Aashiq Jinn Zad Aur Gaon Ki Larki Novel By Shifaa Raheel Complete – ZNZ

✨ عاشق جِن زاد اور گاؤں کی لڑکی ✨
عاشق جِن زاد اور گاؤں کی لڑکی Shifaa Raheel نِگَار نِگَار اری کہاں مر گئی ہے یہ… آئی چاچی جی بولئے کوئی کام تھا کہاں مر گئی تھی سارا کام ہوگیا گھر کا جی چاچی سارا کام کرلیا ہے میں نے ہمم اور کھانا بن گیا نہیں بس تیار ہونے والا ہے… ہممم اچھا چل جا مارکیٹ جا کر جو سامان بول رہی ہو لکر آنا تیرے چاچا کے کچھ دوست آرہے ہیں کھانے میں گ چاچی یہ بول کر نِگَر مارکیٹ کے لیے چلی گئی….. منیر صاحب اور چاند یہ لوگ کراچی کے ایک مقیم علاقے میں زیرِ رہائش تھے انکی فیملی نہ زیادہ آمر تھی نہ زیادہ غریب تھے منیر صاحب اور چاند بی بی کے دو بیٹے تھے بڑے بیٹے اشفاق منیر اور چھوٹے بیٹے قاسم منیر ان دونوں بھائیوں کی شادی ایک ہی دن ہوئی تھی ان کی شادی کے ایک سال بعد منیر صاحب کا انتقال ہوگیا تھا یہ صدمہ چاند بی بی سے برداشت نہیں ہوا اور اس کے دوسرے دن چاند بی بی بھی اس دنیا سے رخصت ہوگائیں….. بڑے بیٹے اشفاق صاحب کے یہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام فرحان اشفاق رکھا گیا اور چھوٹے بھائی قاسم صاحب کے یہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام نِگَر رکھا گیا نِگَر کی پیدائش کے وقت کچھ مسائل ہوگئے تھے جس کی وجہ سے نِگَر کی والدہ آمنہ بیگم اس کو جنم دیتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوگائیں تب قاسم صاحب نے اپنی بیٹی کو پالا انہیں نِگَر جان سے زیادہ عزیز تھی وہ بلکل اپنی امی کی طرح تھی دوہری رنگت، کالے گھنے بال، بڑی بڑی آنکھیں اور آنکھوں کا رنگ بلکل آمنہ بیگم کی طرح گرین تھا وہ بچپن سے ہی ایک خوبصورتی کی پیکار تھی لیکن اشفاق صاحب کی بیوی رشما کو نِگَر ایک آنکھ نہیں پسند تھی وہ بچپن سے ہی نِگَر سے نفرت کرتی آئی تھیں ان کا ماننا تھا یہ لڑکی منحوس ہے جو پیدا ہوتے ہی اپنی ماں کو کھا گئی اور نِگَر کی نفرت کی دوسری وجہ یہ تھی کہ اس کے نام اس کے دادا دادی کے حصے کی بھی جائیداد آئی تھی قک قاسم صاحب چھوٹے تھے گھر کی اس وجہ سے منیر صاحب نے اپنی حصے کی جائیداد ان کے نام کردی تھی اشفاق صاحب سے زیادہ پیسے قاسم صاحب کے پاس تھا اسی وجہ سے وہ نِگَر سے بچپن سے نفرت کرتی آئی تھیں….. ایک دن جب نِگَر سکول گئی ہوئی تھی قاسم صاحب اس کو لینے جارہے تھے راستے میں ان کا بہت بُرا حادثہ ہوا جس کی وجہ سے قاسم صاحب دو ہفتے قوما میں رہ کر اس دنیا کو الوداع کرگئے ان کے دماغ میں بہت بُری چوٹ آئی تھی اس وجہ سے وہ برداشت نہیں کرسکے یہ خبر جب نِگَر نے سُنی تو وہ پُورے 24 گھنٹے بےہوش رہی ان سب حادثات کے بعد نِگَر بلکل اکیلی پڑ گئی تھی تب خدا ترسی کے لیے اشفاق صاحب نِگَر کو اپنے گھر لے آئے یہ دیکھ کر رشما بیگم آگ بگولا ہوگائیں انہوں نے اشفاق صاحب سے بہت لڑائی کی پر اشفاق صاحب نے ان کی بات نہیں مانی اور نِگَر فرحان کے ساتھ بڑی ہونے لگی رشما بیگم کے رویے نِگَر کے ساتھ دن بدن بدتر ہوتا جارہا تھا یہ دیکھ کر فرحان اگر بُچ میں بولتا تو رشما بیگم نِگَر کو بہت مارتے نِگَر جب 6 کلاس میں تھی تب رشما بیگم نے یہ کہہ کر نِگَر کا سکول جانا بند کرادیا کہ فیس کون دے گا ایک تو اسی ہی بوجھ بنی ہوئی ہے اُپر سے یہ سب کا خرچہ بھی ہم کریں گے ایسے کر کے انہوں نے نِگَر کا سکول جانا بند کرادیا اگر کبھی اشفاق صاحب نِگَر کی حمایت میں بولتے تو رشما بیگم شمات نِگَر کی لاتیں اس کو کھانا نہیں دیتی گھر کا سارا سارا کام کرواتی یہ سب کر کے نِگَر بڑی ہوئی….. جب نِگَر جوان ہوگئی تو اس کی خوبصورتی اور اُبھر کر سامنے آنے لگی اُسے دیکھ کر فرحان کے دل میں بھی لالچ آگئی اُسے نِگَر کو ایک رات کے لیے پانے کی چاہ بہت تیزی سے کروٹیں لینے لگی لیکن اشفاق صاحب کے ڈر سے فرحان کے لیے بہت مشکل ہورہا تھا فرحان کی لاٹ بہت خراب ہوتی جارہی تھی وہ اپنے دوستوں کے ساتھ رات بھر دن بھر آئیاشی کرتا اُس کے لیے لڑکیوں سے کھیلنا تو ایسا تھا جیسے کھلونے سے کھیلنا یہ سب نِگَار چُپ کر کے برداشت کرتی تھی وہ یہ سوچتی تھی اگر چاچی نے نکال دیا تو وہ کہاں جائے گی کیا کرے گی….. ایک دن اشفاق صاحب گھر میں داخل ہوئے ان کے چہرے سے پریشانی صاف نمایاں تھی رشما بیگم نے پوچھا کیا بات ہے انہوں نے بتایا کہ کمپنی لوس میں چلی گئی سارے پیسے ڈوب گئے اب ہمارے پاس کچھ بھی نہیں بچا یہ گھر بھی نہیں بچا ہمیں جلد سے جلد یہ گھر خالی کرنا پڑے گا رشما بیگم یہ بات سُن کر سکتے میں آگائیں انہوں نے کہا اب ہم کہاں جائیں گے اشفاق صاحب نے کہا گھر ڈھونڈتا ہوں میں ہمارے پاس اتنے پیسے تو نہیں ہیں کہ ہم کوئی اچھا بڑا گھر لیسکے چھوٹا ہی گھر لیسکتے رشما بیگم نے کہا ہم نِگَر کا پیسہ ق نہیں خرچ کر دیتے اشفاق صاحب نے کہا نہیں ہم نہیں لیسکتے یہ اس کے حصے کا ہے وہ اپنی شادی میں لکر جائے گی اس میں ہمارا حق نہیں یہ سُن کر رشما بیگم بہت غصے میں آگائیں کہ جب ہم اس کو پال رہے ہیں تو اس کا سارا جائیداد ہمارا ہوگا یہ سب نِگَر چُپ سے سُن رہی تھی جب رشما بیگم بول بول کر تھک گئیں چُپ ہوگائیں تب نِگَر سامنے آئی اور کہا چاچو آپ فکر نہ کریں یہ میرے حصے کا جائیداد میں آپ لے لیں چاچی آپ ناراض نہ ہوئے چاچو بتائیں کہاں سائن کرنا ہے میں کر دونگی اشفاق صاحب نے لکھ سمجھایا پر نِگَر نہیں مانی اس نے کہا میں چاچی کو ناراض نہیں کر سکتی….. اُس کے ایک ہفتے بعد اشفاق صاحب نے آکر بتایا ایک گھر دیکھا ہے بہت مناسب ہے ہماری فیملی کے لیے اچھا ہوگا رشما بیگم یہ سُن کر بہت خوش ہوئیں انہوں نے جلدی نِگَر کو حکم دیا کہ سارا سامان پیک کر دو ہم جلد سے جلد شفٹ ہونگے نِگَر نے پوری رات لگا کر گھر کا سارا سامان پیک کیا اور دوسرے دن وہ لوگ شفٹ ہوگئے یہ بہت بڑا گھر نہیں تھا اس میں 3 روم تھے ایک لاؤن تھا اور لاؤن میں ایک سروسٹ کورنر تھا اور اس کے ساتھ ایک درخت تھا رشما بیگم نے نِگَر کو سروسٹ کورنر دیا اور تنبیہ کی کہ اپنے چاچو کو بولنا کہ تم یہاں رہنے کی ضد کی تھی نِگَر نے چاچی کو دیکھا اور بولی کچھ نہیں صرف روتے ہوئے چلی گئی رشما بیگم نے آواز لگایا اب روتی نہیں رہنا کھانے کی تیاری کرو بھوک سے مروگی کیا نِگَر نے صرف گ چاچی کہا اور چلی گئی رات میں جب اشفاق صاحب اور فرحان آئے تھے نِگَر نے کہا چاچو میں سروسٹ کورنر میں رہ لونگی میں گھر میں نہیں رہونگی یہ میری خواہش ہے .. یہ میری خواہش ہے چاچو یہ سن کر رشما بیگم نے ایک طنزیہ مسکراہٹ لے کر اشفاق صاحب کو دیکھا اور کہا دیکھ لو میں تو کچھ نہیں بولی اشفاق صاحب نے بہت سمجھایا فرحان بھی سمجھایا لیکن نگار مان نہیں جب کھانا پینا ہو گیا سب اپنے اپنے روم میں چلے گئے اور نگار سیونت کورٹ میں آئی اسے یہاں بہت ڈر لگ رہا تھا وہ اپنی گھبراہٹ دور کرنے کے لئے باہر لاؤن میں آئی نگار اس درخت کے پاس آ کر بیٹھ گئی اسے یہ درخت بہت پسند آیا اسے ایسا لگ رہا تھا یہ اسے دیکھ رہا ہے وہ درخت کو گلے لگا کر بیٹھ گئی اور رونے لگی اس نے کہا تمہیں پتا ہے دوست میں بلکل اکیلی ہوں میرا کوئی نہیں ہے نہ میرے امی ابو ہیں تم… تم میرے دوست بنو گے ہاں تم ہو نا دوست میرے آج سے ہماری دوستی پکی وہ کہہ کر اندر آئی اور اسی نیند بہت مشکل سے آئی آدھی رات کو اس کی آنکھ کوئی ہلچل سے کھلی اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا کوئی سایہ اس کے پاس سے بہت تیزی سے گزرا وہ ڈر کر بیٹھ گئی لیکن اسے ایک بہت میٹھی خوشبو آرہی تھی نگار نے کافی دیر اس خوشبو کو محسوس کیا اور اسے پتا نہیں چلا کب وہ نیند کی وادی میں کھو گئی…………………….. صبح نگار کی آنکھ کھلی تو بارش ہو رہی تھی اسے بارش بہت پسند تھی وہ بھاگتے ہوئے باہر آئی اور درخت کے پاس جا کر کھڑی ہو کر بارش انجوائے کرنے لگی رشما بیگم نے نگار کو آواز دی وہ جلدی جلدی میں گھر کے اندر آئی اس نے اپنا پیر صاف نہیں کیا اور اسی ہی اندر آئی یہ دیکھ کر رشما بیگم کو ایک اور موقع مل گیا نگار سے اپنی بھڑاس نکالنے کے اس نے نگار کو فرحان کے بیلٹ سے بہت مارا اور سارا کام اس سے کروایا اور کھانا تک نہیں دیا اسے وارننگ دی اشفاق صاحب کے آنے سے پہلے جا کر مر جانا خبردار نظر نہیں آنا رشما بیگم نے اسے اتنا مارا تھا کہ اسے چلنا تک نہیں جا رہا تھا وہ بہت مشکل سے لنگڑا لنگڑا کر اپنے کام کے میں آئی جو سیونت کور تھا وہ اندر آ کر بہت روئی اور روتے روتے سو گئی اسے سوئے آدھا گھنٹہ ہوا تھا کہ اچانک اس کی آنکھ کھل گئی اس نے دیکھا کہ اس کے روم سے بہت اچھے کھانے کی خوشبو آرہی ہے اس نے ادھر ادھر دیکھا اور سامنے دیکھا تو ایک ٹری رکھا تھا اس میں ایک کپڑا ڈھکا تھا اس نے جلدی سے کپڑا اٹھایا تو دیکھا دو گرما گرم نان گوشت آلو کا سالن لاسى رکھا ہے اس نے سوچا کہ فرحان یا چاچو رکھ کر چلے گئے جو اکثر اس کے لئے باہر سے کچھ نہ کچھ لے کر آتے تھے اسے بہت بھوک لگی وہ تھی اس نے جلدی جلدی کھایا اور اللہ کا شکر ادا کیا اور تہجد پڑھنے چلی گئی اس نے نماز پڑھ کر ہاتھ دعا کے لئے اٹھایا اور منہ سے کہا کچھ نہیں دل میں ہی دعا مانگی یا اللہ آپ تو میری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں آپ تو جانتے ہیں نا میں کبھی بھی کسی کے برا نہیں سوچتی بس اللہ پاک آپ کی ہر نعمت کا بہت شکر ادا کرتی لیکن اللہ پاک آپ میرے چاچی کے دل میں میرے لئے محبت پیدا کر دیں یہ بول کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی روتے روتے اس کی آنکھ جا نماز میں ہی لگ گئی اس نے خواب دیکھا ایک نوجوان لڑکا جو بہت حسین تھا دراز قامت ہیزل آنکھیں سونے جیسے بال اس نے نگار کو دیکھا اور مسکرا کر کہا پریشان نہیں ہو نگار میں آگیا ہوں بہت دور لے جاؤں گا تم کو یہاں سے…………………… دوسرے دن نگار نے اس کو مارکیٹ بھیجا یہ کہہ کر کہ اشفاق صاحب کے دوست آرہے ہیں کھانے میں جا کر سامان لے آؤ نگار سے چلنا مشکل ہو رہا تھا کیونکہ ایک دن پہلے ہی نگار کو رشما بیگم نے پیٹا تھا نگار کے ہاتھ میں اس نے پرچی رکھ کر کہا کہ ایک ایک حساب کر کے آنا ایک روپے بھی آگے پیچھے نہ ہو ورنہ کھانا بھول جانا کھانا ملے گا وہ گئی چاچی بول کر مارکیٹ کے لئے نکل گئی وہ مارکیٹ پہنچ کر مطلبلا چیزیں لے اور دو بھاری بھاری شاپر لے کر وہ آنے لگی ایک تو اس کے پاؤں میں درد اوپر سے اتنا بھاری سامان اس کے لئے بہت مشکل ہو رہا تھا چلنا وہ بر بر راستے میں رکتے رکتے آ رہی تھی جب وہ تھوڑی دیر کے لئے رکی تھی تب ایک لارکنے نے پاس آ کر کہا excuse me miss کیا میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں نگار نے چوک کر دیکھا اور حیران ہوگئی کہ جس لارکے کو خواب میں دیکھا تھا اسے ایک واہم سمجھ کر بھلا دیا تھا وہ سچ میں اس کے سامنے آجائے گا…………………….. یزدان نے اس کے سامنے چٹکی بجا ئی hello miss کہاں کھو گئی نگار اچانک ہوش میں آئی اور اسے اپنی بے خودی پر خود ہی شرم آئی اس لڑکے نے کہا miss آپ کچھ بولیں گی یا میں ہی بولتا جاؤ اس لڑکے نے مسکرا کر کہا تو نگار نے ڈر کر ادھر ادھر دیکھا اور کہا کہ نہیں نہیں میں چلی جاؤں گی تو یزدان نے کہا آپ پریشان نہیں ہوئے میں اچھی فیملی سے بیلیگ کرتا ہوں کچھ غلط نہیں کروں گا اب کی بار اس نے بہت سنجیدگی سے کہا تو نگار نے کہا ٹھیک ہے لیکن آپ میرے گھر آنے سے پہلے مجھے سامان دے دیجئے اور چلے جائیے گا تو یزدان نے کہا ہمم ٹھیک ہے چلو نگار نے اسباب میں سر ہلایا اور چلنے لگی پورے راستے پھر ان دونوں میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی نگار نے کہا بس اب دے دیجئے میرا گھر آنے والا ہے یزدان نے چپ سا سامان دے دیا اور کہا چلو اللہ حافظ ملتے ہیں یہ کہہ کر یزدان رکا نہیں اور چلا گیا اور نگار اس کو جاتا ہوا دیکھنے لگی………………. نگار گھر کے اندر آئی تو بہت زیادہ خوش تھی اسے بر بر یزدان یاد آ رہا تھا اس کی باتیں اس کی آواز بہت یاد آ رہی تھی رشما بیگم نے کہا کہ کہاں مر گئی نگار کہاں کھانا بنا کر نہیں یا بھوکا مرنے کا ارادہ ہے اس نے کہا گ چاچی سب تیار ہے بس نکلنے لگی کھانا یہ کہہ کر نگار نے جلدی جلدی کھانا بنایا اور نکلنے لگی جب مہمان کھانا کھا کر چلے گئے تو اس نے برتن دیکھے اور سارے پر اس نے خود کہا کہ یار اب کیا کرو اتنی سردی ہو رہی یا اللہ کاش یہ برتن خود دھول جائے یہ بول کر خود ہنسنے لگی ہنستے ہوئے نگار نے اپنے برابر میں دیکھا تو ایک گلاس میں شربت رکھا ہوا نظر آیا اس نے کچھ سوچا سمجھا نہیں اور شربت پیا اور اسے پتا نہیں چلا کب وہ گہرے نیند میں سو گئی جب صبح نگار کی آنکھ کھلی تو اس کو کچھ یاد نہیں آ رہا تھا کہ کل رات کیا ہوا اچانک دیکھا کہ وہ اپنے روم میں ہے تو وہ ڈر کر اٹھ گئی اور کہا کہ یا اللہ میں کب سو گئی برتن ویسے ہی رکھا ہوگا چاچی چھوڑیں گی نہیں اور بھاگتے ہوئے تقریبا کچن میں بھاگی اور کچن کا حال دیکھ کر حیران ہوگئی کہ کچن بالکل صاف ستھرا تھا ناشتہ بھی گرما گرم تیار تھا اس نے ڈر کر ادھر ادھر دیکھا اور کہا کہیں یہ چاچی نے تو نہیں کیا یا اللہ اب میری شامت آئی اتنے دیر میں رشما بیگم اپنے کام سے باہر آئی اور کہا نگار ناشتہ لگا دو کب دو گی اس نے حیرت سے چاچی کو دیکھا کہ چاچی غصہ کیوں نہیں =…………………………..= رشمہ بیگم نے دیکھا کہ وہ ویسے ہی کھڑی ہے تو رشمہ بیگم نے زور سے کہا نگر ناشتہ لگاؤ وہ ہوش کی دنیا میں آکر بولی گ گ چچی لگاتی ہوں نگر کو کچھ خوشی بھی ہوئی اور ڈر بھی لگا کہ کس نے تیار کیا ہوگا ناشتہ ناشتے سے فارغ ہوکر رشمہ بیگم نے کہا میں ابھی باہر جارہی ہوں تب تک کپڑے بھی دھو کر رکھنا کھانا بھی تیار رکھنا میں آونگی تو کھانا کھاونگی اور پورا گھر صاف کردینا بہت گندا ہورہا ہے ایک دھول بھی نظر نہ آئے وہ یہ بول کر چلی گئیں نگر نے سوچا کہ چچی کے روم سے ہی شروع کرتے ہیں وہ رشمہ بیگم کے روم میں جاکر صفائی ستھرائی کرکے دوسرے روم میں گئی تو دیکھا کامرا صاف ہے ایسے کرتے کرتے وہ جہاں جارہی تھی ہر جگہ صاف مل رہا تھا وہ حیران ہوئی وہ کچن میں گئی تو دیکھا کھانا بھی تقریبا تیار تھا اور بہت مزے کی خوشبو آرہی تھی اب نگر کو ڈر لگنے لگا تھا کہ کون ہے یہاں جو یہ سب کررہا ہے وہ جیسے ہی کپڑا دھونے گئی تو دیکھا کپڑا بھی دھل گیا ہے اور رسی میں لٹکا ہوا ہے اتنے میں رشمہ بیگم کی آواز آئی ہائے اللہ کیا کروں مار دیا اس نے کمبخت نے اللہ پوچھے گا اندھا دیکھ نہیں نگر دوڑتی ہوئی آئی اور کہا کیا ہوا چچی نگر کو دیکھ کر رشمہ بیگم نے کہا کہ دفع ہو جاؤ یہاں جاتے ہوئے تیرا منحوس منہ دیکھا تھا تو حادثہ ہوگیا بھلا ہو اس بچے کا جو وقت پر آگیا اور اپنے ہی خرچے سے میرا علاج کر وایا نگر کو فورا سے یزدان کی یاد آنے لگی رات میں جب وہ اپنے درخت کے پاس تھی اس کو گلے لگاکر کہا پتہ ہے دوست مجھے یزدان یاد آرہا ہے میں نے اس کو پہلی بار خواب میں دیکھا تھا مجھے نہیں پتہ تھا وہ اصل میں ہوگا پتہ نہیں کیوں مجھے بہت یاد آرہا ہے اس کی کاش میں مل سکوں اس سے دوبارہ یہ کہہ کر نگر اٹھ کر جانے لگی تو اس کو آواز آئی شکریہ وہ ڈر کر مورکے ادھر ادھر دیکھنے لگی اور خود سے کہا مجھے لگا یزدان بولو کر اندر چلی گئی ایسے ہی دن گزر رہا تھا اب جب بھی نگر کہیں باہر جاتی تو اسے یزدان مل جاتا ایسے کرتے کرتے ان کی دوستی پکی ہوگئی تھی ایک دن نگر نے درخت سے کہا تمہے پتہ ہے دوست مجھے یزدان سے محبت ہونے لگی ہے مجھے یزدان بہت پیارا لگتا تھا پتہ نہیں اس کے دل میں میرے لئے کیا احساسات ہیں اگر وہ مجھے نہیں پسند کرتا یا صرف میرے ساتھ ہمدردی کرتا ہے تو خیر میں جارہی ہوں سونے یہ بول کر نگر سونے چلی گئی دوسرے دن نگر یزدان سے ملنے گئی رشمہ بیگم سے بہانا بناکر کہ کچھ مسالا ختم ہوگیا وہ لینے نگر اور یزدان ایک بینچ میں بیٹھے تھے یزدان نے کہا نگر ایک بات کہوں نگر نے بولا جی بولئے یزدان نے کہا کیا تم کسی کو پسند کرتی ہو نگر نے اچھنبے سے یزدان کو دیکھا اور بولی کچھ نہیں یزدان نے کہا نگر میں کچھ پوچھ رہا ہوں نگر نے بولنا شروع کیا یزدان مجھے نہیں پتہ آپ کے دل میں میرے لئے کیا احساسات ہیں یقین کریں مجھے آپ سے محبت ہے آپ کے علاوہ میری زندگی میں اور کوئی نہیں ہے میری زندگی میری خوشی کی وجہ صرف آپ ہیں یزدان یزدان اس کی بات سن کر کچھ بولا نہیں بس نگر کو دیکھتا چلا گیا نگر نے اپنی بات ختم کی اور یزدان کو دیکھا تو یزدان مسکرا رہا تھا نگر نے شرم کر اپنی نگاہیں جھکا دی تو یزدان نے کہا چلو نگر بہت دیر ہوگئی ہے گھر جاؤ چچی انتظار کر رہی ہوں گی نگر نے اسے دیکھا اور کہا کچھ نہیں اس نے دل میں سوچا مطلب محبت صرف مجھے تھی اسے نہیں میں نے غلط کردیا انھیں بتانا نہیں چاہیے تھا یہ سوچ کر نگر کی آنکھوں میں آنسو آئے اور چپ سے چلی گئی یزدان نے اسے جاتا ہوا دیکھا اور مسکراکر چلا گیا نگر جب گھر آئی تو رشمہ بیگم کو اشفاق صاحب سے بات کرتے ہوئے سنا کہ لڑکا اچھا ہے کیا کہتے ہیں ہاں کردو نگر کے لئے اسی بچے نے جب میرا حادثہ ہوا تھا وہی لے کر گیا تھا اپنے ہی خرچے سے اس نے میرا علاج کر وایا اس کے والد آئے تھے کل نگر کے لئے میں نے آج بلایا ہے ان لوگوں کو آپ مل لیجئے اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی اشفاق صاحب نے جاکر دروازہ کھولا سامنے ہی ایک پر رونق بزرگ کھڑے ہوئے تھے نورانی چہرہ صاف ستھرا لباس اور میٹھی میٹھی خوشبو اشفاق صاحب نے دیکھا سلام کیا اور کہا جی آپ کون بزرگ نے کہا کہ میں رشتے کی بات کرنے آیا ہوں آپ کی بیگم نے مجھے آج بلایا تھا اشفاق صاحب نے بولا جی جی اندر آئیں بزرگ اندر آئے رشمہ بیگم نے سلام کیا اور ساتھ نگر کو کہا کہ جاؤ جاکر چائے پانی کا انتظام کرو اس دوران نگر بالکل سکتے میں تھی رے رے کر اس کی آنکھیں بارس رہی تھیں اسے یزدان کی یاد آرہی تھی اور دل ہی دل میں کوئی معجزے کی دعا کر رہی تھی چائے پانی کا انتظام کرکے وہ ڈرائنگ روم میں آکر سلام کیا تو رشمہ بیگم نے آنکھ کے اشارے سے بیٹھنے کو کہا نگر کے بس نہیں چل رہا تھا وہ یہاں بھاگ جائے وہ بر بر شکوہ کر رہی تھی میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا جس کو چاہتی ہوں وہ دور کیوں ہو جاتا مجھ سے اتنے میں بزرگ نے کہا بیٹا بتائی پہلے نگر بیٹی کو میرے بیٹے کی تصویر دکھا دیں پھر میں ضروری بات کروں گا یہ کہہ کر بزرگ نے ایک لفظ نگر کے ہاتھ میں دے دیا نگر نے کانپتے ہاتھوں سے لفظ کھولا اور یہ دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہیں رہی تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا یہ سچ ہے یا خواب کیوں کہ وہ اور کوئی نہیں یزدان تھا رشمہ بیگم کے جس نے علاج کر وایا تھا وہ اور کوئی نہیں یزدان تھا نگر کی ساری غم ایک پل میں غائب ہوگئی………. اتنی دیر میں بزرگ نے کہا بھائی صاحب بات سنئے پہلے نگر بیٹی کو میرے بیٹے کی تصویر دکھا دیں پھر میں ضروری بات کروں گا یہ کہہ کر بزرگ نے ایک لفظ نگر کے ہاتھ میں دے دیا نگر نے کانپتے ہاتھوں سے لفظ کھولا اور یہ دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہیں رہی تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا یہ سچ ہے یا خواب کیوں کہ وہ اور کوئی نہیں یزدان تھا رشمہ بیگم کے جس نے علاج کر وایا تھا وہ اور کوئی نہیں یزدان تھا نگر کی ساری غم ایک پل میں غائب ہوگئی………. اتنی دیر میں بزرگ نے کہا بھائی صاحب میرا نام حذیفہ ہے اور یہ میرا بیٹا یزدان ہم انسان نہیں ہیں ہم جن زاد ہیں لیکن ہم مسلم جن زاد ہیں میرا بیٹا اسی گھر میں رہتا تھا جب اس نے نگر کو دیکھا اسے نگر بیٹی سے محبت ہوگئی اس نے مجھ سے بات کی میں نے کہا میں تب تک نہیں جاؤں گا جب تک نگر بیٹی اپنی موہ سے محبت کا اقرار نہیں کرتی کیوں کہ آگ اور مٹی کا کوئی میل نہیں لیکن یقین جانئے ہم مسلم جن زاد ہیں ہمارا طریقہ غلط نہیں میں باقاعدہ اپنے بیٹے کا رشتہ لے کر آیا ہوں اگر یہ ساری حقیقت جان کر بھی نگر بیٹی ہاں کرتی ہے تو ہم اس جمعے کو نکا ح کر لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اشفاق صاحب اور ریشما بیگم کے گھر میں دھوم دھام سے تیاریاں ہو رہی تھیں۔ نِگر کو جب یہ خبر ملی تو وہ حیران رہ گئی۔ بزرگ نے کہا، “بتا، کیا جواب ہے تیرا؟” نِگر نے ہوش میں آ کر کہا، “آنکل، مجھے منظور ہے، میں نے اپنے دل سے یزداں سے محبت کی ہے اور اسے پوری نیّت سے اپنا بنایا ہے۔ مجھے فرق نہیں پڑتا آپ لوگ کیا کہتے ہیں۔” بزرگ نے کہا، “بھائی صاحب، ہم اس جمعہ کو آئیں گے اور نکاح کرا کے لے جائیں گے۔ آپ فکر نہ کریں، یزداں نِگر کو لے کر آئے گا آپ لوگوں سے ملوانے۔” جمعہ کو نکاح ہو گیا اور اگلے دن ولیمہ کی تقریب رکھی گئی۔ ریشما بیگم نے جب نِگر کو دیکھا تو ان کی آنکھیں پھیل گئیں۔ نِگر سونے چاندی سے سجی کسی ملکہ لہرا رہی تھی اور یزداں کسی شہزادے کی طرح لکھ رہے تھے۔ ولیمہ بہت اچھے سے ہو گیا۔ اس کے بعد نِگر اور یزداں اپنی دنیا میں چلے گئے اور ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارنے لگے۔ نِگر نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس کے نصیب میں یہ لکھا گیا ہے۔ اس نے اللہ سے سچے دل سے توبہ کی کہ کبھی بھی ناشکری نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ اللہ اپنے بندوں کے لیے کبھی بھی برا نہیں چاہتا۔ بس انسان کو صبر سے کام لینا چاہیے۔ اور صبر کا پھل ویسا ہی ہوتا ہے جیسا نِگر کو ملا۔ ختم شد ❤️

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *