✨ Ishq Hone Tak ✨
………………..میرے نکاح میں ہوتے ہوئے تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی کسی اور کے پاس جانے کی؟ میں تمہاری جان لے لوں گا نام بتاؤ مجھے اپنے عاشق کا۔۔۔” سجاول شاہ نے خود سے آٹھ سال چھوٹی ہانیہ پر مسلط ہوتے ہوئے پوچھا تھا جس کے پورے جسم پر کسی کے قربت کے نشان تھے جبکہ سجاول شاہ آج تک ہانیہ کے قریب نہ گیا تھا۔ اس کی بات سنتے ہانیہ نے سختی سے اپنی آنکھیں بند کر لیں تھیں اس کے پاس سجاول شاہ کے سوالوں کے جواب نہیں تھے پر وہ اگلے پل سجاول کی بانہوں میں جھول گئی۔ تبھی سجاول کی نظر اس کے جسم پہ موجود سگریٹ کے جلے نشانوں پر پڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ سترہ سالہ لڑکی میر سجاول کو دیکھ کر ہی تھر تھر کانپ رہی تھی۔جو اس کے سر پر کھڑا باز پرس کر رہا تھا۔۔وہ ہانیہ سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا،مگر گھر والوں کے مجبور کر نے پر وہ جیسے تیسے راضی ہوگیا تھا۔’’بہت شوق ہے تم اپنے سے بڑی عمر کے آدمی سے شادی کرنے کا بولو؟‘‘وہ بذات خود پچیس سالہ ایک خوش شکل نوجوان تھا،مگر اسکی مضبوط تواناں جسامت کے سامنے وہ ہمیشہ ایک معصوم سی کلی لگتی تھی۔’’میں۔۔۔میں نے تایا ابا کو منع کیا تھا۔‘‘وہ کپکپا گئی۔۔آنکھوں میں آنسو آگئے۔’’کیوں منع کیا تھا؟‘‘اس بار و ہ غرایا۔’’کیونکہ۔۔۔میں آپ سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔‘‘وہ کمزور لہجے میں بولی تو میر سجاول نے اسکو بازؤں سے پکڑ کر قریب کیا تھا۔’’مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تو کس سے کرنا چاہتی ہو؟ ہمم!‘‘اس بار وہ غرایا،تو اسکی خوف سے گھگھی بند گئی۔’’میں۔۔۔میں۔۔۔آپ سے کیسے۔۔آپ کو بھائی۔۔۔‘‘وہ مسلسل لرز رہی تھی۔۔میر سجاول نے دلچسپی سے اُسکا یہ رُوپ دیکھا تھا۔’’ اب تو تمھاری شادی مجھ سے ہی ہوگی،مگر ہاں کسی خوش فہمی میں نہ رہنا کہ میں تمھیں بیوی بنا کر رکھونگا۔تم شروع سے اس گھر میں ملازمہ کی حثیت سے رہ رہی ہو۔اس کے بعد بھی ایسی ہی رہو گی۔۔‘‘وہ استہزائیہ مسکرایا تھا،وہ جانتا تھا کہ اس کے ماں باپ صرف یہ شادی جائیداد کی وجہ سے کرانا چاہتے ہیں۔’’مگر میں۔۔۔‘‘اس نے مزاحمت کرنی چاہی۔’’شش! آواز نہیں آنی چاہئے! خاموش بالکل خاموش ہوجاؤ۔۔‘‘وہ خوف سے سانس تک روک گئی تھی۔۔آنکھوں میں بے یقینی اُتر آئی تھی۔۔جبکہ وہ مسکراتا ہوا ،اُس کے گالوں پر لَب رَکھ گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شادی کا ہال روشنیوں سے جگمگا رَہا تھا۔ ہر طرف سجاوٹ کا ایسا اہتمام تھا کہ دیکھنے والے کی آنکھیں چندھیا جائیں۔ تازہ گلاب، موتیے کے ہار، اور رنگین روشنیوں کی جھلک ہر کونے میں پھیلی ہوئی تھی۔ ہانیہ، جو صرف سترہ سال کی نازک سی لڑکی تھی، عروسی لباس میں سجی دھجی ایک خاموش مجسمے کی مانند اسٹیج پر بیٹھی تھی۔ سرخ بھاری جوڑے کے نیچے وہ خود کو بہت چھوٹا محسوس کر رہی تھی۔ دوپٹے کی جھالر اس کے چہرے پر ہلکی ہلکی لرز رہی تھی اور ماتھے پر بندیا سجی تھی، جو اس کی معصومیت میں ایک الگ ہی رنگ بھر رہی تھی۔اندر ہی اندر اس کا دل بہت بےچین تھا۔ سانسیں دھیمی اور گہری تھیں، دل میں خوف کی ایک لہر تھی جسے وہ چھپا رہی تھی۔ اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں، اور ہاتھ کانپتے ہوئے گود میں رکھے تھے۔ اس کا ننھا سا دل چاہ رہا تھا کہ کوئی آئے اور اسے اس سب سے نکال کر ایک محفوظ جگہ لے جائے، مگر حقیقت بہت تلخ تھی۔عین اس لمحے، دروازے پر شور اٹھا۔ سب کی نظریں اس طرف مڑ گئیں۔ میر سجاول شاہ داخل ہوا، جس کے ساتھ اس کے قریبی رشتے دار اور دوست بھی تھے۔ سفید شیروانی، سر پر کلہ لئے، ماتھے پر کڑک تیور اور لبوں پر ایک مغرور سی مسکراہٹ۔ میر سجاول آج اپنی زندگی کے سب سے بڑے مقام پر تھا، مگر اس کی آنکھوں میں کوئی جذباتی چمک نہیں تھی، صرف جیت کا غرور تھا۔اس کی نظریں سیدھی اسٹیج پر بیٹھی ہانیہ پر جا کر رک گئیں۔ اس نے ایک طویل سانس لی، پھر ایک ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر کھیلنے لگی۔۔۔سجاول کے والدین فخر سے اسے دیکھ رہے تھے، اور رشتہ داروں کی چہ میگوئیاں جاری تھیں۔ “ماشاء اللہ !کتنی خوبصورت جوڑی ہے۔” کسی نے کہا۔ “اور لڑکی؟ بس بچی سی ہے!” دوسری آواز آئی۔ مگر سجاول کو ان سب باتوں کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ اس کی نگاہیں اب بھی ہانیہ پر جمی ہوئی تھیں، جو اب بھی ساکت اور خاموش بیٹھی تھی، جیسے اندر اندر کچھ ٹوٹ رہا ہو۔مولوی صاحب کو بلایا گیا۔ نکاح کی رسم شروع ہوئی۔ قریبی خواتین ہانیہ کے گرد جمع ہو گئیں۔ “بیٹا، ہاں بول دو۔۔۔” خالہ نے دھیمی آواز میں کہا۔ ہانیہ نے ایک پل کے لیے آنکھیں بند کیں، ایک گہری سانس لی، اور مدھم سی آواز میں کہا”قبول ہے۔”تیسری بار “قبول ہے” کہتے ہی ہانیہ کی آنکھوں سے دو آنسو نکل کر گالوں پر لڑھک گئے، مگر اس نے اپنے چہرے کو مضبوط رکھا۔ دوسری طرف سجاول نے جب نکاح نامے پر دستخط کیے تو اس کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ تھی، جیسے کسی بڑی جنگ کو جیت لیا ہو۔دعائیں ہوئیں، سب نے مبارکباد دی۔ قریبی رشتہ داروں نے آ کر ہانیہ کو گلے لگایا۔ ہانیہ اندر سے خالی سی تھی، لیکن سر ہلا کر سب کی باتوں کا جواب دیتی رہی۔ اسٹیج پر سجاول آ کر بیٹھا تو اس نے ایک نگاہ ہانیہ پر ڈالی۔ اس کی آنکھوں میں فخر، ملکیت اور ایک عجب سی جیت کی خوشی تھی۔ اس نے آہستہ سے سرگوشی کی”مبارک ہو، مسز میر سجاول شاہ۔”ہانیہ نے بس ذرا سی نظر اٹھا کر اسے دیکھا، پھر فوراً سر جھکا لیا۔ سجاول نے اس لمحے محسوس کیا کہ یہ لڑکی واقعی بہت نازک اور معصوم ہے۔ مگر اس کے دل میں ابھی بھی غرور غالب تھا۔رخصتی کا وقت آیا تو ہانیہ کی آنکھوں سے ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے۔ وہ اپنی پھوپھی کے گلے لگ کر زار و قطار روئی، مگر کسی نے اس کی سنی نہیں۔کیونکہ ان سب کی نظر میں وہ ایک منحوس وجود تھی۔جو ان کے بھائی کو بھری جوانی میں کھا گئی تھی۔۔اور پھر اس کی وجہ سے بھائی کا کوئی بیٹا بھی نہیں ہوسکا تھا۔۔۔ سب یہی کہہ رہے تھے “اب تمہارا اپنا گھر ہے، خوش رہو۔”سجاول اسے لے کر گاڑی میں بیٹھا۔ گاڑی کے شیشے سے باہر کی روشنیوں کو دیکھتی ہانیہ کے دل میں ایک عجیب سا خلاء تھا۔ اس نے دل ہی دل میں سوچا “یہ تو ابھی شروعات ہے… شاید میرا اصل امتحان تو اب شروع ہوا ہے۔”دوسری طرف سجاول نے ایک نگاہ اس پر ڈالی، اور سر جھٹک گیا۔۔اسے نجانے کیوں ہانیہ کو اپنی پناہ میں لے کر ایک عجیب سا سرور رگ و پے میں سرائیت کرتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔گاڑی دھیرے دھیرے نئے سفر کی طرف بڑھ رہی تھی… ایک سفر جو ہانیہ کے لیے آزمائشوں سے بھرا ہوا تھا، مگر وہ بے بس تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کمرے میں ہلکی ہلکی روشنی جل رہی تھی۔ عروسی کمرے کی سجاوٹ بہت دلکش تھی، گلابوں کی مہک ہر طرف بکھری ہوئی تھی، لیکن اس خوشبو میں ہانیہ کی سانسیں الجھ رہی تھیں۔ وہ دلہن کے لباس میں سجی دھجی بیڈ پر بیٹھی تھی، سرخ بھاری دوپٹہ اس کے چہرے پر جھکا ہوا تھا اور ہاتھ کانپتے ہوئے گود میں رکھے تھے۔ دل کی دھڑکن اتنی تیز تھی کہ لگ رہا تھا ابھی باہر نکل آئے گی۔دروازے کی ہلکی سی چرچراہٹ سنائی دی۔ میر سجاول شاہ کمرے میں داخل ہوا۔ سفید کرتا، دھیمی چال اور چہرے پر وہی مغرورانہ مسکراہٹ۔ اس کی نظریں سیدھی ہانیہ پر جا کر ٹھہر گئیں، جو اس کی آمد سے مزید سہم گئی تھی۔ سجاول نے آہستہ آہستہ قدم بڑھائے، اور ہانیہ کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔”تو یہ ہے میری دلہن…” اس نے طنزیہ انداز میں کہا، اور دھیرے سے اس کے دوپٹے کو تھوڑا سا پیچھے کیا۔ ہانیہ کی بڑی بڑی ڈری ہوئی آنکھیں سامنے آئیں، جن میں آنسو تیر رہے تھے۔”ڈر رہی ہو؟” سجاول نے مسکرا کر پوچھا، پھر جھک کر اس کے کان کے قریب آیا اور سرگوشی کی۔۔۔ “میرے نکاح میں آ کر تم نے سمجھا سب کچھ آسان ہوگا؟”ہانیہ نے کانپتے ہوئے پلکیں جھکا لیں، زبان جیسے بولنے سے انکاری تھی۔ سجاول نے اس کی ٹھوڑی کو تھوڑا سا اوپر اٹھایا اور نظریں اس کی آنکھوں میں گاڑتے ہوئے کہا۔۔ “یاد رکھو… میر سجاول کی زندگی میں تمہاری کوئی حیثیت نہیں، صرف ایک نام ہے۔”یہ کہتے ہوئے وہ پیچھے ہٹا اور ایک قہقہہ لگایا، پھر خود کو سنبھالتے ہوئے بالکنی کی طرف بڑھ گیا۔کیونکہ اس کے کم سن حسن سے نظریں پھیرنا اتنا بھی آسان نہیں تھا۔۔۔ ہانیہ نے ہچکیوں کو رُوکتے ہوئے اپنے آنسو پونچھنے کی کوشش کی، مگر دل کی گھبراہٹ بڑھتی ہی جا رہی تھی۔سجاول نے بالکنی کے پردے ہٹائے اور جیب سے سگریٹ نکال کر سُلگا لی۔ دھوئیں کے مرغولے آسمان کی طرف اُٹھنے لگے۔ وہ ٹھنڈی ہوا میں کھڑا سگریٹ کے کش لیتا رہا، پھر جیب سے موبائل نکالا اور کسی کو کال ملائی۔”ہاں، آصف… کیسے ہو بھائی؟” سجاول نے خوشگوار لہجے میں کہا۔ “ہاں یار، آج تو بڑا دن ہے نا… ہانیہ بیگم آ گئی ہیں۔” اس نے جان بوجھ کر آواز بلند رکھی تاکہ ہانیہ سن سکے۔دوسری طرف سے کچھ کہا گیا تو سجاول نے قہقہہ لگا کر جواب دیا، “یار، مزہ نہیں ہے کچھ بھی، یہ سب دکھاوے کی شادیاں ہیں۔ تم ہی سمجھو، بس والدین کی مرضی پوری کرنی تھی۔”بالکنی کے اس پار بیٹھی ہانیہ کا دل ٹوٹ کر رہ گیا۔ اس کی آنکھوں سے خاموش آنسو بہنے لگے۔ دل میں ایک خلاء سا پیدا ہو گیا تھا۔ سجاول کی باتیں اس کے لیے تلوار کی طرح تھیں جو ہر لمحہ اس کے وجود کو کاٹ رہی تھیں۔سجاول نے بات ختم کی اور ایک آخری کش لے کر سگریٹ بجھا دی۔ پھر وہ واپس کمرے میں آیا اور دیکھا کہ ہانیہ ابھی بھی بیڈ پر ساکت بیٹھی تھی، اس کے آنسو اب بھی بہہ رہے تھے۔”رو کیوں رہی ہو؟” سجاول نے مصنوعی ہمدردی سے پوچھا۔ “کیا سوچا تھا؟ کہ میں تمہیں سر آنکھوں پر بٹھاؤں گا؟ بھول جاؤ۔”یہ کہتے ہوئے اس نے کوٹ اتارا، بیڈ پر پھینکا، اور دوسری طرف جا کر صوفے پر بیٹھ گیا۔ چند لمحے ہانیہ کو گھورتا رہا، پھر کروٹ لے کر لیٹ گیا اور آنکھیں بند کر لیں۔ اس کی طرف سے مکمل بے اعتنائی کا اظہار تھا۔رات کا ہر پل ہانیہ کے لیے صدیوں جتنا طویل لگ رہا تھا۔ وہ بیڈ پر بیٹھی رہی، دل میں طوفان اٹھ رہے تھے۔ اس نے اپنی بانہوں کو زور سے جکڑا اور خود کو پرسکون کرنے کی ناکام کوشش کی، مگر آنکھوں سے بہتے آنسوؤں نے اس کی بے بسی کی کہانی کہہ دی۔رات بھر وہ یونہی سسکتی رہی، اور کمرے کی روشنی دھیرے دھیرے مدھم ہوتی گئی۔ سجاول سکون سے سو گیا تھا، اور ہانیہ کے لیے وہ رات۔۔ اس کی زندگی کی سب سے لمبی اور تکلیف دہ رات بن گئی۔صبح کی ہلکی روشنی نے جب کمرے میں جھانکا، ہانیہ کے چہرے پر سوجی ہوئی آنکھیں، بکھرے بال اور خاموشی کی چادر تنی ہوئی تھی۔ اس نے خود کو مضبوط کرنے کی ایک اور ناکام کوشش کی، لیکن دل جانتا تھا کہ یہ تو ابھی شروعات ہے۔۔۔آگے نہ جانے کتنی اور ایسی راتیں اس کی منتظر ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کی پہلی کرن نے جیسے ہی حویلی کی دیواروں کو چھوا، میر سجاول شاہ اپنے ملازموں کے ہمراہ شہر کے لیے روانہ ہو گیا۔ جاتے ہوئے ایک سرسری سا جملہ ہانیہ کے کانوں میں گونجتا رہا۔۔۔’’اپنا اور اپنی عزت کا خیال رکھنا،کیونکہ اب تم میر سجاول شاہ کی عزت اور ملکیت ہو۔۔میں اپنی ملکیت پر کسی کی ایک نظر بھی برداشت نہیں کر سکتا۔۔ اور ہاں، نوکروں کی طرح کام کرنے کی عادت ڈالو، یہ حویلی ہے کوئی تفریح گاہ نہیں۔۔اور یہاں صرف تم میری وجہ سے ہو۔۔اپنی اوقات کبھی نہ بھولنا۔۔۔!”ہانیہ نے خاموشی سے سر جھکا دیا تھا۔ سجاول کی گاڑی گیٹ سے باہر نکلی اور فضا میں ایک سنّاٹا چھا گیا۔ حویلی کے وسیع صحن میں صرف پرندوں کی چہچہاہٹ سنائی دے رہی تھی، مگر ہانیہ کے دل میں جیسے خاموشی کے سوا کچھ نہ تھا۔گھبراہٹ اور بے بسی کے عالم میں وہ دھیرے دھیرے اندر آئی۔ سارا گھر اس پر جیسے قہر ڈھا رہا تھا۔ ابھی کل کی تو بات تھی، جب وہ لڑکی اپنے ماں باپ کے آنگن میں پل کر بڑی ہوئی تھی، اور پھر اچانک اس کے ماں باپ اسے اس دنیا میں بے آسرا چھوڑ گئے تھے۔۔۔آج اس وسیع و عریض حویلی کی مالکن ہوتے ہوئے بھی ایک نوکرانی جیسی محسوس ہو رہی تھی۔میر سجاول کی ماں ایک جلاد عورت تھی۔۔جو کبھی بھی یہ برداشت نہ کرتیں کہ ہانیہ یہاں سکون سے رہتی۔۔”بی بی جی، آج ناشتے میں کیا بنانا ہے؟” باورچی نے آ کر پوچھا۔ہانیہ نے چونک کر اسے دیکھا، پھر دھیمی آواز میں کہا، “میں خود بنا لوں گی۔ تم لوگ اپنے کام کرو۔”باورچی حیرت سے دیکھتا رہ گیا، لیکن ہانیہ نے خود ہی کچن کا رخ کر لیا۔ ہاتھوں میں کانپتی انگلیاں تھیں، مگر دل میں ایک ضد بھی کہ کچھ تو خود کر دکھانا ہے۔کچن میں برتنوں کی کھنک سنائی دے رہی تھی۔ ہانیہ نے چائے بنائی، پراٹھے تیار کیے، اور میز پر سجا دئیے۔ سجاول تو جا چکا تھا، مگر گھر کے تمام لوگ اور دوسرے کام کرنے والے سب وہیں تھے۔ ان سب کے لیے ہانیہ نے اپنے ہاتھوں سے ناشتہ تیار کیا۔ پسینے سے شرابور پیشانی، اور ہاتھوں پر آٹے کی لکیر۔۔ مگر وہ چپ چاپ کام کرتی رہی۔اس کے بعد پورے حویلی کی صفائی، جھاڑ پونچھ، صحن میں پودوں کو پانی دینا۔۔۔ ہر کام میں وہ جُتی رہی۔ تھکن کی شدت سے کمر دکھنے لگی تھی، لیکن اس کے لبوں پر ایک سسکی تک نہ تھی۔ وہ جانتی تھی کہ یہ اس کی آزمائش کی شروعات ہے، اور اس آزمائش کو وہ صبر سے سہنا چاہتی تھی۔شام ہوتے ہوتے وہ تھکن سے چور ایک کونے میں بیٹھ گئی۔ ہاتھوں پر چھالے پڑ چکے تھے اور پلکیں بوجھل ہو رہی تھیں۔ نظریں اس گیٹ پر جا کر رک گئیں، جہاں سے سجاول صبح گیا تھا۔ دل کے کسی کونے میں امید سی جاگی کہ شاید وہ ابھی واپس آ جائے۔۔۔مگر اگلے ہی لمحے اس امید پر پانی پھر گیا۔ہانیہ نے اپنے آنسو پونچھے، اور آسمان کی طرف دیکھ کر خود کو دلاسا دیا، “یہ زندگی ہے ہانیہ… تمہیں اسے جھیلنا ہے، چاہے کوئی تمہارا درد سمجھے یا نہ سمجھے۔”وہ اٹھ کر دوبارہ اپنے کاموں میں لگ گئی۔ یہ دن اس کی زندگی کا ایک نیا باب تھا۔۔۔جہاں ہر لمحہ آزمائش تھی، اور ہر سانس صبر کا امتحان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شام کی خاموشی حویلی میں پھیل چکی تھی، جب ہانیہ کمرے میں بیٹھی اپنی تقدیر پر غور کر رہی تھی۔ دل میں غم اور پریشانی کی ایک طوفانی کیفیت تھی، جب اچانک دروازہ کھلا اور میر سجاول کا بھائی، نعمان، کمرے میں داخل ہوا۔ اس کے چہرے پر ایک چمک تھی جو ہانیہ کے لیے خوف کا پیغام لے کر آئی تھی۔”کیا خیال تھا تمھارا؟ سجاول سے شادی کر کے تم نے کیا سمجھا تھا کہ اب تم محفوظ ہو؟” نعمان کی آواز میں ایک عجیب سی دھمکی تھی، اور اس کی آنکھوں میں بدلہ لینے کی تپش تھی۔ہانیہ نے دھیرے سے سر جھکایا، اسے اچھی طرح یاد تھا کہ نعمان ہمیشہ اس کی موجودگی سے محض اپنی تسلی کے لیے جڑے رہتا تھا۔ وہ کئی بار زبردستی کرنے کی کوشش کر چکا تھا۔۔مگر وہ خاموش رہتی تھہی۔۔ نعمان کا ذہن گہرے غصے اور بدلہ کی جڑوں میں چھپا ہوا تھا، اور وہ ہانیہ کو اس کا نشانہ بنانا چاہتا تھا۔”چلو، بتاؤ، کیا تم سجاول کے ساتھ خوش ہو؟ کیا وہ تمھیں سچ میں چاہتا ہے؟” نعمان کی زبان سے یہ سوال کٹ کر نکلا، اور اس کے لفظوں میں بے رحمی تھی۔ “نہیں، تم صرف ا س کے لئے ایک کھلونہ ہو۔۔ تمھیں اس کا کھیل کھیلنا پڑے گا، چاہے تمہیں پسند ہو یا نہ ہو۔”ہانیہ کی آنکھوں میں خوف تھا، اور اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا، مگر اس نے خاموش رہنا بہتر سمجھا۔ اس کے جسم نے ٹوٹ کر کمزوری محسوس کی، اور وہ خود کو بے بس محسوس کر رہی تھی۔ نعمان کے قریب آتے ہوئے، اس نے ہانیہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔ “جب تک تم سجاول کے ساتھ جڑی ہو، یاد رکھنا، میں ہمیشہ تمہارے قریب ہوں گا۔ تم جہاں بھی جانے کی کوشش کروگی ، میں وہاں ہوں گا، تمھیں ازیت پہنچانے کے لئے۔ستانے کے لئے۔۔۔مگر میر سجاول تمھیں کبھی بچانے نہیں آئیگا۔۔کیونکہ وہ تو شہر میں اپنی گرل فرینڈز کے ساتھ راتیں رنگین کرنے میں مصروف ہے۔۔”ہانیہ نے اپنے ہاتھ کو جھٹکا دینے کی کوشش کی، مگر نعمان کے ہاتھ کی گرفت مضبوط تھی۔ اس کے دل میں ایک خوف کی لہر دوڑ گئی۔ اس کے اندر ایک عجیب سی کشمکش تھی، ایک طرف وہ سجاول کے ساتھ جڑا تعلق، دوسری طرف نعمان کی دھمکیاں اور آزار اسے جکڑ کر رکھ رہی تھیں۔پھر اچانک نعمان نے اپنا ہاتھ ہانیہ کے چہرے پر مارا، جس سے وہ ہچکچاک کر پیچھے ہٹ گئی۔ “تمھیں کیا لگتا ہے؟ میں تمھیں چھوڑ دوں گا؟” نعمان نے ہنستے ہوئے کہا۔ “میں تمھارے ساتھ وہ کرونگا۔جسے سوچ کر بھی تمھاری روح کانپ جائے گی۔۔۔”ہانیہ کا دل گھبرایا، اس کی آنکھوں میں خوف کی گہرائیوں سے نکلتے ہوئے وہ سجاول کا چہرہ یاد کرنے کی کوشش کر رہی تھی، مگر نعمان کا سایہ اس پر چھا گیا تھا۔ نعمان کی یہ دھمکیاں اور اس کا بہیمانہ رویہ ہانیہ کو ٹوٹنے پر مجبور کر رہا تھا۔نعمان کے جانے کے بعد، ہانیہ کمزوری کی حالت میں کمرے میں جا کر دروازہ بند کر کے رونے لگی۔ اس کا دل بھاری تھا، اور آنکھوں سے بہتے آنسو اس کے جذبات کی گہرائی کو ظاہر کر رہے تھے۔ وہ سجاول کو چاہتی تھی، مگر اس کا بھائی اور اس کے اوپر آنے والی مشکلات اسے اندر سے چکرا کر رکھ دیتی تھیں۔آخر وہ کب تک اس درندے سے اپنی عزت کو محفوظ رکھتی۔۔کمرے میں بند ہو کر ہانیہ نے اپنی تقدیر کے بارے میں سوچا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ آیا وہ سجاول سے محبت کرے گی، یا صرف ایک ذمہ داری کے طور پر اس کی زندگی میں ہوگی۔ اس کا دل روتا تھا، اور اس کے اندر کی تنہائی اور غم اس کے جسم کی ہر سانس کو گہرا کر دیتا تھا۔ لیکن اس وقت، وہ خود سے وعدہ کرتی ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر ہار نہیں مانے گی، چاہے اس کے راستے میں کتنی ہی مشکلات آئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ہفتہ گزر چکا تھا، اور ہانیہ کی زندگی کا ہر دن اجاڑ، تھکا دینے والا اور جبر کا شکار ہو چکا تھا۔ حویلی کے وسیع کمرے میں ایک طرف اس کی اکیلی زندگی کی کہانی دراز ہو رہی تھی، جہاں ہر گوشہ اسے کمزور اور بے کس محسوس کراتا تھا۔ وہ اب بھی اپنی تقدیر کے سامنے بے بس تھی، ہر لمحے میں ایک نیا خوف اور نئی اذیت محسوس کرتی تھی۔آج وہ دوبارہ حویلی کے فرش کو صاف کر رہی تھی۔ گرد و غبار میں ڈوبا ہوا فرش اس کی آنکھوں میں چبھتا تھا۔ اس کے ہاتھ تیز تیز حرکت کر رہے تھے، مگر دل میں ایک عجیب سی بے چینی اور خوف تھا۔ وہ جانتی تھی کہ سجاول کا آنا قریب ہے، اور وہ کسی بھی وقت واپس آ سکتا ہے۔ ان کے درمیان ایک ان دیکھے فاصلے کی لکیریں تھیں، اور ان لکیروں کے درمیان ہی ہانیہ اپنے کمرے میں گھٹتی جا رہی تھی۔تبھی حویلی کا صدر ا دروازہ کھلا، اور میر سجاول شاہ کی گاڑی آندر آئی ۔۔۔ اس کا چہرہ سرد اور سخت تھا۔ وہ ایک لمحے کے لیے رک کر ہانیہ کو دیکھا، جو اس وقت میلے کپڑوں میں حویلی کے فرش کو صاف کرنے میں مگن تھی۔ سجاول کا چہرہ لمحوں میں بدل گیا، اور اس کی آنکھوں میں غصہ اور حقارت کی جھلک نظر آئی۔”یہ کیا حالت بنا رکھی ہے؟” سجاول کی آواز میں تیز غصہ تھا۔ اس کی نظر ہانیہ کی مٹی سے سنی ہوئی حالت پر پڑی تھی، اور وہ فوراً بڑھ کر اس کے قریب آیا۔ہانیہ کا دل کانپنے لگا، اور اس کی آنکھوں میں ہلکی سی خوف کی لہر دوڑ گئی۔ اس نے نظر جھکا لی، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ سجاول کے سامنے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے، وہ صرف ایک چپ سادہ کنیز تھی، جسے وہ اپنے مرضی سے جتنا چاہے ڈرا سکتا تھا۔”میرے لئے پانی لے کر آؤ۔” سجاول نے تیز آواز میں کہا، جیسے یہ کوئی حکم نہ ہو، بلکہ ایک حق تھا جو وہ ہمیشہ اپنی بیوی سے توقع کرتا تھا۔ہانیہ نے فوری طور پر سر ہلایا، اور وہ تیزی سے کمرے سے نکل گئی۔ اس کے قدموں کی آواز سنائی دی، اور اس کا جسم خوف سے لرز رہا تھا، مگر وہ چپ چاپ چلتی رہی۔ اس کے دل میں چنگاریاں تھیں، لیکن وہ ان پر قابو پانے کی پوری کوشش کر رہی تھی۔ اس کا جسم تھک چکا تھا، مگر سجاول کی موجودگی نے اس کی کمزوری کو مزید بڑھا دیا تھا۔پانی کا گلاس لے کر وہ کمرے میں واپس آئی، اور سجاول کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ اس کے ہاتھ میں پانی کا گلاس لرز رہا تھا، اور دل میں سوالات کی ایک طوفانی لہر اُٹھی تھی، لیکن اس نے کوئی سوال نہیں کیا۔ سجاول نے پانی کا گلاس پکڑتے ہوئے ہانیہ کو ایک نظر پھر سے گھورا، جیسے وہ ایک کنیز سے بات کر رہا ہو۔”’’ ذرا سا کام کر کہ یہ کیا حالت بنا رکھی ہے۔خود کو مظلوم ثابت کرنا چاہتی ہو؟” سجاول کی آواز میں ایک خاص نوعیت کا طعنہ تھا۔ اس کے چہرے پر بیزاری اور غصے کی جھلک تھی، “جا کر شاور لے لو۔ گند کا ڈھیر لگ رہی ہو۔”اس کی آواز میں اتنی سختی اور نفرت تھی کہ ہانیہ کا دل لرز اٹھا۔ وہ ایک لمحے کے لیے سجاول کی آنکھوں میں دیکھنے کی ہمت نہ کر سکی۔ اس کے الفاظ جیسے تیر بن کر اس کے جسم میں پیوست ہو گئے تھے۔ہانیہ کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، لیکن اس نے اپنی آنکھوں میں کوئی جواب نہ دیا۔ وہ خاموشی سے اس کے حکم کو تسلیم کرتی ہوئی، سر جھکائے، واشروم کی جانب بڑھی تھی۔۔وہ جانتی تھی کہ اس کا کوئی وجود نہیں تھا، بس ایک کنیز کی طرح وہ ہر حکم کو مانتی تھی۔ سجاول کی باتوں کا زہر اس کے دل میں اتر رہا تھا، مگر وہ کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی۔ اس نے دروازہ بند کیا اور شاور کی طرف بڑھی۔شاور کے نیچے کھڑے ہو کر وہ اپنی آنکھوں میں اٹھتے ہوئے آنسووں کو چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔ پانی کی ٹھنڈک جسم کو سکون دینے کی بجائے، اندر کی تکلیف کو اور بڑھا رہی تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ کب تک وہ یہ سب سہتی رہے گی۔ اس کی روح اندر ہی اندر گھٹ رہی تھی۔اس کے جسم پر سجاول کے جملے جیسے ایک تازیانہ بن کر لگے تھے، اور وہ جانتی تھی کہ اس کی زندگی کبھی بھی بدلے گی نہیں۔ اس لمحے میں، وہ اپنے وجود کو ہی بے وقعت سمجھنے لگی تھی۔پانی کا بہاؤ اس کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسووں کے ساتھ مل کر زمین پر گر رہا تھا۔ وہ خود کو ان تمام باتوں سے آزاد دیکھنا چاہتی تھی، لیکن سجاول کی گرفت میں اس کی آزادی بس ایک خواب بن کر رہ گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حویلی پر گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ سب لوگ قریبی گاؤں میں شادی کی تقریب میں مصروف تھے۔ حویلی کے بڑے دروازے بند تھے اور اندھیروں میں بس ہانیہ کی دھڑکنوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ وہ اپنے کمرے میں دبکی ہوئی بیٹھی تھی، دل ہی دل میں دعا مانگتی کہ آج کی رات بھی باقی راتوں کی طرح کٹ جائے۔لیکن قسمت نے شاید اس کے نصیب میں ایک اور زخم لکھ رکھا تھا۔دروازہ زور سے کھلا۔ میر سجاول کا چھوٹا بھائی، جو پہلے بھی اپنی نظروں اور باتوں سے ہانیہ کو پریشان کرتا رہا تھا، دروازے میں نمودار ہوا۔ اس کی آنکھوں میں وحشت اور خباثت صاف جھلک رہی تھی۔”کتنی بار کہا ہے تم سے… میری بات مانا کرو، لیکن تم ہو کہ بات ہی نہیں سنتی!” وہ غصے میں بھرا ہوا تھا۔ہانیہ خوف سے پیچھے ہٹی، اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ “پلیز… پلیز مجھے معاف کر دیں… میں نے کچھ نہیں کیا…” اس کی آواز لرز رہی تھی۔لیکن وہ بھیڑیے کی طرح آگے بڑھا، اور اس کی بات کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس نے ہانیہ کا بازو زور سے پکڑ لیا، اور اپنی جیب سے سگریٹ نکال کر سلگایا۔ ہانیہ کی آنکھیں خوف سے پھٹنے کے قریب تھیں۔”تم نے میری بات نہیں مانی نا۔۔۔۔اب دیکھو سزا!” اس کی آنکھوں میں ایک خطرناک چمک تھی۔پھر۔۔۔اس نے سگریٹ کا دہکتا ہوا سرا ہانیہ کی نازک جلد پر لگا دیا۔ ہانیہ کی چیخ پورے کمرے میں گونج اُٹھی، اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، جسم کانپنے لگا۔ وہ خود کو چھڑانے کی کوشش کرتی رہی، لیکن وہ بے رحم تھا، اس نے ایک نہیں بلکہ کئی جگہ سگریٹ کے نشان چھوڑے۔”یاد رکھو… اگر آئندہ میرے راستے میں آئی تو اس سے بھی برا حال کروں گا!” وہ دھمکی دے کر دروازہ کھول کر نکل گیا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ہانیہ وہیں زمین پر گر گئی، اس کے جسم پر درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں، اور دل پر ایک اور زخم گہرا ہو چکا تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بے روک ٹوک بہتے جا رہے تھے۔ حویلی کی تاریکی میں وہ خود کو مکمل طور پر تنہا اور بے یار و مددگار محسوس کر رہی تھی۔یہ رات اس کی زندگی کی سب سے بھیانک راتوں میں سے ایک بن چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کی مدھم روشنی کھڑکی سے چھن کر اندر آ رہی تھی، لیکن ہانیہ کے کمرے میں اندھیرا ہی چھایا تھا۔ وہ اپنے بستر کے کونے میں سمٹی، گھٹنوں میں سر دیے مسلسل رو رہی تھی۔ رات کی بھیانک یادیں اور جسم پر جلے ہوئے داغوں کی جلن اسے اندر ہی اندر توڑ رہی تھی۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ سب کچھ ختم ہو جائے، لیکن زندگی جیسے زبردستی اسے تھامے ہوئے تھی۔میر سجاول کا بھائی اور اب ہر دوسرے دن اسے بند کمرے میں سیگریٹ سے داغ دیا کرتا تھا۔وہ بہت مشکلوں سے اپنی عزت محفوظ کر پائی تھی۔یا پھر میر سجاول کا خوف تھا جو اسے روکے ہوئے تھا۔۔۔اسی عالم میں ایک ہفتہ بیت گیا۔ پھر وہ دن بھی آیا جب میر سجاول واپس حویلی پہنچا۔ گاڑی کے ہارن کی آواز سنتے ہی نوکروں کی بھاگ دوڑ شروع ہو گئی۔ سب نے خوش دلی سے اپنے مالک کا استقبال کیا، لیکن ہانیہ اپنے کمرے میں سہم کر بیٹھی رہی۔ اس کا دل عجیب سی گھبراہٹ میں مبتلا تھا۔رات کو سجاول شاہ جب کمرے میں داخل ہوا تو اس کی آنکھوں میں تھکن اور غصہ دونوں جھلک رہے تھے۔ وہ تیز قدموں سے اندر آیا اور ہانیہ کو ایک کونے میں چپ چاپ بیٹھا دیکھ کر رک گیا۔ “کیا حال بنا رکھا ہے تم نے؟” وہ غرایا۔ہانیہ نے ڈرتے ہوئے سر ہلایا، لیکن کچھ بولی نہیں۔ سجاول نے ہاتھ پکڑ کر اسے قریب کیا، اور تبھی اس کی نگاہ ہانیہ کی کلائی پر پڑی۔ سگریٹ کے جلے نشان، سرخ اور سوجے ہوئے۔گردن،بازو،ہر جگہ۔۔۔سجاول کی آنکھیں لمحے بھر کو پتھرا گئیں، پھر اچانک اس کا چہرہ غصے سے دہک اٹھا۔ وہ جھٹکے سے ہانیہ کو اپنے سامنے کھڑا کر کے اس کے بازو دیکھنے لگا۔ ایک ایک نشان جیسے اس کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو رہا تھا۔”میرے نکاح میں ہوتے ہوئے تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی کسی اور کے پاس جانے کی؟ میں تمہاری جان لے لوں گا نام بتاؤ مجھے اپنے عاشق کا۔۔۔” سجاول شاہ نے خود سے آٹھ سال چھوٹی ہانیہ پر مسلط ہوتے ہوئے پوچھا تھا جس کے پورے جسم پر کسی کے قربت کے نشان تھے جبکہ سجاول شاہ آج تک ہانیہ کے قریب نہ گیا تھا۔ اس کی بات سنتے ہانیہ نے سختی سے اپنی آنکھیں بند کر لیں تھیں اس کے پاس سجاول شاہ کے سوالوں کے جواب نہیں تھے پر وہ اگلے پل سجاول کی بانہوں میں جھول گئی۔ تبھی سجاول کی نظر اس کے جسم پہ موجود سگریٹ کے جلے نشانوں پر پڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد جب اسے ہوش آیا تو میر سجاول کا غصہٰ اور سوال جواب کا سلسلہ پھر سے شروع ہوگیا تھا۔اسکا بس نہیں چل رہا تھا۔وہ ہانیہ کا جسم ادھیڑ ڈالتا۔۔’’نہیں! اللہ کا واسطہ ہے۔۔میں نے کچھ نہیں کیا۔۔میں بالکل پاک صاف ہوں۔۔‘‘وہ نے روتے ہوئے صفائی دی تھی۔اسکی آواز میں ازیت اور کرب تھا۔۔وہ ایک لمحے کو ٹھہرا۔۔”یہ کس نے کیا؟” اس کی آواز میں گرج تھی، جیسے آندھی کا طوفان آنے والا ہو۔ “ہانیہ… بتاؤ مجھے یہ کس کی جرأت ہوئی؟”ہانیہ نے سسکتے ہوئے سر جھکا لیا، اس کے ہونٹ کپکپا رہے تھے، لیکن الفاظ نہیں نکل پا رہے تھے۔ سجاول کا ضبط جواب دے گیا۔ اس نے زور سے دیوار پر مکا مارا، اور دھاڑ اٹھا، “میں پوچھ رہا ہوں، یہ نشان کس کےدئیے ہوئے ہیں؟ کون ہے وہ کمینے، جس نے تمہیں ہاتھ لگایا؟”ہانیہ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔ اس نے بمشکل اتنا کہا، “مجھے کچھ نہیں پتہ… مت پوچھیں۔۔سجاول کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔ اس نے ہانیہ کے آنسوؤں کو دیکھ کر اپنا غصہ قابو میں رکھنے کی کوشش کی، لیکن اندر ہی اندر وہ بھپرا ہوا شیر بن چکا تھا۔”میں اس حویلی کو کھنگال کر رکھ دوں گا، اور اگر میرے گھر میں رہ کر کسی نے تمہیں چھوا ہے… تو اس کی قبر کھود دوں گا!” اس کے لہجے میں زہر بھرا ہوا تھا۔سجاول نے ہانیہ کو اپنے سینے سے لگا لیا، لیکن اس کی آنکھوں میں انتقام کی چنگاریاں صاف نظر آ رہی تھیں۔ آج رات اس کے دل میں صرف ایک ہی بات تھی۔۔جس نے بھی ہانیہ کو تکلیف دی ہے، اب وہ اس کی سزا سے بچ نہیں سکتا۔جبکہ اس کے سینے سے لگانے پر تو وہ بالکل پتھر کی ہوگئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے اندھیرے میں کمرہ سناٹے میں ڈوبا ہوا تھا۔ ہانیہ ایک کونے میں سہمی ہوئی بیٹھی تھی، آنکھیں سوجی ہوئی، جسم کانپ رہا تھا۔ سجاول نے اسے بار بار تسلی دینے کی کوشش کی، لیکن وہ بس سر جھکائے روتی رہی۔ سجاول کا صبر اب جواب دینے لگا تھا۔”ہانیہ… پلیز، مجھے سب سچ بتاؤ۔ کس نے کیا ہے یہ سب؟” اس نے نرمی سے اس کی ٹھوڑی تھام کر پوچھا، لیکن آنکھوں میں سختی صاف جھلک رہی تھی۔ہانیہ نے لرزتی سانسوں کے درمیان سر اٹھایا، اس کی آنکھوں میں خوف کی لہر تھی۔ وہ ہچکیوں کے ساتھ بمشکل بولی،آگر وہ اس سے شوہر ہونے کا مان دے کر پوچھ رہا تھا۔تو وہ بھی بتا سکتی تھی۔۔۔ “وہ… وہ… آپ کے بھائی… نعمان بھائی نے… میں نے کچھ نہیں کیا… وہ زبردستی کرتے رہے… اور جب میں نے انکار کیا تو… سگریٹ سے… جلا دیا۔”یہ سنتے ہی سجاول کا رنگ یکدم زرد پڑ گیا، پھر لمحے بھر میں اس کے چہرے پر ایسا غصہ ابھرا کہ ہانیہ نے خوف سے آنکھیں بند کر لیں۔ سجاول نے گہری سانس لی، مٹھیاں بھینچ لیں، اور زور سے دیوار پر مکا دے مارا۔’’نعمان !” وہ دھاڑا، “اس کی ہمت کیسے ہوئی… میرے گھر میں رہ کر میری بیوی پر ہاتھ اٹھایا؟”ہانیہ سہم کر پیچھے ہٹ گئی، لیکن سجاول نے اسے فوراً سنبھالا۔ “اب ڈرنے کی ضرورت نہیں، ہانیہ۔ میں ہوں نا۔۔۔ اب وہ زندہ نہیں بچے گا۔۔نعمان گھر نہیں تھا۔۔وہ بمشکل اپنا غصہٰ ضبط کئے بیٹھا رہا تھا۔۔۔!”ساری رات سجاول کا چہرہ سختی اور غصے سے سرخ رہا، اور آنکھوں میں ایک طوفان مچلتا رہا۔ اگلی صبح سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی جب اسے نعمان کے گھر آنے کی خبر ملی تو وہ شیر کی مانند اسکے کمرے کی جانب لپکا۔۔سجاول کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔ “نعمان شاہ !” وہ دھاڑتے ہوئے اس پر جھپٹ پڑا۔”بھائی، بھائی کیا کر رہے ہو؟”وہ گھبرا کر پیچھے ہٹا، لیکن سجاول نے اس کا گریبان پکڑ لیا اور زور کا تھپڑ رسید کیا۔ “تم نے میری عزت کو روندنے کی جرأت کی؟ بدبخت! آج میں تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔”نوکر اور باقی لوگ ہکا بکا کھڑے تھے، سجاول کا غصہ دیکھ کر کوئی آگے آنے کی ہمت نہیں کر رہا تھا۔ وہ زمین پر گرا پڑا تھا، اور سجاول اسے مارتے ہوئے دھاڑ رہا تھا، “میرے گھر کی عزت پر حملہ کرنے والے۔۔آج تیری سانسیں گن گن کر نکالوں گا۔”ہانیہ دور سے یہ منظر دیکھ رہی تھی، اس کی آنکھوں میں خوف اور حیرت دونوں تھے۔ لیکن آج پہلی بار اس نے اپنے لیے کسی کو اس قدر بپھرتے دیکھا تھا۔ سجاول کے الفاظ اس کے دل میں جیسے تحفظ کا احساس جگا رہے تھے۔اب فیصلہ ہو چکا تھا۔۔۔ اور اس حویلی میں انصاف کا وقت آن پہنچا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حویلی کا ہال غصے اور تلخی کی لپیٹ میں تھا۔ میر سجاول کا باپ، میر فخر شاہ، غصے سے لال پیلا ہو رہا تھا۔ اس کی گرجتی ہوئی آواز پورے گھر میں گونج رہی تھی۔”یہ لڑکی۔۔۔ یہ منحوس! شروع دن سے ہی دل میں کھوٹ لے کر آئی تھی۔ اب الزام بھی ہمارے بیٹے پر لگا رہی ہے؟ شرم آنی چاہیے اسے!” میر فخر شاہ نے انگلی اٹھا کر ہانیہ کی طرف اشارہ کیا، جو سجاول کے پیچھے ہاتھ باندھے سر جھکائے کھڑی تھی، آنکھوں میں نمی تیرتی ہوئی۔”بس کیجیے ابا!” سجاول کی آواز میں ایسی گرج تھی کہ پورے ہال میں سناٹا چھا گیا۔ اس نے ایک قدم آگے بڑھایا، آنکھوں میں بجلی سی چمک تھی۔ “آپ جانتے ہیں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ آپ اس معصوم لڑکی پر الزام لگا رہے ہیں جبکہ اب اچھے سے جانتے ہیں کہ آپ کا بیٹا ،کس قدر بد بخت ہے؟‘‘”سجاول! تمہیں سمجھ نہیں آ رہی۔ لڑکیاں ایسی ہی ہوتی ہیں، موقع دیکھ کر الزام لگا دیتی ہیں۔ گھر میں فساد پیدا کر رہی ہے یہ!” ماں بھی سخت لہجے میں بولی، لیکن اس کے الفاظ سن کر سجاول کا پارہ چڑھ گیا۔”امی!” وہ پلٹا، “کیا آپ نے اپنی ماں ہونے کی ذمے داری نبھائی ہے؟ جب میں نہیں تھا، کیا آپ نے اس گھر کی عزت کی حفاظت کی؟ آپ دونوں سے بڑا قصور وار کون ہے، جو آنکھ بند کر کے سب کچھ دیکھتے رہے؟”میر فخر شاہ کی آنکھیں غصے سے پھیل گئیں، “سجاول! حد میں رہو۔”سجاول نے آگے بڑھ کر اپنے باپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں، “نہیں، اب حد میں آپ رہیں گے۔ ہانیہ میری بیوی ہے، اس کی عزت میری عزت ہے۔ اور آج اگر آپ نے ایک لفظ بھی اس کی کردار کشی کی کوشش کی نا، تو میں یہ حویلی چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے چلا جاؤں گا!”ہانیہ کا دل دھک دھک کرنے لگا، آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔ اس کی نظریں سجاول پر جمی تھیں جو اس وقت شیر کی طرح اپنے خاندان کے سامنے کھڑا تھا۔سجاول نے ہاتھ کے اشارے سے ہانیہ کو اپنے پیچھے بلایا، “چلو ہانیہ، یہاں اب تمہیں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ اور جس نے بھی تم پر انگلی اٹھائی، وہ مجھ سے پہلے گزرے گا۔”پورے ہال میں سناٹا تھا، ماں باپ دونوں خاموش کھڑے رہ گئے۔ آج میر سجاول نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا تھا کہ وہ صرف ایک شوہر نہیں، بلکہ سچ کا محافظ بھی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حویلی کے آسمان پر شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔ میر سجاول جلدی جلدی اپنے کمرے سے نکلتے ہوئے ہانیہ کو تاکید کر گیا تھا،”میں ایک ضروری کام سے جا رہا ہوں، تھوڑا لیٹ ہو سکتا ہوں۔ تم اپنا خیال رکھنا۔”ہانیہ نے بس سر ہلا دیا، دل ہی دل میں کچھ انجانے خوف کی کیفیت نے اسے جکڑ رکھا تھا، مگر وہ خاموش رہی۔ سجاول گاڑی اسٹارٹ کر کے روانہ ہو گیا، اور حویلی میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی۔چند ہی لمحوں بعد میر فخر شاہ نے آنکھوں کے اشارے سے نوکروں کو بلا لیا۔ “جو کام کہا ہے، وہ کر دو۔۔۔‘‘”نوکروں نے موقع دیکھ کر ہانیہ کے کمرے کے باہر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے کمرے کی کھڑکیوں سے شعلے لپکنے لگے۔ اندر ہانیہ جو معمول کے مطابق بیٹھی قرآن پڑھ رہی تھی، اچانک دھویں کی بو سے چونک گئی۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا تو دروازے کے نیچے سے دھواں اندر آ رہا تھا۔ہانیہ گھبرا کر دروازے کی طرف لپکی لیکن جب ہینڈل پکڑا تو وہ جل رہا تھا۔ کمرے میں اب آگ تیزی سے پھیل رہی تھی۔ وہ گھبرا کر پیچھے ہٹ گئی، کھڑکی کے پاس جا کر چیخنے لگی:”کوئی ہے؟ بچاؤ! آگ لگ گئی ہے!”اسی لمحے قسمت نے یاوری کی، میر سجاول کا کام اچانک ملتوی ہو گیا تھا اور وہ حویلی واپس آ رہا تھا۔ جیسے ہی اس کی گاڑی سے اترتے اندر قدم رکھا، شور و غل اور دھوئیں نے اس کی توجہ کھینچ لی۔ دل دھک سے رہ گیا۔”ہانیہ!” سجاول دیوانہ وار گاڑی سے نکل کر آگ کی طرف لپکا۔ نوکروں کو چیختے ہوئے حکم دیا، “پانی لاؤ، !”لیکن دیر ہو چکی تھی، آگ تیز ہو چکی تھی۔ سجاول نے ایک لمحے کی بھی پروا نہیں کی، اور شعلوں میں کود گیا۔”ہانیہ… ہانیہ کہاں ہو!” وہ دھویں اور آگ میں ہانپتا، کھانستا اندر بڑھا۔کمرے کے کونے میں ہانیہ دیوار سے لگی بے ہوش ہو رہی تھی۔ سجاول نے بھاگ کر اسے گود میں اٹھایا، اور اپنی پوری طاقت لگا کر باہر کی طرف دوڑا۔ نوکر پانی پھینک رہے تھے، اور آخر کار سجاول اپنی بیوی کو باہر لے آیا۔وہ ہانپتا ہوا زمین پر گرا، ہانیہ کو اپنی بانہوں میں لٹا کر اس کا چہرہ تھپتھپایا:”ہانیہ۔۔۔آنکھیں کھولو! دیکھو میں آ گیا ہوں، کچھ نہیں ہوگا۔’’ہانیہ نے دھندلی آنکھوں سے اسے دیکھا، ہلکی سی آواز میں بولی، “سجاولسجاول کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ “تم محفوظ ہو ہانیہ، میں ہوں نا تمہارے ساتھ!”پورا حویلی کا عملہ ہکا بکا کھڑا تھا، اور میر فخر شاہ دور کھڑا غصے اور شکست کی ملی جلی کیفیت میں اپنے بیٹے کو اپنی بیوی کی جان بچاتے دیکھ رہا تھا۔ آج سجاول نے ایک بار پھر ثابت کر دیا تھا کہ وہ اپنے رشتے کو نبھانے کے لیے جان کی بازی لگا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حویلی میں خاموشی کی ایک دبیز چادر تنی ہوئی تھی۔ سب لوگ حیرت اور خفگی کی کیفیت میں تھے جب میر سجاول نے اپنا فیصلہ سنایا۔ وہ سخت اور ٹھوس لہجے میں بولا،”میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔ میں اور ہانیہ آج ہی اس حویلی کو چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ اور آج کے بعد میرا تم سب سے کوئی تعلق نہیں!”ہانیہ، جو سجاول کے برابر کھڑی تھی، اس کی بات سنتے ہی کانپ گئی۔ آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے مگر سجاول کے مضبوط لہجے اور ہاتھ کی گرفت نے اسے حوصلہ دیا۔ میر فخر شاہ غصے سے آگ بگولا ہوا، آگے بڑھا،”سجاول! تم جانتے ہو کیا کہہ رہے ہو؟ یہ تمہارا گھر ہے!”سجاول نے سرد نگاہوں سے باپ کو دیکھا،”گھر؟ جس گھر میں میری بیوی کی جان کے دشمن موجود ہوں؟ جس گھر میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں؟ نہیں، اب یہ میرا گھر نہیں رہا۔”اس کی ماں نے بیچ بچاؤ کرنے کی کوشش کی،”بیٹا، جذبات میں آ کر یہ قدم نہ اٹھاؤ۔ وقت سب کچھ ٹھیک کر دیتا ہے۔”سجاول کا دل تو ٹوٹا تھا مگر وہ اب صاف صاف دیکھ رہا تھا،”وقت تو سب کچھ بگاڑ چکا ہے ماں۔ اب صرف ہانیہ ہی میرا خاندان ہے۔ وہی میری عزت ہے، وہی میرا سب کچھ۔”ہانیہ نے نم آنکھوں سے سجاول کو دیکھا۔ دل میں ایک عجیب سی کیفیت اتر گئی کہ جس شخص نے شروع میں اسے نظرانداز کیا، آج وہی سب کچھ چھوڑ کر اس کے ساتھ کھڑا ہے۔نوکروں نے ہانیہ کا سامان گاڑی میں رکھا۔ سجاول نے ایک آخری نظر حویلی پر ڈالی، وہ جگہ جہاں اس کی پرورش ہوئی تھی، مگر اب دل میں کوئی نرمی باقی نہیں رہی تھی۔ اس نے مضبوط لہجے میں کہا،”آج کے بعد اس رشتے کا نام مت لینا۔”ہانیہ کو نرمی سے سہارا دے کر گاڑی کی طرف لے گیا۔ ہانیہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے مگر اس بار وہ خوشی اور تحفظ کے آنسو تھے۔ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے اس نے ہلکی آواز میں کہا،”سجاول۔۔آپ نے میرے لیے سب کچھ چھوڑ دیا۔ایسا مت کریں۔۔”سجاول نے اس کا ہاتھ تھام کر نرمی سے مسکرایا۔۔۔”محبت یہی تو سکھاتی ہے ہانیہ۔ اب ہم ایک نئی زندگی شروع کریں گے، دور ان سب زہریلے رشتوں سے۔”گاڑی اسٹارٹ ہوئی اور آہستہ آہستہ حویلی سے دور نکلتی گئی۔ ایک نئے سفر کی طرف، جہاں بس ان دونوں کا ساتھ تھا اور ایک نیا آغاز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شہر کے ایک خوبصورت مگر سادہ سے فلیٹ میں ہانیہ کی زندگی نے ایک نیا موڑ لے لیا تھا۔ وہ جو کبھی ہر آہٹ پر ڈر جایا کرتی تھی، اب آہستہ آہستہ سجاول کی محبت اور توجہ سے سنبھل رہی تھی۔صبح کا وقت تھا، سورج کی کرنیں کھڑکی کے شیشے سے اندر جھانک رہی تھیں۔ ہانیہ کچن میں ناشتے کی تیاری کر رہی تھی جب پیچھے سے سجاول آ کر آہستگی سے اس کی پشت سے لگ گیا۔”اتنی صبح کیوں جاگ جاتی ہو؟ تھوڑا آرام کر لیا کرو،” وہ نرم لہجے میں بولا۔ہانیہ کا چہرہ ہلکی سی مسکراہٹ سے دمک اٹھا۔”عادت ہے نا، اب بدلے گی آہستہ آہستہ۔”سجاول نے اس کے ہاتھوں سے چائے کی کیتلی لے لی،”چلو، آج تم بیٹھو۔ میں بناتا ہوں۔”ہانیہ نے حیرت سے اسے دیکھا،”تم؟ چائے؟”سجاول نے مسکرا کر کہا،”ہاں تو؟ شوہر ہوں تمہارا، صرف حکم دینے کے لیے نہیں آیا۔”یہ کہہ کر وہ چائے بنانے لگا تو ہانیہ نے بے اختیار ہنستے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ لیا،”مجھے یقین نہیں آ رہا کہ یہ وہی سجاول ہے!”سجاول نے سنجیدگی سے اس کی آنکھوں میں جھانکا،”یہی تو اصل سجاول ہے ہانیہ… جسے پہلے پہچان نہ سکی۔اور میں تم سے اپنی محبت کی گہرائی نہ ماپ سکا۔۔۔‘‘”دن گزرتے گئے، سجاول ہر لمحہ ہانیہ کی خوشی اور سکون کا خیال رکھتا۔ کبھی وہ شام کو اسے قریبی پارک لے جاتا، کبھی فلم دکھانے، اور اکثر رات کو وہ خود ہانیہ کے بالوں میں نرمی سے ہاتھ پھیرتا،”اب کوئی تمہیں تکلیف نہیں دے سکتا، ہانیہ۔”ہانیہ کے دل کے زخم آہستہ آہستہ بھرنے لگے تھے۔ وہ اب کمزور نہیں رہی تھی، خوف کی جگہ اعتماد نے لے لی تھی۔ سجاول کی موجودگی اسے جینے کا نیا حوصلہ دے رہی تھی۔ ایک رات جب وہ دونوں بالکنی میں بیٹھے چاند دیکھ رہے تھے، ہانیہ نے آہستگی سے سجاول کے کندھے پر سر رکھ دیا۔”سجاول… شکریہ۔”سجاول نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھاما،”شکریہ مت کہو ہانیہ… یہ میرا فرض ہے، اور میری خوشی بھی۔”اس لمحے خاموشی بول رہی تھی، وہ خاموشی جس میں محبت، تحفظ اور سکون چھپا تھا۔ ہانیہ کی آنکھیں نم تھیں، لیکن اس بار خوف کے نہیں، خوشی اور تحفظ کے آنسو تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کراچی کی پُرسکون سی سائیڈ پر سورج آہستہ آہستہ ڈوب رہا تھا۔ نارنجی اور سنہری روشنی پانی کی سطح پر جھلکیاں مار رہی تھی۔ سمندر کی ٹھنڈی ہوا اور لہروں کی مدھم آواز اس منظر کو اور بھی حسین بنا رہی تھی۔ہانیہ حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ سجاول کے ساتھ کار سے اتری۔ اس کی آنکھیں حیرانی سے پھیل گئیں جب اس نے ریت پر ایک خوبصورت سی جگہ سجی دیکھی۔ نرم سفید چادریں، رنگ برنگی کینڈلز، ہلکی ہلکی موسیقی اور نرم روشنی میں سب کچھ خواب سا لگ رہا تھا۔’’یہ سب۔۔۔ میرے لیے؟” ہانیہ نے حیرت سے پوچھا، اس کی آواز میں لرزش اور خوشی دونوں تھے۔سجاول نے مسکرا کر اس کا ہاتھ تھام لیا،’’ہاں ہانیہ، صرف تمہارے لیے۔ تم نے بہت کچھ سہا ہے۔ آج کی رات صرف ہماری ہے، تمہارے چہرے کی مسکراہٹ کے لیے۔”ہانیہ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ سجاول نے اس کے آنسوؤں کو اپنے انگوٹھے سے نرمی سے صاف کیا،”بس اب خوش رہا کرو۔”سجاول نے اسے میز کی طرف لے جا کر بیٹھایا۔ ویٹر جلدی سے ٹھنڈا جوس لے آیا۔ دونوں نے شیشے کی گلاسز اٹھائیں اور آہستہ سے ٹکرا کر ایک دوسرے کو دیکھا۔ ہانیہ کی نظریں جھکی ہوئی تھیں، لیکن اس کے لبوں پر خوشی کی مسکراہٹ تھی۔’’تمہیں پتہ ہے،” سجاول نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، “میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں تم سے اس طرح محبت کرنے لگوں گا۔ لیکن تم نے میرے دل میں ایسی جگہ بنا لی ہے کہ اب تمہارے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں۔”ہانیہ کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ اس نے دھیرے سے کہا،”اور مجھے بھی نہیں لگا تھا کہ وہ مغرور سجاول ایک دن میرا سب کچھ بن جائے گا۔”سجاول نے مسکرا کر اس کا ہاتھ تھاما اور آہستگی سے کھینچ کر اسے کھڑا کر دیا،”چلو، ایک ڈانس ہو جائے؟”ہانیہ نے ہچکچاتے ہوئے کہا،”یہاں؟ سب دیکھ رہے ہیں۔۔۔”سجاول نے شرارت سے کہا،”تو دیکھنے دو نا! آج کی رات صرف ہماری ہے۔”سمندر کی آوازوں کے بیچ وہ دونوں نرم دھنوں پر جھومنے لگے۔ سجاول نے ہانیہ کو اپنے قریب کر لیا، اتنا قریب کہ دونوں کی دھڑکنیں ایک دوسرے کو سنائی دے رہی تھیں۔ ہانیہ نے اپنا سر اس کے سینے پر رکھ دیا۔ سجاول نے اس کے بالوں میں انگلیاں چلائیں اور دھیرے سے کہا،”تم میرے لیے سب کچھ ہو، ہانیہ۔”ہانیہ کی پلکوں سے آنسو بہہ نکلے، لیکن اس بار یہ آنسو خوشی کے تھے۔”اور تم میرے سجاول۔۔۔۔میری دنیا ہو۔”کچھ دیر بعد سجاول نے جیب سے ایک چھوٹا سا مخملی ڈبہ نکالا اور ہانیہ کے سامنے جھک گیا۔”میں جانتا ہوں ہم پہلے ہی ایک رشتے میں بندھے ہیں، لیکن آج دل سے تمہیں اپنے دل کی ملکہ بنانا چاہتا ہوں۔ کیا تم اپنی باقی کی زندگی بھی میرے ساتھ گزارو گی؟”ہانیہ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں، اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔”سجاول۔۔۔”سجاول نے انگوٹھی اس کی انگلی میں پہنا دی اور آہستگی سے اس کے ہاتھ کو چوما۔”اب تم صرف میری نہیں، میری زندگی کی خوشی ہو۔”ہانیہ نے مسکراتے ہوئے آنکھیں بند کیں، اس کے لبوں پر خوشی کی روشنی تھی۔”ہاں سجاول، ہمیشہ تمہارے ساتھ۔”وہ دونوں پھر سے ایک دوسرے کے گلے لگ گئے۔ سورج سمندر کی گود میں چھپ چکا تھا اور چاندنی اب آسمان پر اپنی چمک بکھیر رہی تھی۔ سمندر کی لہریں جیسے ان کی خوشیوں کی گواہ بن رہی تھیں۔رات کا ہر لمحہ ایک حسین یاد بن کر ان دونوں کے دلوں میں نقش ہو رہا تھا۔ سجاول نے آہستگی سے ہانیہ کے ماتھے پر بوسہ دیا اور اس کے کان میں سرگوشی کی،”اب کوئی دکھ تمہارے قریب نہیں آئے گا، کیونکہ تمہارا سجاول ہمیشہ تمہارے ساتھ ہے۔”وہ رات، وہ سمندر، وہ پیار بھری باتیں۔۔۔ سب کچھ اس لمحے ایک مکمل اور خوبصورت انجام کی علامت تھا۔ ہانیہ کے دل کا خوف ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا تھا، اور سجاول کی محبت نے اس کی دنیا کو روشن کر دیا تھا۔یہ تھی ایک ایسی کہانی کی خوشگوار شام جس کا انجام خوشیوں بھرا تھا، محبت اور اعتماد سے لبریز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ختم شد۔۔۔
