Qaid E Chaht Novel By HS Complete | ZNZ

Qaid E Chaht Novel By HS Complete | ZNZ

Download free web-based Urdu books, free internet perusing, complete in PDF, Qaid E Chaht Novel By HS Complete | ZNZ Online Free Download in PDF, Qaid E Chaht Novel By HS Complete | ZNZ – Online Free Download in PDF, And All Free internet based Urdu books, books in Urdu, heartfelt Urdu books, You Can Download it on your Portable, PC and Android Cell Phone. In which you can without much of a stretch Read this Book. Qaid E Chaht Novel By HS Complete | ZNZ We are Giving the PDF document on the grounds that the vast majority of the clients like to peruse the books in PDF, We make an honest effort to make countless Urdu Society, Our site distributes Urdu books of numerous Urdu journalists.

 

Qaid E Chaht Novel By HS Complete | ZNZ

Pakistan’s most dependable source for romantic urdu stories pdf and free urdu novels is Zubi Novels Zone (ZNZ). Discover new urdu novels 2025, forced marriage urdu novels, rude hero based love stories, and age difference romantic novels. Every novel is easy to download and read online in high-quality PDF. Perfect for Urdu literature lovers who enjoy emotional, family-based, and romantic tales.

 

Qaid E Chaht Novel By HS Complete | ZNZ

urdu novel download | romantic urdu novel pdf | zubi novels zone | urdu books library | online urdu novels reading | free pdf urdu novels | pakistani romantic novels | urdu novel 2025 complete | zubinovelszone urdu romantic novels | pdf urdu love story books

NOVELS INFORMATION ARE THE GIVEN BELOW
267+ Pages · 2026 · 60.52 MB · Urdu
✨ Qaid E Chaht ✨
” یہ بچا ہوا کھانا اسے دو بہت شوق سے کھاتی ہے محترمہ۔۔۔” اسے گھورتے ہوئے وہ انتہائی سرد اور سفاک لہجے میں بولا۔ اس کی آواز میں ایسی کاٹ تھی جیسے کانچ کے ٹکڑے بکھیر دیے گئے ہوں زویا جو ڈائننگ ہال کے ایک گوشے میں سر جھکائے کھڑی تھی اس کی بےمروتی پر نم نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔ آریان ملک اپنی کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھامے اسے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے وہ کوئی انسان نہیں بلکہ حقیر سی شے ہو۔۔۔ ” سنا نہیں تم نے؟؟؟ ” اریان نے ملازمہ کی طرف دیکھا جو ہچکچاتے ہوئے میںز کے قریب کھڑی تھی۔ ” میں نے کہا یہ بچا ہوا سالن اور روٹی کے ٹکڑے جو میری پلیٹ میں ہیں اسے ڈال کر دو اس کی اوقات یہی ہے۔۔۔” زویا کا دل چاہا کہ زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائے آنسو اس کی پلکوں کی باڑ توڑ کر گالوں پر بہ نکلے لیکن اس نے کوئی آواز نہیں نکالی اس کا مادہ بھوک سے مروڑ کھا رہا تھا۔ کل صبح سے اس کی پیٹ میں پانی کے چند گھونٹ کے سوا کچھ نہیں گیا بھوک ایک ایسا ظالم احساس ہے جو انسان سے اس کی انا اس کی خودداری سب کچھ چھین لیتا ہے۔ آریان ملک وہ شخص جس کے نام سے ہی لوگ کانپتے تھے جس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے لڑکیاں بےتاب رہتی تھیں اس وقت زویا کے سامنے جلاد بنا بیٹھا تھا۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ لڑکی جو اس گھر میں ایک بے سہارا یتیم کی طرح رہ رہی ہے درحقیقت آریان ملک کے نکاح میں ہے۔ یہ نکاح ایسا راز تھا جو اس حویلی کی دیواروں میں دفن تھا اور شاید آریان کے دل میں رشتے کے لیے صرف نفرت تھی۔۔۔ ملازمہ نے ڈرتے ڈرتے آریان کی پلیٹ اٹھائی اس میں آدھی کھائی ہوئی روٹی اور سالن کا جھوٹا موجود تھا اس نے پرانی سی سٹیل کی پلیٹ میں وہ سب انڈیلا اور زویا کی طرف بڑھی۔۔۔ ” یہ لوگ بی بی ” ملازمہ کی آواز میں ہمدردی تھی یا ترس زویا پہچان نہ سگی زویا نے کانپتے ہاتھوں سے پلیٹ تھامی۔ اس کے ہاتھ ایسے لرز رہے تھے جیسے بخار چڑھا ہو حویلی کا عالی شان ڈائننگ ہال فانوس کی روشنی میز پر سجے ہوئے طرح طرح کے کھانے سب اس کا منہ چڑھا رہے تھے۔۔۔ اس کے اپنے شوہر نے اسے فقیروں سے بدتر بنا دیا تھا آریان نے اسے پلیٹ تھامتے دیکھا تو اس کے لبوں پر ایک طنزیہ مسکراہٹ ابھری۔۔۔ ” گڈ۔۔۔ ” وہ کرسی دھکیلتا ہوا کھڑا ہوا اس کا قد اور سراپہ مہنگا لباس اور چہرے پر پھیلی تمکنت سب کچھ زویا کو اپنے ہونے کا احساس دلا رہا تھا۔۔۔۔ وہ اس کے قریب سے گزرا تو اس کی مہنگی پرفیوم کی خوشبو زویا کہ نتوں سے ٹکرائی مگر وہ رکی نہیں ” پیٹ کی آگ انسان کو بہت کچھ سکھا دیتی ہے۔۔۔۔۔” زویا بی بی وہ اس کے کان کے قریب جھک کر سرگوشی میں بولا اور پھر بڑے بڑے ڈھک بھرتا ہوا ہال سے نکل گیا اس کے جانے کے بعد زویا کی ٹانگوں نے جواب دے دیا وہ وہیں کالین پر بیٹھ جانا چاہتی تھی مگر ملازموں کی نظروں نے اسے ایسا کرنے سے روک دیا اسے اپنی عزت نفس کا بھرم رکھنا تو پلیٹ سینے سے لگائے نظریں جھکائے کچن کے راستے سے ہوتی حویلی کے پچھلے حصے کی طرف نکل گئی۔۔۔۔ باہر رات کا اندھیرا چھایا ہوا تھا سرد ہوا کے جھونکے چل رہے تھے جو اس کے باریک سے دوپٹے کو اڑا رہے تھے حویلی کا پچھلا حصہ سنسان تھا یا پرانی اینٹیں اور سوکھے درخت ایک خوفناک منظر پیش کر رہے تھے وہی پرانے ستون کے پاس آکر رک گئی یہاں کوئی نہیں تھا وہ زمین پر بیٹھ گئی ٹھنڈی مٹی کی ٹھنڈک اس کے وجود میں سرایت کرنے لگی اس نے پلیٹ اپنے سامنے رکھی۔۔۔ چاند کی مدھم روشنی میں سالن کا رنگ عجیب سا لگ رہا تھا روٹی کے ٹکڑے سخت ہو چکے تھے لیکن اس وقت اس کے لیے کسی شاہی ضافت سے کم نہ تھا۔۔۔۔
Download Box
0%

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *