونی ہے، بیوی نہیں۔” زیاد کی انگلیاں مٹھی میں بند ہو گئیں۔ “سرکش نہیں۔” اس نے پہلی بار اختلاف کیا۔ “بس خاموش نہیں ہے۔” کمرے میں سناٹا چھا گیا۔ “خاموشی سیکھ جائے گی۔” کسی نے طنز کیا۔ زیاد نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا، “نہیں۔” سب چونک گئے۔ “ایمل کو کوئی ہاتھ نہیں لگائے گا۔” یہ جملہ حویلی کی روایت پر پہلا وار تھا۔ کمرے کا دروازہ کھلا۔ ایمل چونک گئی۔ زیاد اندر آیا۔ چہرہ سخت، آنکھوں میں عجیب سی تھکن۔ “سامان سمیٹو۔” ایمل کا دل بیٹھ گیا۔ “کہاں؟” “میری آنکھوں کے سامنے۔” اس نے مختصر جواب دیا۔ “اب تم یہاں اکیلی نہیں رہو گی۔” ایمل نے حیرت سے دیکھا۔ “یہ حکم ہے یا؟” زیاد نے گہری سانس لی۔ “یہ حفاظت ہے۔” ایک لمحے کے لیے ایمل کچھ بول نہ سکی۔ “آپ کیوں۔۔۔؟” “کیونکہ اگر تم ٹوٹی۔۔۔” اس کی آواز سخت ہو گئی، “تو یہ حویلی جیت جائے گی۔” کچھ دیر بعد ایمل نیا کمرہ دیکھ رہی تھی۔ کھڑکی بڑی تھی ۔ دروازے پر پہرہ اور مائی زینب قریب۔ “آپ نے یہ سب میرے لیے کیا؟” ایمل نے ہمت کر کے پوچھا۔ زیاد نے رخ موڑ لیا۔ “اسے احسان مت سمجھنا۔” “پھر کیا سمجھوں؟” وہ اس کے قریب آ گئی۔ زیاد نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ اتنے قریب کہ سانسیں ٹکرا گئیں۔ “اسے۔۔۔” وہ لمحہ بھر رکا، “میری کمزوری سمجھ لو۔” ایمل کا دل دھک سے رہ گیا۔ اسی لمحے دروازے کے باہر شور ہوا۔ “زیاد خانزادہ!” ایک آواز گونجی۔ “یہ ونی ہے، بیوی نہیں! یاد رکھو!” زیاد نے ایمل کے سامنے کھڑے ہو کر کہا، “یہ میری بیوی ہے۔” لفظ بیوی ایمل کے دل پر خاموشی سے اتر گیا۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ لفظ اسے بچانے آیا ہے یا جلانے۔ حویلی کی راتیں اب ایمل کے لیے ویسی نہیں رہیں تھیں جیسی پہلے تھیں۔ دروازے کے باہر پہرہ تھا، کمرے میں خاموشی، اور دل میں ایک عجیب سی بےچینی۔ وہ جانتی تھی یہ سب زیاد کی وجہ سے ہے۔ اور یہی بات اسے سب سے زیادہ ڈرا رہی تھی۔ آدھی رات کو ایمل نیند میں تھی کہ کسی آہٹ نے اسے چونکا دیا۔ قدموں کی آواز بہت قریب۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ دروازے کا ہینڈل ہل رہا تھا۔ دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ “کون ہے؟” آواز نکلی مگر کمزور۔ اچانک دروازہ زور سے کھلا۔ دو سائے۔ ایمل پیچھے ہٹی مگر بستر ختم ہو چکا تھا۔ “خاموش رہو!”ایک کھردری آواز۔ اسی لمحے دروازے پر گولی چلنے کی آواز گونجی۔ دھماکہ۔ سایے پیچھے ہٹے۔ “نیچے!” زیاد کی آواز۔ وہ بجلی کی طرح کمرے میں داخل ہوا، ایک ہاتھ میں پستول، دوسرے سے ایمل کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ ایمل اس کے سینے سے جا لگی۔ سانس رک گئی۔ “آنکھیں بند کرو!” اس نے سختی سے کہا۔ ایک اور فائر۔ خاموشی۔ کچھ لمحے بعد سب ختم ہو چکا تھا۔ مگر ایمل کے ہاتھ اب بھی کانپ رہے تھے۔ زیاد نے اس کے کندھے مضبوطی سے تھام رکھے تھے۔ “تم ٹھیک ہو؟” یہ سوال کسی حکم کی طرح نہیں فکر کی طرح تھا۔ ایمل نے سر ہلایا مگر آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ زیاد نے بغیر سوچے اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ ایمل نے پہلی بار خود کو واقعی محفوظ محسوس کیا۔ ایمل نے آہستہ سے اس کی قمیص کو تھاما۔ “اگر آپ نہ آتے۔۔۔” جملہ مکمل نہ ہو سکا۔ زیاد نے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھا۔ “میں آؤں گا۔” وہ دھیرے سے بولا۔ “ہر بار۔” لفظوں میں کوئی وعدہ نہیں مگر سچ تھا۔ ایمل نے نظریں اٹھا کر دیکھا۔ اتنے قریب کہ سانسیں ایک دوسرے کی گواہ تھیں۔ “کیوں؟” اس نے لرزتی آواز میں پوچھا۔ زیاد کی آنکھوں میں وہی جنگ تھی۔۔۔فرض اور خواہش کے بیچ۔ “کیونکہ اب۔۔۔” وہ رک گیا۔ پھر آہستہ سے بولا، “تم صرف ونی نہیں رہیں۔” ایمل کا دل تیز سے دھڑکا۔ “تو پھر کیا ہوں؟” زیاد نے ایک لمحہ اس کے ہونٹوں کو دیکھا پھر نظریں چرا لیں۔ “خطرہ۔” اگلی صبح حویلی میں طوفان مچا ہوا تھا۔ “یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا!” ایک بزرگ چیخے۔ “اس لڑکی کو فوراً الگ کرو!” زیاد سامنے کھڑا تھا۔ سیدھا۔ اکڑا ہوا۔ “جس نے بھی رات میرے کمرے میں قدم رکھا۔۔۔” اس کی آواز برف جیسی تھی، “میں اس کا انجام لکھ دوں گا۔” ایمل دروازے کے پیچھے کھڑی سب سن رہی تھی۔ اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ یہ پہلی بار تھا کہ کوئی مرد اس کے لیے جنگ لڑ رہا تھا۔ بعد میں زیاد خاموشی سے کمرے میں آیا۔ ایمل کھڑکی کے پاس کھڑی تھی۔ “آپ کو یہ سب نہیں کرنا چاہیے تھا۔” اس نے پیٹھ کیے ہوئے کہا۔ “میں اکیلی ہی۔۔۔” “نہیں۔” زیاد نے بات کاٹ دی۔ “اب نہیں۔” وہ اس کے قریب آیا۔ “تم اکیلی نہیں ہو، ایمل۔” ایمل پلٹی۔ آنکھوں میں سوال اور کچھ اور بھی۔ “اگر میں کمزور پڑ گئی تو؟” زیاد نے پہلی بار نرمی سے اس کا چہرہ تھاما۔ “تو میں مضبوط بن جاؤں گا۔” یہ لمس بے باک نہیں تھا مگر دل ہلا دینے والا تھا۔ اور اسی لمحے دونوں جان گئے یہ رشتہ اب واپسی کا نہیں رہا۔ ایمل کو اس رات نیند نہیں آئی۔ زیاد کے الفاظ “تم اکیلی نہیں ہو۔ ” اس کے دل پر ایسے نقش ہو گئے تھے جیسے کوئی دعا۔ مگر وہ جانتی تھی یہ دعا مانگنے کا حق اس کے پاس نہیں تھا۔ سورج کی کرنیں کمرے میں داخل ہو رہی تھیں مگر ایمل کا دل بوجھل تھا۔ اس نے آئینے میں خود کو دیکھا۔ وہی ایمل جو امریکہ میں خواب دیکھتی تھی آج ایک مرد کی حفاظت میں سانس لے رہی تھی۔ اور یہی بات اسے اندر سے توڑ رہی تھی۔ “میں کسی کا سہارا نہیں بننا چاہتی۔” اس نے آہستہ سے کہا۔ “میں خود بننا چاہتی ہوں۔” دوپہر کو ایمل نے مائی زینب کو بلا لیا۔ “میں یہاں سے جانا چاہتی ہوں۔” مائی زینب کے ہاتھ کانپ گئے۔ “بی بی! یہ ناممکن ہے!” “نہیں۔” ایمل کی آواز میں لرزش تھی مگر فیصلہ بھی۔ “اگر میں یہاں رہی تو میں خود کو کھو دوں گی۔” زیاد خانزادہ حویلی کے صحن میں کھڑا تھا جب اسے یہ خبر ملی۔ وہ سیدھا ایمل کے کمرے میں آیا۔ دروازہ بند ہوا۔ خاموشی۔ “یہ سچ ہے؟” اس کی آواز میں غصہ نہیں خوف تھا۔ “ہاں۔” ایمل نے نظریں جھکا لیں۔ “میں یہاں نہیں رہ سکتی۔” “کیوں؟” وہ ایک قدم قریب آیا۔ “میں تمہیں بچا رہا ہوں۔” ایمل نے سر اٹھایا۔ “آپ مجھے قید کر رہے ہیں۔” یہ جملہ زیاد کے سینے میں تیر بن کر لگا۔ “میں نے کبھی تمہیں چھوا نہیں۔۔۔” “جسم سے نہیں۔” ایمل نے بات کاٹ دی۔ “مگر میری آزادی آپ کے ہاتھ میں ہے۔” زیاد خاموش ہو گیا۔ پہلی بار اس کے پاس جواب نہیں تھا۔ “اگر میں رک گئی۔۔۔” ایمل کی آواز بھر آئی، “تو میں آپ سے کچھ چاہنے لگوں گی۔” زیاد کی سانس رک گئی۔ “اور اگر میں چاہنے لگی تو میں خود کو ہار جاؤں گی۔” ایک قدم۔ زیاد اس کے بالکل سامنے تھا۔ “اور اگر میں پہلے ہی ہار چکا ہوں؟” لفظ بغیر اجازت اس کے منہ سے نکلے تھے۔ ایمل کی آنکھیں پھیل گئیں۔ “آپ؟” زیاد نے نظریں جھکا لیں۔ “میں نے زندگی میں کبھی کسی عورت کے سامنے سر نہیں جھکایا۔” وہ آہستہ بولا۔ “مگر تم نے مجھے روک دیا۔” ایمل نے ایک قدم پیچھے ہٹ کر کہا، “یہ عشق نہیں ہونا چاہیے۔” “ہاں۔” زیاد نے مان لیا۔ “مگر ہے۔” خاموشی۔ ایمل کے آنسو گر پڑے۔ “تو پھر مجھے جانے دیں۔” یہ جملہ زیاد کے لیے سب سے مشکل تھا۔ اس نے آنکھیں بند کیں۔ پھر دروازے کی طرف بڑھا اور اسے کھول دیا۔ “جاؤ۔” ایک لفظ۔ مگر اس میں عشق کی ہار تھی۔ ایمل رک گئی۔ پلٹی۔ “اگر میں گئی تو واپس نہیں آؤں گی۔” زیاد نے اس کی طرف دیکھا۔ “میں تمہیں روکوں گا نہیں۔” ایمل کے ہونٹ کانپے۔ “اور اگر میں نہ جا سکی؟” زیاد نے دھیرے سے کہا، “تو پھر یہ ونی نہیں رہے گی۔” وہ دروازے کی دہلیز پر کھڑی تھی۔ ایک طرف آزادی تھی تو دوسری طرف عشق۔ وہ جانتی تھی یہاں رکنا آسان راستہ نہیں تھا۔ مگر وہ بھی جان گئی تھی زیاد اب ظالم نہیں رہا تھا۔ وہ مڑی۔ دروازہ بند کیا۔ “میں رکوں گی۔” زیاد چونک گیا۔ “لیکن شرط پر۔” “کیا؟” ایمل نے سیدھا کہا، “میں آپ کی ونی نہیں رہوں گی۔” “میں آپ کی مرضی سے نہیں ، آپ کے ساتھ رہوں گی۔” زیاد کی آنکھوں میں خاموش آنسو اتر آئے۔ “قبول ہے۔” اور اسی لمحے ونی ٹوٹ گئی اور عشق معتبر ہونے لگا۔ حویلی کی فضا بدلی بدلی سی تھی۔ وہی دیواریں، وہی صحن، مگر آج ایمل کے قدم لرز نہیں رہے تھے۔ وہ جانتی تھی آج اگر وہ بولی نہیں تو پھر ہمیشہ خاموش رہے گی۔ صبح فیصلہ کن دن تھا۔زیاد خانزادہ نے پورے خاندان کو ڈرائنگ روم میں بلایا تھا۔ وہ سب لوگ جن کے فیصلوں نے ایک لڑکی کی زندگی کا سودا کیا تھا آج اس کے سامنے بیٹھے تھے۔ ایمل پردے کے پیچھے کھڑی سب دیکھ رہی تھی۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ “ڈر مت۔” زیاد کی دھیمی آواز اس کے کان میں پڑی۔ “آج تم اکیلی نہیں ہو۔” ایمل نے ایک گہری سانس لی اور پردہ ہٹا کر آگے بڑھی۔کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ یہ وہی ایمل تھی مگر اب جھکی ہوئی نہیں۔ “آپ سب نے مجھے ونی بنایا۔” اس کی آواز کانپی مگر لفظ مضبوط تھے۔ “بغیر پوچھے، بغیر اجازت۔” ایک بزرگ نے غصے سے کہا، “یہ ہماری روایت۔۔۔” “نہیں۔” ایمل نے پہلی بار کسی بڑے کو ٹوکا۔ “یہ ظلم ہے۔” کمرے میں ہلچل مچ گئی۔ “خاموش رہو!” کسی نے للکارا۔ زیاد ایک قدم آگے آیا۔ “وہ خاموش نہیں رہے گی۔” یہ جملہ حویلی کی تاریخ میں پہلی بار بولا گیا تھا۔ “اگر ایمل اس گھر میں رہے گی۔۔۔” زیاد کی آواز صاف اور مضبوط تھی، “تو صرف اپنی مرضی سے۔” “اور اگر ہم نہ مانے؟” کسی نے طنز کیا۔ زیاد نے ایمل کی طرف دیکھا۔ “تو میں بھی نہیں مانوں گا۔” یہ اعلان تھا۔ ایمل نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، “میں زیاد خانزادہ کی بیوی بنوں گی۔” کمرے میں سرگوشیاں ہونے لگیں۔ “مگر ونی نہیں۔” خاموشی۔ “میرا نکاح دوبارہ ہوگا۔میری مرضی سے۔میری رضا سے۔” یہ الفاظ کسی ہتھوڑے کی طرح روایت پر لگے۔ دوپہر کے وقت وہی کمرہ جہاں کبھی فیصلے ہوتے تھے آج گواہ بنا۔ قاضی نے سوال کیا۔ “ایمل بنت فیاض احمد کیا آپ زیاد خانزادہ کو اپنا شوہر قبول کرتی ہیں؟” ایمل نے زیاد کو دیکھا۔ وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا تھا۔ کوئی زبردستی نہیں۔ کوئی خوف نہیں۔ “قبول ہے۔” ایک بار۔ پھر دوبارہ۔ پھر تیسری بار۔ یہ قبولیت آزادی کے ساتھ تھی۔ بعد از نکاح زیاد نے آہستہ سے کہا، “اب تم محفوظ ہو۔” ایمل نے نظریں اٹھا کر جواب دیا، “اب میں آزاد ہوں۔” زیاد مسکرا دیا۔ یہ مسکراہٹ فاتح کی نہیں تھی بلکہ ہار ماننے والے عاشق کی تھی۔ شام ڈھل رہی تھی۔ ایمل چھت پر کھڑی تھی جب زیاد اس کے پاس آیا۔ خاموشی مگر سکون والی۔ “تمہیں پتا ہے۔۔۔” زیاد نے دھیرے سے کہا، “میں نے آج اپنی پہچان بدل دی۔” ایمل نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “اور میں نے اپنی۔” زیاد نے ہاتھ بڑھایا مگر چھوا نہیں۔ “اجازت ہے؟” یہ سوال ایمل کے دل کو چھو گیا۔ اس نے خود اس کا ہاتھ تھام لیا۔ یہ لمس بے باک تھا مگر پاک۔ پہلا لمس جو خوف نہیں اعتماد تھا۔ آخری جملہ اس حصے کا ایمل نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا، “کچھ عشق۔۔۔ونی سے جنم لیتے ہیں۔” زیاد نے اس کی بات مکمل کی، “مگر معتبر تب ہوتے ہیں جب اختیار سے نبھائے جائیں۔” نکاح کے بعد حویلی ویسی نہیں رہی تھی۔ وہی دیواریں، مگر اب ان میں خوف کی بازگشت نہیں تھی۔ وہی صحن، مگر اب وہاں ایمل کے قدم آزاد تھے۔ اور سب سے بڑھ کر زیاد خانزادہ بدل چکا تھا۔ ایمل کو حیرت ہوتی تھی کہ زیاد نے کبھی اپنی محبت مسلط نہیں کی۔ نہ سوال، نہ شکایت، نہ مطالبہ۔ بس موجودگی۔ ایک خاموش ساتھ جو بولنے سے زیادہ محسوس ہوتا تھا۔ ایک شام ایمل کتب خانے میں بیٹھی تھی۔ کتاب کھلی تھی مگر لفظ دھندلا رہے تھے۔زیاد دروازے پر رکا۔ “کیا میں آ سکتا ہوں؟” یہ سوال ایمل کے لیے اب بھی نیا تھا۔ “یہ آپ کا گھر ہے۔” اس نے جواب دیا۔ زیاد مسکرایا۔ “اب ہمارا۔” وہ اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ “کچھ کہنا چاہتی ہو؟” ایمل نے کتاب بند کی۔ “آپ نے مجھ سے کبھی نہیں پوچھا کہ مجھے کیا چاہیے۔” زیاد چونکا۔ “تو آج پوچھ رہا ہوں۔” ایمل نے کچھ دیر سوچا۔ “مجھے وقت چاہیے۔” زیاد نے سر ہلایا۔ “جتنا چاہو۔” یہ جواب ایمل کے دل میں اتر گیا۔ اسی رات بارش ہوئی۔ ایمل کھڑکی کے پاس کھڑی بارش کو دیکھ رہی تھی جب بجلی چمکی اور وہ چونک گئی۔ اچانک زیاد اس کے پیچھے تھا۔ بغیر چھوئے مگر بہت قریب۔ “ڈر گئی تھیں؟” ایمل نے سر ہلایا۔ زیاد نے آہستہ سے اپنی شال اس کے کندھوں پر پھیلائی۔ یہ لمس نہیں تھا مگر قربت تھی۔ ایمل نے پہلی بار خود کو کسی مرد کے ساتھ محفوظ اور مطمئن محسوس کیا۔ ایمل نے دھیرے سے کہا، “اگر میں کبھی کمزور پڑی۔۔۔” زیاد نے فوراً جواب دیا، “تو میں تمہیں یاد دلاؤں گا کہ تم مضبوط ہو۔” ایمل پلٹی۔ ان کے درمیان فاصلہ صرف ایک سانس کا تھا۔ “اور اگر آپ کمزور پڑے؟” زیاد نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا، “تو میں تمہارے کندھے پر سر رکھوں گا۔” یہ اعتراف تھا۔ کوئی غرور نہیں کوئی طاقت نہیں۔ایک محب کا اپنی محبوب بیوی سے۔ ایمل نے خود آہستہ سے اس کا ہاتھ تھاما۔ زیاد نے آنکھیں بند کر لیں جیسے اس لمحے کو محفوظ کر رہا ہو۔ یہ محبت جلدی میں نہیں تھی مگر مکمل تھی۔ ایمل نے سر اس کے کندھے پر رکھا۔ “مجھے ڈر نہیں لگتا اب۔” زیاد کی آواز بھر آئی۔ “اور مجھے پہلی بار سکون ملا ہے۔” دن گزرتے گئے۔ ایمل نے حویلی کے فیصلوں میں بولنا شروع کیا۔ عورتوں کی بات سنی جانے لگی۔ ونی کا لفظ خاموشی سے اس گھر سے نکلنے لگا۔ اور زیاد ہر قدم پر اس کے ساتھ کھڑا رہا۔ پیچھے نہیں ، آگے نہیں ساتھ۔ ایک صبح ایمل اور زیاد اسی چھت پر کھڑے تھے جہاں کبھی خوف تھا۔ آج صرف روشنی تھی۔ایمل نے مسکرا کر کہا، “سوچا نہیں تھا کہ ونی سے عشق نکل آئے گا۔” زیاد نے اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے تھاما۔ “اور میں نے نہیں سوچا تھا کہ عشق مجھے انسان بنا دے گا۔” ایمل نے آسمان کی طرف دیکھا۔ “کچھ محبتیں مجبوری سے شروع ہوتی ہیں۔۔۔” زیاد نے اس کی ادھوری بات مکمل کی، “مگر معتبر تب ہوتی ہیں جب اختیار سے نبھائی جائیں۔” ختم شد!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *